مریم نواز سے متعلق بیان پر عمران خان سے معافی کا مطالبہ: ’آپ کو لگتا ہے عورت تنقید کرے تو وہ آپ میں دلچسپی لے رہی ہے‘

’یہ کوئی مذاق نہیں۔ یہ ناقابل برداشت رویہ ہے۔ اس پر سب کو معافی مانگنی چاہیے۔ چاہے وہ عمران خان ہوں یا کوئی اور۔‘

سابق وزیر اعظم عمران خان کے مریم نواز سے متعلق بیان پر سوشل میڈیا صارف علشبہ نے کچھ ایسا اظہار خیال کیا ہے۔

گذشتہ شام سے ملتان میں تحریک انصاف کے جلسے کے دوران عمران خان کے مریم نواز سے متعلق ’نامناسب‘ بیان پر ردِ عمل شدت اختیار کر رہا ہے اور حکومتی اتحاد کے نمائندوں اور بعض سماجی کارکنان کی جانب سے ان سے معافی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے گذشتہ روز اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ ’مریم دیکھو تھوڑا دھیان کرو، تمھارا شوہر ہی ناراض نہ ہو جائے۔ جس طرح تم میرا نام لیتی ہو۔‘

عمران خان کے سیاسی مخالفین جہاں یہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں کہ وہ فطری طور پر ایک خواتین مخالف شخص ہیں تو وہیں ان کے دفاع میں ان کی جماعت کے کئی لوگ سامنے آ رہے ہیں جو حکومتی اتحاد کی جانب سے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی پر تنقید کو جواز کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

ادھر سوشل میڈیا پر بعض صارفین کا خیال ہے کہ سیاست میں خواتین کے خلاف متعصب تبصروں کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو۔

عمران خان نے بات کس پیرائے میں شروع اور ختم کی؟

عمران خان تقریر کر رہے تھے ویسی ہی تقریر جو وہ گذشتہ کئی روز سے جلسوں کے دوران کر رہے ہیں کہ اچانک انھوں نے بہت نارمل انداز میں کہا ’سوشل میڈیا پر کسی نے مجھے تقریر بھیجی، مریم کہیں تقریر کر رہی تھی کل، تقریر جو مجھے بھیجی سوشل میڈیا پر۔

’اس میں اس نے اتنی دفعہ اور اس جذبے اور اس جنون سے میرا نام لیا کہ میں اس سے کہنا چاہتا ہوں کہ مریم دیکھو تھوڑا دھیان کرو تمھارا خاوند ہی نہ ناراض ہو جائے جس طرح تم میرا نام لیتی ہو۔‘

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیان کی جہاں سوشل میڈیا پر شدید مذمت کی گئی وہیں کچھ سوشل میڈیا صارفین نے مختلف آرا کی بھی اظہار کیا۔

ایک صارف زوئے خان کا کہنا تھا ’میرے لیے عمران خان اور اس کے الفاظ پریشان کن نہیں بلکہ جو مجمعے کا رد عمل تھا، وہ شور وہ تالیاں ان کے سننے والوں کی، وہ ہے جو مجھے ڈراتی ہیں۔‘

عمران خان کی اس بات کے بعد تقریر میں کچھ لمحے کا وقفہ ایک میوزک بیٹ سے دیا گیا، پھر وہ شریف خاندان کا ذکر کرتے ہوئے سوال کرنے لگے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ انھیں مجھ سے مسئلہ کیا ہے۔

جن لوگوں نے سوشل میڈیا پر عمران خان کے ان جملوں کو لکھا دیکھا وہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا واقعی عمران خان نے ایسا ہی کہا۔ فوزیہ بھٹی لکھتی ہیں `کیا انھوں نے اصل میں ایسا کہا، مطلب اصل میں، یہ بھیانک ہے بہت زیادہ مایوس کن۔‘

فوزیہ بھٹی نے یہ ٹویٹ صحافی مبشر زیدی کی ٹویٹ کے جواب میں تھی جن کا کہنا تھا کہ ’اس ملک میں مردوں کا آخری ہتھیار عورت کی تذلیل کرنا ہے۔‘

عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے مریم نواز کے حوالے سے عمران خان کے الفاظ پر لکھا ’مجھے اس بات پر شدید شرمندگی ہے کہ میں کبھی ایسے گھٹیا آدمی سے منسلک تھی۔‘

تاہم اقرارالحسن نے لکھا ’اب یہ حد سے تجاوز ہے۔۔۔ ساؤتھ پنجاب کی تاریخ کا غالباً سب سے بڑا جلسہ ایک قابل اعتراض بیان اور اُس پر ہونے والی بحث کی نذر ہو گیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

عمران خان سے معافی کا مطالبہ: ’خواتین کو آسان نشانہ سمجھنے کی سوچ ختم ہونی چاہیے‘

حکومتی اتحاد کے کئی نمائندوں نے سابق وزیر اعظم سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ کہتی ہیں کہ ’عمران خان فوری طور پر استعمال کیے الفاظ واپس لیں اور خواتین سے معافی مانگیں۔

’ریاست مدینہ اور امر بالمعروف کے دعویدار بتائیں کہ کیا ریاست مدینہ میں خواتین کے ساتھ ایسا سلوک رکھا جاتا تھا؟ سیاست میں خواتین کو نشانہ بنانا اور ذاتی حملے کرنا تحریک انصاف کا وطیرہ بن چکا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ملک کی تمام خواتین کو عمران خان کے خلاف سخت احتجاج ریکارڈ کرانا چاہیے۔ معاشرے میں ہر جگہ خواتین کو آسان نشانہ سمجھنے کی سوچ اب ختم ہوجانی چاہیے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف جو رشتے میں مریم نواز کے چچا ہیں نے اپنے سابق ہم منصب کے بیان کی مذمت میں ٹویٹ کی اور لکھا ’بیٹی مریم نواز شریف کے خلاف قابل افسوس زبان درازی پر پوری قوم خاص طور پر خواتین پرزور مذمت کریں۔

’کم ظرفی کے اظہار سے ملک وقوم کے خلاف آپ کے جرائم چھپ نہیں سکتے۔ مسجد نبوی کی حرمت و ناموس کا پاس نہ کرنے والوں سے ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزت وتکریم کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔‘

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’جن عزت داروں کے گھروں میں مائیں بہنیں ہوں وہ اس طرح کی زبان نہیں استعمال کرتے، خدارا اس سیاست میں اتنے نیچے نہ گر جائیں، مائیں بہنیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ،یہ ہی پیغام بی بی شہید چھوڑ کر گئیں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کاش اب بھی کوئی چیف جسٹس کو پرسنل ابزرویشن کا خط لکھے اور وہ نوٹس لیں۔‘

تاہم پی ٹی آئی کے بعض حامی اس بیان کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔ عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کہتے ہیں کہ ’منافقوں کی غیرت بھی جعلی ہے جو جاگنے میں بھی منافقت کرتی ہے۔‘

ٹوئٹر پر پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’ایک سیاسی عورت جو عمران خان اور اس کی فیملی جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں کو یہ سب کچھ کہتی ہے۔ اس کو جواب اس لیے نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ عورت ہے؟ اگر کسی نے اس وقت مذمت نہیں کی تو پھر اخلاقیات کا ٹوکرا اٹھائیں اور اپنی کائنات کہیں اور بسائیں۔‘

ایک صارف ثمرینہ ہاشمی نے لکھا ’مجھے اس میں کوئی گھٹیا پن نظر نہیں آتا، اس میں چھیڑ چھاڑ ہے۔

رہنما تحریک انصاف عالیہ حمزہ ملک نے کہا کہ پورے پاکستان میں عورت صرف مریم صفدر نہیں۔ وہ اتنی ہی عزت کی مستحق جتنی بکواس وہ خاتونِ اول کے خلاف کرتی، کرواتی رہی۔‘

اس کے علاوہ صدیق جان نے ٹویٹ کی کہ ’جس جس نے بشری بی بی پر ہونے والے نیچ اور گھٹیا حملوں کی کبھی مذمت نہیں کی وہ آج بھی مذمت نہ کرے۔‘ انھوں نے عمران خان کو اپنی ایک ٹویٹ میں صلاح دی کہ وہ بالکل معافی مت مانگیں۔

ایک صارف عامر اعوان نے اپنے آپ کو عمران خان کا حامی کہتے ہوئے لکھا کہ ’عمران خان کو یہ بات زیب نہیں دیتی۔ وہ ہمارا لیڈر ہے، کوئی سٹیج ڈرامے کا کردار نہیں کہ جگتیں مارے۔‘

تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ ’جناب عمران خان صاحب! آپ نے ملتان کے جلسے میں مریم نواز صاحبہ کو جس طرح مخاطب کیا اور جو کچھ کہا وہ آپ کے شایان شان نہیں ہے۔ براہ کرم اپنے الفاظ واپس لیں اور آئندہ محتاط رہنے کا عہد کریں۔‘

'آپ کو لگتا ہے عورت تنقید کرے تو وہ آپ میں دلچسپی لے رہی ہے'

سماجی کارکنان بھی اس بحث سے دور نہ رہ سکے اور انھوں نے ہر طرح کے خواتین مخالف بیانات کی مذمت کی ہے۔

جیسے نگہت داد نے لکھا کہ ’اس ملک میں سینکڑوں عورتیں نفرت کی بنیاد پہ ریپ ہوتی ہیں۔ قتل ہوتی ہیں بد ترین سلوک کا شکار ہوتی ہیں۔ لاکھوں عورتیں گھروں میں، گھروں سے باہر اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔ پھر سونے پہ سہاگہ یہ سیاست دان جو اپنے بیانیے کو ہیجان انگیز بنانے کے لیے بھی عورتوں کا استعمال کرتے نہیں تھکتے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ایک عورت سیاست دان کا مقابلہ سیاسی مکالمے سے کریں یہ آپ کی اخلاقی ذہنی پستی ہے کہ عورت سیاست دان کی آپ پہ تنقید کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہی سطحی سوچ ہے جو ابھی تک اس معاشرے میں عورتوں کو برابری کی جگہ نہیں دے سکی اور اس کا ثبوت عوام کی بجائی جانے والی تالیاں ہیں۔‘

سماجی کارکن عمار علی جان نے لکھا ’جس شخص نے مریم کے بارے میں صنفی ریمارکس دیے ہیں وہی ہیں جنھوں نے کہا کہ مرد جو روبوٹ نہیں وہ بے فحاشی سے جنسی طور پر ترغیب ملے گی۔

’آپ عمران خان کو یوٹرن کا ماسٹر کہہ سکتے ہیں لیکن عورت کی تخصیک پر ان کے خیالات گزرے برسوں میں مسلسل سامنے آئے ہیں۔‘

عالیہ چغتائی نے عمران خان کے الفاظ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ جو لوگ عمران خان کے بیان کا دفاع کر رہے ہیں انھیں واقعی اپنے آپ کو جانچنے کی ضرورت ہے۔