آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمران خان، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ: کیا ادارے سابق وزیراعظم کی عوامی مقبولیت کا دباؤ محسوس کر رہے ہیں؟
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قائم ہونے والی مخلوط حکومت کو اس وقت ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال میں مشکلات کا سامنا دکھائی دے رہا ہے۔
ایک جانب معاشی محاذ پر مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہے، ملک کے کم ہوتے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی مشکل ہے اور دوسری جانب وہ کوئی بھی سخت اور مشکل فیصلے لے کر اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے گریزاں ہے۔ ادھر سیاسی محاذ پر بھی سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی نے موجودہ حکومت کو آئینی و سیاسی الجھنوں میں الجھا رکھا ہے۔
پی ٹی آئی کی حکومت جانے کے بعد سے سابق وزیر اعظم عمران خان عوامی رابطہ مہم کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں جلسے کر رہے ہیں اور ان میں وہ ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومتی اراکین پر قائم مقدمات کا حوالہ دے رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ملک کی عدلیہ کی جانب سے پی ٹی آئی اراکین کو ملنے والا ریلیف ہو، 63 اے کے تحت صدارتی ریفرنس پر عدالت عظمیٰ کی تشریح یا حکومت کی جانب سے تحقیقاتی اداروں میں مبینہ مداخلت پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس، ملک کے سیاسی و سماجی حلقوں اور سوشل میڈیا پر ایک بحث نے جنم لیا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو عمران خان کی عوامی مقبولیت کا دباؤ محسوس ہو رہا ہے؟
بی بی سی نے اس ضمن میں پارٹی رہنماؤں اور سیاسی تجزیہ کاروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا واقعی عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ دباؤ محسوس کر رہے ہیں؟
’اداروں سے یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کے دباؤ میں اقدامات کیے جا رہے ہیں‘
پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو آئینی طریقے سے ہٹایا گیا اور اس وقت ملک کے جو اقتصادی حالات موجودہ حکومت کو ورثے میں ملے ہیں ان کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے ملک کے تمام آئینی ادارے اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ابھی اس مخلوط حکومت کو آئے ہوئے چند ہفتے ہی ہوئے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جائیں اور یہ امید رکھی جائے کہ ملک کی اقتصادی صورت حال بہتری کی طرف جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کسی آئینی ادارے سے آئین سے ہٹ کر حکومت کی مدد کرنے کا نہیں کہہ رہی اور صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ ملک کی بقا کے لیے آزادانہ فیصلے کرنے کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے جائیں۔
انھوں نے کہا کہ اداروں کی طرف سے یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ وہ کسی دباؤ میں آکر کوئی اقدامات کر رہے ہیں یا وہ انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔
محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت سمیت اس مخلوط حکومت میں شامل دیگر جماعتوں کو بھی علم تھا کہ ملک کے معاشی حالات اتنے اچھے نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ملک کی بقا اور لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے انھوں نے اتنا بڑا سیاسی رسک لیا ہے کیونکہ حکومت میں آنے کے بعد یہ تاثر بھی مل رہا ہے کہ جیسے انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کی تمام تر ناکامیاں اپنے سر لے لی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب ملک میں غیر یقینی کی صورت حال ہو تو ایسے غیر معمولی حالات میں انھیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ایسے فیصلے کرنے چاہیے جس سے ملک میں استحکام آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اگر ادارے اپنا کردار ادا نہیں کرتے تو اس سے بہتر ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کو حکومت سے الگ ہوکر انتخابات کی طرف ہی جانا چاہیے۔
محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال کا حل نگراں حکومت اور انتخابات نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے جتنی سپورٹ عمران خان کی حکومت کو دی ہے اس سے آدھی سپورٹ بھی اس حکومت کو مل جائے تو وہ حالات پر قابو پالیں گے۔
’جس طرح سے حکومت کو ہٹایا گیا وہ سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں‘
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کا کہنا تھا جس طریقے سے ان کی حکومت کو ہٹایا گیا وہ سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں تھا اور یہ سہولت کار کہیں اور سے نہیں بلکہ پاکستان کے اداروں میں سے ہی تھے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت عوام کے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں دیکھ رہی۔ انھوں نے کہا کہ جتنا مایوس عدلیہ نے انھیں کیا ہے اتنا کسی اور نے نہیں کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آج بھی ان کی جماعت اور کارکنوں کو شدید تحفظات ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کے وقت رات بارہ بجے عدالتیں کیوں لگائی گئیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ کی موجودہ لاٹ عدالتی نظام میں بہتری نہیں لاسکتی۔‘ اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دے دی تو سب سے بڑا نقصان عدلیہ کا ہو گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے آنے والے حالیہ فیصلوں سے تو ان کی جماعت کو ریلیف ملا ہوگا تو اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ اب معاملہ اس سے بہت آگے نکل چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم یا بلوچستان عوامی پارٹی نے تحریک انصاف کی حکومت کو کسی میجر یا کرنل کے کہنے پر تو نہیں چھوڑا ہوگا بلکہ سب کو معلوم ہے کہ کس نے کیا کردار ادا کیا۔
انھوں نے کہا کہ جب ان کی حکومت ختم کی گئی اور قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا گیا تو ان تمام پارٹیوں کے تمام لیڈروں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ سے باہر رہ کر ان کی جماعت اپنا موثر کردار ادا نہیں کرسکے گی لیکن پارٹی کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ جب وہ عوام میں اصل صورت حال کے بارے میں بتائیں گے تو وہ یقینا ان کے ساتھ ہوں گے۔
اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے جلسوں میں ایسے لوگ بھی آرہے ہیں جنھوں نے کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے عدالتی نظام نے ان کی جماعت اور لوگوں کو مکمل طور پر مایوس کیا ہے۔ اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے لے کر اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی تک وہ ایسی بہت سی باتوں سے واقف ہیں جو کہ کبھی مناسب وقت پر منظر عام پر لائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نہ تو اسٹیلشمنٹ کی طرف دیکھ رہی ہے اور نہ ہی ان کی جماعت کو اب بیساکھیوں کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے
تجزیہ کاروں کی رائے
کیا پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان کی عوامی مقبولیت کے باعث ملکی ادارے دباؤ محسوس کر رہے ہیں اس پر تجزیہ کاروں نے ملا جلا تبصرہ کیا۔
تجزیہ کار حامد میر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ عدلیہ اور بلخصوص سپریم کورٹ تحریک انصاف کے حالیہ جلسوں کے بعد دباؤ میں آئی ہے اور 63 اے کے تحت صدارتی ریفرنس پر جس طریقے سے رائے دی گئی آئینی ماہرین کے مطابق تو سپریم کورٹ نے آئین میں ترمیم ہی کر دی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے خلاف کرپشن کیسز کا معاملہ عمران حان نے عوامی جلسوں میں اٹھایا تھا اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اس پر کارروائی کا آغاز کر دیا۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ بظاہر از خود نوٹس ایک جج کے نوٹ پر لیا گیا لیکن عوام میں اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ سارا معاملہ عمران خان کے مطالبے کے بعد شروع کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ’بظاہر اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کے جلسوں سے متاثر نہیں ہوئی اور ان کا ابھی تک یہی موقف ہے کہ فوج اس معاملے میں نیوٹرل ہے اور اس کا سیاسی معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘ حامد میر کا کہنا تھا کہ چونکہ فوج آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت حکومت کا ایک ماتحت ادارہ ہے اس لیے انھیں ان کی حمایت کرنی چاہیے۔
تجزیہ کار سہیل ورائچ کا کہنا ہے کہ ججز کی اپنی سوچ ہوتی ہے اور وہ ان چیزوں کو اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں جو کہ شاید عام آدمی اس نظر سے نہ دیکھ رہا ہو۔
انھوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ عدالتیں کسی کے دباؤ میں آکر فیصلے دیتی ہیں تاہم یہ ضرور ہے کہ عدالتوں کو فیصلہ دیتے ہوئے اس بات کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے کہ وہ کہیں آئین میں دیے گئے اپنے اختیارات سے تجاوز تو نہیں کر رہیں۔
انھوں نے کہا کہ کسی سیاسی لیڈر کے بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے اس کی مقبولیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔