آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں خواتین سیاست پر بحث کیوں نہیں کرتیں؟
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں اب تقریباً ہر عمر کی خواتین سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں لیکن کم ہی خواتین ایسی ہیں جو باقاعدگی سےسیاسی بحث و مباحثہ کرتی ہیں۔
عام تاثر یہی ہے کہ خبروں اور حالاتِ حاضرہ پر تبصروں میں خواتین کی دلچسپی بے حد کم ہوتی ہے۔ اگر یہ درست ہے تو ایسا کیوں ہے؟
اسی موضوع پر اسلام آباد میں واقع قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کی طالبات نے بی بی سی اردو کے فیس بُک لائیو میں بات کی۔
حالاتِ حاضرہ میں دلچسپی کےسوال پر نور عباس نے برجستہ کہا کہ 'میں ذاتی طورپر فیس بُک پر سیاسی چیزوں میں دلچسپی نہیں لیتی۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان جو جھگڑا چل رہا تھا اور اُس بارے میں خبریں چونکہ منظرنامے کا حصہ تھیں تو دوسری خواتین کی طرح میں نے بھی دلچسپی لی ورنہ میرا نہیں خیال کہ جب حالات معمول پہ ہوں تو ایسا ہوتا ہے۔‘
ایک اور طالبہ حجاب طاہر نے کہا کہ 'مرد زیادہ خبریں وغیرہ دیکھتے ہیں خواتین نہیں۔ جب ہم سوشل میڈیا پہ جاتے ہیں توخود بخود خبریں سامنے آجاتی ہیں تو اُس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔‘
عروج داؤد نے کہا کہ'جی بالکل تبصرہ کرتے ہیں۔ اُس میں کوئی نتیجہ تو نہیں نکلتا لیکن کم از کم اتنی تسلی ہو جاتی ہے کہ آپ کا نقطۂ نظر کہیں سامنے آ رہا ہے۔‘
سوشل میڈیا پہ خواتین کو ہراساں کیے جانے کی بات پر ثناء یونس نے بتایا کہ 'بعض اوقات سوشل میڈیا پہ ایسے پیغامات آتے ہیں کہ بندہ دیکھ کر شرمندہ ہوجائے۔‘ اس پر نور عباس نے برجستہ کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ آپ اس بارے میں رپورٹ کرسکتے ہیں اور انھیں بلاک کرسکتے ہیں۔‘
ماہ رُخ محمود نے بھی اس فیس بک لائیو میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ'ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ آن لائن ہراساں کیے جانے کے خلاف ایک قانون آگیا ہے۔ آپ شکایت درج کراسکتے ہیں اور ایسے لوگوں کو تین سال کی سزا ہوسکتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تمام طالبات نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سوشل میڈیا پر کچھ شیئر کرنے سے پہلے انھیں کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔
اس بارے میں صفاء عباس نے کہا کہ 'سوشل میڈیا پہ کوئی اقتباس لگاتے یا کچھ لکھتے ہوئے سوچتے ہیں کہ کیا یہ معاشرے میں قابلِ قبول ہوگا؟ کیونکہ اگر بلاسوچے سمجھے ہم نے ایسا کیا تو ہمارے خاندان والے اور دوست ہمیں اسی نظر سے جانچیں گے۔‘
ایسے کون سے موضوعات ہوتے ہیں جنھیں شیئرکرتے ہوئے مسئلہ ہوتا ہے یا سوچنا پڑتا ہے؟
اس پر آمنہ رجحان بولیں کہ 'مثلاً رومانوی شاعری ہوتی ہے تو فوراً آپ پہ لیبل لگ جاتا ہے کہ آپ کا کوئی معاملہ ہے۔‘
ربیعہ حسن نے کہا کہ 'ایسی شاعری شیئر کر دو تو کہتے ہیں کہ اس کا تو دل ٹوٹا ہوا ہوگا۔ اس کے پیچھے کوئی کہانی ضرور ہے۔‘
خواتین سیاست پر بحث کیوں نہیں کرتیں؟ اس سوال پر ثناء یونس نے اپنے مشاہدے سے بتایا کہ دقیانوسی سی بات ہے لیکن خبروں کو مردوں سے منسوب کیا جاتا ہے اور بعض کا خیال ہوتا ہے کہ اگر ہم شیئر کریں گے تو کیا فرق پڑےگا؟
دلچسپ بات یہ ہےکہ جس وقت یہ فیس بُک لائیو جاری تھا اُسی دوران کافی مردوں نے بی بی سی اردو کے فیس بُک صفحے پرکافی منفی تبصرہ شروع کر دیا جس میں بعض حضرات نے تو خواتین کو فتنہ قرار دے دیا۔
ایک صاحب متین خان نے تو خود مجھے اپنی تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا اور کہا کہ 'مجھے یقین نہیں آتا۔ کیا ایک خاتون کو صحافی ہونا چاہیے؟
نوید اقبال مست نے لکھا کہ 80 فیصد خواتین سوشل میڈیا کو دوستیاں بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں جو کہ قابلِ ستائش ہے۔
اکبر علی نے لکھا کہ 'شوہر بیچارے بھوکے پھرتے رہتےہیں اور بیوی سیلفی لے کر شیئر کرتی رہتی ہیں۔‘
امتیازعباسی نے استہزایہ انداز میں لکھا کہ 'آپ ان سے یہ کہلوانا چاہتی ہیں کہ بی بی سی نیوز دیکھتی ہیں کہ نہیں لیکن یہ سب تو ذیادہ ڈرامہ دیکھتی ہیں۔‘
ایک خاتون عارفہ چوہدری نے لکھا کہ 'سوشل میڈیا سے بہت معلومات ملتی ہے، لوگوں کے حالات کا پتہ چلتا ہے۔ تفریحی، شاپنگ اور تعلیمی گروپس کے ذریعے۔‘