سوڈھا ہندو راجپوت: پاکستان میں موجود ہندو کمیونٹی جن کی نسل صرف انڈیا کے تعاون سے بڑھ سکتی ہے

    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, صحافی

’میں مجبور تھا۔ آخری ویڈیو آئی تھی تو میں اُس وقت رویا کہ بھلے ایک ہفتے کا ویزہ دے دیں تاکہ کم سے کم جا کے میں اپنی ماں سے مل لوں لیکن میں مل نہیں پایا۔‘

یہ الفاظ عمرکوٹ کے گنپت سنگھ سوڈھا کے ہیں جو کینسر میں مبتلا اپنی والدہ کی وفات سے پہلے کی صورتحال بتاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کے رو پڑے۔

گنپت سنگھ کا تقریباً پورا خاندان انڈیا کی ریاست راجسھتان میں مقیم ہے جبکہ اُن کی وراثتی زمینیں پاکستان کے علاقے عمرکوٹ میں ہیں۔ ان کا تعلق ہندو راجپوتوں کے ایک قبیلے سوڈھا سے ہے۔

پاکستان کے انڈیا کے ساتھ سرحدی علاقوں عمرکوٹ، تھر پارکر اور سانگھڑ میں سوڈھا ہندو راجپوتوں کے ہزاروں خاندان آباد ہیں۔ یہ کمیونٹی اپنے مذہبی و ثقافتی عقائد کے تحت اپنے ہی قبیلے کے دیگر ہندوؤں سے شادی نہیں کر سکتے۔

یہی وجہ ہے کہ تقسیمِ ہند کے بعد سے اس کمیونٹی کے لوگ انڈیا میں آباد دیگر راجپوت قبیلوں میں اپنے بچوں کے رشتے تلاش کرنے جاتے ہیں۔

گنپت کی شادی بھی انڈیا کی ریاست راجستھان کے علاقے جودھ پور میں ہوئی جہاں اُن کی بیوی سمیت پانچ بچے مقیم ہیں۔

ان کی والدہ اور ایک بھائی بھی کئی سالوں پہلے انڈیا شفٹ ہو گئے تھے۔ گنپت اپنے خاندان کے وہ واحد شخص ہیں جو عمرکوٹ میں اپنے پُرکھوں کی زمینوں کی ذمہ داری کی وجہ سے کبھی بھی پاکستان چھوڑ کر نہ گئے۔

سنہ 2017 میں وہ آخری بار اپنے خاندان سے ملنے انڈیا گئے تھے۔ اس دوران وہ اپنے ایک مرحوم بھائی کے بچوں کے رشتے بھی تلاش کر رہے تھے۔

اس کام میں وقت لگا تو انھوں نے جودھ پور کے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) سے اپنے ویزے میں توسیع کروا لی۔

البتہ پاکستان واپسی کے بعد جب انھوں نے ویزے کے لیے درخواست دی تواسے مسترد کر دیا گیا۔ گنپت کے بقول رابطوں پر وجہ بتائی گئی کہ اوور سٹے کی وجہ سے ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہے۔

پچھلے سال کینسر کی شکار ان کی والدہ نے انڈین حکام سے کئی وڈیو اپیلیں کیں کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اُن کے بیٹے کو ویزہ دے دیا جائے لیکن کوئی جواب نہ آیا اور پھر اُن کی والدہ فوت ہوگئیں اور گنپت اُن سے نہ مل سکے۔

عمرکوٹ کے ہی ڈاکٹر شکتی سنگھ سوڈھا چار بہنوں کے واحد بھائی ہیں۔ ان کی چاروں بہنیں راجھستان کے مختلف علاقوں میں بیاہی ہوئی ہیں جن سے ان کی اور اُن کے والدین کی آخری ملاقات چار سال پہلے ہوئی تھی۔

انھوں نے بھی اُس وقت فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) سے چند ماہ کی توسیع کرائی تھی۔ پچھلے چند سالوں میں انھوں نے دوبارہ ویزے کی درخواست دی لیکن انڈین سفارت خانے نے اُنھیں ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔

وجہ بتائی جا رہی ہے کہ انھوں نے اپنے آخری وزٹ کے دوران اوور سٹے کیا۔

'انڈین سفارت خانے نے کافی لوگوں کو بلیک لسٹ کیا ہے۔ بلیک لسٹ کرنے کی وجہ ہے اوور سٹے۔ اب اوور سٹے وہ اسی چیز کو کہہ رہے ہیں جو چھ مہینے کی توسیع انھوں نے خود دی تھی۔ اب کوئی بھی ویزے کے بغیر تو سٹے نہیں کرے گا۔'

شکتی کی والدہ بھی انڈیا سے بیاہ کے پاکستان لائی گئی تھیں۔ وہ مجھے شکتی کی شادی کے لیے کافی فکرمند نظر آئیں۔ اُن کا خیال تھا کہ اگر ویزہ ملنے میں مزید چند سال لگ گئے تو شکتی کے جوڑ کی لڑکی نہیں ملے گی۔

البتہ شکتی اس فکر سے بے نیاز اپنی چاروں بہنوں کو زیادہ یاد کرتے ہیں۔ وہ مجھے اپنی بہنوں کے ساتھ بیتے بچپن کی کہانیاں سناتے رہے۔

شکتی نے جذباتی انداز سے کہا کہ 'دیکھیں کافی بارڈرز تو کُھل بھی رہے ہیں۔ کرتارپور ہے، لاہور ہے۔ جو کرتاپور گھومنے آتا ہے وہ مذہبی عقیدت میں آتا ہے۔ ہمارے تو خون کے رشتے وہاں ہیں تو ہمیں تو آسانی کے ساتھ ویزہ ملنا چاہیے۔'

یہ بھی پڑھیے

سوڈھا راجپوت انڈین ویزوں میں توسیع کے باوجود بلیک لسٹ کیوں کیے گئے؟

سوڈھا ہندو راجپوتوں کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ایک مخصوص شہر کا 30 سے 40 دن کا ویزہ ان کےلیے ناکافی ہے کیونکہ ممکنہ جوڑے بنانے اور شادیوں کے لیے انھیں وقت درکار ہوتا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ راجستھان کے سابق گورنر شائیلندر کمار سنگھ یا ایس کے سنگھ نے 2007 میں سوڈھا راجپوتوں کو چھ ماہ ویزہ توسیع کی اجازت دی تھی۔

10 سال یعنی سنہ 2017 تک یہ توسیع دہلی کے بجائے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) سے حاصل کی جا سکتی تھی۔ گنپت سنگھ اور شکتی سنگھ ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے یہ اجازت ختم ہونے سے کچھ عرصہ پہلے توسیع حاصل کی تھی۔

سنہ 2017 میں انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے پہلے دور میں پاکستانی سوڈھا راجپوتوں کو ملنے والی یہ سہولت ختم کر دی گئی۔

اسی سال انڈیا کا آخری وزٹ کرنے والے پاکستانی سوڈھا راجپوتوں کا دعوی ہے کہ توسیع کے بعد قیام کے باوجود انھیں غیر قانونی قرار دے کر بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا۔

عمر کوٹ میں پاکستانی سوڈھا راجپوتوں کے 'کراؤن رولر' یا سربراہ رانا ہمیر سنگھ کے بقول 'اب تک کوئی 900 پاکستانی سوڈھا خاندان بلیک لسٹ ہیں۔'

رانا ہمیر سنگھ کا اپنا خاندان بھی انڈیا پاکستان میں تقسیم ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 'اب کیا ہوا ہے کہ جیسے ہی بی جے پی کی گورنمنٹ آئی، ان ڈسٹرکٹس (راجھستان کے سرحدی علاقے جے پور، جودھ پور، جیسلمیر وغیرہ) کے اندر جانے دیتے ہیں۔

'جن لوگوں نے دلی میں ویزہ نہیں بڑھائی ہے اور اِن سٹیٹس کے اندر ہی ویزہ بڑھا ہوا ہے، اور یہ جب ہوم منسٹری نے دیکھا کہ یہ کیا ہےتو اُن سب پر پابندی لگا دی گئی، بلیک لسٹ کر دیا۔'

'انڈین ویزے بلاک کیا جانا ایک انسانی مسئلہ ہے'

پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی سے وابستہ انیس ہارون کے خیال میں عام سوڈھا راجپوتوں کے انڈین ویزے بلاک کیا جانا ایک انسانی مسئلہ ہے جسے فوری حل کیا جانا چاہیے۔

’اصل لڑائی جھگڑا تو حکومتوں کے درمیان ہےلوگوں کے درمیان نہیں ہے اور اس میں میرا خیال ہے کہ اقوامِ متحدہ کو بھی مداخلت کرنی چاہیے کہ یہ تو ایک انسانی مسئلہ ہے۔

’آپ ان پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ آپ ایک ادارہ بنا دیں جو کہ معمولی سی پوچھ گچھ ہوتی ہے، طریقہ ہوتا ہے وہ تصدیق کرنے کے بعد اِنھیں آنے جانے کی اجازت دے دیں۔ میرا خیال ہے اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔‘

پاکستان میں رہنے والے سینکڑوں سوڈھا راجپوت خاندان بار بار انکار کے باوجود اس امید کے ساتھ انڈین ہائی کمیشن سے رجوع کر رہے ہیں کہ شاید ان کی شنوائی ہو جائے۔

بی بی سی نے بھی اس مدعے پر اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن اور دلی میں وزارتِ خارجہ تعلقات (منسٹری آف ایکسٹرنل افیئرز) سے رابطے کیے لیکن کوئی جواب نہ ملا۔