آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
محمد صدیق کا بٹوارے کے وقت بچھڑنے والے بھائی محمد حبیب کی پاکستان آمد پر انھیں ’شہزادوں کی طرح‘ رکھنے کا ارادہ
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’میں اپنے بھائی کو اپنے پاس شہزادوں کی طرح رکھوں گا۔ اس نے زندگی میں شاید بہت دکھ اور غم دیکھے ہیں۔ ان سب کا مداوا کرنے کی کوشش کروں گا اور کوشش کروں گا کہ اس کو زندگی کی ہر خوشی ملے۔‘
یہ محمد صدیق کے الفاظ ہیں جنھوں نے تقسیم برصغیر کے وقت بچھڑ جانے والے بھائی سے کرتارپور کے بعد ایک بار پھر لاہور کے واہگہ بارڈر پر ملاقات کی ہے۔
تاہم اس مرتبہ محمد حبیب عرف سکا خان نے انڈیا سے پاکستان کا سفر اپنے بھائی محمد صدیق کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لیے کیا ہے۔
محمد حبیب سنیچر کو واہگہ بارڈر سے پاکستان میں داخل ہوئے، جہاں ان کا استقبال ان کے بھائی محمد صدیق نے اپنے اہلخانہ کے ساتھ کیا۔
دونوں بھائی ایک دوسرے سے گلے مل کر جذباتی ہو گئے اور بچوں کی طرح رونے لگے اور اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں کو یاد کرتے رہے۔ محمد صدیق نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عمر کے اس حصے میں وہ جو چاہتے تھے انھیں مل گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بچھڑا بھائی جس کے بارے میں پہلے خیال تھا کہ وہ اس دنیا میں ہی نہیں، وہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ اب میرے ساتھ رہنے کے لیے بھی آ چکا ہے تو اس سے بڑھ کر کیا مانگوں۔‘
محمد صدیق اور محمد حبیب برصغیر کی تقسیم کے وقت اس وقت بچھڑ گئے تھے جب جالندھر سے افراتفری میں ان کا خاندان پاکستان کے لیے روانہ ہوا تھا۔
اس دوران ان کے والد ہلاک ہو گئے تھے اور صدیق اپنی بہن کے ساتھ پاکستان پہنچ گئے جبکہ حبیب والدہ کے ساتھ وہیں رہ گئے جن کا بعد میں انتقال ہو گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں بھائیوں کا آپس میں رابطہ دو سال قبل ہوا تھا اور تقریباً دو ماہ قبل دونوں کی کرتارپور میں ایک مختصر ملاقات ہوئی تھی، جس کے بعد محمد صدیق اور محمد حبیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمران خان سے اپیل کی تھی کہ ان کو پاکستان کا ویزہ دیا جائے۔
محمد حبیب نے انڈیا میں پاکستانی سفارتخانے میں ویزہ کے لیے درخواست دی تو انھیں دو ماہ کا ویزہ جاری کر دیا گیا۔ ویزہ جاری ہونے کے بعد محمد حبیب انڈیا کی پالیسی کے مطابق واہگہ سے سرحد عبور کرنے کی اجازت کے لیے کوشاں تھے۔
ویزہ ختم ہونے میں ابھی چند دن باقی تھے کہ انڈیا نے سرحد کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے بعد ویزہ کے حامل افراد کو واہگہ سے سرحد عبور کرنے کی خصوصی اجازت حاصل کرنے کی پالیسی ختم کر دی اور اس کا فائدہ محمد حبیب کو ہوا۔
واہگہ بارڈر پر جذباتی مناظر
بی بی سی کے نامہ نگار علی کاظمی کے مطابق محمد حبیب کوئی ساڑھے تین بجے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے۔
پاکستان میں تعنیات رینجر اہلکار بھی جانتے تھے کہ یہ دونوں بھائی تقسیمِ برصغیر کے وقت بچھڑے تھے اور اب مل رہے ہیں تو ان کے چہروں پر بھی خوشی تھی۔
علی کاظمی کے مطابق اس موقع پر حکام نے تیزی کے ساتھ تمام ضروری کارروائی کو نمٹایا اور محمد حبیب کے ساتھ گپ شپ بھی کرتے رہے۔
محمد حبیب نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ جس گاؤں پھول نگر میں وہ رہائش پزیر ہیں، وہاں پر اکثریت سکھوں کی ہے جبکہ مسلمانوں کا ایک آدھا خاندان ہی موجود ہے۔
علی کاظمی کے مطابق محمد حبیب نے بتایا کہ جب وہ پاکستان آ رہے تھے تو ان کے گاؤں کے لوگوں نے روتے ہوئے ان کو الوداع کیا اور اس موقع پر وعدہ بھی کروایا کہ وہ واپس ضرور آئیں گے۔
واہگہ بارڈر لاہور پر محمد حبیب کے استقبال کے لیے جانے والے محمد صدیق کے نواسے کاشف گجر نے بتایا کہ ان کے نانا محمد صدیق کو جب یہ اطلاع ملی کہ ان کے بھائی ہفتے کے روز پاکستان پہنچیں گے تو انھوں نے تیاریوں کا آغاز کر دیا۔
’وہ انتہائی خوش اور جذباتی ہو گئے تھے۔ وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ شکریہ عمران خان اور شکریہ انڈیا کی حکومت، جنھوں نے دو بھائیوں کو آپس میں ملا دیا۔ ‘
کاشف گجر کا کہنا تھا کہ دونوں بھائیوں کے ملاپ کا منظر الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
’دونوں بھائی بہت خوش تھے۔ محمد حبیب کہہ رہے تھے کہ چلو اچھا ہوا کہ مرنے سے پہلے اپنوں کے پاس پہنچ گیا۔ میرے نانا محمد صدیق کہہ رہے تھے کہ تم فکر نہ کرو میں تیرے سارے غم دور کر دوں گا۔‘
’اپنے بھائی کو شہزادوں کی طرح رکھوں گا‘
کاشف گجر نے بتایا کہ ان کے اہلخانہ نے محمد حبیب کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کر رکھے ہیں۔
’ان کے لیے کھانے اور رہائش کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ فیصل آباد کے چک 255 کا ہر بندہ محمد حبیب سے ملنے کے لیے بے چین ہے۔‘
جگفیر سنگھ انڈیا کے علاقے پھول نگر کے رہائشی ہیں اور محمد صدیق اور محمد حبیب کی کہانی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انھوں نے دونوں بھائیوں کو ملوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے
جگفیر سنگھ محمد حبیب کو بارڈر تک چھوڑنے بھی آئے اور ان کا کہنا ہے کہ محمد حبیب کو سرحد تک چھوڑ کر دل خفا ضرور ہوا مگر اس بات کی بہت خوشی ہے کہ دو بچھڑے بھائی مل چکے ہیں۔
واہگہ بارڈر پار کرنے سے پہلے محمد حبیب کا کہنا تھا کہ وہ بہت زیادہ ’بے چین‘ ہیں لیکن سرحد پار کرنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا ’بہترین لمحہ‘ ہے۔
’اب میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ میرے رشتہ دار اور بہن بھائی موجود ہیں۔ مجھے یہ موقع بھی مل گیا کہ میں اب کچھ وقت نواسوں، پوتوں کے پاس گزار سکوں۔
’اب میں بے چین ہوں کہ فی الفور جا کر وہ گاؤں دیکھوں، جہاں میں نے اپنے بھائی کے پاس رہنا ہے۔‘
محمد حبیب کو پاکستان میں رہنے کے لیے دو ماہ کا ویزہ دیا گیا ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وہ واپس انڈیا جائیں گے یا پاکستان میں رہائش اختیار کرنے کی کوشش کریں گے۔
کاشف گجر کہتے ہیں کہ ’ہمارے نانا کی تو خواہش ہے کہ ان کے بھائی اب پاکستان میں ان ہی کے پاس رہائش اختیار کریں مگر اس حوالے سے ابھی محمد حبیب نے کچھ نہیں کہا۔‘
جگفیر سنگھ بھی یہی کہتے ہیں کہ محمد حبیب پاکستان میں مستقبل میں رکیں گے یا نہیں، یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔
’اس بارے میں محمد حبیب بھی کچھ واضح خیالات نہیں رکھتے۔ تھوڑے دن دونوں بھائی ساتھ رہیں گے تو پھر ہی پتا چلے گا کہ کیا ہوتا ہے۔‘