آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سمیرا: انڈیا میں چار سال قید کاٹنے کے بعد پاکستانی خاتون اپنی بیٹی سمیت پاکستان پہنچ گئیں
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
انڈین ریاست کرناٹک میں چار سال قید کاٹنے کے بعد پاکستانی خاتون سمیرا کو ان کی کم عمر بیٹی سمیت واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
سمیرا کا تعلق پاکستان کے شہر کراچی سے ہے اور ان کے والدین قطر میں روزگار کے لیے مقیم ہیں۔ سمیرا کی پیدائش قطر ہی میں ہوئی تھی۔ قطر ہی میں سمیرا کا رابطہ انڈیا کے ایک مسلمان نوجوان سے ہوا تھا جو جلد ہی گہرے تعلق میں بدل گیا۔
سمیرا اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کر کے بغیر ویزہ سنہ 2016 میں انڈیا میں داخل ہو گئیں۔ انڈیا میں حکام نے دونوں کو اس جرم میں گرفتار کر لیا تھا۔
سنہ 2017 کے آخر میں قید ہی کے دوران سمیرا نے بیٹی کو جنم دیا اور کچھ ہی عرصے میں ان کے شوہر کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا جبکہ سمیرا کو ضمانت اور رہائی نہ مل سکی بلکہ ان کے شوہر نے بھی ان سے رابطہ ختم کر دیا۔
شوہر سے رابطہ ختم ہونے کے بعد سمیرا نے اقرار جرم کیا جس پر انھیں تین سال قید کی سزا ہوئی جو وہ پہلے ہی مکمل کر چکی تھیں۔ ان پر عائد جرمانے کی رقم کا انتظام ان کی وکیل سہانا بساوا پٹنا نے کیا تھا۔
ماں بیٹی پاکستانی حکام کی تحویل میں
بی بی سی اردو پر سمیرا کی کہانی سامنے آنے کے بعد پاکستان میں سینیٹر عرفان صدیقی نے یہ معاملہ 14 فروری کو سینٹ میں اٹھایا تھا۔
17 فروری کو ایک بار پھر ایوان کو سمیرا کی مظلومیت کی طرف متوجہ کیا گیا اور اُسی شام وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اعلان کیا کہ سمیرا کو پاکستانی شہریت کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی کے مطابق اس دوران انڈین وکیل سہانا بساوا پٹنا، پاکستانی دفتر خارجہ، اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن اور عاصمہ جہانگیر لیگل ایڈ سیل سے رابطے میں رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عرفان صدیقی نے بتایا کہ ’ایک ہفتے قبل مجھے انڈین ہائی کمیشن نے اطلاع دی کہ سمیرا اور ان کی بیٹی کو 26 مارچ کو واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔‘
یہ بھی پڑھیے
پاکستانی سینٹر عرفان صدیقی کے مطابق سمیرا کو پاکستانی بارڈر تک پہنچانے کے لیے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن کے افسران اُن کے ساتھ تھے۔
عاصمہ جہانگیر لیگل ایڈ سیل کی ایڈووکیٹ ندا علی کے مطابق انھیں گذشتہ شام پاکستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ سمیرا کو واہگہ بارڈر پر رینجرز حکام کم از کم دو دن تک بریفنگ کے لیے اپنے پاس رکھیں گے اور ممکنہ طور پر اتوار یا سوموار کے روز سمیرا کو ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔
سینیٹر عرفان صدیقی کے مطابق سمیرا کے علاوہ ایک اور خاتون کو بھی پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔
’سمیرا بہت زیادہ خوف زدہ تھی‘
انڈیا میں سمیرا کو قانونی مدد اور جرمانے کی رقوم جمع کروانے میں مدد فراہم کرنے والی بنگلور کی سہانا بساوا پٹنا ایڈووکیٹ سمیرا کی رہائی پر خوش ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’شکر ہے کہ بالآخر سمیرا کو اپنی کم عمر بچی سمیت آزادی نصیب ہوئی۔
’سمیرا کو واہگہ کی طرف جاتے ہوئے پتا چل گیا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی حکام بریفنگ کے لیے انھیں دو دن اپنے پاس رکھیں گے، جس وجہ سے وہ بہت زیادہ خوفزدہ تھیں۔‘
’وہ اس بات سے بھی بہت خوفزدہ تھیں کہ پاکستان میں ان کے ساتھ کیا ہو گا۔ وہ اپنے خاندان سے بھی خوفزدہ تھی۔ اس طرح میری اطلاعات کے مطابق ان کو اپنے خاندان والوں سے بھی ممکنہ طور پر خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔‘
ندا علی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ وہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور بریفنگ کے بعد سمیرا کو ان کے حوالے کیا جائے گا۔
’سب سے پہلے ہم سمیرا کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔ اس بات کو حکام کے ساتھ مل کر یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ وہ بلاخوف و خطر ایک آزاد شہری کی طرح اپنی زندگی گزار سکیں۔‘