خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے تحفظ کا قانون تاخیر کا شکار کیوں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اسلام گل آفریدی
- عہدہ, صحافی
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد کی 22 برس کی گڑیا نامی خواجہ سرا جن کا اصل نام عرفان خان ہے، گھر میں والد اور بھائیوں کے تشدد کی وجہ سے 15 سال کی عمر میں ہمیشہ کے لیے گھر چھوڑ کر خواجہ سراؤں کے ڈیرے پر زندگی گزارنے آ بسی تھیں۔
تاہم شناختی کارڈ جیسی بنیادی دستاویز نہ ہونے کی وجہ سے انھیں رہائش اور سفر کرنے میں تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
معاشرے میں شناخت اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کی وجہ اُن کی جنس ہے کیونکہ وہ مرد ہیں نہ عورت۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا ملک کا وہ پہلا صوبہ ہے جہاں خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس جیسے اہم اور بنیادی دستاویز جاری کیے گئے تھے۔
خواجہ سراؤں کے تحفظ کا قانون تاخیر کا شکار کیوں؟
پاکستان کی حکومت نے مئی سنہ 2018 میں خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لیے قانون منظور کیا تھا جس کے تحت انھیں شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ بنوانے کا حق دینے کے ساتھ ساتھ گھر یا عوامی مقامات پر ہراساں کرنے کی ممانعت، تعلیم، خصوصی طبی سہولیات، زبردستی بھیک منگوانے پر پابندی اور جیلوں میں الگ بیرک میں رکھنے کا کہا گیا تھا۔
اس قانون کے تحت خواجہ سراؤں کو اپنی مرضی سے قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ریکارڈ میں اپنی جنس کی تبدیلی کا اختیار بھی دیا گیا تھا تاہم مذکورہ قانون میں جنس کے تبدیلی کی شق پر نہ صرف ملک میں مذہبی جماعتوں نے اعتراضات اُٹھائے بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس کو اسلام کے منافی قرار دیا۔
موجودہ وقت میں یہ کیس وفاقی شریعت عدالت میں زیر سماعت ہے جس کے وجہ سے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔
خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کی پالیسی مرتب کرنے کے لیے سنہ 2015 میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کمیٹی میں مختلف محکموں کے نمائندوں سمیت خواجہ سراؤں کے نمائندہ اور انسانی حقوق کے سرگرم رکن قمر نسیم شامل تھے۔
قمر نسیم نے اس پالیسی کے متعلق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پالیسی کے مسودے کی باقاعدہ منظوری میں تاخیر کی بنیادی وجہ اس پر نظر ثانی کے لیے کبھی ایک تو کبھی دوسرے محکمے کو بھیجا جانا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے بتایا کہ صوبائی سطح پر قانونی مسودے کی تیاری ان کے ذمہ تھی جسے تیار کر کے متعلقہ محکموں اور اسلامی نظریاتی کونسل کو نظرثانی کے لیے بھیج دیا گیا تاہم اس کی منظوری اب بھی تاخیر کا شکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں موجودہ وقت میں خواجہ سراؤں کے تحفظ اور فلاح و بہود کے لیے ایک بل کا مسودہ تیار ہے جس کی کابینہ اور اسمبلی سے منظوری درکار ہے۔
صوبائی سطح پر خواجہ سراؤں کے لیے قانونی سازی کے عمل کے نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کے سربراہ اور رکن صوبائی اسمبلی آسیہ صلح خٹک نے پالیسی اور قانون بنانے کے عمل میں تاخیر کے سوال پر کہا کہ ’حکومت کو خواجہ سراؤں کے مسائل کا پورا احساس ہے تاہم یہ قوانین پہلی بار بن رہے تو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ فائدے کے بجائے نقصان کا سبب نہ ہو۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ کمیٹی اس پورے عمل کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ جلد از جلد اس عمل کو بہتر طریقے سے مکمل کریں۔
خواجہ سراؤں کی شناخت پر اعتراضات کیا؟
وفاقی سطح پر خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قانون پر سب سے بڑا اعتراض خواجہ سراؤں کی شناخت کے حوالے سے سامنے آی۔
قانون پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ جنس کی نشاندہی کے لیے طبی معائنہ لازمی قرار دیا جائے جبکہ خواجہ سرا برادری نے حکومت کے اس مؤقف کی سخت مخالفت کی۔
آسیہ صلح خٹک کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’بغیر طبی معائنے کے کیسے اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ خواجہ سرا کون ہے؟‘
یہ بھی پڑھیے
اس حوالے سے خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا برادری کی صدر اور مصالحتی کونسل (ڈی آرسی) کی رکن آرزو خان کا کہنا ہے ’اگر ملک میں ایسا کوئی قانون موجود ہے جس میں مرد یا عورت سے جنس کے معاملے میں طبی معائنہ کروایا جاتا ہے تو پھر خواجہ سراؤں کے لیے بھی یہ شرط قابل قبول ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’خواجہ سرا کی پہچان کرنا آسان ہے اور دوسرا یہ کہ اگر کوئی بندہ اپنی جنس منتخب کر لیتا ہے تو اس پر دوسروں کو کیا اعتراض ہے۔‘
نادرا کے ترجمان فائق علی چاچڑ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گذشتہ سال نومبر میں سینیٹ میں جو اعداد شمار پیش کیے گئے وہ درست ہیں۔
ان کے بقول جولائی سنہ 2018 سے جون 2021 تک نادرا کو جنس تبدیلی کے سرٹیفیکیٹ کے اجرا کے لیے 28 ہزار 7 سو 23 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں 16530 درخواستیں مرد سے عورت جنس میں اور 15154 درخواستیں خاتون سے مرد جنس میں تبدیلی کی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پورے ملک میں 5626 خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔
خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنہ 2018 میں ٹرانسجینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ کی منظوری کے بعد سے جنس کے تبدیلی کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا۔
الیکشن کمیشن کے ساتھ 2538 خواجہ سرا ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 133 خیبر پختونخوا سے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومتی پالیسی میں خواجہ سراؤں کے لیے کیا کچھ ہے؟
خواجہ سراؤں کو بااختیار بنانے کی 47 صفحات پر مشتمل پالیسی 2021 کے مجوزہ مسودے میں صحت، تعلیم، معاشی، سماجی و معاشرتی تحفظ اور سیاسی عمل میں بلاامتیاز حصہ لینے کی بات کی گئی۔
حکومتی پالیسی کا مسودہ چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں اسلامی و تاریخی پس منظر، کل آبادی معلوم کرنا، شناخت، متعلقہ ادارے کے ساتھ رجسٹریشن، رہائش، تشدد سے بچاؤ اور مفت صحت اور تعلیم کی بلا امتیاز سہولت فراہم کرنے کے ساتھ قانونی مسائل کے حل میں مفت مدد فراہم کرنا شامل ہے۔
اس مجوزہ پالیسی میں خواجہ سراؤں کو ہنر سکھانے، چھوٹے پیمانے پر کاروبار کے لیے بلاسود قرضے، سرکاری نوکریوں میں دو فیصد کوٹہ، بیمار اور بزرگ خواجہ سراؤں کو اشیائے خوردو نوش کی فراہمی کے ساتھ ماہانہ نقد وظائف شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں کو ووٹ کے استعمال اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق بھی دیا گیا۔ اس پالیسی کے تحت انھیں سیاسی اور سماجی اُمور کے لیے دفتر قائم کرنے کی اجازت شامل ہے۔
محکمہ سماجی بہبود خیبر پختونخوا میں جینڈر سپیشلسٹ شگفتہ سید نے بی بی سی کو بتایا کہ ’صوبے میں خواجہ سراؤں کو معاشرتی تحفظ، معاشی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لیے پالیسی 2021 آخری مرحلے میں ہے۔‘
’تاہم محکمہ قانون کے طرف سے سفارش کی گئی ہے کہ اس پالیسی مسودے کو سادہ اور آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ عام فہم ہو اور اس میں متعلقہ اداروں کے ذمہ داری واضح ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جب مرکز میں خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لیے قانون منظور ہوا تو صوبائی سطح پر متعلقہ محکموں اور نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ شہریوں کے حقوق کی بنیاد پر وفاق کے کئی قوانین پر صوبوں میں عمل دارآمد ہو رہا ہے لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کے اعترضات کے بعد مذکورہ پالیسی پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔
شگفتہ سید کے بقول آٹھارویں آئینی ترامیم کے بعد صوبوں کو قانون سازی کا اختیار بھی موجود ہے اور اس بنیاد پر خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے لیے الگ ایکٹ پر کام جاری ہے۔
آرزو خان کا کہنا ہے کہ اب تک صوبے میں خواجہ سراؤں کے حوالے سے پالیسی اور قانون سازی سے متعلق مشاورتی اجلاسوں میں اُن کی برادری کو نمائندگی کا موقع نہیں دیا گیا اور اس بارے میں انھیں کچھ علم نہیں کہ حکومت کس قسم کا قانون لانا چاہتی ہے۔
خواجہ سراؤں کے لیے مختص فنڈز
آرزو خان نے خواجہ سراؤں کو تحفظ اور زندگی کے مختلف شعبوں میں با اختیار بنانے کے لیے حکومتی اعلانات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے حکومت کی جانب سے مختص 20 کروڑ روپے فنڈ میں سے ایک روپیہ بھی خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں کیا گیا جبکہ اب اس میں مزید اضافے کا بھی کہا جا رہا ہے۔
شگفتہ سید نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں سنہ 2016 میں 20 کروڑ اور سال 2021 کے سالانہ صوبائی ترقیاتی بجٹ میں پچاس کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے لیکن مختلف مسائل کی بنا پر فنڈز خرچ نہیں ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے اس فنڈ کے تحت خواجہ سراؤں کو ہنر سکھانے، مفت کھانا پینا، رہائش اور ٹرانسپورٹ کی سہولت دینے کے ساتھ ساتھ ہنر مند خواجہ سراؤں کے لیے بلا سود قرضے دینے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن خواجہ سراؤں کے طرف سے کہا گیا کہ ہنر سیکھنے کے لیے وقت نکالنا اُن کے لیے ممکن نہیں لہذا اس فنڈ کو نقد شکل میں تقسیم کیا جائے جوکہ ناممکن تھا۔
شگفتہ سید نے بتایا کہ حال ہی میں صوبائی حکومت نے خواجہ سراؤں کے لیے مختص فنڈز کا حجم 100 ملین کر دیا ہے جس کی صوبائی کابینہ نے باقاعدہ طور پر22 فروری کو منظوری دی ہے اور صوبائی وزیر سماجی بہبود کے دستخط کے بعد باقاعدہ منظوری کے لیے اسے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا تاہم اب تک اس فنڈز کے استعمال کے لیے کوئی پالیسی وضع نہیں کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خواجہ سراؤں پر تشدد اور قانون کی عدم موجودگی
سنہ 2016 سے خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن شاوانہ شاہ کہتی ہیں کہ ملک میں خواجہ سراؤں کے لیے سماجی و معاشی حقوق کی پالیسی اور قانون کی عدم موجودگی کے باعث یہاں ان افراد پر قاتلانہ حملے، جنسی و جسمانی تشدد کے زیادہ واقعات رونما ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں تقریباً دو ہزار خواجہ سراؤں کو مختلف قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
شاوانہ شاہ کے مطابق سنہ 2016 میں پشاور میں علیشا نامی خواجہ سرا کے قتل کے الزام میں صرف ایک ملزم کو موت کی سزا سنائی گئی تھی مگر بعدازاں اس ملزم کو بھی سات ماہ پہلے عدالت نے بری کر دیا۔
آرزو خان نے دعویٰ کیا کہ سنہ 2015 سے اب تک مختلف واقعات میں 90 خواجہ سرا مارے گئے ہیں جن میں سے 20 کو ان کے ہی خاندان والوں نے غیرت کے نام پر قتل کیا۔
سماجی کارکن تیمور کمال کا دعویٰ ہے کہ خواجہ سراؤں پر تشدد اور اُن کے قتل کے زیادہ تر واقعات میں خواجہ سراؤں کے اپنے قریبی دوست جن کو ماڑخ بھی کہا جاتا ہے، ملوث ہوتے ہیں۔
آرزو خان کا کہنا ہے کہ قانون کی عملداری نہ ہونے پر عوام میں خواجہ سراؤں کے خلاف جرم کا خوف نہیں۔
’لوگ خواجہ سراؤں کو نجی محفلوں میں زبردستی تعلقات قائم کرنے پر مجبورکرتے ہیں اور انکار کی صورت میں انھیں تشدد و زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’پیسوں کے لیے بھی ان لوگوں کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ خاندان والے غیرت کے نام پر مار پیٹ کے ساتھ قتل بھی کر دیتے ہیں۔‘
خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کی آبادی کتنی ہے؟
ملک اور صوبے میں خواجہ سراؤں کی اصل تعداد معلوم نہیں اور نہ باقاعدہ طور پر اس کے لیے حکومتی سطح پر کوئی اقدم اُٹھایا گیا ہے ۔
چھٹی مردم شماری کے مطابق ملک میں 10418 خواجہ سرا موجود ہیں جن میں 913 خیبرپختونخوا اور 27 کا تعلق قبائلی اضلاع سے ہے۔
شگفتہ سید کا کہنا ہے کہ صوبے میں موجود خواجہ سراؤں کی تعداد معلوم کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کے ساتھ اب تک صرف527 خواجہ سرا رجسٹرڈ ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ مستقبل میں ضلعی سطح پر ان کی مکمل اور صحیح رجسٹریشن کے لیے ہر ضلع سے ایک خواجہ سرا کو بھرتی کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
آرزو خان کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں پچاس ہزار سے زیادہ خواجہ سرا موجود ہیں لیکن ان کی باقاعدہ رجسٹریشن خواجہ سرا برادری کے رہنماؤں یا گرو کے بغیر ممکن نہیں۔
انھوں نے کہا کہ رجسٹریشن میں حکومت کے طرف سے کئی مسائل حائل ہیں جن میں ایک بڑا مسئلہ نادرا میں خواجہ سراؤں کے مخصوص شناختی کارڈ کا ہونا شامل ہے۔
خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈ کے حصول کا طریقہ کار
فائق علی چاچڑ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈ کے لیے پہلے گورو کو محکمہ سماجی بہود کے دفتر میں فارم اور بیان خلفی جمع کرکے ادارہ اُسے نادرا کے زونل آفس بھیج دیتا ہے جس کی باقاعدہ منظوری کے لیے صدر دفتر بھیجا جاتا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ’چھان بین کے بعد گورو نادرا دفتر کے ساتھ رجسٹرڈ ہونے کے بعد اپنے چیلوں کا شناختی کارڈ بنا سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’خواجہ سرا کا نادرا میں رجسٹریشن گورو کے نام ہوتا ہے لیکن والد کا نام آگر کسی کو یاد نہیں یا نہیں لکھنا چاہتا تو کمپوٹر خود بخود کارڈ میں ایک نام منتخب کر لیتا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ کارڈ بناتے وقت جنس کے انتخاب پر کوئی پابندی نہیں البتہ خواجہ سرا کے جنس کے خانے میں مرد خواجہ سرا، عورت خواجہ سرا یا خنثیٰ مشکل لکھا جاتا ہے۔











