انیرا کبیر: انڈیا کی وہ ٹرانسجینڈر خاتون جن کی موت کی درخواست نے سب کو ہلا دیا

Aneera Kabeer

،تصویر کا ذریعہCourtesy Aneera Kabeer

،تصویر کا کیپشنانیرا کبیر کہتی ہیں کہ انھیں ہر ملازمت کے کے انٹرویو کے موقعے پر ٹرااسنجینڈروں (خوجہ سراؤں) سے معاشرتی مجموعی نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔
    • مصنف, شرنیا ہری کِشن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

پچھلے سال نومبر میں انیرا کبیر نے دو مہینوں میں اپنے 14ویں ملازمت کے انٹرویو میں ایک ٹوپی، ایک ماسک پہن کر شرکت کی جس میں ان کا زیادہ تر چہرہ چھپا ہوا تھا، اور اس نے مردوں کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔

35 سالہ ٹرانسجینڈر خاتون (مُخنّث یا خواجہ سرا) کا کہنا ہے کہ یہ ان 'ٹرانس فوبک' (مُخنّثوں سے نفرت کے) ریمارکس کی وجہ سے مایوسی کا ایک عمل تھا جن کا اسے گذشتہ عرصے میں ملازمتوں کے حصول کے لیے ہونے والے انٹرویوز میں سامنا کرنا پڑا تھا۔

انھیں جنوبی ہندوستان کی ریاست کیرالہ کے ایک سرکاری اسکول میں جُز وقتی ملازمت ملی لیکن الزام ہے کہ دو ماہ سے بھی کم عرصے بعد غیر منصفانہ طور پر ملازمت برخاست کردیا گیا۔

بی بی سی نے جب موقف جاننے کے لیے سکول کے پرنسپل سے رابطہ کیا گیا تو اُس نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ ایک ضلعی اہلکار پی کرشنن نے کہا ہے کہ پرنسپل نے انھیں مطلع کیا تھا کہ انیرا کبیر کو برطرف نہیں کیا گیا تھا اور اس کے بجائے، انھوں نے صورتحال کو 'غلط سمجھا'۔

انصاف حاصل کرنے کے لیے جو راستے تھے اس میں سے انیرا کبیر نے جنوری میں ریاست کی قانونی امداد کی خدمات سے رابطہ کی۔

وہ چاہتی تھیں کہ ایک وکیل اپنی طرف سے یوتھنیشیا، یا 'رحم کے قتل' کی درخواست کرے۔ انیرا کبیر کہتی ہیں کہ 'میں صرف کام کرنا اور روزی کمانا چاہتی تھی۔ لیکن ایسا کرنا بھی ناممکن ہو گیا۔'

اس نے ان ممالک کے بارے میں پڑھا تھا جو یوتھنیشیا کی اجازت دیتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'میں جانتی تھی کہ مجھے یہاں قانونی اجازت نہیں ملے گی۔ لیکن میں ایک پیغام بھیجنا چاہتی تھی۔'

وہ ریاست کی توجہ حاصل کرنا چاہتی تھی اور پھر انھوں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے جواب میں حکومت نے تیزی سے رد عمل دیا اور اب انھیں ایک اور ملازمت مل گئی ہے۔

احتجاجات اور وعدے

انیرا کبیر کی سوچ واضح ہے کہ ان کا اپنی جان لینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور جو کچھ انھوں نے کیا اس کا مقصد دوسروں کے لیے مثال بننا نہیں تھا۔

لیکن احتجاج کے ایسے ڈرامائی طریقے انڈیا میں کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

برسوں سے انصاف یا نظام میں تبدیلی کے خواہاں انڈینز نے بھوک ہڑتالیں کی ہیں، کئی دنوں تک کمر اونچے پانی میں کھڑے رہے اور اپنے منہ میں زندہ چوہے پکڑے رکھے رہے۔

Indian statesman Mahatma Gandhi (Mohandas Karamchand Gandhi, 1969 - 1948) fasts in protest against British rule after his release from prison in Poona, India. (Photo by Keystone/Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگاندھی نے بھوک ہڑتال کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

ماہرین سماجیات نے مشورہ دیا ہے کہ انڈیا کے بانی مہاتما گاندھی کی عدم تشدد کی سول نافرمانی کی روایت جس میں طویل عرصے تک بھوک ہڑتال رکھنا شامل تھا، نے اس کی طاقت کو اجاگر کیا جسے وہ 'کارکردگی آموز' احتجاج کہتے ہیں، خاص طور پر ہندوستان جیسے ملک میں جہاں ریاست اکثر جواب دینے میں سست رہتی ہے۔

اناگھا انگولے جو حیدرآباد یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس پڑھاتی ہیں، کہتی ہیں کہ انیرا کبیر نے جو حرکتیں کی اُن کا مقصد حکومت کو یہ یاد دلانا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انگولے، جنہوں نے سماجی امتیاز کے مسائل پر بڑے پیمانے پر کام کیا ہے، کہتی ہیں کہ 'اس معاملے میں ریاست ایک شہری کے کام کرنے کے حق کے تحفظ کے اپنے رسمی وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔'

ایک اندازے کے مطابق بھارت میں تقریباً 20 لاکھ ٹرانسجینڈر افراد رہتے ہیں جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ سنہ 2014 میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ان کے بھی وہی حقوق ہیں جو دوسری جنس کے لوگوں کے ہیں۔

تاہم وہ اب بھی تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کے لیے جدوجہد کرنے پر مجبور ہیں۔ اور بہت سے لوگ بھیک مانگنے یا جنسی کام کے ذریعے روزی کمانے پر مجبور ہیں۔

انیرا کبیر کہتی ہیں کہ ٹرانسجینڈر کمیونٹی کو سیاسی نمائندگی اور ملازمتوں کے کوٹے کی ضرورت ہے۔

وہ سوال کرتی ہیں کہ 'میں کبھی بھی ایسا انتہائی قدم نہیں اٹھانا چاہتی تھی۔ لیکن میرے پاس کیا انتخاب تھا؟'

اپنی جنسی حیثیت کی جنگ

وسطی کیرالہ کے ضلع پلاکڈ میں پرورش پانے والی انیرا کبیر کہتی ہیں کہ انھوں نے پیدائش کے وقت ان کے لیے تفویض کردہ جنس کی شناخت حاصل کرنے کے لیے برسوں جدوجہد کرتی آرہی ہیں۔

وہ اپنے خاندان کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھیں، جو بقول ان کے اب بھی اپنے بھائی کی حالیہ موت کے صدمے سے نبردآزما ہونی کی کوشش کر رہی ہے۔

انیرا کبیر ابھی نوعمری میں تھیں جب انھوں نے پلاکڈ میں دوسرے ٹرانسجینڈر لوگوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔

پھر ایک اخبار میں ٹرانسجینڈروں کی تصاویر دیکھ کر وہ گھر سے بنگلور شہر بھاگ گئیں جہاں انھیں ایک معاون ٹرانسجینڈر کمیونٹی ملی جس نے اسے قبول کیا۔ لیکن ان کی زندگی کی مشکلات ختم نہیں ہوئی تھیں۔ اس کمیونٹی میں سے بہت سے لوگوں نے جنس کی دوبارہ تفویض کی سرجری کے لیے پیسے اکٹھے کرنے کے لیے سالوں سے چندا جمع کیا تھا۔

Members of the Indian transgender community take part in a protest against the Transgender Persons (Protection of Rights) Bill 2016, in New Delhi on January 20, 2019.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں ٹرانسجینڈر افراد کو ابھی بھی شدید تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انیرا کبیر ناکام ہوکر اور افسردہ حالت میں گھر لوٹ آئیں۔

وہ اس سفر کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'میں نے اس طرح زندگی گزارنے کی بہت کوشش کی جس طرح میرا خاندان مجھ سے چاہتا تھا۔ اس میں سگریٹ پینا، اور ورزش کے لیے جِم میں جانا وغیرہ شامل تھا، پھر میں نے اپنی شخصیت کی نشوونما کے کورسز میں بھی شرکت کی - میرے ارد گرد کے لوگ کہتے کہ وہ ایسے کام اُسے 'مردانہ'بنا دیں گے۔ لیکن ایسا بننے کی کوشش کرنا جو کہ آپ نہیں ہیں تو اس سے آپ زندگی مزید تکلیف دہ ہوجاتی ہے۔ ‘

انھوں نے پڑھائی بھی جاری رکھی اور کہتی ہیں کہ انھیں پڑھانے کا شوق بچپن سے ہی تھا اور وہ اپنے پڑوس میں بچوں کو پڑھاتی تھی۔

بہرحال وہ اس کی زندگی رواں رہی، یہاں تک کہ جب وہ اس نے اپنا گھر بھی چھوڑ دیا اس کی زندگی جاری رہی۔

انیرا کبیر کے پاس اب تین ماسٹرز کی ڈگریاں ہیں جن میں ایک تعلیم کی ڈگری بھی شامل ہے اور اس نے ایک ریاستی امتحان پاس کیا ہے جو اسکول کے سینئر طلبا کو پڑھانے کی اجازت دیتی ہے۔

لیکن ملازمت کے انٹرویوز میں انھیں نامناسب سوالات کا سامنا کرنا پڑا - ایک انٹرویو لینے والے نے پوچھا کہ ان پر کیسے بھروسہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ طالب علموں کو جنسی عینک سے نہ دیکھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ 'مجھے ایسی ملازمتوں کے لیے پاس کر دیا گیا جن کے لیے میں زیادہ اہل تھی۔'

جب بالآخر انھیں بطور سماجیات کی جونئیر ٹیچر کے طور پرایک عارضی عہدہ دیا گیا تو وہ کہتی ہیں کہ اس نے اسکول کے ایک اہلکار کو سچ بتایا۔

وہ کہتی ہیں کہ 'میں نے اسے بتایا کہ میں ایک ٹرانسجینڈر خاتون ہوں اور اس طرح انٹرویو کے لیے حاضر ہونے سے معذرت کی۔ میں نے وضاحت کی کہ میں نوکری کے بغیر اپنا کرایہ بھی ادا نہیں کر سکتی۔'

Aneera Kabeer

،تصویر کا ذریعہCourtesy Aneera Kabeer

،تصویر کا کیپشنانیرا کبیر کہتی ہیں کہ وہ ایک ٹیچر بننا چاہتی تھیں۔

انھوں نے الزام لگایا کہ جب نومبر سنہ 2021 میں انھوں پڑھانا شروع کیا تو ان کے ساتھیوں کے جاہلانہ تبصروں کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کا کہنا ہے کہ طالب علموں نے اس کی مدد کی۔

لیکن پھر انیرا کبیر کہتی ہیں کہ انھیں اس سال اچانک چھ جنوری کو اسکول آنے سے منع کردیا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ ان کی برطرفی قواعد کے خلاف تھی۔

جب وہ ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھی تو وہ گھبرا گئی اور اسکول کے قریب دکانوں پر بھی گئی اور یہ پوچھنے کے لیے کہ کیا وہ اسے سیلز پرسن کے طور پر رکھ لیں گے، لیکن سب نے اسے انکار کردیا۔

تب انھوں نے قانونی مدد کے لیے رابطہ کیا۔

یہ خبر وائرل ہو گئی اور کیرالہ کے وزیر تعلیم نے فوری طور پر رد عمل ظاہر کیا - وہ انیرا کبیر سے ملے اور انہوں نے اب پلاکڈ میں ایک سرکاری دفتر میں ایک اور عارضی ملازمت شروع کر دی ہے۔

لیکن اس جیسے دوسرے لوگ اب بھی مدد کے منتظر ہیں۔

انصاف کا ایک طویل راستہ

سنہ 2018 میں جنوبی انڈیا کے شہر چنّائی سے تعلق رکھنے والی ماڈل شانوی پونوسامی نے انڈین صدر رام ناتھ کووند کو ایک خط لکھا، جس میں انھوں نے بھی 'رحم کے قتل' کی درخواست کی گئی تھی۔

پچھلے سال انھوں نے ملک کی سپریم کورٹ میں درخواست کی تھی جب انھیں اس وقت کی قومی فضائی کمپنی ائیر انڈیا نے مبینہ طور پر ملازمت دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ ان کے پاس ٹرانس جینڈر عملے کی خدمات حاصل کرنے کی پالیسی نہیں تھی۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

Shanavi Ponnusamy

،تصویر کا ذریعہCourtesy Shanavi Ponnusamy

،تصویر کا کیپشنشانوی پونوسامی نے بھی سنہ 2018 میں رحم کے قتل کی درخواست کی تھی۔

ایئر لائن اور حکومت نے مہینوں تک درخواست کا جواب نہیں دیا۔ بعد میں کمپنی نے اس مقدمے کو 'غیر سنجیدہ' قرار دیا اور ان پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دی۔

جب اس مقدے نے طول پکڑنا شروع کیا تو اس دوران شانوی پونوسامی کی جتنی بھی بچت تھی وہ خرچ ہونا شروع ہوگئی، جس کے بعد انھوں نے انڈین صدر کو خط لکھا۔

تو کیا ان کے لیے کچھ بدلا؟ وہ کہتی ہے کہ 'کچھ نہیں۔'

انھیں دوبارہ کبھی کوئی جواب نہیں ملا اور ایئر انڈیا کو اب ایک پرائیویٹ کمپنی نے خرید لیا ہے جس سے اس کے لیے نوکری کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔

لیکن انھوں نے مدراس ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے جس میں انھوں نے اب تک کیے گئے قانونی اخراجات کے لیے معاوضے کی مانگ کی ہے۔

وہ پوچھتی ہیں کہ 'اگر آپ کے پاس ایسا نظام ہے تو ہم جیسے لوگ کیسے زندہ رہیں گے؟'