آصف زرداری کی پریس کانفرنس: 'شکر ہے اس صورتحال میں یہ معلوم ہوا کہ وہ نیوٹرل رہ سکتے ہیں، انتخابی اصلاحات کے بعد ہی انتخابات ہوں گے‘

پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کا گزشتہ رات سابق وزیرِ اعظم نواز شریف سے رابطہ ہوا ہے، ان کو سمجھایا ہے اور ان کی مشاورت سے یہ بات کر رہا ہوں کہ جیسے ہی انتخابی اصلاحات ہوں الیکشن کروا دیں گے۔

کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ 'ہم کب کہ رہے ہیں کہ الیکشن سے بھاگتے ہیں لیکن ہم نے انتخابی اصلاحات کرنی ہیں، جس کی بدولت معاشی صورتحال اس نہج پر پہنچی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ کیا کر لے گا الیکشن جلدی کروا کے، چار سال اس نے کیا کیا۔ اور میں نے رات ہی میاں صاحب سے بات کی، ان سے مشاورت کی اور انھیں سمجھایا بھی اور ان کی مشاورت کے بعد میں آپ سے بات کر رہا ہوں۔

'جیسے ہی ہماری انتخابی اصلاحات مکمل ہوتی ہیں اور جو ہمارے آسان اہداف ہیں وہ پورے ہوتے ہیں تو ہم الیکشن کال کر دیں گے۔'

خیال رہے کہ الیکشن کب ہوں گے اس بارے میں تاحال ابہام موجود ہے اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اور موجود وزیرِ دفاع خواجہ آصف جلد الیکشن کے امکان کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔

اس وقت پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف لندن میں نواز شریف سے ملاقات کرنے گئے ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں بھی الیکشن کی ممکنہ تاریخ زیرِ غور آئے گی اور اس بارے میں مشاورت کی جائے گی۔

تاہم آصف زرداری سے خواجہ آصف کے بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ 'خواجہ آصف کی اپنی سوچ ہے لیکن میرا پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ معاہدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تک ہم انتخابی اصلاحات نہیں کر لیتے۔

'چاہے جو بھی پوسٹنگ ہو یا چیف ہو اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں ہے، آپ قانون میں تبدیلیاں کر لیں، آپ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق فیصلہ لے لیں تو پھر ہم الیکشن کروا لیں گے۔'

الیکشن اصلاحات سے متعلق بات کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ' فوری الیکشن کروانے کا گانا گایا جا رہا ہے، لیکن نئے انتخابات کروا کر بھی جو آئے گا اسے بھی یہی مسئلے حل کرنے ہیں۔ تو یہ ہمیں حل کرنے دو۔

'اور مجھے قانون تو بنانے دو جس پر سارا جھگڑا ہے جس کی بدولت سیلیکٹڈ آتے ہیں۔ تو پہلے انتخابی اصلاحات ہوں گی، چاہے تین ماہ لگیں، یا چار ماہ میں۔'

ان کا کہنا تھاکہ الیکشن اصلاحات تین ماہ میں ہوں، چارماہ میں یا جب بھی ہوں تو ہی الیکشن کرائیں گے، ہمارے گیم پلان میں انتخابی اصلاحات اور نیب میں اصلاحات کرنا شامل ہے۔

'شکر ہے اس صورتحال میں یہ معلوم ہوا کہ وہ نیوٹرل رہ سکتے ہیں‘

فوج کے غیر سیاسی ہونے سے متعلق بات کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ 'اگر فوج غیر سیاسی ہوتی ہے تو ہمیں اسے سیلوٹ کرنا چاہیے یا اس سے لڑنا چاہیے۔

'اس نے مجھے یا کسی اور کو یہ نہیں کہا کہ زرداری صاحب کو ووٹ کرو یا شہباز شریف کو ووٹ کرو۔ انھوں نے تو صرف یہ کہا کہ ہم مداخلت نہیں کریں گے جو آئین کے مطابق انھوں نے حلف بھی لیا ہوا ہے۔'

اس بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'اگر وہ حلف پر رہیں تو بھی غلط ہیں، اگر نہ رہیں تو بھی غلط ہیں، یہ قصہ نہیں چلے گا۔

'شکر ہے مولا کا اس صورتحال میں ہمیں یہ پتا چل گیا کہ وہ غیر سیاسی رہ سکتے ہیں، نیوٹرل رہ سکتے ہیں اور ہم کوشش کرتے رہیں گے کہ ہم غیر سیاسی رہیں۔'

آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ 'جو بھی عوام کے مسائل ہیں، تو ہم عوامی نمائندے ہیں، ہم کس بات کی تنخواہ لے رہے ہیں، مجھے نواب شاہ کے لوگوں نے کیوں ووٹ دیا، ان کی نمائندگی کے لیے۔'

یہ بھی پڑھیے

’معیشت کے بارے میں آؤٹ آف دی باکس حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے‘

آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ہمیں معیشت کے حوالے سے آؤٹ آف دی باکس حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’مثال کے طور پر تیل کی قیمتیں زیادہ ہیں، لیکن ہمیں سعودی عرب سے پہلے سے ہی 10 لاکھ بیرل 70 روپے میں ملنے کا معاہدہ ہے، تو وزیرِاعظم کے ہاؤس آف سعود سے تعلقات اچھے ہیں، تو ان سے بات کی جا سکتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ جب تک آئی ایم ایف کا پروگرام نہیں شروع ہو جاتا تب تک ہمیں مشکلات ہو سکتی ہیں۔ باہر کے پاکستانی دوستوں کو گمراہ کیا ہوا ہے، جن کو نہ یہاں کی گرمی کا پتا ہے نہ ہی مہنگائی کا۔‘

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی آج کی آبادی 30 کروڑ ہے، جس میں ہم نے ملک بنانا ہے۔ اگر کوئی پاکستان چلا سکتا ہے تو ہم چلا سکتے ہیں یہ نہیں چلا سکتا۔

’میں نے شروع سے ہی کہا تھا کہ یہ اپنے زور سے گرے گا، اور وہ اپنے زور سے گرا۔ ہمارے ساتھ پاکستان میں اتنی سازشیں ہوتی رہی ہیں کہ اگر سازش نہ بھی ہو تو ہم سازشیں ڈھونڈتے ہیں۔‘

آصف زرداری کا شاری بلوچ سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’مجھے ذاتی طور پر بلوچ بیٹی کا صدمہ ہوا ہے، کہ ان کو اتنا برین واش کیا ہوا تھا، کہ انھوں نے ایسے چینیوں کو نشانہ بنا دیا جو سندھیوں کو چینی زبان پڑھا رہے تھے۔‘

'پرویز مشرف نے جیل میں رکھا لیکن ان کے گھر پر ہلا نہیں بولا'

آصف زرادری نے کہا کہ 'یوسف رضا گیلانی کو نکالا گیا لیکن میں نے ججوں کے خلاف مہم نہیں چلائی، پانچ سال تو پرویز مشرف مجھے جیل میں رکھ کر بیٹھے تھے، لیکن میں نے تو اس کے گھر پر ہلا نہیں بولا۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ پرویز مشرف زندہ رہے اور دیکھے۔'

انھوں نے کہا کہ 'ہر ادارہ، ہر محکمہ اپنا کام کرے، بیروکریسی اپنا کام کرے، اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کریں گے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ایم کیو ایم کو بھی صحیح راستوں پر لگا کر کام لینا ہے کیونکہ اگر آپ کام نہیں لیں گے، تو وہاں کوئی اور طاقت آ جائے گی۔'

نیب سے متعلق سوال کے بارے میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’نیب میں بہتر غیر سیاسی افسر رکھیں گے، کسی بیروکریٹ کو ڈر نہ ہو نیب کا۔ میری تجویز یہ کہ بیروکریسی کو نیب سے دور رکھیں، اور قانون میں بھی ترمیم کرنی ہو گی۔‘

’فیض حمید بیچارہ تو کھڈے لائن ہے‘

جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ آپ نے کہا کہ باجوہ نیوٹرل ہو گیا ہے تو سیلوٹ کرنے کا دل کرتا ہے، آپ نے کہا کہ فیض حمید نے پی ٹی آئی کی حکومت بنائی، اس کو بھی سیلوٹ کرنے کا دل کرتا ہے؟ اس پر آصف زرداری نے جواب دیا کہ 'فیض حمید بیچارہ تو کھڈے لائن ہے۔'

آصف زرداری کے اس بیان اور ان کی پریس کانفرنس کے بارے میں سوشل میڈیا پر خاصا ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ اکثر تجزیہ نگار ان کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس پاکستان کی موجود غیر یقینی سیاسی صورتحال میں ایک مؤثر بیان قرار دے رہے ہیں۔

مصنف و تجزیہ نگار ندیم فاروق پراچہ کہتے ہیں کہ ’آصف زرداری عملی سیاست کے ماہر ہیں اور سیاست دانوں کے سیاست دان ہیں۔‘

اداکارہ عفت عمر کا کہنا تھا کہ ’آصف زرادی کیا سیاست دان ہیں، میں ان سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔‘

صحافی سلمان مسعود کا کہنا تھا کہ ’آصف زرداری کی پریس کانفرنس کا اصل پیغام یہ تھا کہ گھبرائیں نہیں، فوکس رکھیں۔‘

تاہم چند صارفین کو جنرل فیض حمید سے متعلق آصف زرداری کا بیان پسند نہیں آیا اور انھوں نے سوال کیا کہ کیا ایف آئی اے ان کے خلاف بھی کارروائی کرے گی۔ یہ بات متعدد صارفین کی جانب سے دہرائی گئی۔