آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’پاکستان میں پہلی بار کسی سیاسی جماعت نے اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر لیا ہے‘
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
رابطہ نامی ایپ پر رجسٹریشن کے باوجود جب میں نے ایپ کو اپنے موبائل پر ڈاؤن لوڈ کر کے اوپن کرنے کی کوشش کی تو کئی گھنٹے کی کوشش کے باوجود میں اس ایپ کے فیچر دیکھنے میں کامیاب نہیں ہو پائی۔
ابھی گزشتہ شام ہی پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے موبائل پر لاگ اِن کو کلک کیا پھر تالیاں بجیں اور عمران خان نے کہا مبارک ہو ساری ٹیم کو بہت مبارک ہو۔
یہ پی ٹی آئی کی عوامی ڈیجیٹل رابطہ مہم کے لیے رابطہ نامی ایپ کی لانچنگ کا منظر ہے۔
پی ٹی آئی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت بن گئی ہے جو اب سوشل میڈیا کے علاوہ آن لائن ایپ کے ذریعے بھی اپنے فالوورز سے منسلک ہو گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی سپورٹر گزشتہ کئی گھنٹوں سے اس رابطہ ایپ پر رجسٹرڈ ہونے کے بعد اپنی ٹوئٹس کر رہے ہیں۔
گوگل پلے سٹور پر جائیں تو اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد اس ایپ پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔
یہ ایپ سب کے لیے ہے یعنی اسے سترہ برس کی عمر سے زیادہ کا کوئی بھی صارف ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے۔ شناختی کارڈ اور فون نمبر کی مدد سے آپ اپنی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔
جہاں کچھ سوشل میڈیا صارفین کو رجسٹریشن میں مشکلات کا سامنا ہے وہیں اوورسیز پاکستانی بھی اپنے ہاں اس کی عدم دستیابی پر پریشان دکھائی دے رہے ہیں اور مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
احسن خان نے گوگل پلے پر اپنے کمنٹس میں لکھا میں آپ کو اور آپ کی ٹیم کو سراہتا ہوں لیکن یہ ایپ بہت سست ہے اس پر کام کریں۔
حسنین اشفاق نے لکھا برا مت مانیے گا لیکن یہ ایپلیکشن ہمیشہ یہی شو کرتی ہے کہ کچھ غلط ہو گیا ہے، ڈیٹا لاگ ان بھی کام نہیں کر رہا۔
شہزاد انور نے لکھا بہت ہی سلو رسپانس ہے ایپ کو بہتر کریں یہ بہت پریشان کن اور مایوس کن ہے۔
ٹوئٹر پر جائیں تو وہاں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ وقار نے سوال کیا اوورسیز پاکستانیوں کا کیا ہو گا؟ کچھ لوگ ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں اور کچھ جواب میں صلاح دے رہے ہیں کہ شاید ٹریفک کی وجہ سے کوئی مسئلہ ہو آپ تھوڑی دیر بعد ٹرائی کریں۔
لیکن مریم کی مانند کچھ ایسے صارفین بھی ہیں جو رجسٹریشن کروا کر ایپ کھولے بغیر ہی خوشی سے ٹوئٹ کر رہے ہیں۔
یہ ایپ لانچ کرنے کا مقصد کیا ہے؟
عمران خان نے لانچنگ کی تقریب کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی رابطہ ایپ پر آپ سب ممبر بنیں۔ اور جنھوں نے پارٹی جوائن کرنی ہے اور خاص طور پر پاکستان کی جو یوتھ ہے، نوجوان ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ سب اس پارٹی کے ممبر بنیں۔
’ہم ماڈرن ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ایک دفعہ ہمارے پاس ڈیٹا آ جائے تو ہم اسے بریک ڈاؤن کر کے نیچے حلقوں کے اندر لے جائیں گے۔ جب ہم نے ٹکٹ دینے ہوں اس میں ہمارا بڑا فائدہ ہو گا، ہم چیک کر سکتے ہیں کہ ہمارے ممبر کس کو چاہتے ہیں کہ ٹکٹ ملے۔‘
’کیونکہ 2018 اور 2013 میں بڑا مشکل تھا کہ ایک دم 700 اور 800 ٹکٹ دیں اور پھر کیسے ویری فائی کریں کہ جن لوگوں کو ٹکٹ دے رہے ہیں وہ میرٹ پر ہے یا نہیں ہے اور ہمیں بہت مشکلات آئیں، مجھے پتہ ہے کہ کئی جگہ بڑے غلط ٹکٹ دے کر اپنا نقصان کروایا بہت بڑا۔‘
اس ایپ میں کیا کچھ دستیاب ہے؟
پی ٹی آئی کے پارٹی مینجمنٹ سیل کے چیئرمین سینئیر رہنما شیر علی ارباب نے بتایا کہ اس پر کام گزشتہ ایک سال سے جاری تھا۔
’پہلے پارٹی مینجمنٹ سیل بنایا گیا تھا، جس کی میں سربراہی کر رہا تھا اور اس پر پارٹی میں کافی عرصے تک مختلف امور پر بحث اور گفت و شنید ہوتی رہی۔ ماڈیول لسٹ تیار ہوئی، بزنس ریکوائر منٹ ڈاکومینٹ بنے ہر ماڈیول کی اپنی کمیٹی تھی، اس کے نتیجے میں ہم یہ ایپ بنانے کے کابل ہوئے، ابھی ہم نے صرف تین چیزیں اس اپ ڈیٹ میں ریلیزکی ہیں۔ اب ہم دوسرے ہفتے میں ٹیسٹنگ کریں گے ایک دو اور ماڈیول کو، دو اور اپ ڈیٹس میں پوری ایپ مکمل طور پر لانچ ہو جائے گی۔ کل ملا کر 11 ماڈیول ہیں، اور اس ایپ کو پوری دنیا میں کوئی بھی ڈاؤن لوڈ کر لے گا۔‘
کیا فنڈ ریزنگ کی سہولت ہے؟
وہ کہتے ہیں کہ اس ایپ میں کوئی فنڈ ریزنگ کا پروویژن نہیں ہے، ہاں اگر کل پارٹی فیصلہ کرے کہ وہ اس ایپ کے ذریعے انٹرا پارٹی الیکشن کرے تو کر سکتی ہے، ممبران کو ٹکٹ مل سکتا ہے آن لائن۔
وہ کہتے ہیں ایک اور ماڈیول پر کام کیا جا رہا ہے جس کا نام ہے میرا حلقہ۔ اس کے ذریعے حلقہ بھی مینج ہو سکتا ہے اور الیکشن کے دن کے امور کا انتظام بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
شیر علی ارباب کہتے ہیں یہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا لیکن تب پی ٹی آئی حکومت میں تھی اور حکومتی امور کی مصروفیات کی وجہ سے یہ کام مکمل نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایپ میں پیمنٹ کا ایشو بھی تھا، اگرچہ لوکل پے منٹ کو تو ہم دیکھ رہے ہیں، کچھ ہفتوں میں ہو جائے گا، لیکن بین الاقوامی پے منٹ ایک چیلنج ہے، کیونکہ جب تک ہمارے پاس وائیبل انٹرنیشنل پے منٹ گیٹ وے نہیں ہو گا ہم پیڈ ممبر نہیں حاصل کر سکیں گے۔ اس ایپ کا سکوپ ممبر شپ کی حد تک ہے اس میں کوئی فنڈ ریزنگ یا ڈونیشن (عطیات) کی پروویژن نہیں ہے۔‘
دیگر سیاسی جماعتیں کہاں کھڑی ہیں؟
اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو گوگل پلے سٹور کے مطابق تقریباً ایک لاکھ افراد اس میں رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ’تعداد 200 ہزار سے اوپر تک پہنچ گئی ہے۔‘
شیر علی ارباب کہتے ہیں کہ اس حوالے سے پی ٹی آئی کے متعلقہ سیل کی ایک اور میٹنگ ہو گی پہلے ہفتے میں، ایپ میں مسائل آ رہے ہیں اور ایک وجہ بہت زیادہ لوگوں کی جانب سے اس کو ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ `گزشتہ روز بہت کریش ہوئی تھی، اگر آپ ای میل کے ذریعے جو بھی مسئلہ آ رہا ہے اسے رپورٹ کریں تو کچھ گھنٹوں میں یہ حل ہو جائے گا۔‘
پاکستان میں اس قسم کی ایپ پہلی بار لانچ کی گئی ہے اگر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ورلڈ میں بھی دیگر جماعتوں سے سبقت لیے ہوئے ہے۔
پیپلز پارٹی سے منسلک سیاسی کارکن فہمیدہ برچہ اس سے متفق ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پیپلز پارٹی سمیت پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی سے بہت پیچھے ہیں، پی ٹی آئی دس سال پہلے جہاں تھی دیگر جماعتیں ابھی وہاں بھی نہیں پہنچیں۔
انھوں نے ڈیجیٹل سطح پر پی ٹی آئی کی ایپ کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’میں نے یہ ایپ دیکھی، پی ٹی آئی ہمیشہ پروپیگنڈے میں کمال رکھتی تھی اور اب ایپ بنا کر بھی وہ دیگر جماعتوں سے آگے نکل گئی ہے۔ پی ٹی آئی اس سے فائدہ بھی اٹھائے گی دوسری جماعتیں تو پی ٹی آئی کے دس سال پہلے کی حیثیت تک بھی نہیں پہنچ سکیں۔‘
تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ایپ سے لوگوں تک رسائی تو ہو گی لیکن یہ پارٹی جو سوشل میڈیا سے ہی بنی ہے اس کی سیاسی لحاظ سے کوئی فلاسفی نہیں، یہ نظریاتی سیاست نہیں کرتے جہاں پر دماغ ختم ہوتا ہے وہاں سے آگے پی ٹی آئی شروع ہوتی ہے۔‘