ایبٹ آباد جلسے کی تقریر: حکومت عمران خان کے خلاف کیا کارروائی کر سکتی ہے؟

عمران خان

،تصویر کا ذریعہTWITTER/PTI OFFICIAL

    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

'یہ کون تھے میر صادق اور میر جعفر؟ جن کو نہیں پتا میں پھر سے بتا دوں۔ میر جعفر، جو مسلمانوں کا، مغلوں کا گورنر سراج الدولہ تھا، اس کا سپہ سالار تھا، کمانڈر ان چیف تھا۔ اس نے انگریزوں کے ساتھ مل کر غداری کی سراج الدولہ سے، مسلمانوں سے۔ (اور ) انگریز جیتے۔'

آٹھ مئی کو ایبٹ آباد میں جلسے سے خطاب کے دوران تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کی تقریر کے ان الفاظ نے پاکستان کی ہر لمحہ بدلتی سیاست میں جیسے تہلکہ مچا دیا۔

پہلے پاکستان فوج کے ترجمان کی جانب سے ایک بیان سامنے آّیا جس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا۔

کئی تجزیہ کار اور صحافی بھی عمران خان کے ان الفاظ کو براہ راست فوجی قیادت پر حملہ قرار دے رہے ہیں جب کہ خود عمران خان کی جماعت کے رہنما اس کشمکش میں دکھائی دیتے ہیں کہ کیسے ان الفاظ کا مفہوم پیش کیا جائے۔

واضح رہے کہ ایک سال قبل تک کوئی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ عمران خان کی موجودہ عوامی رابطہ مہم کے دوران ایسے بیانات دیے جائیں گے۔ مثلا وہ بار بار بظاہر فوجی قیادت کے نیوٹرل ہونے کا شکوہ کرتے نظر آئے۔ مگر دو روز قبل ان کی ایبٹ آباد میں کی گئی تقریر نے کئی حلقوں میں خاصی بےچینی پھیلائی ہے۔ وہ اب کھل کر اور براہ راست ہو کر بات کر رہے ہیں۔

گذشتہ روز عمران خان نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ان کا اشارہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب تھا۔

تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے بھی اس بیانیے کو مسلم لیگ ن کی جانب موڑنے کی کوشش کی اور کہا کہ 'عمران خان نے ابھی واضح کیا ہے کہ اصل میر جعفر اور میر صادق نوازشریف اور شہباز شریف ہیں۔ غیر ملکی طاقت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازش کی گئی۔'

مگر ان کے 'یوٹرن' سے پہلے ہی نقصان ہو چکا تھا۔ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں سخت الفاظ کے ساتھ فوج مخالف 'پراپیگنڈہ' کی مذمت کی تو دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ عمران خان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ادارے کو سیاسی گفتگو سے دور رکھا جائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ 'حال ہی میں جان بوجھ کر پاکستان کی مسلح افواج کو ملک میں جاری سیاسی گفتگو میں گھسیٹنے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔ یہ کوششیں مسلح افواج کے ساتھ ساتھ اس کی اعلی قیادت کے حوالے سے براہ راست، واضح یا مختصر حوالے سے سامنے آ رہی ہیں۔'

بیانیے کی تبدیلی

پاکستان میں اداروں کی سیاست میں مداخلت نئی ہے نہ ہی سیاستدانوں کی طرف سے بار بار ریاستی اداروں پر الزام لگانا نیا فعل ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ن لیگ رہنما مریم نواز اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کھل کر فوج مخالف بیانیہ پیش کرتے رہے ہیں۔

اب اس میں ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید دونوں کا ہی نام لیا جاتا تھا لیکن اب صرف جنرل فیض حمید کا ذکر سننے کو ملتا ہے۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@PAKPMO

دوسری تبدیلی یہ آئی ہے کہ 2018 کے انتخابات کے بعد اس وقت کی حکمراں جماعت تحریک انصاف، مسلم لیگ ن کے فوج مخالف بیانیے کو اداروں کے خلاف سازش قرار دیتی تھی، اب یہ کردار مسلم لیگ ن ادا کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر دونوں جماعتوں اور ان کے ارکان میں تقسیم بھی بڑھ رہی ہے اور یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان کے فوج مخالف بیانیے پر کاروائی ہوگی تو کیا مریم نواز سے بھی سوال پوچھا جائے گا کہ وہ فوجی افسران و قیادت پر بار بار الزام کیوں لگا رہی ہیں یا لگاتی رہی ہیں۔

اس تنقید کے جواب میں ن لیگ کے حامی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ مریم نواز کا بیانیہ فوج کو سیاست میں مداخلت سے روکنے سے متعلق ہے جبکہ عمران خان کا بیانیہ فوج کو سیاست میں مداخلت کرنے اور نیوٹرل نہ رہنے پر قائل کرنے کی کوشش ہے۔

ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اب جبکہ وزیراعظم نے عمران خان کے خلاف قانونی کاروائی کا اعلان کیا ہے تو یہ قانونی کاروائی کیا ہو سکتی ہے؟ حکومت خاموش ہے لیکن قانونی ماہرین کے مطابق ایسا ہونا مشکل ہے۔

اس بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات نے رابطے کے باوجود کوئی وضاحت نہیں دی ہے۔

’عمران خان کو نظر بند کرنے کا آپشن موجود ہے‘

عمران خان

،تصویر کا ذریعہPTI

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عبد الطیف آفریدی نے کہا کہ حکومت عمران خان کے خلاف کوئی خاص قانونی کاروائی نہیں کر سکتی۔

'ان کو نظر بند کرنے کا ایک آپشن تو موجود ہے کہ وہ فوج کے رینک اینڈ فائل میں تقسیم پیدا کر رہے ہیں اور عوام میں نفرت پھیلائیں اور خانہ جنگی اور کشیدگی بڑھے، اس وجہ سے وہ نظربند ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو سکتی کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوں، ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لیے میرے خیال میں اس معاملے پر انتظار کرنا ہو گا۔'

یہ بھی پڑھیے

عبد الطیف آفریدی نے مزید کہا کہ ایسے بیانات پر کیا کاروائی کیا جا سکتی ہے 'کیونکہ یہ تو وہ الزامات ہیں جو آئے روز دونوں ہی اطراف سے سننے کو ملتے ہیں، دونوں ہی جماعتوں کے رہنما ایسی باتیں کرتے ہیں اور فوجی قیادت یا اداروں کو موردالزام ٹھہراتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ اتنا آسان نہیں کہ اس بات کی بنیاد پر ان کے خلاف کاروائی کی جائے یا ان کے خلاف کوئی مخصوص الزام ثابت کیا جا سکے۔'

وہ کہتے ہیں کہ عمران خان یا مریم نواز جو بھی بات کررہے ہیں 'تو یہ دیکھیں کہ ملک میں آزادی اظہار رائے کا قانون موجود ہے، لوگوں کے جمع ہونے کا قانون موجود ہے تو یہ سب تو بینادی حقوق ہیں جن کا آئین تحفظ کرتا ہے۔ اس لیے ان حقوق پر تو کارروائی نہیں ہو سکتی۔'

ان کے مطابق عمران خان کو نظر بند کرنے کا آپشن اگرچہ موجود ہے 'لیکن میرے خیال میں حکومت ایسا کچھ نہیں کرے گی۔'

’بیانیے کا مقابلہ سیاسی گفتگو سے کریں‘

اسی بارے میں سینیئر صحافی اورتجزیہ کار فہد حسین نے بی بی سی سے بات کی اور کسی بھی قانونی کاروائی کو مزید سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے مترادف قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ عمران خان کےبیانات غیرذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز ہیں مگر حکومت کا ایسا کوئی بھی لائحہ عمل درست نہیں ہو گا۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کے لیے بہتر ہو گا کہ ایسے بیانیے کا مقابلہ سیاسی گفتگو کے ذریعے کرے نہ کہ قانونی کاروائی سے۔'

حکومت کے اندر بھی اس معاملے پر دو رائے پائی جاتی ہے۔ اس کا ثبوت وفاقی وزیر دفاع اور رہنما ن لیگ خواجہ آصف نے جیو نیوز کے پروگرام 'آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ' میں گفتگو کے دوران دیا جب انھوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر عمران خان کے خلاف موجودہ حالات میں کسی کارروائی کے حق میں نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میرا سیاسی تجربہ یہ ہے کہ جب بھی سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، کسی بھی جسٹیفائی ایبل وجہ کے اوپر بھی، ایڈوانٹج ان کو ہوا۔'