شاہد آفریدی: پاکستانی مداحوں کی ’آنکھوں کا تارا‘ اور سابق کپتان شاہد آفریدی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں کیوں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی یوں تو اپنے کرکٹ کریئر کے دوران متعدد مواقعوں پر تنازعات کا شکار رہے ہیں لیکن آج کل جب بھی ان کا نام سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتا ہے تو اکثر اس کی وجہ ان کی فلاحی فاؤنڈیشن یا ماضی کے کسی میچ کی جھلکیاں ہوتی ہیں۔
یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ شاہد آفریدی کو پاکستان میں سپرسٹار حیثیت حاصل ہے، ان کی گراؤنڈ میں مداح کی حیثیت سے بھی ایک جھلک دکھ جائے تو کان پڑی سنائی نہیں دیتی، اور یہی حال اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی تعلیمی ادارے کا دورہ کرتے ہیں۔
تاہم گذشتہ کچھ روز سے سوشل میڈیا پر شاہد آفریدی کو کڑی تنقید کا سامنا ہے اور بظاہر سب کی آنکھوں کا تارا سمجھے جانے والے آلراؤنڈر کو بھی وضاحتیں دینی پڑ رہی ہیں۔
اس کی وجہ وہی ہے جس نے پاکستان میں عید کی چھٹیوں کے دوران کھانے کی میزوں پر بحث اور گرما گرمی کا ماحول پیدا کیے رکھا اور معاشرے میں تقسیم کا باعث بھی بن چکی ہے۔ آپ صحیح سمجھے، اس تنقید کی وجہ موجودہ سیاسی صورتحال ہی ہے۔
یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب شاہد آفریدی کی جانب سے شہباز شریف کو وزیرِاعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی۔ اس وقت سوشل میڈیا پر صورتحال ویسے بھی تناؤ کا شکار تھی اور ایسے میں پی ٹی آئی کے مداحوں نے تنقید کا رخ کچھ دیر کے لیے شاہد آفریدی کی جانب موڑا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/SAfridiOfficial
شہباز شریف کو مبارکباد اور فوج پر تنقید سے گریز کرنے کے بیانات
شاہد آفریدی نے اس ٹویٹ میں یہ کہا تھا کہ ’شہباز شریف صاحب کو پاکستان کا 23واں وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو موجودہ معاشی و سیاسی بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے۔‘
اس کے جواب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’آپ کے مبارکباد کے پیغام کا شکریہ، انشااللہ پاکستان چیلنجز سے نکلے گا۔ میری فوری توجہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنا ہے۔‘
شاہد آفریدی کا اس کے بعد ایک اور ٹویٹ میں یہ کہنا تھا کہ ’جب وقت رخصت آ جائے تو چاہے حق پر ہوں یا غمزدہ، رخصت باوقار طریقے سے قبول کرنی چاہیے۔ الزامات، سازشیں، حتیٰ کہ شکست بھی اقتدار کے کھیل کا حصہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’تاریخ کے صفحات میں بالآخر بات اخلاقی معیار، جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر آتی ہے۔ اسی حسن پر میزان لگتا ہے اسی سے کردار امر ہوتے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر فوج اور عدلیہ پر کی جانے تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔ ایسے میں شاہد آفریدی نے ایک ٹویٹ میں سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف ہونے والی تنقید کے بارے میں بھی بات کی۔
انھوں نے کہا کہ ’ریاست، سیاست و حکومت سے بہت اوپر ہوتی ہے جہاں بات ریاست پر آئے، وہاں ہر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اپنی ریاست اور اس کے دفاع پر مامور اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
’یہ بھی آپ کے اپنے ہیں، ایل او سی سے کوسٹ لائنز تک ہر سپاہی، ہر محافظ قابل احترام ہے۔ ہماری افواج ہیں تو ہم ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/SAfridiOfficial
’شہباز شریف سے اچھا منتظم پورے پاکستان میں دکھا دیں‘
تاہم شاہد آفریدی کی جانب سے دیا گیا ایک انٹرویو جو عید کے پہلے روز ایک نجی ٹی وی چینل پر نشر ہوا، اس کے بعد سے ان پر خاصی تنقید کی جا رہی ہے۔
اس انٹرویو میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ’میں نے ہمیشہ ہی عمران بھائی کی بھرپور حمایت کی ہے، ہمارے عمران بھائی کا بہت بڑا اور زبردست وژن تھا جسے دیکھ کر مزہ آرہا تھا۔
’کسی بھی ٹیم کا لیڈر خود کام نہیں کرتا، وہ وژن بناتا ہے اور اس کی ٹیم کام کرتی ہے، کیا عمران بھائی کے پاس ایسی ٹیم تھی جو ان کے وژن کو لے کر چلتی؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
انھوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو سڑکوں پر آنے کے بجائے پارلیمنٹ میں جانا چاہیے، پارلیمنٹ ایسی جگہ ہے جہاں عمران بھائی مضبوط اپوزیشن کے طور پر آ سکتے تھے جو کہ حکومت پر دباؤ ہوتا اور اس طرح وہ کام کرتی۔‘
شاہد آفریدی نے اس انٹرویو میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تعریف بھی کی اور کہا کہ ان کے کاموں کو پہلے دن سے سراہا رہا ہوں کہ جس طرح سے انہوں نے پنجاب میں کام کیا اور وہاں کے لوگ جیسے خوش ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’آپ سندھ پار کر کے جیسے ہی پنجاب میں داخل ہوتے ہیں آپ کو پتا چل جاتا ہے کہ پنجاب نے کافی ترقی کی ہے، جتنے بھی صوبے ہیں ان میں سے اس وقت سب سے زیادہ پنجاب ترقی یافتہ ہے۔‘
شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’منتظم ہونے کی حیثیت سے میں شہباز شریف کی ہمیشہ سے ہی عزت کرتا ہوں، مجھے ان سے بہتر منتظم دکھا دیں پورے پاکستان میں اگر کوئی ہے۔
’میں کسی اسرائیل کے وزیرِاعظم کو مبارکباد نہیں دی پاکستان کے وزیرِ اعظم کو دی تھی۔ وہ خواہ کوئی بھی ہوتا میں ضرور مباک باد دیتا۔‘
تاہم یہ انٹرویو ان کے خلاف تنقید کا باعث بن چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ کئی روز سے اپنے خلاف ہونے والی تنقید پر شاہد آفریدی نے اپنے یوٹیوب چینل کا رخ کیا اور اس حوالے سے وضاحت دینے کی کوشش کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہد آفریدی نے اپنے وضاحتی پیغام میں کیا کہا؟
شاہد آفریدی نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 'بطور کپتان انھوں نے ہمیشہ عمران خان کی تعریف کی لیکن بطور وزیر اعظم ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرنا ان کا حق ہے۔'
شاہد آفریدی نے کہا کہ 'اختلاف رائے کا احترام کرنا مہذب معاشرے کی نشانی ہے، شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے کی مبارک باد دی تو جانتا تھا کہ مجھ پر تنقید ہو گی۔
'ایک دوسرے سے اختلافات رکھیں لیکن اسے نفرت میں نہیں بدلنا چاہیے۔'
شاہد آفریدی نے کہا کہ ’کبھی عمران خان کی ذات پر تنقید نہیں کی، ان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے کا حق مجھے حاصل ہے، میں نے سیاسی باتوں کی وجہ سے تنقید نہیں کی، عام پاکستانی کے طور پر خیالات کا اظہار کیا۔‘
’عمران خان ریڈ لائن ہے، جو اسے کراس کرے گا اس کی وقعت کو صفر سے ضرب دیں گے‘
سوشل میڈیا پر شاہد آفریدی کو تنقید کا نشانہ بنانے والے صارفین ان کی ماضی میں شہباز شریف کے ساتھ لی گئی تصاویر شیئر کر رہے ہیں اور شہباز شریف کی جانب سے شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کو دی گئی مالی امداد کا ذکر کر رہے ہیں۔
شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر صائمہ خان نے لکھا کہ 'میں نے ایسی ٹویٹس دیکھی ہیں جن میں شاہد آفریدی کو ایک سیاست دان چیک دے رہے ہیں، جو سچی ہیں لیکن یہ ان کی جانب سے فاؤنڈیشن کے لیے عطیات ہیں، جو ہمارا تھر میں ہسپتال ہے۔ خدارا شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کو سیاسی ڈرامے میں نہ گھسیٹیں۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter/@KamiAkmal
اس کے علاوہ زیادہ تر صارفین شاہد آفریدی کے کرکٹ میں ریکارڈ اور صفر پر آؤٹ ہونے کے معمول کا ذکر کر رہے ہیں اور کچھ یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ شاید آفریدی کو سیاست میں لانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
ایسے میں ان کے مداحوں کی جانب سے ان کے حق میں بیانات بھی پوسٹ کیے جا رہے اور ناقدین کو اختلافِ رائے کا احترام کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
اداکار کاشف محمود نے شاہد آفریدی پر نتقید کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’کرکٹ کی تباہی کے بعد اب یہ بندہ سیاست کا فلاسفر بن رہا ہے۔
’عمران خان کی غلطیاں نکال رہاہے آفریدی صاحب سیانے کہتے ہیں جس کا کام اسی کو ساجھے، کرکٹ آپ کو کھیلنی نہیں آئی سیاست تو بہت آگے کی چیز ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@JugnoTweets
اس بارے میں بات کرتے ہوئے کامران اکمل نے شاہد آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی عزت کرتے ہیں مگر آپ اس طرح لالا پر تنقید نہیں کر سکتے، بطور کرکٹر انھوں نے پاکستان کی بہت خدمت کی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان کی اپنی رائے اور خیالات ہیں، برائے مہربانی آپ ان کے کرکٹ کریئر کو سیاست کے ساتھ مت جوڑیں۔‘
ایک اور صارف ارسلان کا کہنا تھا کہ ’شاہد بھائی یاد رکھیں عمران خان ’ریڈ لائن‘ ہے۔ جو اس کو کراس کرے گا اس کی وقعت کو صفر سے ضرب لگا دی جائے گی۔ پھر نہ کہیے گا کہ عوام بدتمیز ہے۔‘










