بلوچستان: کوئٹہ میں درخت کاٹنے والے شخص کو 12 لاکھ روپے جرمانہ، پانچ ماہ کے دوران دوسرا بڑا مقدمہ

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک درخت کو غیر قانونی طور پر کاٹنے کے مقدمے میں ایک شہری پر 12 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔

محکمہ جنگلات و جنگلی حیات حکومت بلوچستان کی جانب سے کوئٹہ شہر کی تاریخ میں ساڑھے چار سے پانچ ماہ کے دوران یہ اپنی نوعیت کا دوسرا بڑا جرمانہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر انگریزوں کے دور کے فاریسٹ ایکٹ پر انحصار کیا جاتا تو ایک درخت کو غیر قانونی طور پر کاٹنے کا جرمانہ صرف 40-200 روپے تک ہوتا لیکن جرمانے کی رقم کو بڑھانے کے لیے دوسرے قوانین کو لاگو کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی علاقے میں بہتر ماحول کے لیے اس کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے لیکن بلوچستان میں یہ بمشکل ڈیڑھ فیصد ہے۔

محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کوئٹہ ڈویژن کے کنزرویٹر نیاز کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کوئٹہ سمیت بلوچستان میں درختوں کو کٹائی سے بچانا ناگزیر ہے اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ اس لیے لگایا جارہا ہے تاکہ آئندہ کوئی درختوں یا جنگلات کو کاٹنے کی جرات نہ کر سکے۔‘

یہ درخت کس قسم کا تھا اور شہر کے کس علاقے میں تھا؟

کوئٹہ شہر کے ممتاز سماجی کارکن اور پرنس روڈ اور اس سے متصل علاقوں کی یونین کونسل کے سابق ناظم اسلم رند نے بتایا کہ یہ درخت عبد الستار روڈ اور آرچر روڈ کے سنگم پر تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ درخت بہت پرانا تھا جسے گذشتہ ماہ کی 7 تاریخ کو رات کی تاریکی میں کاٹا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’چھ ماہ قبل بھی آرچر روڈ پر ایک درخت کو کاٹا گیا لیکن اچھی بات ہے کہ شہریوں نے گذشتہ ماہ کاٹے جانے والے درخت کے معاملے کو اجاگر کیا جس کا محکمہ جنگلات کے حکام نے نوٹس لیا اور ذمہ دار شخص کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی۔‘

محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کوئٹہ ڈویژن کے کنزرویٹر نیاز کاکڑ نے بتایا کہ یہ درخت توت کا تھا جس سے آس پاس کے لوگوں کو بہت زیادہ لگاﺅ تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’بالخصوص ایک بابا کو اس سے بہت لگاﺅ تھا جنھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ ایک طویل عرصے سے اسے اپنے ہاتھوں سے پانی دیتے اور اس کا خیال رکھتے آ رہے تھے۔‘

نیاز کاکڑ نے بتایا کہ ’درخت کے ساتھ پلاٹ پر تعمیرات ہو رہی تھیں جس کے باعث اس درخت کو رات کی تاریکی میں کاٹا گیا تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’درخت کو اس انداز سے کاٹا گیا تھا کہ اس کا نام و نشان نظر نہیں آرہا تھا لیکن محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے وہاں کھدائی کر کے اس کی جڑوں کا سراغ لگا کر شواہد حاصل کیے۔‘

انھوں نے بتایا کہ زیر تعمیر سائٹ کے چوکیدار سے یہ معلوم ہوا کہ اس درخت کو زیر تعمیر عمارت کے مالک محمد نعیم اچکزئی نے کاٹا ہے جس پر ان کے خلاف مقدمہ بنا کر چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جرمانے کی رقم کو بڑھانے کے لیے مختلف قوانین کو لاگو کیا گیا ہے۔

اس زیر تعمیر عمارت کے مالک سے بی بی سی نے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کا موقف معلوم کیا جا سکے لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

میں جب عمارت کے مالک کی تلاش میں کوئٹہ کی عبدالستار روڈ پر گیا تو اس زیر تعمیر عمارت کو لوہے کے چادر لگا کر بند کیا جا چکا تھا اور اس پر کام بند تھا۔

اس عمارت میں اس وقت کوئی فرد نظر نہیں آیا جبکہ اس کے بالمقابل موٹر سائیکل پارکنگ میں موجود لوگوں نے بتایا کہ وہ اس عمارت کے مالک کو نہیں جانتے۔

خطیر جرمانے کے لیے کونسے قوانین کو روبہ عمل لایا گیا؟

محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے کنزرویٹر نیاز کاکڑ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ہاں جنگلات کے حوالے سے انگریزوں کے پرانے قوانین لاگو ہیں جن میں جرمانے کی رقم ان کے دور کے لحاظ سے تو بہت زیادہ تھی لیکن موجودہ دور میں وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اگر ہم انگریزوں کے پرانے فاریسٹ ایکٹ کے تحت جرمانہ عائد کرتے تو یہ 40 سے 200 روپے تک ہی بنتا تھا لیکن جرمانے کی رقم زیادہ کرنے کے لیے تحفظ ماحولیات کے قوانین کو لاگو کیا گیا ہے۔‘

نیاز کاکڑ کا کہنا تھا کہ ’درخت صرف سایہ یا پھل دینے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ماحول کے حوالے سے ان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کاٹے جانے والے درخت نے جو آکسیجن دینا تھی، جرمانے میں اس کی رقم بھی لگائی گئی۔‘

’اسی طرح اس نے ہمارے ماحول سے مفت میں جو کاربن جذب کرنا تھا اس کی رقم بھی لگائی گئی۔ اس کے علاوہ درخت پرندوں اور جنگلی حیات کے گھر اور پناہ گاہ ہوتے ہیں۔ درختوں کے کٹنے سے وہ اپنی پناہ گاہوں سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے جتنے بھی قوانین ہیں انھیں نافذ کرنے سے جرمانے کی رقم 12 لاکھ روپے تک ہو گئی۔‘

اس سے قبل ایک کروڑ 32 لاکھ روپے کا جرمانہ کیا گیا تھا

نیاز کاکڑ نے بتایا کہ اس سے قبل کوئٹہ شہر میں آٹھ درختوں کی کٹائی پر اس سے بھی بڑا جرمانہ عائد کیا گیا تھا جو کہ ایک کروڑ 32 لاکھ روپے تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ان آٹھ درختوں کو جناح روڈ پر بیگ سنیک بار کے قریب کاٹا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا ’کوئٹہ سمیت بلوچستان میں جنگلات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس کے پیش نظر ہماری کوشش ہے کہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی پر لوگوں کو سخت سے سخت سزائیں ملیں تاکہ درختوں اور جنگلات کا تحفظ ہو سکے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آرچر روڈ پر توت کے درخت سمیت دیگر درختوں کی کٹائی کے چالان متعلقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں جمع کیے گئے ہیں۔ محکمہ جنگلات اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت گرفتاری اور جرمانے کی رقم کا تعین کرنے کا اختیار محکمہ جنگلات کا ہوتا ہے لیکن اس پر فیصلہ صادر کرنے کا اختیار عدالت کا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے علاقے شابان میں صنوبر کے درختوں کو بڑے پیمانے میں کاٹا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’صنوبرکا شمار دنیا میں نایاب درختوں میں ہوتا ہے۔ اس درخت کے بڑھنے کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے اور اگر صنوبر کا ایک درخت کٹ جائے تو اس کا متبادل ہماری زندگی میں نہیں آئے گا لیکن ایسے نایاب درختوں کی بے دریغ کٹائی جاری ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

نیاز کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے شابان کے علاقے میں صنوبر کے درختوں کی کٹائی کے سینکڑوں چالان عدالتوں میں دائر کیے ہیں لیکن ان پر فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔‘

’بہت سارے کیسز پر فیصلے آئے بھی ہیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ عدالتوں سے فیصلوں میں تاخیر نہ ہو تاکہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں جو تھوڑے بہت درخت اور جنگلات ہیں ان کو بچایا جا سکے۔‘

نیازکاکڑ نے بتایا کہ ’جس طرح پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جنگلات کے الگ سے مجسٹریٹ ہیں، اسی طرح ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان میں بھی جنگلات کے تحفظ کے لیے الگ مجسٹریٹ تعینات ہوں تاکہ یہاں بھی کیسز کا فیصلہ جلد سے جلد ہو۔‘

بلوچستان میں جنگلات کا مجموعی علاقہ کتنا ہے؟

محکمہ جنگلات کوئٹہ ڈویژن کے کنزرویٹر کا کہنا تھا کہ کسی بھی علاقے میں ماحول کی بہتری کے لیے اس کا کم سے کم 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے۔

انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں تو جنگلات کا علاقہ ویسے بھی نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پورے ملک میں اس کا حصہ بمشکل پانچ فیصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جنگلات کا علاقہ بمشکل 1.5 فیصد ہے۔ ’ان میں گوادر کے ساحلی علاقے میں مینگروز کے جنگلات بھی شامل ہیں اور اگر مینگروزکو نکال دیا جائے تو یہ علاقہ اس سے بھی کم رہ جائے گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ جہاں تک کوئٹہ شہر کی بات ہے تو یہاں بھی صورتحال بری ہے کیونکہ اس اہم شہر میں بھی جنگلات یا سبزے کا علاقہ بمشکل ایک فیصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ درخت انسانی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں لیکن ان کو بڑھانے اور تحفظ کرنے کی بجائے یہ امر افسوسناک ہے کہ ہم انھیں تباہ کر رہے ہیں۔