45 نادر درخت کاٹنے پر یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر کے خلاف مقدمہ درج

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر کے خلاف درختوں کی کٹائی پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

وائس چانسلر کے خلاف مقدمہ محکمۂ جنگلات چلتن رینج کی جانب سے یونیورسٹی کے احاطے میں 45 درختوں کی کٹائی پر درج کیا گیا ہے۔

کنزرویٹر محکمۂ جنگلات کوئٹہ ڈویژن نیاز کاکڑ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی کے احاطے میں جن درختوں کو کاٹا گیا وہ کوئٹہ پائن کے تھے۔

واضح رہے کہ کوئٹہ پائن کا شمار کوئٹہ کے پرانے درختوں میں ہوتا ہے۔ ان درختوں کو ایران سے سنہ 1970 کی دہائی میں لا کر لگایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نیاز کاکڑ نے بتایا کہ محکمۂ جنگلات کے قوانین کے تحت اس درختوں کو کوئی بھی نہیں کاٹ سکتا ہے خواہ یہ روڈ پر ہوں، سرکاری دفتر میں یا کسی کے نجی گھر میں ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئٹہ پائن کا درخت سوکھ گیا ہو یا اس کے کسی حصے کو جلانے کے لیے کاٹنا ہو تو اس کے لیے باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے لیے محکمۂ جنگلات کو تحریری درخواست دینی پڑتی ہے۔

نیاز کاکڑ کے بقول محکمۂ جنگلات معائنے کے بعد اس بات کی اجازت دے سکتا ہے کہ درخت کو مکمل یا اس کے کسی حصے کو کاٹا جاسکتا ہے یا نہیں۔

ان کے مطابق یونیورسٹی حکام نے اتنی بڑی تعداد میں درختوں کو کاٹنے سے پہلے محکمۂ جنگلات سے اجازت نہیں لی تھی۔

یونیورسٹی کا موقف

یونیورسٹی آف بلوچستان نے 45 درختوں کی کٹائی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا ہوا ہی نہیں۔

رجسٹرار یونیورسٹی آف بلوچستان طارق جوگیزئی کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اول تو اتنی بڑی تعداد میں درخت کاٹے ہی نہیں گئے اور جو کٹے ہیں وہ اس لیے کاٹے گئے کہ وہ خشک ہو گئے تھے۔ اور یہ معمول کے حساب سے کٹائی کی گئی۔

محکمۂ جنگلات کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ان درختوں کی اونچائی 50 فٹ تک ہوتی ہے جس طرح مری پائن مری کی خوبصورتی ہے اسی طرح کوئٹہ پائن کوئٹہ کی خوبصورتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک درخت سال میں تین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے جبکہ اسی طرح آکسیجن خارج کرتا ہے۔

نیاز کاکڑ نے بتایا کہ اگر کاٹے گئے درختوں کو آکسیجن کے نقصان کے تناظر میں دیکھا جائے تو کوئٹہ کو سالانہ 12 ہزار کلو گرام آکسیجن سے محروم کر دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق بلوچستان اس وقت شدید ماحولیاتی تبدیلیوں کی اثرات کی زد میں ہے جس سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی ضرورت ہے۔

محکمۂ جنگلات کے ڈویژنل کنزرویٹر نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی خطے یا علاقے میں ماحول کو بہتر رکھنے کے لیے اس کا 25 فیصد جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جنگلات کا علاقہ ایک اعشاریہ ایک فیصد کے لگ بھگ ہے۔