جب ’ایک درخت کی کٹائی‘ شمالی کوریا اور امریکہ کو جنگ کے دہانے پر لے آئی

    • مصنف, ٹوبی لکہرسٹ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

سنہ 1976 میں اگست کے مہینے کے دوران شمالی کوریائی فوجیوں نے امریکی اور جنوبی کوریائی مردوں کے ایک گروہ پر اس وقت حملہ کر دیا جب وہ ایک سفیدے کا درخت کاٹ رہے تھے۔ یہ درخت جنوبی اور شمالی کوریا کی سرحد پر سکیورٹی کے سخت انتظامات والے علاقے میں موجود تھا۔

شمالی کوریا کے ان فوجیوں نے کلہاڑیوں اور ڈنڈوں سے دو امریکی افسران کو ہلاک کر دیا۔

تین دن کے مسلسل مذاکرات کے بعد جن میں سے کچھ وائٹ ہاؤس میں بھی ہوئے، امریکہ نے شمالی کوریا کے اس اقدام کا بھرپور جواب دینے کی ٹھان لی۔

سینکڑوں فوجیوں کو ہیلی کاپٹرز، بی 52 بمبار طیاروں اور ایک طیارہ بردار ٹاسک فورس کو سفیدے کے اس درخت کی کٹائی کے لیے متحرک کر دیا گیا۔

ان فوجیوں میں سے چھ نے بی بی سی کو اس انوکھے آپریشن میں اپنے کردار سے متعلق آگاہ کیا جسے تاریخ کی سب سے بڑی ڈرامائی باغبانی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔

شمالی اور جنوبی کوریا کی سرحد پر ایک چھوٹا سا کیمپ واقع ہے جسے جوائنٹ سکیورٹی ایریا (جے ایس اے) بھی کہا جاتا ہے۔ اس علاقے کو ڈی ملٹرائزڈ زون (ڈی ایم زی) یعنی غیر عسکری علاقہ کہا جاتا ہے۔

یہ دونوں علاقے سنہ 1953 میں کورین جنگ کے اختتام پر دستخط کیے جانے والے التوائے جنگ کے مسودے کے بعد وجود میں آئے۔

جے ایس اے یا مشترکہ سکیورٹی والے اس علاقے کو پانمنجون یا جنگ بندی والا گاؤں بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں دونوں طاقتوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں سے حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا میں داخل ہونے والے پہلے امریکی سربراہ بنے۔

لیکن سنہ 1976 میں سرحدی محافظوں اور دونوں اطراف سے فوجیوں کو اس چھوٹے سے زون میں گھومنے پھرنے کی اجازت تھی۔ شمالی کوریائی، جنوبی کوریائی اور امریکی محافظ اس علاقے میں گھل مل جاتے تھے۔

اگست سنہ 1976 میں بل فرگوسن صرف 18 برس کے تھے۔ وہ جے ایس اے میں امریکی فوج کے امدادی دستے کا حصہ تھے اور مشہور کیپٹن آرتھر بونیفس کی کمان میں کام کر رہے تھے۔

فرگوسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'کیپٹن بونیفس التوائے جنگ کے معاہدے کی تمام شرائط پر عمل کروانے کے درپے تھے۔ ہمیں شمالی کوریائی حکام کو ڈرانے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی تھی تاکہ وہ جے ایس اے کے علاقے میں ہماری آمدورفت پر کوئی اعتراض نہ کر سکیں۔'

اس وقت، شمالی کوریا کے فوجیوں پر دھاک بٹھانے کے لیے صرف ان امریکی فوجیوں کو مشترکہ سکیورٹی والے علاقے میں ڈیوٹی دینے کی اجازت ملتی تھی جن کے قد چھ فٹ سے زیادہ ہوتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

فرگوسن اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'ہمارا ان کے ساتھ میل جول ہوتا ہی نہیں تھا۔' تاہم وہ مانتے ہیں کہ کبھی کبھار شمالی کورین گارڈز اپنے ملک کے پراپیگینڈا کے بدلے مارلبرو سگریٹ لیا کرتے تھے۔

سخت قوانین کے باعث دونوں جانب سے محافظوں اور اسلحے کی تعداد محدود کر دی گئی تھی۔ ایک طرف کی فوج دوسری جانب کی فوج کو اکساتی تھی جس کا نتیجہ بسا اوقات تشدد کی صورت میں نکلتا تھا۔ جب فرگوسن وہاں ڈیوٹی پر تھے تو شمالی کوریائی فوجیوں نے ایک امریکی گارڈ کا بازو صرف اس لیے توڑ دیا کیونکہ وہ حادثاتی طور پر اپنی جیپ شمالی کوریا کی پنمنگاک پویلین نامی مرکزی عمارت کے پیچھے لے گیا تھا۔

امریکی لیفٹیننٹ ڈیوڈ 'میڈ ڈاگ' زلکا نے اپنے فوجیوں کو گشت کے دوران چھڑیاں پاس رکھنے کی ہدایت کر رکھی تھی تاکہ وہ شمالی کوریا کی بیرکس کی دیواروں اور کھڑکیوں کو بجا سکیں یا ضرورت پڑنے پر ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکیں۔

مائک بلبوجے ایس اے میں بل فرگوسن کے پلاٹون کے ساتھی اور دوست تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 'زلکا ہمیں خفیہ گشت پر لے جاتا تھا۔ ایک دو مرتبہ ہم نے شمالی کوریائی فوجی کو پکڑا کیونکہ وہ وہاں نہیں تھا جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔ ہم انھیں مارتے تھے، لیکن زیادہ نہیں۔ '

بلبو کہتے ہیں کہ دونوں طرف سے یہ جارحانہ اقدامات درخت کی وجہ سے پیدا ہونے والے تنازع کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ 'البتہ جو انھوں نے کیا اس کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔'

سفیدے کے درخت کی شاخیں ایک چیک پوائنٹ اور مشاہداتی پوسٹ کے درمیان حائل ہو رہی تھیں۔ امریکی اور جنوبی کوریائی فوجیوں کو اسے تراشنے کا حکم دیا گیا۔

پہلی کوشش کے بعد شمالی کوریا نے اس پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ کسی بھی ارضیاتی کاموں کے لیے دونوں فریقوں کی اجازت ضروری ہے۔

دوسری کوشش کو موسلا دھار بارش نے ناکام بنا دیا۔

18 اگست کو کیپٹن بونیفس نے اس حوالے سے کی جانے والی تیسری کوشش کی نگرانی خود کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ان کے کوریا میں آخری ایام تھے۔

ایسے میں شمالی کورینز کا ایک گروہ نمودار ہوا اور یہ مطالبہ کرنے لگا کہ ان شاخوں کو کاٹنے سے گریز کیا جائے۔ جب کیپٹن بونیفس نے انھیں نظر انداز کیا تو انھوں نے کلہاڑیوں اور ڈنڈوں کی مدد سے کیپٹن بونیفس اور ایک امریکی لیفٹیننٹ مارک بیرٹ کو ہلاک کر دیا۔

مشترکہ سکیورٹی والے علاقے میں ہر جانب سائرن بجنے لگے اور فوجیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ اس حملے کی خبر بہت جلد واشنگٹن بھی پہنچ گئی جہاں امریکی وزیر خارجہ ہینری کیسنجر نے شمالی کوریا کی بیرکس پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا تاکہ 'اس بات کا امکان بڑھ جائے کہ ان لوگوں کو پکڑا جا سکے۔'

کیسنجر نے ایک بریفنگ میں کہا کہ 'انھوں نے دو امریکیوں کو ہلاک کیا ہے اور اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو وہ یہ دوبارہ بھی کر سکتے ہیں۔ ہمیں کچھ کرنا ہو گا۔'

تاہم اس بریفنگ کے آخر میں کیسنجر کا یہ مشورہ مسترد کردیا گیا۔ جب عسکری اور سیاسی قیادت سے اس اقدام کا مؤثر جواب دینے کے حوالے سے پوچھا گیا، تو سب نے اس درخت کو مکمل طور پر کاٹ دینے پر اتفاق کیا۔

کمانڈروں نے ایک منصوبہ ترتیب دیا جس کے تحت طاقت کے بھرپور استعمال کے ذریعے اس درخت کو کاٹا جا سکتا تھا۔ اس کارروائی کو ’آپریشن پال بینین‘ کا نام دیا گیا۔ امریکی روایتی کہانیوں میں پال بینین ایک بہت بڑا شہتیر کاٹنے والا ہوتا ہے۔ اس آپریشن کے لیے 21 اگست کا دن چنا گیا۔

البتہ، شمالی کورینز اس کارروائی کا جواب کیسے دیں گے، یہ ایک الگ مسئلہ تھا۔

19 برس کے وین جانسن امریکی فوج میں سیکنڈ بٹالین سے تھے اور پرائیویٹ رینک کے سپاہی تھے۔ وہ مشترکہ سکیورٹی والے علاقے سے باہر اس وقت کیمپ لبرٹی بیل میں تعینات تھے۔ انھوں نے اپنے کمانڈنگ افسر کو درخت کاٹنے کے آپریشن سے ایک رات قبل ایک بریفنگ پر چھوڑا تھا۔ اس دوران ایک لیفٹیننٹ نے سوال پوچھا کہ اس کی یونٹ کا کیا ہو گا۔

جانسن نے بتایا کہ 'میں نے اپنے افسر کو پیچھے مڑ کر تختہ سیاہ پر ہماری یونٹ کے اوپر کراس لگاتے دیکھا اور پھر وہ مڑے اور کہنے لگا، 'مزید کچھ سوال؟'

ایک نوعمر لڑکے کو دھماکہ خیز مواد نصب کر کے کیمپ لبرٹی بیل کو اسی رات تباہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تاکہ شمالی کوریائی فوجی اس پر حملہ کر کے قبضہ نہ کر لیں۔

'ہم واپس نہ آنے کے لیے تیار ہیں'

بل فرگوسن اور مائک بلبو نے ساری رات اس مشن کی تیاری میں گزاری۔ انھوں نے برج آف نو رٹرن (ایک داخلی پل) پر قبضہ کر کے اس بات کو یقینی بنایا کہ شمالی کوریا کی فورسز جے ایس اے میں داخل ہو کر درخت کاٹنے کے دوران مداخلت نہ کر سکیں۔

بلبو بتاتے ہیں کہ 'چند لوگ بیمار ہو گئے کیونکہ اس آپریشن کے حوالے سے ذہنی تناؤ اور اضطراب ہی اتنا شدید تھا۔ جھنجھناہٹ عروج پر تھی اور جب ہم اپنے کیمپ سے نکلے تو ایک کوبرا ہیلی کاپٹر زمین سے تھوڑی ہی اونچائی پر لہرا رہا تھا اور اڑنے کے لیے تیار تھا۔

’جب میں نے پیچھے مڑ کر سڑک کی جانب دیکھا تو تا حدِ نگاہ فوجی ہی فوجی تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کہیں چڑھائی کرنے جا رہے ہیں۔‘

27 برس کے ٹیڈ سکینر سیکنڈ بٹالین، نائنتھ انفینٹری کے ایک کیپٹن تھے اور اس وقت ہیلی کاپٹر میں موجود تھے جب فوجی درخت کی جانب دوڑ رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’یہ ایک متاثر کن منظر تھا۔ انھیں خود بھی نہیں معلوم تھا کہ جنگ چھڑے گی یا نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ظاہر ہے ہم یہی امید کر رہے تھے کہ جنگ نہ چھڑے، لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اگر ایسا ہوا تو ہم تیار تھے۔ مجھے اپنے فوجیوں پر فخر تھا۔‘

وین جانسن کی سیکنڈ بٹالین، نائنتھ انفینٹری کی ایلفا کمپنی زمین پر ہی رہی۔

ایلفا کمپنی سے منسلک 19 سالہ جویل براؤن کہتے ہیں کہ ’ہم واپس نہ آنے کے لیے تیار تھے۔ مجھے یہ سب غیر حقیقی محسوس ہو رہا تھا۔ ہم یہاں 1950 سے موجود ہیں اور یہ سب ایک درخت کے باعث ختم ہونے جا رہا تھا۔

بل فرگوسن اور مائک بلبو کی پلاٹون درخت تک اس وقت پہنچی جب دھند چھٹ رہی تھی۔ ان کے ٹرک ڈرائیور نے برج آف نو رٹرن پر ٹرک کو ریورس کر کے لگا دیا تاکہ داخلی راستہ بند کیا جا سکے جبکہ دیگر جوان اس ٹرک سے پستول اور کلہاڑے لے کر کود پڑے۔

بلبو بتاتے ہیں کہ ’اتنے میں ایک اور ٹرک بھی وہاں پہنچ گیا جس میں انجینئرز بیٹھے تھے۔ میں نے کبھی اتنا لمبا زنجیری آرا نہیں دیکھا۔‘

سیکنڈ انجینئر بٹالین کے چارلس ٹوارڈزکی نے وہ رات ان آلات کو استعمال کرنے کی مشق میں گزاری تھی۔ 25 برس کے سارجنٹ نے اس درخت کو گرانے کے لیے بھاری مشینوں کے استعمال کی تجویز دی تھی، لیکن افسروں کو ڈر تھا کہ ان بھاری مشینوں کو تیزی سے وہاں سے باہر نکالنا بہت مشکل ہو گا خاص کر اگر شمالی کورینز نے مداخلت کرنے کی کوشش کی۔ اس لیے ہاتھوں سے ہی ان شاخوں کی کٹائی کا منصوبہ بنایا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہمیں درخت پر چڑھنے کے لیے ایک سیڑھی کی ضرورت تھی۔ لیکن ہمارا ایک ساتھی ٹرک پر چڑھ کر درخت کی شاخیں کاٹنے لگا جبکہ دوسری جانب میں دوسرا حصہ کاٹ رہا تھا۔ اس کا زنجیری آرا میرے سر کے بہت قریب تھا۔‘

یہاں انجینیئرز درخت کاٹ رہے تھے اور وہاں شمالی کوریا کے فوجی ٹرکوں اور بسوں میں پہنچنے لگے۔

بلبو کہتے ہیں کہ ’ہم نے شمالی کورینز کو اپنی مشین گنز رکھتے ہوئے دیکھا۔ میں جگہ ڈھونڈ رہا تھا کہ میں کہا جاؤں گا جب توپ خانہ فائر کرے گا۔ بلکہ ان کی اور ہماری آرٹلری، ہم دونوں کے نشانے پر تھے۔

بہت سے امریکی فوجیوں کو یاد ہے کہ وہ اور جنوبی کوریا کے خصوصی دستے بھاری اسلحے کو اس علاقے میں ٹرکوں میں موجود ریت کی بوریوں کے نیچے چھپا کر لے آئے۔

کچھ جنوبی کوریائی فوجیوں نے تو بارودی سرنگیں اپنی چھاتیوں پر باندھ لیں اور ہاتھوں میں ڈیٹونیٹر اٹھا لیے تاکہ شمالی کوریا کی فورسز کو حملہ کرنے پر اکسا سکیں۔

وین جانسن جو درخت کی کٹائی کے دوران بل فرگوسن اور مائک بلبو سے چند گز کے فاصلے پر کھڑے تھے، کہتے ہیں کہ ’مجھے کوریائی زبان میں کچھ لفظ سمجھ آتے ہیں اور جو کچھ میں نے سنا وہ انتہائی برے لفظ تھے۔

’لیکن شمالی کوریا کی فورسز نے مداخلت نہیں کی۔ جب شاخوں کو کاٹ دیا گیا تو امریکہ اور جنوبی کوریا کے فوجی جے ایس اے سے لوٹ گئے۔ تاہم ڈی ایم ذی کی فورسز ہائی الرٹ تھیں۔ پورا آپریشن 45 منٹ میں ختم ہو گیا۔‘

’انتہائی برا سودا‘

مائک بلبو بتاتے ہیں ’ہر کوئی خاصا جذباتی ہو چکا تھا۔ شمالی کوریا کے لوگوں کے لیے علامتی چیزیں حقیقی چیزوں سے زیادہ معنی رکھتی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے ’ایک دن میں باہر گیا اور اس شاخ کو آری سے کاٹ دیا۔ سب کو اس درخت کا ٹکڑا مل گیا۔‘

سپاہیوں کو محسوس ہوا کہ وہ شمالی کوریا کو شکست کے قریب لے آئے ہیں۔

چارلس ٹورڈزیکی کہتے ہیں ’میں نے محسوس کیا کہ ہمیں اس کا بد ترین حصہ مل گیا۔ ہم ابھی درخت کو تراش رہے تھے اور آپ نے ہمارے چند فوجیوں کو مار دیا تو ہم نے اس درخت کو کاٹ ڈالا۔ مجھے لگا کہ یہ بہت خراب سودا ہے۔‘

فل فرگوسن کا کہنا ہے ’ہم نئی جنگ کا ذمہ دار نہیں بننا چاہتے تھے لیکن ہم کچھ خون بھی بہانا چاہتے تھے۔‘

آپریشن پال بینین کے بعد جے ایس اے میں قوانین تبدیل کر دیے گئے۔ شمالی کوریا کو اقوامِ متحدہ کی فورسز سے ایک چھوٹی کنکریٹ کی باڑ کے ذریعے الگ کر دیا گیا جس کے بعد فورسز کے درمیان میل جول اور ایک دوسرے کو اکسانے کے عمل کا خاتمہ ہوا۔

یاد رہے یہ وہی دیوار ہے جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جولائی میں پار کیا تھا۔

بل فرگوسن کہتے ہیں کہ ’یہ عمل بہت مایوسی کا باعث تھا۔ شمالی کوریا کبھی بھی اس علاقے کے نیوٹرل انتظام سے خوش نہیں تھا۔ میرے اور دیگر ساتھیوں کے لیے جے ایس اے کے بیچ میں ایک لکیر کھینچنا ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھا۔

البتہ جس دن امریکی فوج نے درخت کاٹا اس دن شمالی کوریا کے سربراہ کم ال سنگ دوئم نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا۔ یہ اس بات کا عکاس تھا کہ امریکہ کی طرف سے طاقت کا بھرپور استعمال شمالی کوریا کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوا۔

وین بتاتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد ’کوئی بھی مقامی قصبے میں پچھلے ایک ماہ سے نہیں گیا تھا اور میرا خیال ہے کہ اس گاؤں کے کچھ شراب خانے دیوالیہ ہونے کے قریب ہوں گے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’اس کے علاوہ ہمارے لیے سب ویسا ہی تھا، واپس کام پر۔‘