کراچی یونیورسٹی دھماکے کی ابتدائی رپورٹ میں خودکش جیکٹ استعمال ہونے کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہReuters
کراچی یونیورسٹی کے احاطے میں چینی زبان کے مرکز کے قریب خودکش حملے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ حملے میں خودکش جیکٹ استعمال ہوئی اور اس میں موجود آئی ای ڈی کو فعال کرنے کے لیے الیکٹرک سوئچ بٹن کا استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پانچ جیبوں والی خودکش جیکٹ میں کم و بیش پانچ کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا، دھماکہ خیز مواد میں تین سے چار کلو بارودی مواد بھی استمعال ہوا۔
منگل کی دوہہر دو بجے کے قریب ہونے والے اس دھماکے میں تین چینی اساتذہ سمیت کم از کم چار افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔ دھماکہ اس وقت ہوا تھا جب ہوسٹل سے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کی جانب آنے والی ایک گاڑی پر انسٹیٹیوٹ کے داخلی دروازے پر حملہ کیا گیا تھا۔
ڈسٹرکٹ ایسٹ کے ایس ایس پی عبدالرحیم شیرازی نےصحافی فراز کو تصدیق کی کہ پولیس نے کراچی یونیورسٹی سے کچھ ایسی گاڑیوں کو بھی قبضے میں لیا ہے جو دہشتگردوں کی جانب سے آمدورفت اور ریکی کے لیے استعمال کی گئی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ 'ہمیں امید ہے کہ ان گاڑیوں کے ذریعے ہم ان کے مالکان اور ڈرائیورز تک پہنچ سکیں گے۔ ہم نے یونیورسٹی سے مزید سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے، جس سے ہمیں دہشتگردوں کی تعداد جاننے میں مدد ملے گی اور یہ پتا چلے گا کہ وہ کتنے عرصے سے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔'
ایس ایس پی ایسٹ عبدالرحیم شیرازی شیرازی کا مزید کہنا تھا کہ 'ہلاک ہونے والوں کی شناخت تو پہلے ہی ہو چکی تھی، کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ گاڑی میں کتنے چینی سوار ہیں اور ڈی این اے کی جانچ کے بعد میتوں کو چینی قونصل خانے کے حوالے کر دیا جائے گا۔‘
ابتدائی رپورٹ کے مطابق بم ڈسپوزل کی جانب سے خودکش بم دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور ماہرین کل بھی کراچی یونیورسٹی کا دورہ کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق بارودی مواد کو مزید مہلک اور نقصان دہ بنانے کے لیے ایک سے ڈیڑھ کلو گرام بال بیئرنگ بھی استعمال ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
خیال رہے کہ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لیجیئن ژاؤ نے کہا ہے کہ 'چین اس بڑے دہشتگرد حملے کی سخت مذمت اور اس بارے میں شدید برہمی کا اظہار کرتا ہے۔ چین ان بدقسمت ہلاک شدگان، زخمیوں اور ان کے خاندان والوں کے ساتھ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔'
کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ گاڑی جب کامرس ڈپارٹمنٹ کے قریب واقع کنفیوشس سینٹر پر پہنچی ہی تھی کہ دھماکہ ہوا۔ ان کے مطابق ویگن کی سکیورٹی کے لیے اس کے پیچھے موٹر سائیکل پر آنے والے رینجرز اہلکار اور گاڑی میں سوار ایک چینی استاد بھی زخمی ہوئے۔
جامعہ کراچی کے حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈائریکٹر حال ہی میں تین برس کی مدت کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔
سی ٹی ڈی کے انچارج راجا عمر خطاب نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ 'منگل کو ہونے والا دھماکہ خودکش تھا اور یہ ایک خاتون نے کیا۔' ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس خودکش حملے کا ہدف غیرملکی شہری تھے۔
بم ڈسپوزل سکواڈ کی رپورٹ کے مطابق خودکش حملے میں تین سے چار کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انتہاپسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ حملہ ایک خاتون خودکش حملہ آور نے کیا اور یہ پہلا موقع ہے کہ تنظیم کی جانب سے کسی خاتون نے ایسی کارروائی کی ہے۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ پر نشر کی جانے والے سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جب ویگن دروازے کے قریب پہنچتی ہے تو وہاں ایک برقع پوش خاتون اس کے قریب آتی ہے اور پھر دھماکہ ہو جاتا ہے۔
منگل کی شب پاکستانی ٹی وی چینلز پر دھماکے سے کچھ دیر قبل کی مزید سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نشر کی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خودکش حملہ آور خاتون ایک رکشے میں دھماکے کے مقام تک پہنچی جہاں پہلے سے موجود ایک اور برقعہ پوش خاتون سے اس کی ملاقات ہوئی اور اس مختصر ملاقات کے بعد حملہ آور خاتون چینی انسٹی ٹیوٹ کے داخلی دروازے کے ساتھ کھڑی ہو گئی جبکہ دوسری خاتون کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد پیدل روانہ ہو گئی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس واقعے کے بعد بدھ کو جامعہ کراچی بند ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی میں پیش آنے والے واقعے پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انھیں کراچی میں ہونے والے حملے میں چینی باشندوں سمیت انسانی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہے اور وہ متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ افسوس کرتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہیں اور اس کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اونگزیب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے بھی صوبائی حکومت سے اس واقعے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں جبکہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی سندھ سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
رانا ثنا اللہ نے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک انتہائی قابل مذمت اورافسوسناک واقعہ ہے اور اس کے پیچھے مذموم مقاصد ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کراچی میں ہونے والے دھماکے کو پاکستان اور چین کی دوستی اور شراکت داری پر براہ راست بزدلانہ حملہ قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے لیے پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں اور اداروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا انتہائی اہم معاملہ ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کراچی یونیورسٹی میں دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے چینی شہریوں اور معصوم جانوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘










