اختر مینگل کے 6 نکات: بلوچستان کے مسائل سے متعلق چھ نکات جن کے حل سے متعلق اختر مینگل کو شہباز حکومت سے زیادہ توقع نہیں

،تصویر کا ذریعہRIZWAN TABASSUM
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بلوچستان وائس فار مِسنگ پرسنز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ زر خان ولد در خان مزارانی مری جو گذشتہ تین سالوں سے لاپتہ تھے انھیں منظر عام پر لایا گیا ہے اور اس وقت وہ تربت جیل میں قید ہیں۔
بلوچستان کے صحافی کیئا بلوچ نے بھی ایک ٹویٹ کی ہے جس کے مطابق مستونگ اور لسبیلہ سے لاپتہ ہونے والے دو افراد گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔ محراب خان تین سال قبل مستونگ سے اور اسد اللہ بگٹی اپریل میں حب سے لاپتہ ہو گئے تھے۔
بلوچستان سے لوگوں کی جبری گمشدگی اور وقفے وقفے سے چند کی واپسی کی خبریں اب صوبے کے معمولات زندگی کا حصہ ہیں لیکن یہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کے ان 6 نکات کا بھی حصہ ہیں جو وہ گذشتہ تین اور موجودہ چوتھی حکومت کے سامنے رکھ چکے ہیں۔
اختر مینگل کے 6 نکات کیا ہیں؟
سردار اختر مینگل کو سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور 2008 میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد انھیں رہا کیا گیا اور وہ علاج کی غرض سے بیرون ملک گئے اور 2012 میں واپس وطن لوٹے۔
اختر مینگل نے سپریم کورٹ میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم بینچ کے سامنے بلوچستان بدامنی کیس میں بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے چھ نکات پیش کیے تھے۔
ان نکات میں:
- جبری گمشدگی کا خاتمہ اور لاپتہ افراد کی واپسی
- ڈیتھ سکواڈز پر پابندی
- بلوچ سیاست دانوں کو حساس اداروں کی مداخلت کے بغیر آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت
- بلوچ رہنماؤں کو قتل اور تشدد کا نشانہ بنانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا
- بلوچستان میں آپریشن کی وجہ سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کی بحالی جیسے مطالبات
- بلوچوں کے خلاف تمام خفیہ اور دیگر فوجی آپریشن معطل کیے جائیں
اختر مینگل نے قرار دیا تھا کہ ان کے مطالبات کو بنگلادیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کے 6 نکات سے الگ نہ سمجھا جائے۔
انھوں نے ان مطالبات کے لیے اس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطے کیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نواز حکومت میں شمولیت اور علیحدگی
مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے 2012 میں اختر مینگل سے ملاقات کی تھی جس میں انھوں نے ان 6 نکات کی حمایت کی اور کہا تھا کہ اکبر بگٹی کے قتل کا دن ملک کے لیے بدترین دن تھا اور لاپتہ افراد کے لیے جدوجہد میں وہ بلوچ قیادت کے ساتھ ہیں۔
انھوں نے اس بات کا بھی اعادہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کی جائے، ملزموں کو کٹہرے میں لایا جائے، اس کے بغیر ملک کا قائم رہنا ممکن نہیں۔

،تصویر کا ذریعہRIZWAN TABASSUM
سنہ 2013 کے انتخابات میں جب میاں نواز شریف کی حکومت قائم ہوئی تو اختر مینگل اپنے مطالبات لے کر ان کے ساتھ حکومت میں شامل ہو گئے۔
اس عرصے میں بلوچستان میں نیشنل پارٹی کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت قائم ہوئی جس کا موقف بھی ڈاکٹر اختر مینگل کے مطالبات سے مماثلت رکھتا تھا۔
ڈاکٹر مالک کی حکومت تقریباً ڈھائی سال رہی۔ اس عرصے میں ڈاکٹر مالک دعویٰ کرتے رہے کہ لوگوں کی گمشدگی کے سلسلے میں کمی آئی، مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ کم ہوا اور ڈیتھ سکواڈ غیرفعال ہو گئے۔
میاں نواز شریف کی 1998 میں حکومت کی برطرفی سے قبل اختر مینگل ان کے اتحادی اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ تھے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت وہ مسلم لیگ ن کے قریبی اتحادی رہے لیکن 2013 میں بننے والی حکومت میں بھی وہ ان کے ساتھ مزید نہیں رہ سکے اور راہیں الگ کر لیں اور اس کی وجہ وہی 6 نکات بنے تھے۔
’بلوچستان کے مسائل عمران خان کی ترجیحات میں شامل نہیں تھے‘
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 2018 میں سردار اختر مینگل سے ملاقات کی اور انھیں تحریک انصاف میں شمولیت کی پیشکش کی تاہم انھوں نے انھیں اپنے 6 نکات سے آگاہ کیا۔ بی این پی اور تحریک انصاف نے ایک تحریری معاہدے کیا۔
سنہ 2018 کے انتخابات کے بعد جب تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو 6 نکات پر دوبارہ تحریری معاہدہ کیا گیا اگلے دو سالوں کے بعد اختر مینگل اس حکومت سے علیحدہ ہو گئے۔
اختر مینگل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تحریک انصاف کو جب جب ووٹ کی ضرورت ہوتی تو وہ سنجیدگی دکھاتے مگر ضرورت پوری ہونے کے بعد ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتے تھے۔
’یہاں تک کہ ایک اتحادی اور ایک حمایتی کے ناطے بھی بڑے فیصلوں میں شامل نہیں کرتے تھے۔‘
اختر مینگل کہتے ہیں کہ ’مسنگ پرسنز کے معاملے پر میں نے ان کے سیاسی لوگوں جن میں پرویز خٹک اور جہانگیر ترین بھی تھے ان سے بات چیت کی۔ عمران خان سے بھی جب بات کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ آرمی چیف سے ملاقات کریں۔
’میں انھیں کہتا تھا کہ مجھے ان سے ملنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ معاہدہ آپ نے ہم سے کیا ہے، آپ نے دستخط کیے ہیں، آپ اس کو حل کریں۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ بلوچستان کے مسائل عمران خان کی ترجیحات میں شامل نہیں تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اختر مینگل کہتے ہیں کہ ’تحریک انصاف کی حکومت ہو یا پچھلی حکومتیں، اگر سو فیصد مسائل حل نہیں ہوتے تو 30 فیصد تو حل کرنا ان کے لیے مشکل نہیں تھا۔
’کچھ ایسے مسائل تھے جو ان کے ہاتھ میں نہیں تھے جو اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں تھے۔ لیکن اس کے علاوہ جو دیگر اشوز تھے ترقی کے وہ تو ان کے ہاتھ میں تھے۔
اختر مینگل کو شہباز شریف حکومت سے بھی امید کم
تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی کے بعد اختر مینگل متحدہ اپوزیشن میں شامل ہو گئے۔ ان کے پاس قومی اسمبلی کی چار نشستیں ہیں۔ انھوں نے عدم اعتماد کی تحریک میں عمران خان کے خلاف ووٹ دیا اور اب شہباز شریف حکومت میں ان کے اتحادی ہیں۔
اختر مینگل نے موجودہ حکومت سے کوئی تحریری معاہدہ نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے تحریک انصاف کی حکومت چھوڑی اور متحدہ اپوزیشن میں شامل ہوئے تو ان کے سامنے اپنی ناراضی کی وجوہات رکھی تھیں۔
اپوزیشن قیادت نے ان کے مسائل کو حقیقی قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جو سیاسی کلچر اور معشیت تباہ ہوئی اور عمران حکومت کو فارغ کرنے کا فیصلہ ہوا تو ہم نے اپنی سخت شرائط سامنے نہیں رکھیں، ہاں ایک یقین دہانی ضرور کرائی گئی ہے۔ اب اس کو مسودے کی شکل دے کر پیش کریں گے۔
'اپنے نکات کے حل کے لیے میں نہ پہلے اتنا پر امید تھا اور نہ اب ہوں۔ لیکن ہمارا ایک فرض بنتا ہے۔ عوام نے ہمیں ایک مینڈیٹ دیا ہوا ہے۔ اس مینڈیٹ کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اپنے مسائل کو حکمرانوں کے سامنے پیش کریں گے۔
’جب تک بلوچستان کے مسئلے کا حل سیاسی انداز اور طریقے سے نہ نکلے فوجی آپریشنز یا وہاں حکومتیں لانے اور بدلنے سے حل نہیں ہو گا۔‘
’مل کر بلوچستان کے مسائل حل کریں گے‘
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز لاپتہ افراد کے لواحقین کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ انھوں نے اسلام آباد میں ان کے کیمپ پر جا کر اظہار یکجہتی بھی کیا تھا۔
اس روز مریم نواز نے ایک بیان میں وزیراعظم عمران خان کو پیغام دیتے ہوئے کہا تھا: 'وزیراعظم ہاؤس اتنا دور تو نہیں ہے۔ پانچ منٹ کا راستہ بھی نہیں ہے۔ آپ ان لوگوں کے پاس آئیں۔ آپ (وزیر اعظم عمران خان) نے ایجنسیوں کو جواب نہیں دینا، اللہ کو جواب دینا ہے۔
’ان کی بات سُنیں اور اُن کے سر پر ہاتھ رکھیں۔ میرا خیال ہے کہ اس سے ان کی تسلی ہو جائے گی۔'
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ ’اختر مینگل اس حکومت کا حصہ ہیں اور وہ سب مل کر بلوچستان کے مسائل حل کریں گے۔
یاد رہے کہ میاں نواز شریف حکومت نے عسکریت پسند تنظیموں سے بھی مذاکرات کیے، تاہم وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔
شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ ’پہلا راستہ اور ترجیح ہمیشہ بات چیت ہوتی ہے۔ تاہم دہشتگردی کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی، ’ہماری حکومت نے 2013 سے 2018 تک بلوچستان کو امن اور استحکام دیا اور اب بھی دے گی۔‘
یہ بھی پڑھیے
اختر مینگل کے مطالبات پر عمل مشکل کیوں ہیں؟
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مطالبات کیا واقعی اتنے مشکل ہیں کہ انھیں گذشتہ تین ادوار میں حل نہیں کیا جا سکا؟ ’
تجزیہ نگار عامر رانا کہتے ہیں کہ اختر مینگل کے جو زیادہ تر مطالبات ہیں ان کا براہِ راست تعلق ریاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ ہے۔ جن میں سویلین حکومتوں کی مداخلت کم ہوتی ہے۔ اس لیے ان مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے حکومتوں کے پاس گنجائش کم ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس صورتحال میں سردار اختر مینگل اور قوم پرست جماعتوں کی سیاست یہ ہے کہ اپنے مطالبات ہر حکومت کے پاس لے کر جائیں۔
’اس سے یہ بھی پتا لگ جاتا ہے کہ حکومت کتنی مضبوط ہے اور طاقتور اداروں کے ساتھ کتنی بات کر سکتی ہے۔ باقی اب تک تو یہ ہی ہوا کہ تحریک انصاف کی حکومت بھی اتنی طاقتور نہیں تھی کہ مطالبات تسلیم کرواتی۔‘
ووٹر اور سپورٹر کو کیا کہیں؟
سردار اختر مینگل اس حکومت میں بھی اگر اپنے مطالبات تسلیم نہیں کروا پاتے تو پھر وہ اپنے ووٹر کو کیا جواب دیں گے؟ عامر رانا کہتے ہیں کہ ’بلوچستان کی جو اندرونی سیاست ہے اس میں اختر مینگل کافی عرصے سے کنارے لگے ہوئے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان کے لیے ایک گنجائش پیدا ہو جائے گی اور کچھ ریلیف مل جائے گا۔ الیکشن سے پہلے ان کے بنیادی مطالبات وہی رہیں گے۔
’اب اس سے عام شہری کے دماغ میں تو یہی تصور جاتا ہے کہ شاید جو ریاست ہے وہ عام آدمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ایسے میں سویلین حکومت پر بوجھ کم پڑتا ہے۔‘
سردار اختر مینگل کہتے ہیں کہ ’بلوچستان کی پسماندگی، مسنگ پرسنز اور فوجی آپریشنز کے جو مسائل ہیں اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ تحریری معاہدہ ہی ہو۔
’اگر نیتیں صاف ہوں اور وہ بلوچستان کو اس ملک کا حصہ سمجھتے ہیں تو بلوچستان کی پسماندگی کا جو احساس ہمیں ہے انھیں زیادہ ہونا چاہیے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں جو تحریک انصاف کے سامنے رکھا تھا وہ مطالبات ان کے سامنے رکھ رہے ہیں وہی لے کر ہم اپنے عوام اور ووٹروں کے پاس جائیں گے، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اگر یہ مسئلے حل نہیں ہو رہے جس طرح لوگوں کا اعتماد مرکز اور فیڈریشن سے اٹھتا چلا جا رہا ہے تو پھر بلوچستان کا اعتماد کسی بھی مرکزی پارٹی پر نہیں رہے گا۔‘












