غیرت کے نام پر قتل: بلوچستان کے علاقے قلات میں مبینہ طور پر سیاہ کاری کے الزام میں خاتون کا قتل ’شادی کے بعد پہلی مرتبہ بیٹی کی لاش گھر آئی‘

قتل و غیرت
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

’شادی کے بعد جب میری بیٹی پہلی مرتبہ ہمارے گھر واپس آئی تو وہ زندہ نہیں تھی بلکہ اس کی لاش لائی گئی۔ ایک تو الزام لگا کر اسے قتل کر دیا گیا لیکن اس کے ساتھ دوسرا ظلم یہ کیا کہ اس کی لاش کو ویرانے میں پھینک دیا گیا۔‘

یہ الفاظ بلوچستان کے ضلع قلات سے تعلق رکھنے والے خیر محمد کے ہیں جن کی نوجوان شادی شدہ بیٹی کی لاش پیر کے روز غوث آباد کے علاقے سے برآمد کی گئی۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ شاکرہ نامی اس نوجوان خاتون کو گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔

پولیس نے اس سلسلے میں اب تک گرفتار کیے جانے والے دو ملزمان سے ابتدائی تفتیش کے حوالے سے بتایا کہ خاتون کے شوہر نے انھیں مبینہ طور پر سیاہ کاری (کاروکاری) کے شبے میں قتل کیا ہے۔

تاہم لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی پر اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’میری بیٹی کو اس کے سسرالیوں نے کسی اور وجہ سے قتل کیا کیونکہ غیرت کے نام پر قتل کیے جانے والے افراد کی لاشیں ویرانوں میں نہیں پھینکی جاتی ہیں۔‘

قلات پولیس کے سربراہ ایس ایس پی عبدالرﺅف بڑیچ نے بتایا کہ پولیس خاتون کے شوہر کے رشتہ داروں کے اس بیان اکتفا نہیں کر رہی کہ انھیں ان کے شوہر نے سیاہ کاری کے الزام میں قتل کیا بلکہ اس واقعے کے تمام پہلوﺅں سے تحقیق کر رہی ہے۔

خاتون کی لاش کہاں پھینکی گئی تھی؟

قلات پولیس میں ایس ایچ او نذیر احمد عمرانی بتایا کہ شاکرہ کی شادی علی گل نامی شخص سے ڈھائی تین سال پہلے ہوئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ قتل کرنے کے بعد خاتون کی لاش کو نیشنل ہائی وے کے ایک پل کے نیچھے پھینک دیا گیا تھا جہاں سے برآمدگی کے بعد اسے پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ایس ایس پی قلات رﺅف بڑیچ نے بتایا کہ خاتون کا گلا کسی رسی وغیرہ سے گھونٹا گیا تھا اور ہلاکت کے بعد ان کی لاش پھینک دی گئی تھی۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ شناخت کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی گئی ہے۔

خاتون کے والد خیر محمد نے بتایا کہ لاش کو لانے سے پہلے انھیں اپنی بیٹی کی لاش کی تصویر دکھائی گئی اور انھوں نے اس تصویر سے بیٹی کو پہچان لیا۔

’مجھے اور میرے خاندان کو اس بات پر بہت دکھ ہوا کہ شادی کے بعد جب پہلی مرتبہ بیٹی آئی تو وہ زندہ نہیں تھی بلکہ ان کی لاش گھر پہنچائی گئی۔‘

شادی کے بعد بیٹی کو گھر نہیں آنے دیا گیا

غیرت کے نام پر قتل بلحاظِ صوبہ

،تصویر کا ذریعہAFP

خیر محمد نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی شادی اندازاً تین سال پہلے قلات ہی سے تعلق رکھنے والے علی گل نامی شخص سے ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد ان کی بیٹی کو ان کے گھر نہیں آنے دیا گیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ ان کی بیٹی نے شادی کے بعد اپنے سسرالیوں کے حوالے سے کیا کبھی کوئی شکایت کی، ان کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد تو ان کی بیٹی کی لاش گھر لائی گئی ’شادی کے بعد بیٹی کو کبھی ہمارے گھر نہیں آنے دیا گیا اور نہ ہی اس سے کوئی رابطہ ہوا جس کے باعث اگر اسے کوئی شکایت تھی بھی تو ہمیں اس بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میری بیٹی پر سیاہ کاری کا الزام لگا کر مار تو دیا گیا لیکن کم ازکم اس کی لاش کسی ویرانے میں نہیں پھینکنی چاہیے تھی بلکہ اسے ہمارے گھر پہنچایا جاتا یا مارنے کے بعد کم ازکم ہم لوگوں کو بتا دیا جاتا کہ ہم نے آپ کی بیٹی کو قتل کر دیا ہے آ کر اس کی لاش لے جاﺅ۔‘

خاتون کی ہلاکت کے بارے میں پولیس کا کیا کہنا ہے؟

قلات پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نذیراحمد عمرانی نے بتایا کہ قتل کے حوالے سے خاتون کے شوہر کے ایک بھتیجے علی اصغر سمیت دو ملزمان کوگرفتار کیا گیا ہے تاہم اصل ملزم جو کہ خاتون کا شوہر ہے وہ مفرور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک گرفتار ملزمان سے جو تفتیش ہوئی ہے اس کے مطابق خاتون کو ان کے شوہر علی گل نے غیرت کے نام پر قتل کیا ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ بیوی کی ہلاکت سے پہلے علی گل نے اپنے ایک چھوٹے بھائی کو بھی اسی شک کی بنیاد پر قتل کر دیا تھا۔

’بیٹی کے شوہر اور بھائیوں میں جائیداد کا تنازعہ تھا‘

خاتون کے والد نے اپنی بیٹی پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی بیٹی پر کوئی الزام تھا تو اس کی لاش کو ہلاک کرنے کے بعد ویرانے میں کیوں پھینک دیا گیا۔

خاتون کے شوہر کی جانب سے اپنے چھوٹے بھائی کو قتل کرنے کے متعلق خاتون کے والد کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تحقیقات ہونی چاہیے کیونکہ ان کی بیٹی کے شوہر اور بھائیوں میں جائیداد کا تنازعہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ جائیداد یا کسی اور وجہ سے اپنے بھائی کے قتل کی سزا سے بچنے کے لیے بیوی پر سنگین الزام لگا کر اسے قتل کیا گیا ہو۔‘

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے نہ صرف پولیس میں مقدمہ درج کرایا ہے بلکہ وہ قبائلی جرگے سمیت انصاف کے حصول کے لیے ہر فورم سے رجوع کریں گے۔

غیرت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بیوی کی ہلاکت سے قبل ملزم نے چھوٹے بھائی کو کہاں قتل کیا؟

ایس ایس پی قلات رﺅف بڑیچ نے بتایا کہ بیوی کو قتل کرنے سے قبل ملزم نے تربت میں اپنے چھوٹے بھائی علی نواز کو قتل کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ علی نواز کام کاج کے سلسلے میں تربت میں تھا جہاں بیس سے پچیس روز قبل ان کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ علی نواز کے والد نے اس کے قتل کے مقدمے میں اپنے بیٹے علی گل کو نامزد کیا تھا۔‘

ایس ایس پی نے بتایا کہ اب تک گرفتار ملزمان سے جو تفتیش ہوئی اس کے مطابق ملزم نے بھائی کو مبینہ طور پر بیوی سے ناجائز تعلق کے شبے میں قتل کیا۔

’دونوں بھائی شاکرہ سے شادی کے خواہش مند تھے‘

ایس ایس پی قلات نے بتایا کہ ماری جانے والی خاتون شاکرہ دونوں بھائیوں علی گل اور علی نواز کی کزن تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی تفتیش کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ’دونوں بھائی شاکرہ سے شادی کی خواہش مند تھے لیکن بالآخر خاتون کی شادی علی نواز سے طے پا گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ علی نواز نے ایک مکان فروخت کیا تھا اور اس سے حاصل ہونے والے پیسوں سے شادی کی تھی۔ ملزم کے رشتہ داروں کے مطابق جہاں رشتے کے معاملے پر بھائیوں کے درمیان ناراضگی تھی وہاں مکان کی فروخت پر بھی ان کے درمیان تنازعہ تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

پولیس تمام پہلوﺅں کو مدنظر رکھ کر تحقیقات کررہی ہے

عبدالرﺅف بڑیچ نے بتایا کہ خاتون کے قتل کے حوالے سے تمام پہلوﺅں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ خاتون کے والد نے بتایا ہے کہ علی گل شادی کے بعد شاکرہ کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے تھے اور اسے کبھی بھی میکے نہیں آنے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شادی کے بعد علی گل جہاں بھی گیا وہ اپنی بیوی کو ساتھ لے جاتا رہا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خاتون ہر وقت ان کی نگرانی میں رہی تو وہ کس طرح اس پر الزام لگا سکتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اگرچہ علی گل کے رشتہ دار یہ کہہ رہے ہیں کہ خاتون کو سیاہ کار قرار دے کر قتل کیا گیا ہے لیکن پولیس اس پر اکتفا نہیں کرے گی بلکہ تمام پہلوﺅں کو دیکھے گی اور حقائق تک پہنچنے کے لیے ہر پہلو سے اس کی تحقیق کرے گی۔

غیرت کے نام پر قتل

،تصویر کا ذریعہAFP

بلوچستان میں ہر سال بڑی تعداد میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات پیش آتے ہیں

خواتین کی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم عورت فاﺅنڈیشن کا کہنا ہے بلوچستان میں ہر سال تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والی خواتین میں سے ایک بڑی تعداد غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔

عورت فاﺅنڈیشن بلوچستان کے پروجیکٹ آفیسر اشفاق مینگل نے بی بی سی کو بتایا کہ قلات میں خاتون کی ہلاکت اور ان کی لاش پھینکے جانے سے قبل کوئٹہ کے قریب کچلاک میں بھی خواتین کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ رواں سال بھی خواتین پر تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے لیکن تاحال ان کے بارے میں باقاعدہ رپورٹ مرتب نہیں کی گئی تاہم گذشتہ سال بلوچستان میں تشدد کے مجموعی طور پر 129 واقعات رپورٹ ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ ان 129 واقعات میں 78 کو قتل کیا گیا جن میں غیرت کے نام پر 49 قتل بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرت کے نام پر مارے جانے والے 49 افراد میں سے 28 خواتین اور 21 مرد شامل تھے۔