تحریک عدم اعتماد: گورنر راج کیوں لگتا ہے اور اسے لگانے کا اختیار کس کا ہے؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے جمعے کے روز سندھ میں گورنر راج سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'ہم تحریک عدم اعتماد کا آئینی و قانوی طریقے سے مقابلہ کریں گے اور گورنر راج لگانے کا نہ کوئی ارادہ تھا نہ ہے۔'

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے دیگر وزرا کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 'سب کی رائے یہ ہے کہ اس کی ضرورت ہی نہیں ہے، ماضی کے تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ سعید غنی صاحب اور بلاول پریشان نہ ہوں تحریک انصاف کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔'

یاد رہے کہ جمعرات کی شام شیخ رشید نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’عمران خان سے کہا ہے کہ سندھ نے جو خرید و فروخت کی ہے ہمیں سندھ میں گورنر راج نافذ کر دینا چاہیے، یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔‘

تاہم انھوں نے جمعے کو دعویٰ کیا کہ سیاسی حالات میں گذشتہ دو روز میں تلخی پیدا ہوئی تھی تاہم اب حالات کچھ بہتری کی طرف آ رہے ہیں۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ آئندہ دو ہفتے، 18 مارچ سے دو اپریل تک، ملک سیاسی طور پر اپنے اہم ترین دور سے گزر رہا ہو گا کیونکہ سیاسی گہما گہمی اپنے عروج پر ہو گی اور اسی صورتحال کے پیش نظر رینجرز کی دو ہزار اور ایف سی کی ایک ہزار پر مشتمل نفری بلائی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم سندھ ہاؤس نہیں جا رہے، اُدھر صوبائی پولیس کے جتھے مت لائیں۔ وزارت داخلہ آپ کو یقین دلاتی ہے کہ سندھ ہاؤس میں کچھ کارروائی نہیں ہو گی۔'

شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ 'حکومت کو یہ بہت عرصے سے معلوم تھا کہ ان کے آٹھ، دس ارکان کیا کر رہے ہیں اور کہاں ہیں۔ آج کل سب پتہ ہوتا ہے کہ کون کہاں ہے۔'

شیخ رشید نے سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کا بیان اس وقت دیا ہے جب جمعرات کو پاکستان کے نجی ٹی وی چینلوں پر تحریک انصاف کے رہنما راجہ ریاض نے یہ دعویٰ کیا کہ اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں دو درجن حکومتی ایم این اے موجود ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان گذشتہ چند دنوں سے اپوزیشن پر ہارس ٹریڈنگ کرنے اور اراکین اسمبلی کو پیسے دے کر وفاداریاں بدلنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

مگر یہ گورنر راج ہے کیا، اور کیا حالات ہوں تو گورنر راج لگایا جا سکتا ہے؟ اس حوالے سے بی بی سی اردو کی فرحت جاوید نے آئینی ماہرین سے بات کی ہے۔

گورنر راج کا قانونی پس منظر، آئین کا دسواں باب

یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ ایک صوبے میں وزیراعلیٰ اور صوبائی اسمبلی کے اراکین عوام کے منتخب کردہ نمائندے ہوتے ہیں جو اس صوبے کے حکومتی اور انتظامی امور چلاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبوں میں وفاق کا نمائندہ گورنر بھی موجود پوتا ہے۔

عام حالات میں گورنر کا عہدہ محض علامتی ہوتا ہے جبکہ صوبے میں حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کروانا منتخب صوبائی حکومت کے ذمے ہوتی ہے۔

مگر جب گورنر راج لگتا ہے تو ایک محدود مدت کے لیے تمام تر اختیارات گورنر کے پاس آ جاتے ہیں اور وزیراعلیٰ اور ان کی اسمبلی بے اختیار ہو جاتی ہے۔

آئین پاکستان کے دسویں باب میں دو شقیں ایسی ہیں جن کی بنیاد پر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگایا جا سکتا ہے۔ ان میں آرٹیکل 232 اور 234 شامل ہیں۔

اگر صدرِ پاکستان سمجھتے ہیں کہ پاکستان یا اس کے کسی حصے کو جنگ یا بیرونی خطرات لاحق ہیں، یا ایسی اندرونی شورش ہے جو صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں، تو وہ ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں۔

تاہم اندرونی خلفشار کے باعث لگنے والی ایمرجنسی کی صورت میں اس فیصلے کے نفاذ سے پہلے اس کی صوبائی اسمبلی سے توثیق لازم ہے۔

اسی شق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر صدر اپنے طور پر ہی یہ فیصلہ کر لیں تو اس صورت میں انھیں پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے دس روز کے اندر اپنے فیصلے کی توثیق کروانا ہو گی۔

ایسی ایمرجنسی کی صورت میں اس صوبے کے انتظامی امور اور قانون سازی کا اختیار وفاق میں پارلیمان کے پاس منتقل ہو جائے گا۔

وفاقی حکومت خود یا صوبائی گورنر کو اختیار دے سکتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے نمائندے کے طور پر وہاں تمام امور سرانجام دیں۔ تاہم صوبے کی ہائی کورٹ کے اختیارات وفاقی حکومت یا گورنر کو منتقل نہیں ہوتے۔

اب آرٹیکل 234 کے تحت اگر صدر کو صوبائی گورنر یہ رپورٹ پیش کر دے کہ صوبے میں ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ جس میں صوبائی حکومت آئین کے وضع کردہ طریقہ کار کے تحت کام نہیں کر سکتی، تو وہ یہاں گورنر راج نافذ کرتے ہوئے تمام اختیارات اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا صوبے میں اپنے نمائندے گورنر کے حوالے کر سکتے ہیں۔

آئین کے مطابق اس صورت میں صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے اختیارات نہیں لیے جا سکتے۔

گورنر راج کی مدت صرف دو ماہ ہو سکتی ہے اور اس کی توثیق بھی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے کروانا ہوتی ہے۔

جبکہ گورنر راج میں مشترکہ اجلاس کے ذریعے ایک وقت میں صرف دو ماہ کی توسیع ہی کی جا سکتی ہے۔ جبکہ اس کی کل میعاد چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

اگر اس دوران قومی اسمبلی تحلیل ہو بھی جائے تو صوبے میں گورنر راج تین ماہ تک نافذ رہے گا جب تک کہ قومی اسمبلی کے انتخابات نہ ہو جائیں یا سینیٹ اس ضمن میں کوئی فیصلہ کر لے۔

کیا گورنر راج کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے؟

یہ آئین کا دسواں باب ہے اور اسی کی شق نمبر 236 کے تحت اس باب میں موجود کسی بھی آرٹیکل کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم قانونی ماہر احمد بلال محبوب نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک لگنے والی تقریباً تمام ہی ایمرجنسیز اور گورنر راج کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ‘اس باب کے تحت تو ایسے کسی حکم نامے پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا تاہم کوئی بھی شخص عدالت میں رٹ دائر کر سکتا ہے کہ آئین میں موجود دیگر شقوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا اس کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے ہیں۔‘

بی بی سی سے اسی بارے میں سینیئر قانونی ماہر ظفر ملک نے کہا کہ گورنر راج لگنے کی صورت میں صوبائی حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہوتا ہے کہ وہ صدر کے فیصلے، چاہے اس کی توثیق پارلیمان نے کر دی ہو، کو عدالت میں چیلنج کر دیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘صدر کے پاس ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے اختیارات نہایت محدود ہیں اور انھیں ایسا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یا عدالت میں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ صوبے میں حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ انھیں یہ انتہائی اقدام لانا پڑا۔‘

ظفر ملک ماضی میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران پنجاب میں نافذ ہونے والے گورنر راج کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘اس وقت صدر آصف علی زرداری نے گورنر راج لگاتے ہوئے صوبائی گورنر سلمان تاثیر کو تمام اختیارات سونپے مگر یہ حکم چند دن ہی چل پایا اور عدالت میں یہ فیصلہ چیلنج ہوا اور اس وقت کی حکومت کو یہ آرڈر واپس لینا پڑا۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں ماضی میں کب اور کتنی بار صوبوں میں گورنر راج نافذ کیا گیا ہے؟

سب سے پہلے تو ملک میں مارشل لا کے تمام ادوار میں صوبوں میں گورنر راج نافذ رہا اور تمام اختیارات گورنروں کے پاس رہے۔

حالیہ تاریخ میں بلوچستان میں 2013 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے صوبائی حکومت ختم کر کے آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت وہاں گورنر راج نافذ کیا تھا۔ اس کی وجہ کوئٹہ میں شیعہ مظاہرین کا دھرنا تھا جو انھوں نے دو خودکش حملوں میں اپنے برادری کے ایک سو زائد افراد کی ہلاکت کے بعد دیا تھا۔

پنجاب میں سابق صدر آصف علی زرداری نے 2009 میں بھی گورنر راج نافذ کیا تھا۔

انھوں نے وزیراعلٰی کے عہدے سے شہباز شریف کی نااہلی کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے بچنے کے لیے گورنر راج نافذ کرتے ہوئے انتظامی اختیارت گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سونپ دیے تھے۔ تاہم چند ہفتوں بعد ہی یہ رول ختم کیا گیا۔

قانونی ماہر ظفر ملک کے مطابق گورنر راج کے دوران بنیادی شہری حقوق تو پہلے کی طرح ہی رہتے ہیں تاہم گورننس کا تمام انتظام صوبائی حکومت کے پاس نہیں رہتا۔

‘البتہ اگر گورنر وفاقی حکومت کی مشاورت سے بعض بنیادی پابندیاں عائد کر دیں تو ان کے پاس ایسا کرنے کا اختیار موجود ہوتا ہے۔‘

شاہ محمود قریشی کی سندھ میں گورنر راج کی تجویز کی مخالفت

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انھوں نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'کراچی میں گورنر راج کی تجویز کے حق میں نہیں ہوں۔'

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب وفاقی دارالحکومت میں واقع سندھ ہاؤس میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے 'دو درجن سے زیادہ' اراکین قومی اسمبلی کی موجودگی کا انکشاف کیا گیا ہے۔

اپنے مؤقف میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'آج وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہے۔ میں ماضی کے تجربات کی روشنی میں وہاں اپنا نقطہ نظر پیش کروں گا۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'ہر ممبر باوقار لوگوں کا چنا ہوا ہے اور وہ اپنے ضمیر کے مطابق اپنے فیصلے کرنے کا پابند ہے۔'

'آج نوے کی سیاست کو دہرایا جا رہا ہے، اسی طرز سیاست کے خلاف میثاق جمہوریت لایا گیا تھا، میثاق جمہوریت میں کچھ اصول طے کیے گئے تھے۔۔۔ سندھ ہاؤس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ میثاق جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔'

وفاقی وزیر نے زور دیا ہے کہ 'کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے ان توقعات کو ذہن میں رکھنا ہو گا جو حلقے کی عوام نے منتخب کرتے ہوئے آپ سے وابستہ کیں۔'

اُدھر پاکستان بار کونسل نے بھی سندھ میں گورنر راج لگانے کی تجویز کی مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں بار کونسل کا کہنا ہے کہ 'سندھ میں گورنر راج لگانے سے ملک میں انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے۔ گورنر راج سے جمہوری عمل کو نقصان ہو گا۔ اس طرح کا غیر جمہوری اقدام روکنے کے لیے عوام اور وکلا برادری ہر حد تک جائے گی۔'