عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد: کون کس سے مل رہا ہے، دعوے اور ’دس کروڑ کی پیشکش‘ کا الزام

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

وزیر اعظم عمران خان کے خلاف حزب اختلاف کی طرف سے تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد سے سیاسی ہلچل میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں، جہاں ایک طرف اتحادی وزیر اعظم سے مل رہے ہیں تو دوسری طرف وہ حزب اختلاف کے رہنماؤں کے ساتھ بھی سر جوڑ کر بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے ساڑھے تین سال بعد اپنی اتحادی جماعت ایم کیو ایم سے کراچی جا کر ملاقات کی ہے۔ ادھر وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپوزیشن پر پی ٹی آئی کے ممبران کو خریدنے کے الزامات لگائے ہیں۔

اگرچہ وزیراعظم عمران خان نے منگل کو حزب اختلاف کی طرف سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حکومت کہیں نہیں جا رہی، یہ اپوزیشن کی آخری واردات ہے، اس کے بعد 2028 تک کچھ نہیں ہوگا‘۔ مگر اتحادیوں کی طرف سے ایسے پیغامات موصول ہو رہے ہیں جو حکومت کی پریشانی میں مزید اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

حکومت کے اتحادی ہیں مگر تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ہمارے آپشنز کھلے ہیں: ایم کیو ایم

بدھ کو اپنے ایک روزہ دورے کے دوران انھوں نے اپنے خطاب میں اپوزیشن پر کڑی تنقید بھی کی۔ کراچی میں وزیر اعظم اپنی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے عارضی مرکز بہادر آباد بھی گئے، جہاں ان کی ایم کیو ایم کے وفد کے ساتھ تقریباً آدھے گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔ پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی امین الحق کے علاوہ ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی خود بھی عمران خان کی کابینہ کا حصہ ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اس ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر اسد عمر، گورنر سندھ عمران اسماعیل اور علی زیدی بھی موجود تھے۔

ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان نے میڈیا کو بتایا کہ ’حکومت کے اتحادی ہیں مگر تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ہمارے آپشنز کھلے ہیں‘۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’نہ انھوں نے یقین دہانی مانگی ہے نہ ہم نے انھیں کوئی یقینی دہانی کرائی ہے، جو بھی فیصلہ کریں گے عوام کے مفاد میں کریں گے‘۔ ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’عدم اعتماد کو چھوڑیں ہمیں پورے نظام پر ہی اعتماد نہیں ہے۔‘

تاہم وزیر اعظم دفتر کے اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا کہ سیاسی صورتحال پر بات ہوئی ہے، جس میں ایم کیو ایم نے ملاقات میں مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

تجزیہ کار زاہد حسین کے مطابق ابھی تک یہ پی ٹی آئی حکومت کے سامنے آنے والا اب تک کا سب سے بڑا سیاسی چیلنج ہے۔ ان کے مطابق درحقیقت حزبِ اختلاف کے اتحاد کے بجائے یہ پارٹی میں ہونے والی اندرونی بغاوت ہے، جو پی ٹی آئی کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

تجزیہ کار اور صحافی نسیم زہرہ کے مطابق حکومتی اتحادیوں کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

نسیم زہرہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اپوزیشن اس بار کچھ تیاری کے ساتھ سامنے آئی ہے، جس کی وجہ سے جوڑ توڑ اس وقت عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کی تقریروں اور اعتماد سے بھی یہ لگتا ہے کہ حکومت اس تحریک کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہے۔ تاہم ان کے خیال میں یہ ایک بہت ہی سخت مقابلہ ہے، جس کے حتمی نتیجے کے بارے میں اب کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے صوبہ سندھ میں پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے عوامی نمائندوں، پی ٹی آئی کے منتخب اراکین سندھ اسمبلی اور پارٹی کی صوبائی و ڈویژنل سطح کی قیادت کے ساتھ بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

عمران خان نے جی ڈی اے (گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس) کے ارکان سے بھی بعد میں گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔

بدھ کو ہی وزیر اعظم عمران خان نے ایک اور اتحادی جماعت مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے اپنی کابینہ کے رکن طارق بشیر چیمہ سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں وزیر دفاع پرویز خٹک بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اس ملاقات کے بعد ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی، جس میں وزیراعظم سے ملاقات کر کے آنے والے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ بھی شریک ہوئے۔ واضح رہے کہ چوہدری شجاعت حسین نے منگل کو جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اسلام آباد میں ان کے گھر جا کر ملاقات کی تھی۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے بھی ملاقات کی۔ اس وقت قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پاس ایک نشست ہے۔ شہباز شریف نے سراج الحق کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام چاہتے ہیں، نااہل، کرپٹ حکومت گھر جائے۔ ان کے مطابق ’آئینی طریقے سے اس حکومت کو ہٹا کر نئے مینڈیٹ کے لیے عوام کے پاس جائیں گے۔‘

واضح رہے کہ ابھی عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اپنے لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سابق صدر آصف زرداری بھی سراج الحق سے ملاقات کر چکے ہیں اور ان سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹ بھی مانگا۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے جمعرات کو اپنے تمام اراکین قومی اسمبلی کو اسلام آباد میں واقع سندھ ہاؤس میں طلب کر لیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف پہلے ہی اپنے اراکین کے ساتھ تحریک عدم اعتماد سے متعلق ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

سپیکر تحریک عدم اعتماد کو زیادہ لمبا نہ لٹکائیں، اس کو جلد از جلد ایوان میں لائیں: فواد چوہدری

بدھ کو ہی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سپیکر صاحب سے گزارش کر رہے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کو زیادہ لمبا نہ لٹکائیں، اس کو جلد از جلد ایوان میں لائیں کیونکہ ملک لمبے بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ایوان میں 172 لوگ دکھانے ہیں لیکن ہمارے پاس اس وقت 179 سے زائد اراکین عمران خان کی حمایت کرتے ہیں اور مزید 5 اراکین آنے سے مجموعی تعداد 184 اراکین ہو جائے گی۔

فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن نے دو خواتین سمیت ہمارے تین اراکین کو خریدنے کی کوشش کی، ’کل ایک رکن نے وزیراعظم کو بتایا کہ انھیں دس کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی، یہ بہت بدقسمتی ہے اور ہم بیوپاریوں کی اس قسم کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔‘

فواد چوہدری نے کہا کہ ’اب ہم اپوزیشن سے کسی قسم کی گفتگو کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم نے پوری کوشش کی کہ انتخابی اصلاحات اور باقی معاملات پر بات ہو لیکن اگر ان کو عزت راس ہی نہیں آتی تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘

پنجاب میں کیا ہو رہا ہے؟

پنجاب میں بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال پر جہانگیر ترین گروپ کا اجلاس ہوا۔ جہانگیر ترین گروپ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ خیال رہے کہ سابق صوبائی وزیر علیم خان نے بھی ترین گروپ میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس کے بعد پنجاب میں بھی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

جہانگیر ترین گروپ کے چھ اراکین نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ سے بھی ملاقات کی ہے۔

زاہد حسین کے مطابق ’لگ رہا ہے کہ وزیرِاعظم اس بغاوت کو روکنے کے لیے اپنے چنیدہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانے کے لیے تیار ہیں لیکن شاید اب بہت دیر ہوچکی ہے۔‘

نسیم زہرہ کے مطابق اس وقت جہانگیر ترین کی واپسی ممکن نظر نہیں آ رہی ہے اور اب ایسا لگ رہا ہے کہ بظاہر حکومت کے اندر دراڑیں مزید مشکلات کا سبب بنیں گی۔ اطلاعات کے مطابق جہانگیر ترین سے ملاقات کرنے کے لیے علیم خان لندن روانہ ہو چکے ہیں۔

زاہد حسین کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جگہ نئے امیدوار پر اتفاق نہیں ہے۔

زاہد حسین کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ق وزیرِ اعلیٰ کے طور پر پرویز الہٰی کے علاوہ کسی اور کو قبول نہیں کرے گی اور یہ کہ پی ٹی آئی حکومت پر لٹکتی ہوئی عدم اعتماد کی تلوار دیکھ کر مسلم لیگ ق نے بھی اپنے مطالبات میں اضافہ کردیا ہے۔ ان کے مطابق حزبِ اختلاف کی جانب سے پرویز الہٰی کو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کی پیشکش کی خبروں کے بعد سے ق لیگ کی حیثیت مزید مستحکم ہوچکی ہے۔

نسیم زہرہ کے مطابق امپائرز کی طرف سے بظاہر غیر جانبداری کا تاثر حزب اختلاف کے فائدہ میں جائے گا۔ ان کے مطابق اگر اپوزیشن کی یہ تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر اپوزیشن جماعتوں کا اگلا ہدف جلد انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہوگا۔