آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمران خان: ’عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی تو کیا آپ تیار ہیں اس کے لیے جو میں آپ کے ساتھ کروں گا؟‘
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اسلام آباد
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی جانب سے ممکنہ تحریک عدم اعتماد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جو بھی کریں گے میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔
اتوار کو پنجاب کے ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ جب تک مجھ میں خون کا ایک بھی قطرہ ہے میں ان کا مقابلہ کروں گا۔
خیال رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد حکومت اور حزب اختلاف دونوں ہی حکومتی اتحادیوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان پر پنجاب کے علاقے میلسی میں جلسہ عام سے شرکت کرتے ہوئے کڑی تنقید کی۔
انھوں نے کہا کہ میں 25 سال پہلے میں سیاست میں انھی کا مقابلہ کرنے کے لیے آیا تھا، جب تک میرے میں خون ہے میں ان کا مقابلہ کروں گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ابھی میری پوری تیاری ہے جو بھی یہ کریں گے میں اس کے لیے تیار ہوں۔
تاہم اپنی تقریر میں وزیراعظم نے اپوزیشن رہنماؤں کو اپنے پیغام میں کہا کہ ’جب آپ کی عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی تو کیا آپ تیار ہیں اس کے لیے جو میں آپ کے ساتھ کروں گا؟‘
تحریک عدم اعتماد
حزب اختلاف نے ابھی یہ طے تو نہیں کیا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں فوری الیکشن کروائے جائیں گے تاہم ان کے کئی سینیئر رہنما یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ اپوزیشن نئے وزیرِ اعظم کے بجائے جلد از جلد انتخابات چاہتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں نئے انتخابات کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
مسلم لیگ ن پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے پارٹی قائدین کی اراکین پارلیمان کو بیرون ملک جانے سے روکنے کی تصدیق کر دی۔
بظاہر حکومتی وزرا یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اپوزیشن کی یہ تحریک ناکام ہوگی۔ مگر معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے روس کا دورہ ختم ہوتے ہی لاہور میں مسلم لیگ ق کی قیادت چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی ہے۔ مسلم لیگ ق کے پانچ رہنما اس وقت رکنِ قومی اسمبلی ہیں، اور وہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔
لیکن مسلم لیگ ق سے ہی اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے بھی ملاقات کی ہے۔ دوسری جانب حکومتی اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ سے بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس بار وزیرِ اعظم عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہیں ہے۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے اس سے قبل سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ’ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ پر بھی دباؤ ہے کہ وہ اس حکومت کی حمایت نہ کرے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اس عمل میں ملوث نہ ہوئی تو اپوزیشن کامیاب ہو جائے گی۔ مسلم لیگ ن کی قیادت نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس سات مارچ کو اسلام آباد میں طلب کیا ہے۔
تحریک عدم اعتماد کیا ہے؟
آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت وزیرِ اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش کی جا سکتی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے لیے قومی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم 20 فیصد اراکین کو ایک تحریری نوٹس اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروانا ہو گا۔
اس کے بعد تین دن سے پہلے یا سات دن بعد ووٹنگ نہیں ہو سکے گی۔ قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہیں گے۔
اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے اس کی حمایت میں 172 ووٹ درکار ہیں۔
قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق حکومتی جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں خود پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے سات، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے پانچ، مسلم لیگ ق کے بھی پانچ اراکین، گرینڈ ڈیموکریٹ الائنس (جی ڈی اے) کے تین اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
دوسری جانب حزب اختلاف کے کُل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے چار جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ دو آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔
اگر پارٹی پوزیشن دیکھی جائے تو حزب مخالف کو 10 مزید اراکین کی حمایت درکار ہے۔ جماعت اسلامی، جن کے پاس قومی اسمبلی کی ایک نشست ہے، نے فی الحال کسی کا ساتھ دینے کا اعلان نہیں کیا۔
اب حزب اختلاف کی جانب سے حکومتی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کے علاوہ جہانگیر ترین گروپ سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں۔ جہانگیر ترین گروپ کا دعویٰ ہے کہ ان کے ساتھ اس وقت سات ممبران قومی اسمبلی ہیں۔
حزب اختلاف کی جماعتیں وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریک کی کامیابی کے لیے ووٹ پورے کرنے کی غرض سے حکومتی اتحادیوں سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔
یہ دعوے بھی کیے جا رہے ہیں کہ خود حکومتی جماعت کے بعض اراکین سے بھی رابطہ مہم جاری ہے۔
اگر تحریک کامیاب ہوتی ہے تو کیا ہو گا؟
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجیسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرینسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اگر حزبِ اختلاف وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں کامیاب ہو جاتی ہے تو انھیں اپنا عہدہ چھوڑنا ہو گا۔
اس کے بعد آئین کے مطابق صدرِ پاکستان قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔
’اس جماعت کو 172 ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنی ہو گی تا کہ وہ حکومت بنا سکے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر پاتی تو صدر تیسری بڑی جماعت کو دعوت دے سکتے ہیں۔‘
احمد بلال محبوب کے مطابق آئین کے مطابق صدر اس دوران ہٹائے گئے وزیرِ اعظم کو اس وقت تک کام جاری رکھنے کا کہہ سکتے ہیں جب تک نیا وزیرِ اعظم منتخب نہیں ہو جاتا تاہم اس دوران وہ وزیرِ اعظم اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔
’ایک مرتبہ جب اکثریت حاصل کرنے کے بعد دوسرا وزیرِ اعظم منتخب ہو جاتا ہے تو اس کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ اسمبلی تحلیل کر دے جس کے بعد نئے انتخابات نگران حکومت کے تحت ہوں گے۔‘
آئین کے مطابق اگر وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد منظور ہو جائے اور کوئی بھی دوسری جماعت یا امیدوار واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہو جائے تو صدر اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ایک نگراں حکومت نئے انتخابات کروانے کی پابند ہو گی۔
شیخ رشید کی حزب اختلاف کو بات چیت کی دعوت
خیال رہے کہ وزیراعظم کے جلسہ عام سے خطاب سے قبل پاکستان کے وفاقی وزیر برائے داخلہ شیخ رشید احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وقت سے پہلے انتخابات کے معاملے پر حزب اختلاف کو حکومت کے ساتھ بات چیت کی دعوت دی ہے۔
’بات چیت ہونی چاہیے، حالات ہی ایسے ہیں۔‘ اُنھوں نے تجویز دی ہے کہ اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن میں شامل جماعتوں سے بھی مذاکرات ہوں اور یہ کہ ’مل بیٹھ کر بات کرنے سے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘
اس سے قبل اُنھوں نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ جو انتخابات پانچ سال بعد ہونے ہیں وہ ایک سال، چھے مہینے پہلے بھی ہو سکتے ہیں: ’اگر چھے مہینے پہلے بھی الیکشن ہو جائیں تو کیا قیامت آ جائے گی۔ آئیں ہم سے بات کریں۔‘
تاہم اب شیخ رشید نے وضاحت کی ہے کہ یہ ’میرا ذاتی خیال ہے، حکومت کی پالیسی نہیں۔‘
اس بارے میں سیاسی تجزیہ کار محمل سرفراز کہتی ہیں کہ حکومت اس بار دباؤ میں ہے اور اسے پریشانی ہے لیکن عین ممکن ہے کہ مذاکرات کی پیشکش کر کے وہ کچھ وقت حاصل کرنا چاہ رہے ہوں۔
’ہم اب جب پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے ملتے ہیں تو پہلی بار ان سے اس قسم کی باتیں سن رہے ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم اب اپوزیشن میں چلے جائیں گے۔ حکومت اس وقت پریشان ہے۔ جب متحدہ اپوزیشن کی پی ڈیم ایم تحریک آئی تھی تب بھی حکومتی ایوانوں میں اس قدر ہلچل نہیں تھی کیونکہ اس وقت سب ایک ہی صفحے پر تھے۔‘
محمل سرفراز اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اب بار بار اسٹیبلشمنٹ کے غیر جانبدار ہونے کی بات کی جا رہی ہے تو یہ دراصل خاموشی ہے، وہ جو ایک صفحہ تھا وہ اب خاموش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کو خود اپنے آپ کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے پڑ رہے ہیں۔‘