آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فارن فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے کیا دعوے کیے گئے ہیں؟
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں درخواست گزار اکبر ایس بابر کی جانب سے الیکشن کمیشن میں ایک رپورٹ جمع کروائی گئی ہے جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکمراں جماعت نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔
خیال رہے کہ درخواست گزار اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی ارکان میں شامل تھے اور فارن فنڈنگ کے معاملے میں جماعت سے اختلاف کے بعد انھیں جماعت سے نکال دیا گیا تھا۔
اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی۔ الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 کے قریب سماعتیں ہو چکی ہیں۔
حکمراں جماعت فارن فنڈنگ کے معاملے پر وکلا کی کل 9 ٹیمیں تبدیل کرچکی ہے اور اس وقت شاہ خاور اور سابق اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان الیکشن کمیشن میں حکمراں جماعت کی نمائندگی کرر ہے ہیں۔
اکبر ایس بابر کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تمام ریکارڈ سٹیٹ بینک کی جانب سے فراہم کی گئیں نو اکاؤنٹس کی تفصلات سے اکھٹا کیا گیا ہے جبکہ اکبر ایس بابر کی طرف سے 50 کے قریب پی ٹی آئی کے اکاونٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے سٹیٹ بینک کو درخواست کی گئی تھی۔
درخواست گزار کے دعووں کے مطابق جن ممالک میں حکمراں جماعت کو ممنوعہ فنڈنگ حاصل ہوئی اس میں ڈنمارک، جرمنی، متحدہ عرب امارت، سوئٹزرلینڈ، سوئیڈن، سنگاپور، نیوزی لینڈ، ہانک کانگ، فن لینڈ، آسٹریا، سعودی عرب اور ناروے شامل ہیں۔
اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان ممالک سے 73 لاکھ سے زائد امریکی ڈالر کے جو فنڈز حکمراں جماعت نے اکھٹے کیے ہیں ان کے ذرائع نہیں بتائے گئے۔
اس رپورٹ میں 90 کے قریب غیر ملکیوں اور 200 سے زائد ان غیر ملکی کمپنیوں کا ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے درخواست گزار کے دعوے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو فنڈز دیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شاہ خاور کا کہنا ہے کہ درخواست گزار کی طرف سے جن کمپنیوں اور غیر ملکی افراد پر جماعت کو فنڈز ملنے کے الزامات لگائے گئے ہیں سکروٹنی کمیٹی کے اجلاسوں میں ان افراد اور کمپنیوں کے بارے میں تمام تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ درخواست گزار کی طرف سے سکروٹنی کمیٹی کے اجلاسوں کے دوران جن غیر ملکی افراد سے متعلق ممنوعہ فنڈنگز کی بات کی جارہی ہے ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جنھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے مختلف ممالک میں منعقد کیے گئے ڈنرز میں ٹکٹ خرید کر شرکت کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے جمع کی گئی رقم ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں نہیں آتی۔
درخواست گزار اکبر ایس بابر کی طرف سے جمع کروائی گئی رپورٹ میں انڈین شہری رومیتہ شیٹھی اور نصیر احمد کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان سے مجموعی طور پر 30 ہزار ڈالرز کی فنڈنگ ہوئی ہے۔
اس رپورٹ میں مختلف غیر ملکی کمپنیوں کا بھی ذکر ہے۔ درخواست گزار کے مطابق سٹیٹ بینک سے حاصل کردہ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کمپنیوں نے حکمراں جماعت کو فنڈز دیے ہیں جن کے بارے میں ایس اکبر کا دعویٰ ہے کہ وہ ملکی قانون کے مطابق ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔
درخواست گزار کی طرف سے جو رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی ہے اس میں غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات کرنے والی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں پی ٹی آئی جو بینک اکاؤنٹس آپریٹ کرتی ہے، ان تک رسائی نہیں دی گئی اس لیے وہ ان اکاؤنٹس میں آنے والی فنڈر کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دے سکتے۔
اس کے علاوہ سکرونٹی کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے بیرون ملک سے جن لوگوں نے پارٹی کو فنڈز دیے ہیں ان ڈونرز کی جو فہرست فراہم کی گئی ہے اس سے بھی ان ڈونرز کی شناخت میں کوئی خاطر خواہ مدد نہیں مل رہی۔
مارچ سنہ2018 میں پی ٹی آئی کو مبینہ طور پر ملنے والی ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سکرونٹی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا اور اس کمیٹی کو ایک ماہ میں اپنی تحققیات مکمل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ بعدازاں اس میں مزید دو ماہ کی توسیع کردی گئی اور اس کے بعد اس سکرونٹی کمیٹی کو غیر معینہ مدت تک کا وقت دے دیا گیا۔
چار سال کے عرصے میں 95 اجلاسوں کے انعقاد کے بعد سکرونٹی کمیٹی نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن میں پیش کی تو حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے سکرونٹی کمیٹی کی رپورٹ کو عام نہ کرنے کی درحواست دی جو کہ مسترد کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں حکمراں جماعت کے بینک اکاونٹس
اکبر ایس بابر کی جانب سے جمع کروائی گئی حالیہ رپورٹ میں پی ٹی آئی کے پاکستان میں بینک اکاونٹس کے بھی ذکر کیا گیا ہے جن کے بارے میں درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ ان اکاونٹس کی تفصیلات کو الیکشن کمیشن سے مخفی رکھا گیا اور ان اکاونٹس میں بھی 85 کروڑ روپے سے زائد رقم موجود ہے۔
اس رپورٹ میں درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے سنہ 2009 سے سنہ 2013 تک الیکشن کمیشن میں ان اکاونٹس کی جعلی آڈٹ رپورٹس جمع کروائی گئیں تھی۔ درخواست گزار کی طرف سے الزام عائد کیا گیا کہ پارٹی کے چیئرمین کی طرف سے اس حوالے سے غلط ڈیکلریشن الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی۔
اس رپورٹ میں درخواست گزار کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کو ان مبینہ بےقاعدگیوں پر نوٹس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پر حتمی بحث کرنے سے پہلے دو درخواستیں دائر کر رکھی ہیں اور پی ٹی آئی کے وکیل اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی ہے کہ حتمی بحث شروع کرنے سے پہلے ان درخواستوں کا فیصلہ کیا جائے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے دائر کی گئی ان درخواستوں میں درخواست گزار اکبر ایس بابر کے حق کو چیلنج کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن اس سے قبل بھی پی ٹی آئی کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواستوں کو مسترد کر چکا ہے۔
ممنوعہ فنڈنگ کیا ہے؟
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی کمپنی یا فرد جو کہ پاکستانی نہ ہو اس سے کوئی بھی سیاسی جماعت اگر پارٹی کے امور چلانے کے لیے فنڈز حاصل کرے تو یہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایکٹ سنہ2017 کی شق 204 اس بارے میں بڑی واضح ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر ایک ڈالر بھی ممنوعہ فنڈنگ کی مد میں آجائے تو الیکشن کمیشن کو یہ فنڈز ضبط کرنے کا اختیار ہے۔
کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ کی 204 سے 212 تک شقیں ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں ہی ہیں جبکہ الیکشن ایکٹ کی شق 215 اس بارے میں کہتی ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت کی ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہو جائے تو الیکشن کمیشن کے پاس اس جماعت کا انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار ہے جس کے بعد ایسی سیاسی جماعت جس پر ممنوعہ ذرائع سے حاصل کیے گئے فنڈز کا الزام ثابت ہو جائے تو اس جماعت کی رجسٹریشن بھی تحلیل ہو جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر کوئی پاکستانی غیر ملک میں مقیم ہے اور وہ پاکستانی شہریت کو چھوڑ کر اس ملک کی شہریت اختیار کرچکا ہے، اگر وہ بھی پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کو فنڈز دیتا ہے تو وہ بھی ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتی ہے۔
کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن چاہے تو ایسی جماعت کو کالعدم قرار دلوانے کے لیے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجوا سکتا ہے۔
حکمراں جماعت کا موقف
الیکشن کمیشن میں غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے پر حکمراں جماعت کی نمائندگی کرنے والے وکیل شاہ خاور کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے جو ڈونرز کی فہرست الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کے پاس جمع کروائی ہے ان میں تمام تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سکرونٹی کمیٹی کے اجلاس کے دوران بھی ان ڈونرز کے بارے میں پوچھا گیا اور شاہ خاور کے بقول کمیٹی کے ارکان کو ان ڈونرز کی تمام تفصیلات فراہم کی گئیں جن میں ان کے رابطہ نمبرز بھی موجود ہیں۔
شاہ خاور کا کہنا تھا کہ انھوں نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی ہے کہ وہ دیگر دو جماعتوں جن میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی فارن فنڈنگ کا معاملہ بھی شامل ہے، کی تحقیقات مکمل کر کے ان تینوں جماعتوں کا فیصلہ ایک ہی مرتبہ سنائیں۔