فارن فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن کیوں اور کس کے کہنے پر گھبرا رہا ہے، نواز شریف کا سوال

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف جاری فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے سوال اٹھایا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کیوں اور کس کے کہنے پر گھبرا رہا ہے، کیوں گریز کر رہا ہے، کمیشن کیوں نہیں اس پر فیصلہ کر رہا ہے جبکہ عمران خان کے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں ہے۔‘

سنیچر کو لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں نواز شریف نے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں فیصلے میں چھ سال کی تاخیر پر استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کیوں اس معاملے پر فیصلہ نہیں کر رہا ہے جبکہ ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

عمران خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا ہے کہ ’عمران خان مجرم ہے، اور وہ اپنے جرم کو ایجنٹوں کے سر ڈال رہا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’عوام الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرے میں شریک ہوں‘

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں عوام سے کہا کہ پی ڈی ایم (حزب اختلاف کی 11 جماعتوں کا اتحاد جسے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کہا جاتا ہے) نے 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری آپ سے گذارش ہے کہ آپ اس میں بھرپور حصہ لیں اور پاکستان کو ناانصافیوں سے نجات دلائیں۔ ‘

نواز شریف کے مطابق بددیانتی، خیانت، فراڈ اور کرپشن کے اس اقدام کو تحفظ دیا جا رہا ہے اور قوم اس پر بھرپور احتجاج کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ یہ احتجاج ان کے خلاف بھی ہے، جنھوں نے ایک نااہل اور بددیانت شخصں کو ملک پر مسلط کرنے کے بعد اس کی چوری اور بددیانتی پر پردہ پوشی کو بھی اپنی ذمہ داری بنا لیا ہے۔‘

’امریکہ میں عمران خان کے حکم پر کمپنیاں کام کر رہی تھیں‘

تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اب یہ مقدمہ ساتویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔

ان کے مطابق مارچ 2018 میں الیکشن کمیشن نے ایک سکروٹنی کمیٹی قائم کر دی اور حکم دیا کہ ایک ماہ میں رپورٹ دی جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’پتہ نہیں کہ یہ نورا کشتی تھی یا کیا تھا، آج تقریباً ڈھائی سال ہو گئے مگر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں آیا۔‘

نواز شریف کے مطابق اکتوبر 2019 میں ای سی پی نے لکھا کہ یہ مقدمہ تاریخ میں قانون کی بدترین تذلیل کی ایک مثال ہے۔

ان کے مطابق اب ساتویں سال میں عمران خان نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ فارن فنڈنگ میں خرابیاں ہوئی ہیں اور پھر حسب عادت اس کی ذمہ داری ایجنٹوں پر ڈال دی ہے۔‘

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ’بھائی یہ کوئی راہ چلتے لوگ نہیں ہیں، یہ تحریک انصاف کی امریکہ میں رجسرڈ دو کمپنیاں ہیں۔ جو عمران خان کی منظوری سے یہ کام کر رہی تھیں۔‘

’نہ رقم، نہ ذرائع نہ منی ٹریل اور نہ ہی رسیدیں‘

سابق وزیر اعظم کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے الیکشن کمیشن کو تحریک انصاف کے 23 اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کی ہیں جن میں باہر سے پیسہ آتا تھا۔

ان کے مطابق اِن میں سے عمران خان نے 15 اکاؤنٹس چھپائے اور فراڈ کے ساتھ ای سی پی کو دی گئی رپورٹ میں ان کی تفصیلات شامل ہی نہیں کیں، جو کہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے سوال پوچھا کہ کیا اس طرح کے’مشکوک اور غیر شفاف اکاؤنٹس منی لانڈرنگ کے زمرے میں نہیں آتے؟‘

سابق وزیر اعظم نے الزام عائد کیا ہے کہ ’عمران خان میں شفافیت کا وجود ہی نہیں ہے۔ پاکستانی عوام جاننا چاہتی ہے کہ یہ رقم کتنی تھی اور یہ کہاں گئی۔‘

ان کے مطابق یہ ایک شرمناک کہانی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان جو یہ کہتے تھکتا نہیں تھا کہ احتساب ان سے شروع کیا جائے مگر اب سرپرستوں سے مل کر انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔

’میرے خلاف بھگدڑ مچی ہوئی تھی، اب یہ کیا نورا کشتی ہے‘

سابق وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ کے ججز نے واٹس ایپ پر ان کے خلاف ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنائی، جس میں ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی کو بھی شامل کیا۔

ان کے مطابق ’پھر آپ نے دیکھا کہ کس تیزی سے میرے خلاف فیصلہ آیا۔ میرے بیٹے کی کمپنی کے اقامے کی وجہ سے ایک منتخب وزیر اعظم یعنی مجھے وزارت عظمیٰ سے برطرف کر دیا۔ کس طرح احتساب عدالت کو پابند کیا گیا کہ چھ ماہ کے اندر فیصلہ دیا جائے اور پھر کس طرح ایک چابک مارنے کے انداز میں احتساب عدلت کے جج پر ایک سپریم کورٹ کا جج بٹھا دیا گیا۔‘

’کٹہرے میں کھڑے شخص کا نام نواز شریف نہیں، عمران خان ہے‘

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے خلاف اس مقدمے کا حوالہ بھی دیتے ہوئے کہا کہ ایک منتخب وزیر اعظم یعنی مجھے تو انھوں نے بھگدڑ مچا کر نااہل کر دیا تھا۔

ان کے مطابق اب فارن فنڈنگ کیس میں فیصلہ اس وجہ سے نہیں آ رہا ہے کہ کٹہرے میں کھڑے شخص کا نام نواز شریف نہیں بلکہ عمران خان ہے اور ان کی جماعت کا نام مسلم لیگ نہیں بلکہ تحریک انصاف ہے۔

انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’آپ کو یاد ہو گا کہ 2017 میں مجھے نکالنے کے لیے کس تیز رفتاری سے کام ہوا، بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔‘

الیکشن کمیشن کے سامنے فارن فنڈنگ کیس کی تفصیلات

فارن فنڈنگ مقدمے کے حقائق

نواز شریف کے مطابق عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کو پی ٹی آئی کے ایک بانی رکن الیکشن کمیشن کے سامنے لے کر گئے ہیں۔

ان کے مطابق اس مقدمے میں کل 70 سماعتیں ہو چکی ہیں۔ تحریک انصاف نے 30 بار اس مقدمے میں التوا حاصل کیا ہے جبکہ آٹھ بار وکیل بدلے ہیں۔

سابق وزیر اعظم کے مطابق عمران خان نے فارن فنڈنک کے اس مقدمے میں الیکشن کمیشن کے 30 آرڈرز ردی کی ٹوکری میں ڈال دیے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سامنے فارن فنڈنگ کی تفصیلات والی رپورٹ جمع کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا اور کمیشن کی کارروائی کو اعلیٰ عدالتوں میں چھ مختلف درخواستیں دائر کیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے تحریک انصاف نے اپنے وکلا کے ذریعے الیکشن کمیشن کے سامنے فارن فنڈنگ کیس میں جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ اگر فارن فنڈنگ میں کوئی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں تو پھر اس کی ذمہ داری دو کمپنیوں کے ایجنٹس پر ہے۔

رواں ہفتے میں ہی وزیر اعظم عمران خان نے اس مقدمے پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ انھیں دو ممالک کی طرف سے فنڈنگ کی پیشکش ہوئی مگر انھوں نے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق حزب اختلاف کے رہنماؤں نواز شریف اور آصف زرداری نے ان ممالک سے ضرور پیسے لیے ہونگے۔

عمران خان نے دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کو چیلنج دیا کہ وہ آ کر الیکشن کمیشن کے سامنے آ کر اپنی فنڈنگ ثابت کریں کہ وہ بالکل درست تھی۔ انھوں نے کہا کہ کمیشن دونوں جماعتوں کے جواب کا منتظر ہے۔