آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تحریک عدم اعتماد: ’تحریک انصاف کے دو درجن ایم این اے سندھ ہاؤس میں موجود ہیں‘
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے دو درجن ارکانِ قومی اسمبلی اس وقت اسلام آباد میں واقع سندھ ہاؤس میں موجود ہیں اور ان کے یہاں آنے کی وجہ پارلیمنٹ لاجز پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات تھے۔
راجہ ریاض کا تعلق حکومتی جماعت کے جہانگیر ترین گروپ سے ہے اور انھوں نے یہ دعویٰ پاکستانی نجی ٹی وی چینلز سے سندھ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'اس وقت پی ٹی آئی کے دو درجن ایم این ایز یہاں موجود ہیں اور اگر میرا دعویٰ غلط ہے تو حکومت اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلائے اگر اتنے ارکان کم نہ ہوں تو میرا نام بدل دیں۔'
سما ٹی وی کے صحافی ندیم ملک سے بات کرتے ہوئے راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ان کے سندھ ہاؤس میں قیام کی وجہ پارلیمنٹ لاجز پر حملے کے بعد سے سکیورٹی کے خدشات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'پورے میڈیا اور قوم کو پتہ ہے کہ لاجز پر پولیس نے حملہ کیا، جو کچھ پارلیمنٹ لاجز میں ہوا اس کے بعد ہمیں محسوس ہوا کہ ہے ہمیں یہاں آنا چاہیے۔'
حکومت کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات اور ارکان اسمبلی کو پیسے دیے جانے کے سوال پر راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ 'ہمیں کسی نے کوئی پیسے نہیں دیے۔ ملک میں ایک عرصے سے جاری خراب حکمرانی، لا قانونیت، مہنگائی، کرپشن اور مشیروں کے خلاف ہم عمران خان کے سامنے آواز اٹھا رہے تھے لیکن ہمیں سنا نہیں گیا۔ اب فیصلہ ضمیر کی آواز پر کریں گے۔ '
انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'میں سوچ بھی نہیں سکتا، ووٹ دیتے وقت کوئی خوف اور کوئی ڈر نہیں ہے، کسی نے نہ زبردستی کی اور نہ ہی دھمکایا ہے۔'
سندھ ہاؤس میں موجود پی ٹی آئی کے اراکین میں راجہ ریاض، نواب شیر وسیر، رانا قاسم نون، غفار وٹو، نورعالم خان، ریاض مزاری، باسط بخاری، احمد حسن ڈیہڑ، رمیش کمار، نزہت پٹھان اور وجیہہ قمر اکرم کے نام سامنے آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جبکہ پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس نے بھی ان اراکین کے نام کے حوالے سے ٹویٹ کیا ہے۔
ادھر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اراکین قومی اسمبلی کو عدم اعتماد کی تحریک میں حصہ لینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی، عوامی نمائندوں کی زندگیاں، آزادی اور خاندان خطرے میں ہے اور اراکین اسمبلی کو فسطائی حکومت سے اپنی حفاظت کے لیے ہر قسم کے اقدامات لینے کا حق ہے۔
بلاول بھٹو زرادری نے جمعرات کو اپنے ٹویٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’پی پی پی اور پی ڈی ایم اراکین کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔‘
تحریکِ انصاف کے ارکان کی سندھ ہاؤس میں موجودگی کی تصدیق کے بعد وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ایکشن کے ڈر سے لوٹے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ لوگوں کو 15 سے بیس کروڑ ملے تو خچروں اور گھوڑوں کی منڈیاں لگ گئیں۔
وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ’باضمیر ہوتے تو استعفیٰ دیتے اور سپیکر کو ان ضمیر فروشوں کو تاعمر ناابل قرار دینے کی کارروائی کرنی چاہیے۔‘
خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے تناظر میں حکومتی شخصیات کی جانب سے پیپلز پارٹی پر حکومتی ارکانِ اسمبلی کو سندھ ہاؤس میں ’قید‘ رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان الزامات کے بعد حکومت کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما پرویز الٰہی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حکومت کے پندرہ، سولہ ارکان قومی اسمبلی ’ٹوٹ گئے ہیں‘ اور ان میں سے بیشتر اپوزیشن کے پاس ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی بدھ کو دعویٰ کیا تھا کہ حزبِ اختلاف کے رہنما حکومتی ارکان کی وفاداریاں خریدنے کے لیے 'پیسے کی بوریوں' کے ساتھ سندھ ہاؤس میں موجود ہیں جبکہ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ سندھ پولیس کے چار سو اہلکار سندھ ہاؤس میں تعینات ہیں۔
جمعرات کی صبح پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ارکان اسمبلی کی سندھ ہاؤس میں موجودگی کی تصدیق تو کی تھی، لیکن ان کا کہنا تھا کہ اُن افراد کا تعلق ’حکومت سے نہیں اپوزیشن سے ہے۔‘
فیصل کریم کنڈی نے کہا تھا کہ سندھ ہاؤس میں اپوزیشن بشمول پی پی پی اور مسلم لیگ نواز کے وہ ایم این ایز موجود ہیں جن کی جانوں کو حکومت کے ہاتھوں خطرہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جب وزیر اعظم اپنی تقریروں میں بندوق کی باتیں کریں گے، اپوزیشن ایم این ایز کو پانچ لاکھ افراد کے مجمعے سے گزر کر جانے کی دھمکی دی جائے گی یا وزارت داخلہ کے احکامات پر پولیس کے ذریعے پارلیمنٹ لاجز میں ایم این ایز کی رہائش گاہوں پر حملہ کیا جائے گا، تو منتخب نمائندوں کو اپنی جانوں کا خوف ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔‘ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ سندھ ہاؤس میں موجود چند پی پی پی ایم این ایز وہ ہیں جن کا تعلق سندھ سے ہے۔ ’ان ایم این ایز کو خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت انھیں اٹھایا جا سکتا ہے یا ان کے خلاف کوئی منفی حکومتی اقدام کیا جا سکتا ہے۔‘
’سندھ ہاؤس میں رہائش کی درخواست کی تھی‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبران قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل، آغا رفیع اللہ، جاوید شاہ جیلانی، عبدالقادر مندوخیل، عابد بھیئو، احسان مزاری، نوید ڈیرو اور مہرین بھٹو نے اپنے مشترکہ بیان میں الزام لگایا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز واقعے کے بعد عمران خان کی حکومت ’اب ہم پر سندھ ہاؤس پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم تمام اراکین نے پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کے بعد حکومت سندھ سے درخواست کی تھی کہ ہمیں سندھ ہاؤس میں رہائش دی جائے کیونکہ ہماری جانیں پارلیمنٹ لاجز میں محفوظ نہیں اور ہمارے ساتھ ہماری خواتین ارکان بھی غیر محفوظ ہیں جس طرح اسلام آباد پولیس نے پارلیمنٹ لاجز میں غیر قانونی چڑھائی کی اور لوگوں کی جان خطرے میں ڈالی۔‘
’ہم نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں سندھ پولیس کی حفاظت میں دیا جائے جو کہ ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔۔۔ ہمیں اطلاعات ہیں کہ یہ گلو بٹ اور عمران کے ذاتی بدمعاش ٹائیگر فورس سندھ ہاؤس پر حملے کی تیاری کررہے ہیں۔ اگر سندھ ہاؤس کی تنصیبات یا ہمارے کسی رُکن کو نقصان پہنچا تو اس کی ساری ذمہ داری نیازی سرکار پر ہوگی اور یہ آئین اور قانون کی بھی خلاف ورزی ہوگی جس کا پہلے سے تدارک انتہائی ضروری ہے۔‘
فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے ’حکومت کے خطرے کی وجہ سے اپنے اراکین کو محفوظ رکھا ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے ارکان سندھ ہاوس میں محفوظ ہیں۔‘
تحریکِ عدم اعتماد کے موقع پر تصادم سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست
ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک عدم اعتماد کے موقع پر سیاسی کارکنان کو تصادم سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی ووٹنگ مارچ کے اواخر میں متوقع ہے اور اس سے قبل حکمراں جماعت اور اپوزیشن نے اپنے جلسوں کا اعلان کر رکھا ہے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی گذشتہ روز مخالف کارکنان کے درمیان تصادم کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعے محفوظ راستوں کے تعین کا مطالبہ کیا تھا۔
جمعرات کو دائر کردہ درخواست میں سپریم کورٹ بار کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کا آئینی عمل پُرامن انداز سے مکمل ہونا چاہیے تاہم ’سیاسی بیانات سے عدم اعتماد کے روز فریقین کے درمیان تصادم کا خطرہ ہے۔‘
اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ تمام سٹیلک ہولڈرز کو عدم اعتماد کا عمل پُرامن انداز سے مکمل ہونے کا حکم دیں۔ جبکہ اس میں وزارت داخلہ، وزارت دفاع، آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے۔