آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ان پر ایک خوف ہے، ڈر ہے اور ایسے میں ٹانگیں کانپتی نہیں بلکہ کانپیں ٹانگتی ہیں: بلاول
پاکستان پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے کانپیں ٹانگنے سے متعلق ان کی ویڈیو جعل سازی سے بنائی۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آّباد کے ڈی چوک پر بلاول بھٹو کے ایک خطاب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی جس میں ان سے کانپیں ٹانگنے کے لفظ منسوب کیا گیا۔
پاکستانی ٹی وی چینل جیو نیوز پر میزبان حامد میر کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کی جماعت ویڈیو میں جعلسازی کرنے اور پروپیگینڈا کرنے کی ماہر ہے۔ یہ ویڈیو بھی جعل سازی سے بنی ہے۔‘
’مجھے لگا شاید میری زبان پھسل گئی‘
بلاول کا کہنا تھا کہ ’جب میں گھر جا رہا تھا تو میں نے سوشل میڈیا پر یہ کلپ دیکھا اور میں نے سمجھا کہ واقعی میری زبان پھسل گئی ہو گی۔ لیکن گھر جا کر میں نے جیو نیوز کی ہیڈلائن دیکھی۔ وہاں تو بلکل صحیح کہا جا رہا تھا۔‘
’لیکن جو بھی ہے اور جیسے بھی ہے، اب میں اس لفظ کو اون کرتا ہوں اور عوام کو سمجھانا چاہوں گا کہ ٹانگیں کانپنے میں اور کانپیں ٹانگنے میں فرق کیا ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’وزیر اعظم صاحب کی ٹانگیں کانپنی شروع ہو گئی تھیں ہمارا مارچ شروع ہونے سے پہلے۔ جیسے ہی مارچ نکلا، انھوں (وزیر اعظم) نے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی، بجلی کی قیمتوں میں کمی کی۔ جب ہم اسلام آباد پہنچے تو پھر کانپیں ٹانگنے والا سین شروع ہو گیا۔ پھر آپ نے دیکھا کہ وہ جگہ جگہ جلسوں میں گالی دینے پر اتر آئے۔ ایک خوف ہے، ایک ڈر ہے، اور ایسے میں ٹانگیں کانپتی نہیں بلکہ کانپیں ٹانگنا شروع ہو جاتی ہیں۔‘
’تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن ڈبل سنچری کر لے گی‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کو یقین ہے کہ ’تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن ڈبل سنچری کر لے گی۔‘ انھوں نے کہا کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے امیدوار ن لیگ سے ہوں گے کیوں کہ وہ اکثریتی جماعت ہے۔
بلاول بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’میں چیلنج کرتا ہوں کہ بتائیں کہاں ہے بیرونی سازش؟ ہم تین سال سے محنت کر رہے ہیں۔ امریکہ کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اگر آپ (عمران خان) 10 لاکھ لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں تو آپ اس طاقت کا اظہار کر رہے ہیں جس کا آئین کے آرٹیکل چھ میں ذکر ہے۔ اپوزیشن کی حکومت ہفتوں، دنوں کی بات ہے۔ ہم چاہتے ہیں سڑکوں پر نہیں، پارلیمان میں مقابلہ کریں۔ جہاں دس لاکھ نہیں، صرف 172 لوگ لائیں۔‘
’عمران خان چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت بچ جائے ورنہ اتنی بد امنی ہو کہ کسی تیسری طاقت کو بہانہ ملے اور اس طرح وہ سیاسی شہید بن جائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ’ہارس ٹریڈنگ کا الزام جھوٹا ہے۔ ہم جمہوری عدم اعتماد کی تحریک چلا رہے ہیں۔ ایسے ہتھکنڈے غیر جمہوری طور پر استعمال ہوتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
’آصف زرداری پر غصہ اس لیے کہ وہ اپوزیشن کو ایک پیج پر لائے‘
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کی جانب سے بندوق کی نشست کی بات کرنا بہت سنگین معاملہ ہے۔
’یہ دھمکی برداشت سے باہر ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور بتانا چاہتے ہیں کہ وہ مارنے کی دھمکی دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ بندوق کیسے استعمال ہوتی ہے۔ ایسی دھمکی جمہوری سیاست میں نہیں دینی چاہیے۔‘
بلاول بھٹو سے سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’آصف زرداری پر ان (وزیر اعظم) کی تنقید کی وجہ یہ ہے کہ صرف وہی اپوزیشن کو ایک پیج پر اکھٹا کر سکتے ہیں۔ اور مجھ پر شاید اتنا غصہ ہے کہ میں نوجوان ہوں، لیکن پھر بھی ان کو چیلنج کر رہا ہوں۔‘
’آج خان صاحب اپنے سب سے بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ ہم نے پہلے سینیٹ میں بھی ان کو شکست دی۔ ان کا خیال تھا کہ آصف زرداری جیل میں رہیں گے، اور وہ ان کو کہیں گے کہ آپ باہر چلے جائیں اور عمران خان پانچ سال آرام سے حکومت کریں گے۔ لیکن آصف زرداری نے کیسوں کا سامنا کیا، وہ نہ جھکے، نہ بکے۔ ان کا خیال تھا کہ میری تنقید اور اپوزیشن میں کمی ہو گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘