گوادر میں ٹرالنگ پر پابندی مگر ماہی گیروں کے خدشات برقرار: ’ٹرالر مکمل بند ہوں تو ماہی گیر بچت کر کے قرضہ اُتار سکیں گے‘

ماہی گیر
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کلمت، بلوچستان

دوپہر کے ساڑھے بارہ بجے تھے۔ سمندر کے ساحل پر چھ سے آٹھ سال کی عمر کے کئی بچے آ کر بیٹھے، اُن کی نظریں سمندر کی طرف تھیں۔ بالآخر ڈیڑھ بجے کے قریب چند کشتیاں سمندر میں نظر آنا شروع ہو گئیں۔

جیسے ہی کشتیاں ساحل پر آ کر لنگر انداز ہوئیں تو ساحل پر انتظار کرتے یہ بچے مسکراتے ہوئے کشتیوں میں سوار ماہی گیروں کے پاس پہنچے۔ ماہی گیروں نے ہر بچے کو ایک ایک کیکڑا دیا، اور یوں ماہی گیروں کی کشتیاں آنے اور بچوں میں کیکڑے بانٹنے کا سلسلہ شام پانچ بجے تک جاری رہا۔

یہ منظر تھا بلوچستان کے علاقے کلمت میں جہاں رہنے والوں میں سے زیادہ تر کا روزگار ماہی گیری سے جڑا ہے۔

ابھی بچوں کیکڑے بانٹے کا عمل جاری ہی تھا کہ اسی دوران مچھلیوں سے لدی کشتیاں ساحل پر بھی آ گئیں اور ان بچوں کو ایک، ایک بانگڑا مچھلی بھی دی گئی۔ بچے ماہی گیروں سے ملنے والی مچھلیاں اور کیکڑے فروخت کر دیتے ہیں۔

برف کا گولہ چوستے ایک بچے سے میں نے پوچھا کتنے پیسے جمع ہوئے، تو اُس نے بتایا ’70 روپے‘۔ ان بچوں نے کچھ پیسے خرچ کیے اور باقی جیب میں لے کر گھر روانہ ہوئے۔

سمندر میں شانتی

صبح چھ بجے کلمت کے ماہی گیر سمندر میں جانے کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں جہاں وہ پانچ سے چھ گھنٹے گزارتے ہیں، اور واپسی پر مچھلیاں لے کر آتے ہیں۔ مگر چند ماہ پہلے صورتحال اس سے قدرے مختلف تھی کیونکہ یہ ماہی گیر سمندر سے خالی ہاتھ لوٹتے تھے کیونکہ بڑے بڑے فشنگ ٹرالر ان کے ’حق پر ڈاکہ مار‘ رہے تھے اور ان کے پکڑنے کے لیے سمندر میں مچھلی بچتی نہیں تھی۔ اس صورتحال کے باعث گوادر میں ماہی گیروں نے احتجاج کیا تھا جس میں ایک مطالبہ ٹرالنگ پر پابندی تھی۔

کلمت

ماہی گیر عبدالستار سنگھور کا کہنا ہے کہ فی الحال ٹرالر بند ہیں، اس لیے سمندر میں شانتی (سکون) ہے۔ ان کے مطابق اِس وقت انھیں روزانہ کی بنیاد پر کم از کم پچاس، ساٹھ کلو مچھلی مل جاتی ہے، مگر جب ٹرالر آتے تھے تو ان کے ہاتھ فقط تین یا چار کلو مچھلی ہی لگتی تھی اور بعض اوقات تو ماہی گیر خالی ہاتھ ہی واپس لوٹتے تھے۔

’ہم رات کو جال لگاتے تھے مگر ٹرالر والے آتے اور اس کو بھی کاٹ دیتے تھے۔ ہم تو صرف صبح سے شام تک مچھلی پکڑتے ہیں وہ تو ساری رات شکار کرتے تھے۔‘

یاد رہے کہ جماعت اسلامی کے رہنما مولانا ہدایت الرحمان نے گوادر میں مقامی لوگوں کے ہمراہ کئی ہفتوں تک دھرنا دیا تھا جن کا ایک مطالبہ کراچی سے آنے والے فشنگ ٹرالرز پر پابندی تھی۔ حکومت سے مذاکرات کے بعد یہ مطالبات تسلیم کیے گئے۔

’عرصے بعد مشکا، پاپلیٹ اور جھینگا نظر آیا‘

کلمت میں سمندر میں جانے والی کشتیاں چھوٹی ہیں، جس پر دو یا تین ماہی گیر سوار ہو سکتے ہیں اور اُن کے جال بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ ماہی گیر مچھلی، کیکڑوں اور جھینگے کو پکڑنے کے لیے الگ الگ اقسام کے جال استعمال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ٹرالر صرف ایک ہی بڑا جال استعمال کرتے ہیں جس کو ’گجو‘ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ جال سمندر کی تہہ تک جاتا ہے اور ’سمندر میں جھاڑو پھیر دیتا ہے‘ (یعنی بڑی مقدار میں مچھلیاں پکڑ لیتے ہیں)۔

کلمت کی جیٹی پر آج کل مقامی لوگوں کی سرگرمیاں بحال ہیں۔ یہاں دس سے زائد ایسی دکانیں ہیں جہاں ماہی گیر اپنی مچھلی فروخت کرتے ہیں اور یہاں سے مچھلی اور کیکڑے پسنی روانہ کیے جاتے ہیں۔ ان دنوں لوئر اور بانگڑا مچھلی کا سیزن ہے، یہ دونوں ہی چھوٹی اقسام کی مچھلیاں ہیں۔ لوئر بیس سے پچیس روپے کلو اور بانگڑا ڈیڑھ سو روپے کلو میں فروخت ہوتی ہے۔

کلمت کی ایک دکان کے مینیجر وشدل حمل بلوچ نے بتایا کہ ٹرالوں کے وجہ سے نہ صرف مچھلی کم ہوئی تھی بلکہ بڑی مچھلی، سوا، کگھی، پاپلیٹ، پلو اور مشکا کی نسل نظر ہی نہیں آ رہی تھی، لیکن ٹرالروں کی آمد بند ہونے کے بعد مشکا، پاپلیٹ اور جھینگا نظر آنے لگی ہیں۔

کلمت

‘جب ٹرالر چل رہے تھے تو کبھی دس کلو کبھی بیس کلو مچھلی آتی تھی۔ دو تین مہینے تو ایسے تھے جب مال ہی نہیں تھا۔ اس وقت خدا کا شکر ہے سو کلو، دو سو کلو مچھلی آ رہی ہے، مولانا ہدایت اللہ کے احتجاج کے بعد یہ فرق آیا۔‘

وشدل حمل بلوچ کے مطابق جب ٹرالر والوں سے پوچھتے کہ ‘بھئی یہ ہمارا علاقہ ہے، ہمارے پاس ثبوت ہے کیونکہ سنہ 1965 میں ایوب خان کے دور حکومت میں ایک کیس بھی ہوا تھا جو مقامی لوگوں نے جیتا لیکن ٹرالر مافیا نہیں مانتے تھے۔‘

بلوچستان اور سندھ میں موجود سمندر تین فشنگ زون میں تقسیم ہے۔ ساحل سے لے کر 12 ناٹیکل میل تک صوبائی حکومتوں کی سمندری حدود ہیں جہاں فشنگ کی اجازت صوبائی حکومت دیتی ہے جبکہ باقی دو زونز وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہیں۔

بلوچستان کے ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ کراچی سے آنے والے ٹرالرز غیر قانونی طور پر اُن کی حدود میں آ کر فشنگ کرتے ہیں۔

اس علاقے میں جھینگا اور پاپلیٹ وافر مقدار میں موجود ہے اور وہ ہی ان ٹرالرز کا ٹارگٹ ہوتا ہے۔ وشدل بلوچ کے مطابق پاپلیٹ کا سیزن دو تین مہینے اور جھینگے کا چار پانچ مہینے چلتا ہے اور اس کی آمدن بھی اچھی ہوتی ہے۔

90 فیصد ماہی گیر مقروض

جو بھی شکار ہوتا ہے اس کا آدھا حصہ کشتی کے مالک اور باقی آدھی آمدن ماہی گیروں میں تقیسم ہوتی ہے۔ کلمت میں جس بھی ماہی گیر سے معلوم کیا اس نے بتایا کہ وہ مقروض ہے۔ وہ اپنا شکار سیٹھ کو فروخت کرتے ہیں جس کے پاس اس کا کھاتہ ہوتا ہے، وہ اس ماہی گیر کو گھر کا راشن، کشتی کا تیل بھی فراہم کرتا ہے۔

محمد اسحاق بتاتے ہیں وہ اپنی مچھلی سیٹھ کو جا کر دیتے ہیں اور وہ حساب کرتا ہے اور سیزن ختم ہونے پر اگر پیسے بچ جائیں تو ٹھیک ورنہ مزید قرضہ لیتے ہیں۔

محمد نواز پر تین لاکھ کا قرض ہے اور ان کے بھائی بھی مقروض ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اُن کا کہنا ہے کہ ہر سال جال تبدیل کرنا پڑتا ہے کیونکہ کیکڑے کا الگ، پاپلیٹ کا الگ، جھینگے کا الگ جال ہوتا ہے اور سال میں تیس سے پچاس ہزار روپے ان جالوں پر خرچ ہو جاتے ہیں، اس کے علاوہ کشتی کی مرمت، شادی بیاہ اور دیگر گھریلو اخراجات کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔

کلمت

وشدل اس قرضے کی وجہ بھی اُن ٹرالرز کو سمجھتے ہیں، کیونکہ روزگار نہیں تھا تو لوگ قرض اٹھاتے رہے۔

‘کشتی کا تیل مہنگا ہے، چاول، روٹی اور آٹا سب کچھ مہنگا ہے، ان ماہی گیروں کی بچت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ ہاں اگر یہ ٹرالر مکمل بند ہوں اور مچھلی کی پیدوار بڑھے تو پھر یہ ماہی گیر کچھ رقم اپنی ضرورت میں لائیں باقی بچت کر کے قرضہ اتاریں ورنہ یہاں تو 90 فیصد ماہی گیر مقروض ہیں اور زندگی بھر رہیں گے۔‘

گرمیوں میں مچھلی کا سیزن ختم ہو جاتا ہے اور ان ہی دنوں سمندر بھی بپھرا ہوا ہوتا ہے۔ ایسے میں ماہی گیر جیلی فش پکڑتے ہیں اور انھیں پراسییس کر کے ایکسپورٹ کے لیے روانہ کیا جاتا ہے۔

کلمت بستی

بلوچستان کی سمندری حدود حب سے لے کر ایرانی سرحد تک پھیلی ہوئی ہے، جس میں گڈانی، اوڑ ماڑا، کلمت، پسنی، سربند، گوادر، جیونی اور کھپر شامل ہیں۔ یہاں کی تمام آبادی کا گزر بسر مچھلی سے ہی وابستہ ہے تاہم سرکاری سطح پر اس صنعت کے فروغ کے کوئی انتظامات نظر نہیں آتے۔

کلمت کوسٹل ہائی وے سے 20 کلومیٹر دور ماہی گیروں کی بستی ہے جس کی قدرتی جیٹی ہے جہاں سے کشتیاں باآسانی سمندر میں جاتیں اور واپس آتی ہیں۔ یہ بستی دو ہزار کے قریب گھرانوں پر مشتمل ہے، یہاں ایک ہائی سکول، ایک دیہی ہیلتھ سینٹر بھی موجود ہیں مگر ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں اور ہائی سکول میں اساتذہ کا فقدان ہے۔ پرائمری سکول کے اساتذہ کے لیے گاؤں والوں نے کھانے پینے، کپڑے دھونے کا انتظام کیا ہے تاکہ اساتذہ موجود رہیں اور بچے تعلیم مکمل کریں۔

کالج کے لیے یہاں کے طالب علموں کو پسنی جانا پڑتا ہے۔ اس وقت بھی کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ کی جامعات میں ایک درجن کے قریب اس علاقے کے نوجوان زیر تعلیم ہیں۔ ان نوجوانوں کو بزرگوں نے طلبہ سیاست سے دور رکھنے کی پوری کوشش کی ہے۔

پینے کا پانی پسنی سے لایا جاتا ہے جو چار ہزار روپے فی ٹینکر پڑتا ہے جبکہ ایندھن کی لکڑیاں بھی خریدی جاتی ہیں۔ بجلی فراہم کرنے کے لیے واپڈا کا ایک جنریٹر لگا ہوا ہے جہاں سے صرف 6 گھنٹے بجلی کی فراہمی ہوتی ہے۔ یہاں کی آبادی محدود وسائل میں ایک سخت زندگی گزار رہی ہے۔

فشنگ ٹرالرز کے بعد کلمت کی بستی کو ان دنوں ایک اور مشکلات کا سامنا تھا۔ یہاں نیوی نے اپنا کیمپ بنا لیا ہے جو جیٹی کے راستے پر واپڈا کے دفتر میں قائم کیا گیا ہے۔

کلمت

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ نیوی 300 ایکڑ زمین مانگ رہی ہے لیکن انھوں نے دینے سے انکار کر دیا جس کے بعد انھیں مبینہ طور پر مختلف بہانوں سے تنگ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے مقامی انتظامیہ کو شکایت کی لیکن وہ بھی بے بس ہے۔

گوادر میں جماعت اسلامی کے رہنما مولانا ہدایت الرحمان کی سربراہی میں جو دھرنا دیا گیا اس کے دو مرکزی نکات تھے جس میں ایک فشنگ ٹرالرز پر پابندی اور دوسرا چیک پوسٹوں پر لوگوں کو روکنا اور غیر ضروری پوچھ گچھ ختم کرنا تھا۔

کراچی میں پچھلے دنوں ٹرالز پر پابندی کے خلاف بندرگاہ کو بلاک کیا گیا جس کے بعد بلوچستان کے ماہی گیروں کو خدشہ ہے کہ یہ ٹرالرز دوبارہ ان کی حدود میں آ کر فشنگ کریں گے جس کے خلاف ایک بار پھر مولانا ہدایت الرحمان نے احتجاج اور گوادر بندرگاہ کے گھیراؤ کا اعلان کیا ہے۔