پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کا 23 مارچ کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@president_pmln
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 23 مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ مارچ کتنے دن تک اسلام آباد میں رہے گا، اس کا فیصلہ بعد میں ہو گا۔‘
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان 27 مارچ کو اسلام آباد میں ہی ڈی چوک پر جلسے کا اعلان کر چکے ہیں جس میں تحریک انصاف نے 10 لاکھ افراد اکھٹا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسلام آباد میں پیر کی رات صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے لانگ مارچ کے اعلان پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ' ہم بہت کچھ کرنے جا رہے ہیں، انھوں نے ہمیں دھمکیاں دی ہیں، یہ کوئی مذاق ہے، چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے۔'
جے یو آئی ف کے سربراہ نے بتایا کہ شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن قائدین کا اجلاس ہوا۔ انھوں نے کہا کہ 23 مارچ کو پی ڈی ایم نے جس مارچ کا اعلان کیا تھا، ’وہ ہو کر رہے گا‘ جس میں پورے ملک سے لوگ شریک ہوں گے۔
انھوں نے الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کیس کا فوری فیصلہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
پی ڈی ایم سربراہ کے لانگ مارچ کے اعلان کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 'پہلے ہی کہا تھا کہ فضل الرحمنٰ کا اصل ایجنڈا اسلامی وزرائے خارجہ کی کانفرنس کے خلاف ہے۔ 15 سال بعد اسلامی وزراء خارجہ کانفرنس کا اجلاس ان کو ہضم نہیں ہو رہا، اس لیے 23 مارچ کو اسلام آباد بلاک کرنا چاہتے ہیں جب پورا ملک یوم تشکر منا رہا ہو گا، ہم فسادیوں سے نبٹنا جانتے ہیں۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
تحریک عدم اعتماد اور ملاقاتیں
پاکستان کے دارالحکومت میں اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے تناظر میں افواہوں اور اندازوں کے درمیان سیاسی جماعتوں کے رابطوں، ملاقاتوں اور مشاورت میں تیزی دیکھنے کو ملی۔
ایک جانب وزیر اعظم عمران خان خود چل کر اتحادی جماعتوں بلوچستان عوامی پارٹی اور جی ڈی اے سے ملنے پارلیمنٹ لاجز پہنچے تو دوسری جانب شہباز شریف نے اپوزیشن رہنماؤں کو عشایے پر اکھٹا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے بیشتر رہنما گزشتہ چند دنوں سے یہ بات دہرا رہے ہیں کہ ان کو اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کا یقین ہے۔
ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کا اچانک سینیئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کے ساتھ پارلیمنٹ لاجز جانا بھی قیاس آرائیوں کا باعث بنا لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ بی اے پی اور جی ڈی اے دونوں اتحادی حکومت کے ساتھ ہی کھڑے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہVIDEO GRAB
اس غیر یقینی کی فضا کی ایک بڑی وجہ شاید وہ دو بڑی حکومتی اتحادی جماعتیں ہیں جن کا فیصلہ اپویشن کی تحریک عدم اعتماد کا بھی فیصلہ کرے گا۔ یہ جماعتیں ق لیگ اور ایم کیو ایم ہیں جن کے درمیان پیر کی رات ایک اہم ملاقات کی اطلاع تو سب نے سنی لیکن وہ ساتھ کس کا دیں گے، یہ راز اب تک سینے سے ہی لگائے بیٹھے ہیں۔
حمزہ شہباز، ترین گروپ میں ’عثمان بزدار کو ہٹانے پر اتفاق‘
پیر کے دن کی ایک اور اہم پیش رفت میں لاہور میں ن لیگی رہنما حمزہ شہباز سابق تحریک انصاف رہنما جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر ان کے حامی گروپ سے ملنے گئے۔ واضح رہے کہ جہانگیر ترین خود لندن میں موجود ہیں۔
حمزہ شہباز شریف اور جہانگیر خان ترین گروپ کی ملاقات کے بعد ن لیگ کے سوشل میڈیا ہینڈل سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کو ہٹانے پر اتفاق ہوا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ترین گروپ کے اراکین نے صوبے کے معاملات پر مایوسی کا اظہار اور مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی کرپشن پر تشویش کا اظہار کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ق لیگ اور ایم کیو ایم کیا فیصلہ کریں گی؟

،تصویر کا ذریعہPPP MEDIA CELL
ایم کیو ایم کے وفد نے ق لیگ کے رہنما چوہدری شجاعت کے گھر پر جانے سے پہلے اسلام آباد میں ہی پیپلز پارٹی کے وفد سے اہم ملاقات کی جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات میں پی پی پی کا ایم کیو ایم کے تمام تر نکات سے اتفاق ہوا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعے بتایا گیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ایم کیوایم وفد کی ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے ملک کے وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے سے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ایم کیو ایم کا موقف بھی سامنے آیا جس میں واضح کیا گیا کہ خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں پیپلزپارٹی سے ملاقات گزشتہ دنوں دونوں جماعتوں کے درمیان رابطوں کا تسلسل تھی اور سیاسی صورت حال بشمول تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
ایم کیو ایم کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران کراچی اور حیدر آباد سمیت سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل پر ایم کیو ایم نے اپنا موقف پیش کیا جس پر پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم سے مستقل اور بہتر روابط پر اتفاق کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
تحریکِ انصاف کا 27 مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر جلسہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے پہلے پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 27 مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر جلسہ عام کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
پیر کو پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کی جانب سے کی گئی ٹویٹس میں کہا گیا کہ ’کپتان نے ڈی چوک اسلام آباد جلسے کا حتمی فیصلہ کر لیا، انشااللہ 27 مارچ کو تاریخ ساز اجتماع ہونے جا رہا ہے۔‘
اس حوالے اسد عمر نے مزید لکھا کہ ’دنیا دیکھے گی پاکستان کی عوام کیسے اپنی آزادی اور خود مختاری کے لیے اپنے کپتان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔‘
اس سے قبل تحریک انصاف کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے ایک روز قبل ڈی چوک میں جلسے کے انعقاد کیا جائے گا تاہم تاحال تحریک عدم اعتماد کے لیے اجلاس بلانے اور اس پر ووٹنگ کی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیٹیر فیصل جاوید خان نے کہا کہ ’عدم اعتماد پر ووٹنگ کی تاریخ سپیکر قومی اسمبلی دیں گے اور یہ 27 مارچ کے بعد کوئی بھی تاریخ ہو سکتی ہے۔‘
اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا اعلان پیر کے روز پی ٹی آئی کی کور کمیٹی میٹنگ کے اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق پارٹی کی کور کمیٹی نے ’عمران خان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔‘
اس حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ’اجلاس حکومت نے نہیں سپیکر نے بلانا ہے اور اس بارے میں وہ وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہیں کیونکہ او آئی سی کا اجلاس پارلیمان میں ہونا ہے۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ جلد از جلد ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’جو ووٹ دینے جائے گا اسے جلسے کے شرکا کے درمیان سے گزر کر جانا ہو گا‘
کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے ڈی چوک کے جلسے کو ’تمام جلسوں کی ماں قرار‘ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جلسے میں ملک بھر سے ’دس لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے۔‘
پی ٹی آئی کے رہنما عامر محمود کیانی نے ڈی چوک میں ہونے والے جلسے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جلسے میں 10 لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے اور یہ جلسہ پاکستان کی آئندہ آنے والی سیاست کے رُخ کا تعین کرے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جس نے ووٹ ڈالنا ہو گا، وہ اس دس لاکھ کے ہجوم میں سے گزر کر جائے گا اور جب ووٹ ڈال کر آئے گا تب بھی یہیں سے گزر کر جائے گا۔ اس لیے اپنی پیٹیاں کس لیں کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہو گا۔‘
جب عامر کیانی سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ بات ’منحرف اراکین‘ کے لیے دھمکی ہے اور کیا یہی حکومت کی حکمتِ عملی ہو گی تو اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک سیاسی جماعت ہیں اور ہماری حکمتِ عملی یہی ہو گی، اور باتیں ازراہِ گفتگو ہوتی ہیں۔‘
حکومتی رہنماؤں کی اس پریس کانفرنس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما شیری رحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اسے اپوزیشن کو ڈرانے اور دھمکانے کی حکمت عملی قرار دیا۔
اپوزیشن رہنماؤں کی سکیورٹی سے متعلق سوال پر فواد چوہدری نے صحافی کو جواب دیا کہ ’نہ آپ کو کوئی خطرہ ہے، نہ ہی اُن کو کوئی خطرہ ہے۔‘
فواد چوہدری کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’سیاست، حکومت اور مستقبل ہمارے پاس ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’تحریک انصاف کو جگانے پر اپوزیشن رہنماؤں کا شکریہ‘
پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کا احوال بتاتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، خصوصاً تحریکِ عدم اعتماد کے بارے میں تفصیل سے بات ہوئی ہے اور کور کمیٹی نے عمران خان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ایک وفاقی پارٹی ہے یہ چار ڈویژنوں کی پارٹی نہیں ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ نے دیکھا کہ جس طرح کے جلسے ہو رہے ہیں، کل حافظ آباد میں ہوا، اس سے پہلے میلسی، منڈی بہاؤالدین، لوئر دیر اور اب سوات میں ہونے جا رہا ہے اور پھر تمام جلسوں کی ماں ڈی چوک پر ہونے جا رہا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
’اس وقت جو لوگوں کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے دیگر اراکین کی جانب سے بھی شدید ردِ عمل دیا گیا ہے اور جس جس کو پیسے آفر کیے گئے اس نے پہلے پارٹی میں آ کر بتایا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کے کم از کم تین ارکان کو کروڑوں روپے کی آفر کی گئی۔
فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ’روس یوکرین جنگ کے بعد سے جب دنیا بھر میں روسی امیر ترین افراد کی بیرونِ ملک اثاثے ضبط کرنے کی بات ہوئی تو کیسے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور کچھ میڈیا مالکان کے چہرے اُتر گئے، اور پھر وزیراعظم عمران خان کے خلاف ایک مہم چلانے کی کوشش کی گئی۔‘
انھوں نے اپوزیشن جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف اور آصف زرداری کا شکریہ کہ وہ عدم اعتماد لے کر آئے کیونکہ ہماری جماعت خود بھی سستیوں میں پڑ گئی تھی۔‘
’انھوں نے ایک سوئے ہوئے شیر کو جگا دیا ہے اور آج تحریک انصاف کا کارکن جو گھروں میں بیٹھا ہوا تھا وہ اس طرح سے باہر نکلا ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ن لیگ، پیپلز پارٹی عمران خان کے مقابلے کا ایک جلسہ کر کے دکھا دیں‘
اس حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’میں ن لیگ، پیپلز پارٹی اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ عمران خان کے مقابلے کا ایک جلسہ ہی کر کے دکھا دیں، ایک عوامی ریفرنڈم کا پتا چل جائے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان اور پی ٹی آئی کبھی بلیک میل نہیں ہوئے اور ہم پوری قوت سے عمران خان کے پیچھے کھڑے ہیں اور اس وقت عمران خان کے پاس جو فارمولا ہے اس کے بعد اپوزیشن کو ہاتھ ملتے ہوئے بھی دیکھیں گے، انھیں سمجھ نہیں آئی گی کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس کی قانونی حکمتِ عملی بھی ہمارے پاس ہے اور تاش کے سارے پتے ہمارے پاس ہیں، ہم فیصلہ کریں گے کے اگلی چال کیا ہو گی۔ اگلی چال جو بھی ہو گی، آپ سے وعدہ ہے کہ ان تین جوکرز کا یہ آخری کھیل اس کے بعد یہ نظر نہیں آئیں گے۔‘










