پشاور میں دھماکہ: ’میرے ابو کسی پر غصہ بھی نہیں کرتے تھے، پھر کیسے ان لوگوں نے انھیں مار دیا‘

مسجد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’ابو کے جسم پر بظاہر کوئی زخم نظر نہیں آ رہے تھے، دھماکے کے بعد انھوں نے پوتے سے کہا میں ٹھیک ہوں، میں ٹھیک ہوں لیکن پھر اچانک نجانے کیا ہوا کہ وہ گر گئے۔ جب تک میں پہنچا مجھے ایسا لگا کے وہ بے ہوش ہیں میں انھیں ہسپتال لے گیا۔‘

یہ الفاظ ہیں پشاور کے معروف قصہ خوانی بازار کی گلی کوچہ رسالدار میں امام بارگاہ کے باہر کھڑے نگاہ حسین کے، جن کے والد مسجد میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

میں نگاہ حسین کی بات سن رہا تھا اور ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں لیکن مجال ہے کہ ایک بھی آنسو آنکھ سے نکل آئے، وہ مسلسل اپنے جذبات پر ضبط کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے رشتہ دار، دوست اور علاقے کے دیگر لوگ بھی موجود تھے۔

کوچہ رسالدار میں اہل تشیع کی جامع مسجد اور امام بارگاہ ساتھ ساتھ ہیں۔ نگاہ حسین کے والد الیاس حسین بینک میں گن مین تھے لیکن کچھ عرصہ پہلے ملازمت سے ریٹائرڈ ہو چکے تھے۔ نگاہ حسین نے بتایا کہ ان کے والد کی عمر 80 سال سے زیادہ تھی لیکن ان کی صحت بہت اچھی تھی وہ نماز کے لیے مسجد باقاعدگی سے جاتے تھے۔

26 سالہ نگاہ حسین جو کہ پیشے کے اعتبار سے درزی ہیں نے بتایا کہ ’جمعہ کی صبح بھی معمول کی طرح تھی میں والد سے مل کر اپنی دکان کے لیے روانہ ہو گیا اور وہ گھر میں رہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ انھیں دوپہر کے وقت دکان پر فون کال موصول ہوئی کہ مسجد میں دھماکہ ہوا ہے اور ابو بھی مسجد میں تھے۔

’میں دوکان سے بھاگا کوشش کی کہ جلد سے جلد پہنچ جاؤں، میرے ذہن میں یہ نہیں تھا کہ والد کو کچھ ہو گیا ہو گا، سب لوگ اپنے اپنے رشتہ داروں کو ڈھونڈ رہے تھے، حملے میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں کی میتوں کو مسجد کے باہر میدان میں رکھا جا رہا تھا۔ میں وہاں پہنچا تو دیکھا میرے ابو لیٹے ہوئے تھے یا شاید بے ہوش تھے یا شاید ان میں سانس نہیں تھی۔ میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔‘

پشاور

یہ صورتحال دیکھ کر نگاہ حسین نے اپنے والد کو اٹھایا اور رکشے میں انھیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ابو کے جسم پر بظاہر کوئی زخم نظر نہیں آ رہے تھے۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے پوری کوشش کی کہ ان کی سانس بحال ہو جائے۔ مصنوعی طریقے سے ان کی سانس بحال کرنے کے علاوہ سینے پر زور بھی دیا لیکن ابو کی سانس بحال نہیں ہوئی۔‘

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ’ڈاکٹروں کی جانب سے ان کی زندگی بچانے پر جواب دیا گیا تو جب انھیں سٹریچر سے منتقل کیا جا رہا تھا میری نظر ان کی کمر پر پڑی جہاں ایک چھرہ لگا تھا جس سے خون بہہ رہا تھا۔‘

نگاہ حسین نے کہا کہ ان کے بیٹے نے انھیں بتایا کہ دھماکے کے بعد ان کے والد خود اٹھے اور کہا وہ ٹھیک ہیں پھر بعد میں ان کی طبیعت خراب ہوئی۔ ’شاید دھماکے کی آواز ان سے برداشت نہیں ہوئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں ان کے ایک چچا بھی ہلاک ہوئے ہیں جو بینک سے ریٹائر ہوئے تھے اور ان کے والد کے کزن تھے۔

یہ صرف ایک نگاہ حسین کی بات نہیں تھی، پشاور کے کوچہ رسالدار کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے والے ہر نمازی کی اپنی ہی کہانی ہے۔ وہ لمحہ وہاں موجود نمازیوں اور ان کے تحفظ پر مامور رضاکاروں اور پولیس اہلکاروں پر کیسے گزرا بیشتر لوگ بیان کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے تھے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ’حملہ آور دراز قد اور جسامت میں دبلا پتلا تھا، اس کی ہلکی ہلکی داڑھی تھی اور اس نے کالے کپڑے پہنے تھے اور کالی چادر اوڑھ رکھی تھی۔‘

عینی شاہد کے مطابق وہ مسجد کے قریب تھے ’جب حملہ آور وہاں آیا تھا اور وہ کوشش کر رہا تھا کہ تیزی سے مسجد کے اندر داخل ہو۔‘

اس حملے میں دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ مسجد کا لوہے سے بنا داخلی دروازہ اکھڑ گیا، دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی اور لوہے کی کھڑکیاں بھی ٹوٹ گئیں، مسجد کے احاطے میں زمین پر ہر طرف شیشہ بکھرا پڑا تھا۔ پشاور کے اندرون علاقے میں اہل تشیع کی یہ واحد مسجد ہے جس سے ایک امام بارگاہ بھی متصل ہے۔ یہ مسجد تین منزلہ ہے اور مقامی افراد کے مطابق یہاں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے شہر بھر سے لوگ آتے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ’حملہ آور کوہاٹی گیٹ کے جانب سے کوچے رسالدار میں داخل ہوا۔ مسجد کے باہر لائبریری کے پاس موجود رضا کاروں اور پھر مسجد کے پہلے دروازے پر موجود پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی اور اس کے بعد حملہ آور مسجد تک جانے والی چھوٹی گلی میں داخل ہوا اور وہاں موجود رضا کاروں پر بھی فائرنگ کی۔‘

یاد رہے کہ پشاور مسجد حملے میں حملہ آور کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ایک اہلکارزخمی ہوا ہے۔

ایک بزرگ عینی شاہد نے بتایا کہ ’انھوں نے کوشش کی کہ حملہ آور کو روکیں لیکن حملہ آور میں اتنا زور تھا کہ وہ دھکا دیتا ہوا مسجد کے اندر داخل ہوا اور داخل ہوتے ہی خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جس وقت حملہ آور داخل ہوا اس وقت امام مسجد کھڑے تھے اور کچھ لوگ مسجد میں چندہ اکٹھا کر رہے تھے۔‘

اس علاقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد شاید ایک سے زیادہ تھی اور دو حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اس خودکش حملے میں ایک اور نوجوان کے والد بھی ہلاک ہوئے، جب اس کے والد کی لاش کو خاندان کے دیگر افراد لے کر جا رہے تھے تو وہ نوجوان سب سے یہی کہہ رہا تھا ’آپ کو تو معلوم ہے میرے ابو کسی پر غصہ بھی نہیں کرتے تھے، کسی کی مخالفت تو دور کی بات ہے، پھر کیسے ان لوگوں نے انھیں مار دیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

پشاور

’ایک بزرگ دوست کی اپنے دوست کی خیریت کے لیے پریشانی‘

وہاں سرفراز نامی ایک بزرگ شخص پریشان نظر آئے وہ ہر کسی سے پوچھ رہے تھے سردار زاہد کیسے ہیں۔ سرفراز کا تعلق اہل سنت سے ہے لیکن وہ دور سے اس مقام پر اس لیے آئے کہ اپنے دوست کے بارے میں معلوم کر سکیں۔

سرفراز اور سردار زاہد دونوں بچپن میں اسی محلے میں رہتے تھے اور بہت قریبی دوست ہیں۔ سردار زاہد کا اس علاقے میں کوہاٹی گیٹ کے قریب میڈیکل سٹور ہے اور اب بھی دونوں بچپن کی دوستی کو قائم کیے ہوئے ہیں۔

سرفراز کو کوئی کہتا کہ ’سردار زاہد کا علم نہیں ہے‘، کوئی کہتا ’وہ نہیں رہے ‘ تو کوئی کہتا ’وہ زخمی ہیں۔‘ وہ سارا دن محلے میں دوست کو ٹھونڈتے رہے اور شام کو انھیں معلوم ہوا کہ سردار زاہد زخمی ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔