پشاور میں کوچہ رسالدار کی مسجد میں دھماکہ: ’ایک رضا کار نے بتایا کہ یوں لگا جیسے حملہ آور جانتا تھا کہ کون کہاں ہے‘

پشاور

،تصویر کا ذریعہBilal Ahmed

    • مصنف, بلال احمد
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

شام کے سائے ڈھل رہے تھے اور میں قصہ خوانی بازار کی گلی کوچہ رسالدار میں کھڑا ہوں۔ 40 سے 50 کے قریب لوگ دھماکے کا نشانہ بننے والی شیعہ مسلک کی مرکزی مسجد کی صفائی کر رہے ہیں، نالیوں میں بہنے والا پانی خون سے لال ہے، مسجد کی دیوار میں چھروں سے سوراخ ہو گئے ہیں، سرخ قالینوں پر بکھرے قرآن کے صفحات اور ٹوٹے ہوئے شیشوں کی کرچیاں سمیٹی جا رہی ہیں اور انسانی خون کی بو اور لاشوں کے تعفن کو ختم کرنے کے لیے علاقے میں اگر بتیاں جلائی گئی ہیں۔

کچھ دیر بعد مسجد میں نمازِ مغرب کی ادائیگی کا اعلان بھی کر دیا گیا۔

یہ میرا آبائی علاقہ ہے، میں یہیں پلا بڑھا اور ہر دوسرے دن میرا یہاں آنا ہوتا ہے۔ دھماکہ میرے دادا کے گھر سے چند گز کے فاصلے پر ہوا۔ میں خود یہاں سے چند کلومیٹر دور جمعے کی نماز کی ادائیگی سے جیسے ہی فارغ ہوا تو مجھے قصہ خوانی میں دھماکے کی اطلاع ملی تو میرے ذہن میں اپنے بجپن کے دوستوں سے لے کر اب تک کے تمام جاننے والوں کے نام اور چہرے گھومنے لگے کہ خدا خیر کرے وہ سب تو ادھر ہی نماز پڑھتے ہیں۔

میں نے جس کا نمبر تھا اس کو کال کی لیکن کسی نمبر سے جواب موصول نہیں ہوا۔ ابھی دو دن پہلے ہی میں وہاں گیا تھا۔ آج میری دفتر سے چھٹی تھی تو میں نے فوراً ایک دوست سے کہا کہ مجھے بائیک پر وہاں لے جاؤ تاکہ میں سب کی خیریت جان سکوں۔

peshawar blast

،تصویر کا ذریعہBilal Ahmed

میں دھماکے کے پندرہ منٹ بعد وہیں موجود تھا۔ ایک افراتفری کا عالم تھا۔ عورتیں، بوڑھے نوجوان سبھی پریشانی کے عالم میں بھاگ دوڑ رہے تھے۔ مجھے مسجد کے گیٹ کے پاس ایک جاننے والا ملا، میں نے عجلت میں اس سے پوچھا کہ فلاں فلاں جاننے والا کہاں ہے، سب خیریت سے ہیں ناں لیکن اس کا جواب تھا کہ بلال ابھی تک کسی کا کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے۔

ایمبولینسز کی آوازیں تو سنائی دے رہی تھیں لیکن ان تنگ گلیوں میں ان کا آنا اتنا آسان نہیں تھا۔ ایک وقت میں ایک ایمبولینس ہی اندر جا کر واپس مڑ سکتی تھی۔ وہاں لوگ زخمیوں کو سٹریچرز پر یا ہاتھوں پر اٹھا کر ایک راستے سے کوہاٹی گیٹ تک لا رہے تھے۔ اور دوسرا راستہ قصہ خوانی بازار کا استعمال کیا جا رہا تھا اور یہ 50 یا 100 نہیں بلکہ 500 سے زیادہ قدموں کا راستہ ہے۔

1122 کے اہلکار موقع پر موجود تھے لیکن میں نے دیکھا کہ مقامی لوگ کسی غیر مقامی شخص کو اندر نہیں جانے دے رہے تھے۔ لوگوں میں شدید غم و غصہ دکھائی دے رہا تھا۔ پولیس اہکاروں کو مسجد کے اندر نہیں جانے دیا جا رہا تھا پھر کچھ دیر بعد فوجی اہلکار پہنچے جنھیں اندر تک جانے دیا گیا۔

وہاں اعلانات کیے جا رہے تھے کہ ’لوگ مسجد کی جانب نہ آئیں، ہسپتالوں میں جائیں زخمیوں کو خون کے عطیات کی ضرورت ہے۔‘

اب سامنے ہی بنی امام بارگاہ میں اور اطراف کی امام بارگاہوں میں ہلاک ہونے والوں کا جسد خاکی لایا جا رہا ہے۔ دھماکے کی اطلاع ملنے کے بعد خوف کے عالم میں گھروں سے دوڑ کر جائے وقوعہ پہنچنے والی خواتین کو کہا گیا کہ وہ مسجد کی سامنے والی امام بارگاہ میں رہیں کیونکہ باہر شدید بھیڑ تھی۔

peshawar blast

،تصویر کا ذریعہBilal Ahmed

اس مسجد کے باہر ہم نے ہمیشہ سکیورٹی گیٹ لگا دیکھا ہے اور پولیس کے علاوہ رضاکاروں کو ڈیوٹی پر مامور دیکھا جہاں سے گزرنے والوں کو ہمیشہ چیک کیا جاتا تھا لیکن آج وہاں کا منظر بدل چکا ہے۔

ہم سال میں تین چار بار تو سنتے تھے کہ جمعے کو اس مسجد میں دھماکے کا الرٹ ہے۔ اور جن دنوں صوبے میں حالات خراب تھے تو کئی سنی اور شیعہ مسلک کی مساجد کو نشانہ بنایا گیا لیکن یہ مرکزی مسجد جہاں جمعے کی نماز کے لیے پشاور بھر کی شیعہ برادری اکھٹی ہوتی ہے، اب تک حملہ آوروں سے محفوظ تھی۔

آئی جی پولیس نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ پولیس اہلکار موقع پر موجود تھے اور پہلی گولی پولیس اہلکار نے اپنے سینے پر کھائی۔

مسجد کے باہر لگے تختی پر لکھا ہے کہ اس کی تعمیر نو کے بعد اس کا افتتاح سنہ 1995 میں کیا گیا تھا۔ تین منزلہ عمارت میں جمعے کے وقت سینکڑوں نمازی موجود تھے۔ اس تحریر کو لکھنے تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 56 تک پہنچ چکی ہے اور 194 زخمی ہیں۔ حکام کی جانب سے پہلے بتایا گیا تھا کہ دس زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

اس علاقے میں زیادہ تر شیعہ مسلک کے لوگ آباد ہیں۔

میں یہاں پہنچنے کے کچھ دیر بعد چند گز کے فاصلے پر اپنے چچا کے گھر میں داخل ہوا تو اندر موجود خواتین رو رہی تھیں۔ مسجد میں دھماکے کی آواز نے سب کو خوفزدہ کر دیا تھا۔ باہر اہلِ محلہ کا بھی یہی حال تھا۔

میرے ساتھ بی بی سی کے نامہ نگار عزیز خان بھی یہاں پہنچ چکے تھے اور اب میں ان کے ساتھ ویڈیو بنانے میں مدد کر رہا تھا۔ ان سے گفتگو کرنے والا ایک رضا کار بتا رہا تھا کہ ’یوں لگا جیسے حملہ آور جانتا تھا کہ کون کہاں ہے‘۔

وہ کہنے لگے کہ اس نے پہلے باہر موجود رضا کاروں پر حملہ کیا اور پھر آگے موجود پولیس اہلکار کو گولی ماری اور مسجد کے ہال میں گھس کر دھماکہ کیا۔ وہ کہنے لگے کہ ’جو منظر ہم نے دیکھا، ہم وہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔‘

peshawar blast

،تصویر کا ذریعہBilal Ahmed

وہاں لوگ شکوہ کر رہے تھے کہ موقع پر موجود پولیس اہلکار اگر حملہ آور کے خلاف بروقت کچھ کرتے تو وہ شاید مسجد کے اندر داخل نہ ہو پاتا۔

میں نے اسی قصہ خوانی بازار اور پشاور بھر میں گزرے برسوں میں ہونے والے متعدد دھماکوں کی کوریج کی جس کی تکلیف دہ یادیں اب بھی میرے ذہن میں ہیں۔ چند برسوں تک مساجد میں ہونے والے حملے تھم گئے تھے لیکن آج کے حملے نے مجھ سمیت اس شہر کے ہر باسی کو پھر سے خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔