پاکستان میں آلو کی ’شاندار فصل‘ نے پالیسی سازوں اور کسانوں کی نیندیں کیوں حرام کر رکھی ہیں؟

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’میں نے 25 ایکڑ پر آلو لگایا تھا جن میں سے دس ایکڑ پر لگے آلو کو مارکیٹ میں فروخت کر چکا ہوں۔ اس وقت میں 23-24 روپے فی کلو کے بھاؤ آلو فروخت کر رہا ہوں جس سے ہمارے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے۔۔۔ لگتا ہے اس مرتبہ بہت زیادہ نقصان ہونے جا رہا ہے۔‘

پنجاب کے ضلع خانیوال کے علاقے میاں چنوں کے زمیندار چوہدری فضل الہٰی کا کہنا ہے کہ ’یوریا، بجلی اور دیگر قیمتیں دیکھیں اور آلو کی قیمت دیکھیں۔ ایسے میں کسان کیا کاشت کرے گا۔ وہ کمائے گا کہاں سے اور کھائے گا کہاں سے؟‘

چوہدری فضل الہی اکیلے نہیں، ساہیوال کے غلام مصطفی تاہو کو بھی یہی شکایت ہے۔ وہ کہتے ہیں ’میں اس وقت تقریباً بارہ سو سے پندرہ سو میں آلو کی بوری فروخت کر رہا ہوں۔ یعنی کسان دس سے پندرہ روپے فی کلو میں آلو فروخت کر رہا ہے۔‘

صورتحال یہ ہے کہ گذشتہ سال آلو کے لیے استعمال کی جانے والی صرف بوری ہی 100-125 روپے تک میں دستیاب تھی جبکہ اس سال اسی بوری کی قیمت 200 روپے سے اوپر جا چکی ہے۔

اس وقت پنجاب بھر میں آلو کی فصل تیار ہو چکی ہے اور کسان آلو کو فروخت کر رہے ہیں۔ مگر پنجاب کے اکثر کسانوں کو شکوہ ہے کہ انھیں آلو کے مناسب نرخ نہیں مل رہے جس سے انھیں شدید نقصان کا سامنا ہے۔ کچھ اضلاع میں آلو کی قیمت دس روپے فی کلو تک ہے۔

کسانوں کے مطابق کسان اس وقت تک نقصان میں رہے گا جب تک اس سے آلو 30 سے لے کر 35 روپے فی کلو تک نہیں خریدا جائے گا۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں خوراک کے طور پر سب سے زیادہ آلو ہی استعمال ہوتا ہے اور مارکیٹوں میں ہر وقت ڈیمانڈ موجود رہتی ہے۔

حکومت کے مطابق قیمتیں کم ہونے کی وجہ بمپر یا بہت ہی شاندار فصل ہے۔

پنجاب حکومت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس سال آلو کی متوقع فصل کا تخمینہ 8.5 ملین ٹن لگایا گیا ہے جبکہ گذشتہ سال یہ فصل 5.6 ملین ٹن تھی۔

پنجاب حکومت کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ دس برسوں میں یہ سب سے زیادہ پیدوار کا ریکارڈ ہے جبکہ کسانوں کی رائے میں ایسا نہیں ہے۔

’بمپر فصل نہیں بلکہ ایکسپورٹ میں ناکامی ہے‘

میاں عمیر مسعود کسان اتحاد پاکستان کے صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا جواز کہ آلو کی بمپر فصل ہوئی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں اس کی قیمتیں کم ہیں، درست اعداد وشمار نہیں ہیں۔ آلو کی کوئی بمپر فصل نہیں ہوئی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’عام حالات میں کسان کو ایک ایکڑ سے سو بوری آلو حاصل ہوتا ہے۔ اس سال ایکڑ سے ہمیں پچاس سے ساٹھ بوری حاصل ہوئی ہے یعنی آلو کی فصل پہلے کے مقابلے میں چالیس سے پچاس بوری کم ہے اور اس کی مختلف وجوہات ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ’اس صورتحال میں کہاں سے آلو کی بمپر فصل ہو گئی ہے۔‘

چئیرمین پوٹیٹو ریسرچ بورڈ پنجاب چوہدری مقصود احمد جٹ، میاں عمیر مسعود کے دعوے سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں تو لگتا ہے کہ یہ تو بمپر کی بھی بمپر فصل ہے۔‘

میاں عمیر مسعود کے مطابق ’حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کئی سالوں سے ضرورت سے زیادہ آلو پیدا ہو رہا ہے اور ضرورت سے زائد آلو کو ایکسپورٹ کر دیا جاتا ہے۔ آلو کی فصل تیار ہوتے ہی ایکسپورٹرز مارکیٹ میں فعال ہو جاتے ہیں۔ جس سے آلو کی قیمت بنتی ہے اور کسان کو فائدہ ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے لیے حکومت پہلے سے تیاری رکھتی ہے، ایکسپوٹرز کو سہولتیں فراہم کرتی ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ کو بھی دیکھتی ہے۔ لگتا ہے کہ اس سال کوئی تیاری نہیں کی گئی، اور اب جب کسان تباہ حال ہو رہا ہے تو کہا جا رہا ہے کہ بمپر فصل ہوئی ہے۔‘

میاں عمیر مسعود کا کہنا ہے کہ گذشتہ برسوں میں بڑی تعداد میں آلو افغانستان بھیجا جاتا رہا ہے مگر اس سال یہ تعداد بہت کم ہو چکی ہے جس کا بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم چئیرمین پوٹیٹو ریسرچ بورڈ پنجاب چوہدری مقصود احمد جٹ اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’آلو افغانستان جارہا ہے مگر ایران بہت کم جا رہا ہے۔‘

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپوٹرز، امپوٹرز اینڈ مرچنٹ ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے مطابق اس سال ابھی تک آلو کی ایکسپورٹ کے لیے بڑی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے جس کی وجہ ملکی و بین الاقوامی حالات ہیں۔

’مناسب اعدادوشمار دستیاب نہیں‘

پی ایف وی اے کے سرپرست وحید احمد کہتے ہیں کہ ’ہمیں تو آلو کی فصل تیار ہونے کے بعد پتا چلا کہ آلو کی بمپر فصل ہوئی ہے۔ اگر یہ بات ہمیں پہلے پتا چل جاتی تو ممکنہ طور پر ہم حکومت کے ساتھ مل کر آلو کی ایکسپورٹ کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کرتے جس طرح ہم نے سال 2017-18 میں کی تھی۔

’سال 2017-18 میں ہمیں وقت سے پہلے بتایا گیا کہ آلو کی فصل شاندار ہو رہی ہے اور مارکیٹ سے آلو سستا ملے گا۔ لہذا ہم نے مقامی مارکیٹ سے سستا آلو خرید کر بین الاقوامی مارکیٹ میں 5.8 ٹن آلو فروخت کیا تھا۔ اس طرح کسان کو بھی بمپر فصل کا فائدہ ہوا تھا۔ ‘

ایکسپورٹ میں درپیش مشکلات کے حوالے سے وحید احمد کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس مناسب مارکیٹ انٹیلیجنس یعنی مقامی پیدوار کی صورتحال واضح نہیں ہوتی جس بنا پر اکثر اوقات ہمارے لیے ایکسپورٹ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایکسپورٹ کے لیے سب سے سے ضروری چیز تحقیق اور مناسب اعدادوشمار کی دستیابی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا ہمارے انتظار میں نہیں بیٹھی کہ ہم بمپر فصل لائیں گے تو وہ ہم سے خریدیں گے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سودے پہلے ہی طے ہو جاتے ہیں۔

’اگر ہمیں پتا ہوتا اور ساتھ یہ یقین ہوتا کہ فصل بمپر ہو رہی ہے تو ہم بھی بین الاقوامی مارکیٹ سے اچھا حصہ وصول کرتے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ تحقیق اور مارکیٹ انٹیلیجنس کو بہتر کر کے ہمیں مناسب اطلاعات فراہم کرے۔‘

یہ بھی پڑھیے

وحید احمد دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے وزیر اعظم پاکستان سے ہونے والی ملاقات میں انھیں بتایا تھا کہ ’پاکستان میں موجود فصلوں کے ٹھیک اعدادوشمار اور مناسب مارکیٹ انٹیلیجنس دستیاب نہیں ہوتی جس وجہ سے ایکسپورٹ میں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ اگر یہ دونوں چیزیں درست ہوجائیں تو ایکسپورٹ بڑھ سکتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا بھی نہیں ہے کہ آلو ایکسپورٹ نہیں ہو رہا۔ اس وقت ایکسپورٹ ہو رہا ہے مگر اس میں ہمیں مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں کنٹینرز کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور ہمیں بھی کنٹینرز دستیاب نہیں ہیں۔ اب اگر ہمیں آرڈر ملے بھی تو ایکسپورٹ کرنا شاید اتنا آسان نہیں ہو گا۔‘

وحید احمد کہتے ہیں کہ اس وقت زیادہ تر کینو کی ایکسپورٹ چل رہی ہے ’ہم توقع کر رہے ہیں کہ مارچ میں جب کینو کی ایکسپورٹ کم ہو گی تو شاید اس وقت ہمیں زیادہ تعداد میں کنٹینرز دستیاب ہو سکیں اور ہم آلو کو ایکسپورٹ کرسکیں گے۔‘

اسی طرح بحری اور زمینی کرایوں میں اضافہ بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ گذشتہ برسوں کے مقابلے میں اس سال کرائے دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں۔

چوہدری مقصود احمد جٹ بھی اس بات سے متفق ہیں کہ ’اس سال آلو کو ایکسپورٹ کرنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہو سکا جس وجہ سے اس وقت آلو اس مقدار میں ایکسپورٹ نہیں ہو رہا جس طرح ہونا چاہیے تھا مگر کوششیں کی جارہی ہیں۔‘

نئی مارکیٹ کی تلاش لازمی ہے

چوہدری مقصود احمد جٹ کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان سے آلو مختلف ممالک میں ایکسپورٹ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق گذشتہ سال بارہ کروڑ ڈالر مالیت کا ساڑھے چار لاکھ ٹن آلو ایکسپورٹ ہوا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت ایران میں بہت کم آلو جارہا ہے جو ایک بڑا خریدار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت چین آلو پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے مگر چین کو بھی اس سیزن میں آلو چاہیے ہوتا ہے ’ہمیں چاہیے کہ چین کے ساتھ بات کر کے انھیں آلو کی ایکسپورٹ شروع کروا دیں۔ اس طرح کچھ دیگر ممالک بھی ہیں جہاں پر ہمارا آلو فروخت ہو سکتا ہے۔

’لیکن اگر ہم صرف چین میں ہی ایکسپورٹ شروع کروا دیں تو آلو کے حوالے سے ہمارے کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔‘

تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے وزیر اعظم پاکستان کے مشیر عبدالرزاق داود کا بھی دعویٰ ہے کہ ملک میں آلو کی فصل بمپر ہوئی ہے اور ان کے مطابق بدقسمتی سے اس وقت کووڈ اور مختلف پابندیوں کی وجہ سے ایکسپورٹ کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت اس وقت ایکسپورٹرز کو مدد فراہم کر رہی ہے اور انھیں مختلف وسائل مہیا کریں گے جس سے یہ صورتحال بہتر ہو جائے گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت ایسا سسٹم بنا رہی ہے جس کی بدولت ہم تیار ہوں گے کہ کس کو ایکسپورٹ کرنا ہے اور کس کو ایکسپورٹ نہیں کرنا۔ یہ سسٹم جلد کام شروع کر دے گا جس سے مسائل حل ہو جائیں گے۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں ممکنہ طور پر مارچ اپریل میں صورتحال بہت بہتر ہو جائے ئی جس کے بعد ملکی مارکیٹ میں بھی آلو کی قیمتیں بہتر ہوں گی اور کسانوں کو بھی فائدہ ہوگا۔