ایک آلو نے دنیا میں کیسا انقلاب برپا کر دیا؟

    • مصنف, ڈائیگو آرگویڈاس اورٹِز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

سنہ 1957 میں فرانسیسی فلسفی اور ادبی نقاد رولانڈ بارتھس نے اپنے مضامین کا مجموعہ میتھالوجیز یعنی (دیو مالا) کے عنوان سے شائع کیا، جس میں انھوں نے لکھا کہ چِپس کی فصل امریکی برِ اعظم سے آتی ہے اور'حب الوطنی' اور 'فرانسیت' کا اساسی نشان' ہے۔

محض ایک صدی قبل آلو کو لگنے والی ایک بیماری کے سبب آئرلینڈ میں ایسا قحط پڑا تھا، جس سے چند برس کے اندر اس کی آبادی نصف رہ گئی تھی۔

کئی عشروں پر محیط اس فاقہ کشی کے اثرات نے وہاں کی سماجی اور معاشی زندگی میں افراتفری مچا دی تھی۔ آج دنیا بھر میں آلو پیدا کرنے والے بڑے ممالک بالترتیب چین، انڈیا، روس اور یوکرین ہیں۔

مگر ان ملکوں کی آلو سے دلی اور گہری وابستگی کے باوجود ان میں سے کوئی یہ دعوٰی نہیں کر سکتا کہ آلو کی فصل کا آغاز اس ملک میں ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اس سادہ سے آلو کا اصل وطن جنوبی امریکا کا خطہ اینڈیز ہے جہاں اسے آٹھ ہزار برس سے بھی پہلے گھریلو استعمال میں لایا گیا تھا۔

عرصے دراز کے بعد یہ پندرہویں صدی کے وسط میں یورپ پہنچا جہاں سے مغرب اور شمال میں سفر کرتا ہوا واپس بر اعظم امریکا اور اُس سے پرے پہنچا۔

آلو کے عالمی سفر کی داستان کو ربیکا ارل نے اپنی زیر اشاعت کتاب 'فیڈِنگ دا پیپل: دا پالیٹِکس آف دا پٹیٹو' (لوگوں کو کھلانا: آلو کی سیاست) میں موضوع بنایا ہے، جس میں وہ کہتی ہیں کہ 'اینڈیز میں اس کے جنم کے باوجود یہ ایک بے تحاشا کامیاب عالمی غذا ہے۔'

وہ لکھتی ہیں کہ 'یہ دنیا کے ہر حصے میں پیدا ہوتا ہے اور بلا مبالغہ ہر جگہ لوگ اسے 'اپنی خوراک' سمجھتے ہیں۔

اینڈیز سے باہر باقی دنیا کے لیے آلو مقامی نہیں ہوگا مگر محسوس مقامی ہوتا ہے۔

ارل اسے سب سے کامیاب تارکِ وطن کہتی ہیں کیونکہ اس کا اصل کاشتکاروں اور کھانے والوں کے لیے یکساں طور پر اجنبی بن چکا ہے۔

اب اس پر امریکی اور اطالوی کسانوں کا دعوٰی اتنا ہی قوی ہے جتنا کہ پیرُو کے کسی باشندے کا کیونکہ اب یہ نسل در نسل سفر کرتا ہوا ہر جگہ رہنے والے انسان کی خوراک کا حصہ بن چکا ہے۔

آلو، چاول، گندم اور مکئی کے بعد دنیا کی چوتھی اور غیر اناج میں پہلی اہم زرعی جنس ہے۔

اینڈیز کی اس فصل نے دنیا کو محض چند صدیوں کے اندر اسے مکمل طور پر اپنا لینے پر کسیے قائل کیا؟ آلو کی اس غیر معمولی جاذبیت کا سبب اس کی بے پناہ غذائیت، دیگر زرعی اجناس کے مقابلے میں پیداواری سہولت، زیر زمین اگنے کی وجہ سے جنگوں اور لگان وصول کرنے والوں سے پوشیدہ رہنے کی صلاحیت اور کھیتوں میں کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کے ساتھ دوستی جیسی خصوصیات ہیں۔

آلو کی ابتدا کو سمجھنے کے لیے بہترین جگہ انٹرنیشنل پٹیٹو سینٹر (سی آئی پی) ہے جہاں آلو کے ہر پہلو پر تحقیق کی جاتی ہے۔

یہ مرکز پیرُو کے دارالحکومت لِیما کے مضافات میں قائم ہے، جہاں آلو کے ہزاروں نمونے جمع کیے گئے ہیں۔ سی آئی پی میں جین بینک کے سینیئر کیوریٹر رینی گومیز کہتے ہیں کہ 'اینڈیز میں سب سے بڑا جینیاتی تنوع پایا جاتا ہے، مگر یہاں آپ کو چِلی سے لے کر امریکا تک پائی جانے والی اقسام بھی ملیں گی۔'

ان کا کہنا ہے کہ آلو کو پہلی بار لیما سے جنوب مشرق میں ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع انڈیز میں لیک ٹِیٹِیکاکا کے قریب گھریلوں استعمال میں لایا گیا تھا۔

اس کے بعد یہ یہاں مقبول ہوتا چلا گیا اور مقامی لوگوں کی روز مرہ خوراک کا اہم جزو بن گیا۔ ان کے دور میں اسے خشک کرکے ایک خاص قسم کی غذا تیار کی جاتی تھی، جو کئی برس بلکہ دہائیوں تک محفوظ رہتی تھی۔

برِ اعظم امریکا سے باہر

سنہ 1253 میں ہسپانوی یلغار کے بعد اِن کا حکمرانوں کی حکومت ختم ہوگئی مگر آلو کی کاشت جاری رہی۔

حملہ آور دیگر اجناس، مثلاً ٹماٹر، ایووکاڈو اور مکئی کی طرح آلو کو بھی بحرِ اقیانوس کے پار لے آئے۔ مورخین اسے گریٹ کولمبین ایکسچینج یا عظیم کولمبیائی تبادلہ قرار دیتے ہیں۔ یہ پہلی بار تھا جب آلو نے برِ اعظم امریکا سے باہر سفر کیا تھا۔

اینڈیز لے جائی جانے والی ان انواع کو سپین اور یورپ کے دوسرے حصوں سے ہم آہنگ ہونے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ارتقائی جینیات کے ماہر ہرمین اے بربینو راؤ کہتے ہیں کہ خطِ استوا کے علاقے میں جہاں آلو کو گھریلو بنایا گیا تھا، دن کی لبمائی مسقتل ہوتی ہے یعنی اسے بارہ گھنٹے مسلسل دھوپ میسر آتی تھی۔

یورپی موسم گرما کے طویل دنوں نے آلو کو تذبذب میں ڈال دیا، اس لیے مساعد حالات کے باوجود ان دنوں میں اس کی بڑھوتری نہ ہو سکی۔

اس کے بجائے یہ خزاں میں موسم سرما شروع ہونے سے پہلے خوب پھلا پھولا۔ یہی سبب ہے کہ یورپ میں آنے کے پہلے چند عشروں میں اس کی فصل کامیاب نہیں ہوئی۔

پھر آئرلینڈ میں آلو کو زیادہ سازگار موسم میسر آگیا، جہاں ٹھنڈے مگر کُہر سے خالی خزاں نے اسے پکنے کا موقع دیا۔

یہاں آلو کی فصل 1580 کی دہائی میں سپین سے لائی گئی۔ کاشتکاروں کو مقامی موسمی حالات سے ہم آہنگ آلو کی قسم، جو موسم گرما کے آغاز پر بوئی جا سکے، تیار کرنے میں ایک صدی لگ گئی۔

مگر بالآخر آلو ایسی قسم تیار ہو گئی جو آنے والے وقتوں میں کسانوں کے لیے ایک اہم فصل بنی۔

معمولی سا آلو

کسانوں کے لیے آلو گرانقدر ثابت ہوا کیونکہ اس طرح انھیں فی ہیکٹر زیادہ تغذیہ حاصل ہونے لگا۔

خاص طور سے آئرلینڈ میں، جہاں مزارعے زمینیں پٹے پر حاصل کرتے تھے۔ زمینداروں نے اپنی فیس بڑھا دی تھی، جس کی وجہ سے کسان تھوڑی زمین سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے پر مجبور تھے۔

ماہر عمرانیات جیمز لینگ اپنی کتاب 'نوٹس آف اے پٹیٹو واچر' میں لکھتے ہیں 'کوئی بھی فصل آلو سے زیادہ فی ایکڑ پیداوار نہیں دے سکتی تھی، پھر اسے کاشت اور ذخیرہ کرنا بھی آسان تھا۔

آلو میں وٹامن اے اور ڈی کے سوا تمام غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ زندگی کے لیے ضروری خواص کی وجہ سے کوئی دوسری جنس آلو کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔ آلو کے چھلکوں کو اگر دودھ یا اس سے بنی مصنوعات میں ملا کر کھایا جائے تو وٹامن اے اور ڈی بھی حاصل ہو جاتے ہیں، یوں آپ کو غذائیت سے بھرپور بنیادی خوراک میسر آ سکتی ہے۔

پھر ہر 100 گرام آلو میں آپ کو 2 گرام پروٹین بھی مل جاتی ہے۔ آئرلینڈ میں سنہ 1600 کے اوائل میں لگائے گئے بعض تخمینوں کے مطابق اگر دن میں ساڑھے پانچ کلو آلو کھا لیا جائے تو یہ تمام غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی تھا۔

لینگ لکھتے ہیں کہ آلو آئرلینڈ سے برطانیہ اور پھر شمالی یورپ پہنچا۔ سنہ 1650 میں یہ جرمنی، پروشیا، 1740 میں پولینڈ اور 1840 میں روس میں پایا جانے لگا۔

وہ لکھتے ہیں کہ جنگ کے دنوں میں سپاہی اور ٹیکس جمع کرنے والے دیگر اجناس کی فصل دیکھ کر کسانوں سے اپنا حصہ وصول کرتے تھے یا پھر ان کے ذخیرے کو لوٹ لیتے تھے۔

مگر شاذ ہی ان کی نظر مٹی تلے دبی آلو کی فصل پر پڑتی تھی اور کسان حسبِ ضرورت آلو نکال کر پیٹ کی آگ بجھا لیتے تھے۔

آلو کی یہ خاصیت امرا اور فوجی حکمت عملی تیار کرنے والوں کی نظر میں بھی آگئی۔

پروشیا کے بادشاہ فریڈرِک دی گریٹ نے تو آلو کی کاشت کے بارے میں فرمان جاری کیا تاکہ دشمن فوج کی یلغار کی صورت میں لوگوں کو خوراک مسیر رہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر کی ایک رپورٹ کے مطابق دوسرے ملکوں نے بھی اس کی پیروی کی اور سنہ 1800 کے اوائل میں نیپولین جنگوں کے دوران یورپ میں آلو خوراک کو ذخیرہ کرنے کا ذریعہ بن گیا۔

مورخ ویلیم میکنیل نے سنہ 1999 میں شائع ہونے والے ایک مضمون 'ہاؤ دا پٹیٹو چینجڈ دا ورلڈز ہسٹری' یعنی آلو نے دنیا کی تاریخ کو کیسے بدل ڈالا میں لکھا ہے کہ زمانۂ جنگ میں آلو ایک قیمتی فصل گردانا جانے لگا۔

ان کے بقول 'سنہ 1560 کے بعد یورپ میں شروع ہونے والی ہر عسکری مہم نے آلو کے زیرکاشت رقبے میں اضافہ کیا اور یہ سلسلہ جنگ عظیم دوئم تک جاری رہا۔'

غذائیت اور طاقت

محض چند صدیوں کے دوران ہی آلو یورپ اور عالمی معیشت میں اہم فصل کی حیثیت اختیار کر گیا۔ کئی عشروں تک خوراک کے مورخین آلو کی مقبولیت اور اس کے پھیلاؤ کے بارے یہ وضاحت کرتے رہے ہیں کہ اس کا سبب وہ دور اندیش لوگ تھے جو آلو کے بطور غذا خواص کو جان چکے تھے۔

مگر ارل اس خیال سے متفق نہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ یورپ میں آلو کو مقبول بنانے کا سہرا کسانوں کو جاتا ہے۔ امرا نے اسے دریافت نہیں کیا، البتہ انھیں اس کے غذائی خواص کا خوب علم تھا۔

وہ جانتے تھے کہ کسی ریاست کی بقا کے لیے وہاں کے عوام کا صحت مند ہونا کتنا ضروری ہے۔ اس طرح انھوں نے آلو اور طاقت کے درمیان تعلق کو سمجھ لیا۔

ارل سنہ 2018 کے اپنے مقالے، اٹھارہویں صدی کے یورپ میں آلو کی ترویج میں لکھتی ہیں کہ صحت بخش خوراک کی فراوانی یورپ میں ملک گیری اور شہنشاہیت کے لیے بنیادی اہمیت حاصل کر چکی تھی۔

اس لیے آلو میں امرا کی دلچسپی کا باعث اس کا نئی فصل ہونا نہیں بلکہ یورپی حکمرانوں کا اچھی خوراک اور ریاست کے درمیان براہ راست تعلق کو سمجھنا تھا۔

اور اس معاملے میں آلو کا کوئی نعم البدل نہیں تھا۔

ایڈم سمِتھ 'دا ویلتھ آف نیشنز' میں لکھتے ہیں 'آلو کے ایک کھیت سے حاصل ہونے والی خوراک، گندم کے کھیت سے ملنے والی خوراک سے زیادہ افضل ہے۔ کوئی بھی دوسری زرعی جنس غذائیت میں آلو کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور نہ ہی انسانی جسم کے لیے زیادہ موزوں ہو سکتی ہے۔'

وہ اپنے اس تجزیے میں حق بجانب ہیں۔ مگر یورپ میں آلو کو امرا نے نہیں بلکہ کاشکاروں نے فروغ دیا ہے۔ارل کہتی ہیں کہ یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ سمِتھ اور ان کے ہم عصروں نے غذائیت کا موازنہ کیسے کیا؟

اٹھارہویں صدی میں تو سائنسدان خوراک میں وٹامن، پروٹین اور نمکیات کی مقدار پر متفق نہیں ہوئے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'اس وقت تو وہ بس یہ کہتے تھے کہ آلو کھانے والوں کو دیکھو۔ یہ دوسری اجناس کھانے والوں کے مقابلے میں زیادہ تنومند، گھٹے ہوئے جسم کے مالک اور چاک و چو بند نظر آتے ہیں۔

جریدے 'کوارٹرلی جرنل آف اکنامِکس' کے مطابق آلو کھانے والوں کے قد میں ڈیڑھ انچ تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایک معاشی مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سنہ 1700 کے بعد پیدا ہونے والے فرانسیسی فوجی جو آلو کھاتے تھے دوسروں کے مقابلے میں دراز قد تھے۔

اسی دستاویز میں یہ دعوٰی بھی کیا گیا ہے کہ آلو کے پھیلاؤ کے بعد یورپ اور ایشیا کی آبادی میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔

محققین کے مطابق سنہ 1700 سے 1900 کے درمیان دنیا اور شہروں کی آبادی میں ایک چوتھائی اضافے کا سبب آلو تھا۔

میکنیل لکھتے ہیں 'بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضرورت کو آلو نے بطریق احسن پورا کیا اور یوں سنہ 1750 سے 1950 کے درمیان یورپی اقوام کو دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے قابل بنایا۔'

اینڈیز کی جانب واپسی

آلو کی بے دریغ کاشت اس وقت تک جاری رہی جب تک سنہ 1845 سے 1849 کے دروان ایک بیماری نے ایک عظیم قحط کو آئرلینڈ پر مسلط نہیں کر دیا۔

ایک جانب آلو کی فصل تباہ ہوئی تو دوسری جانب برطانوی حکومت کی بے عملی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا (حکومت نے کسی امدادی کارروائی کی بجائے حالات کو منڈی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا)۔

اس سے آئرلینڈ میں کم سے کم دس لاکھ افراد ہلاک ہوگئے، دس لاکھ امریکا اور بیس لاکھ سے زیادہ دوسرے ملکوں کو ہجرت کر گئے۔ اس طرح چند سالوں کے اندر ملک کی آبادی نصف رہ گئی۔

اس قحط کی وجہ سے لوگوں کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول ہوئی کہ ملک میں غذائی توانائی کا 80 فی صد آلو سے حاصل کیا جاتا تھا اور دوسری فصلوں کی پیداوار انتہائی قلیل تھی۔

ایک ہی جنس پر اس قدر انحصار نے آلو میں بیماریوں کا خطرہ بڑھا دیا تھا کیونکہ گھریلو بنانے کی وجہ سے آلو کا جینیاتی تنوع ختم ہو چکا تھا۔

اگرچہ اٹھارہویں صدی میں اینڈیز اور چِلی سے لائی گئی آلو کی مختلف اقسام کے اختلاط پر کچھ کام ہوا تھا لیکن محدود پیمانے پر۔

کسانوں کی غذائی سلامتی کے لیے مختلف منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ بربینو لکھتے ہیں کہ 'ایک طریقہ تو یہ تھا کہ آلو پیدا کرنے والے فصل میں جنگلی آلوؤں کی مختلف اقسام بھی ملا دیتے تھے۔' آج کے آلو کے جدِ امجد کی 151 جنگلی اقسام اب بھی اینڈیز میں پائی جاتی ہیں۔

بیسویں صدی کے اوائل میں بھی سائنسدانوں نے گھریلو اور جنگلی آلوؤں کی مختلف انواع کو یکجا کیا تاکہ گھریلو آلو کے خواص کو برقرار رکھتے ہوئے انھیں بیماریوں کے مقابلے میں توانا رکھا جا سکے۔ آج کاشت ہونے والی آلو کی کئی اقسام ان ہی تجربات کا حاصل ہیں۔

آلو کی یہ جنگلی اقسام بدلتے ہوئے درجۂ حرارت اور آب و ہوا میں تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

ایک حالیہ مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2085 تک کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج سے آلو کی پیداوار میں 26 فی صد کمی آ سکتی ہے۔

جنگلی آلوؤں کی انواع کے جینیاتی ذخائر ہمیں ایسے خواص بہم پہنچا سکتے ہیں جو کُہر، خشک سالی اور درجۂ حرارت میں اضافے کے مقابل میں مزاحم ہوں۔

یورپ، امریکا اور حال ہی میں ایشیا کے زرعی ماہرین نے آلو کی ایسی ہی اقسام پر کام کیا۔ دنیا میں آلو اگانے والے بیس بڑے پیدا کنندگان میں سے امریکا، پرُو اور برازیل تو صدیوں سے آلو پر کام کر رہے ہیں مگر اب دوسرے ملکوں نے بھی اپنی اقسام تیار کر لی ہیں۔

چین میں حکومت آلو کو بڑی تیزی سے عوام کی بنیادی خوراک کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے لیے وہ وہی طریقے استعمال کر رہی ہے، جنھیں اٹھاہویں صدی میں یورپی حکمران بروئے کار لائے تھے یعنی ذرائع ابلاغ، مقبول شخصیات اور عام سائنسی کتب کے ذریعے لوگوں کو آلو کے فوائد کا قائل کرنا۔

انڈیا میں بھی آلو کا استعمال ہزار طرح سے کیا جاتا ہے اور اب انڈین کاشتکار کو یہ باور کرنا کہ آلو بدیسی فصل ہے بہت مشکل ہے۔

آلو کی اس عالمگیر ہمہ جہتی نے امکانات کو لامحدود بنا دیا ہے۔