پاکستان میں یوریا کا بحران: کھاد ضرورت کے مطابق بنی تو غائب کہاں ہو گئی؟

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور

پاکستان میں ان دنوں کسانوں کو یوریا کھاد حاصل کرنے میں دقت کا سامنا ہے۔ سب سے پہلے انھیں گندم کی فصل کی فکر ہے۔ حالیہ بارشوں کے بعد کسانوں کے پاس ایک سے دو ہفتے کا مزید وقت ہے جس میں وہ گندم کی فصل کو یوریا کھاد دے سکتے ہیں۔

کسانوں کے مطابق اگر انھیں اس وقت ضرورت کے مطابق سستی یوریا کھاد میسر ہو جاتی تو رواں برس پاکستان گندم میں خود کفیل ہو سکا تھا تاہم ایسا ہوا نہیں۔ اب گندم کی فصل پر خود کفالت کے حوالے سے سوالیہ نشان موجود ہے۔

ملک میں کسان کو یوریا کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے مخلتف مقامات پر کسان احتجاج بھی کر رہے ہیں اور جہاں حکومتی نرخوں پر یوریا دستیاب ہے اسے حاصل کرنے کے لیے کسانوں کو دن بھر لائنوں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

لیکن پاکستان میں یوریا بنانے والی صنعت کا کہنا ہے کہ انھوں نے تو یوریا ملکی ضرورت کے عین مطابق بنائی تھی یعنی پاکستان میں اس وقت چھ عشاریہ سات ملین ٹن یوریا بنانے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ ملک میں اس کی مانگ چھ ملین ٹن سے کچھ زیادہ بتائی گئی تھی۔

تو پاکستان میں صنعت ضرورت کے مطابق کھاد پیدا کر رہی ہے تو ملک میں یوریا کی سپلائی کم اور قیمت زیادہ کیسے ہو گئی؟

بحران کی یہ صورتحال شدت اختیار کر رہی ہے کیونکہ کسان کو گندم کے بعد گنے اور مکئی کی فصلوں کے لیے یوریا کی ضرورت ہو گی اور اس میں زیادہ وقت باقی نہیں رہا۔ کسانوں کو ڈر ہے کہ ربی کے بعد خریف کی فصلیں بھی یوریا کے بحران سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

یوریا کی سپلائی کی کمی کا بحران کیوں ہے؟

محمود نواز شاہ سندھ آبادگار بورڈ کے نائب صدر ہیں جو صوبہ سندھ میں کسانوں کے مفادات کے لیے کام کرتا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یوریا کے حالیہ بحران کے اثرات گندم کی فصل پر بھی ہوں گے لیکن کس حد تک ہوں گے یہ دیکھنے والی بات ہے۔

’لیکن ہمیں زیادہ ڈر یہ ہے کہ جن وجوہات کے بعد یہ بحران پیدا ہوا اگر ان کا سدباب نہیں کیا گیا تو یہ ایک رجحان بن جائے گا اور آنے والے برسوں میں بھی ہماری تمام بڑی فصلوں کو خطرہ ہو گا۔گر ایسا ہوا تو پاکستان کو خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق سسٹم میں سے ایک بڑی مقدار میں کھاد نکل کر اگر ذخیرہ کی گئی ہے تو یہ ذخیرہ اندوزوں کے لیے ایک بہت بڑے منافع کا سبب بنے گی۔

انھیں ڈر یہ ہے کہ یہ غیر قانونی منافع خوری ایک سسٹم کی شکل اختیار کر سکتی تھی جس کی وجہ سے آنے والے برسوں میں بھی کسانوں کو اس کا نقصان ہو گا۔

یہ بنیادی وجوہات کیا ہیں؟

پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں میں حالات زیادہ خراب تھے جہاں یوریا کسانوں کو نہیں مل رہی۔

ان کے خیال میں حالیہ بحران کی تین بڑی وجوہات ہیں جن سے حکومت کو قبل از وقت خبردار کیا گیا تھا تاہم ان پر بروقت دھیان نہیں دیا گیا۔

ایک تو ملک میں کارخانوں کو گزشتہ چند ماہ کے دوران گیس کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ کھاد کی پیداوار میں دو لاکھ ٹن کے فقدان کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرا عالمی منڈی میں یوریا کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئیں جس کی وجہ سے یوریا سمگل ہوئی۔

اس کے بعد یوریا کی کمی کی بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی ہے جس کو روکنا حکومت کی ذمہ داری تھی۔ ان کے تخمینے کے مطابق اس کی وجہ سے ملک میں چار لاکھ ٹن یوریا کی کمی کا سامنا ہے۔

’اب جو تھوڑی بہت یوریا کسانوں کو مل رہی ہے یہ وہی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر بن رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر استعمال ہو رہی ہے۔‘

سمگلنگ کہاں سے، کیسے ہوتی ہے؟

صوبہ بلوچستان میں بالائی علاقے کے کسانوں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا ہے جہاں صوبے میں زیادہ گندم کاشت ہوتی ہے۔ ملک کی مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ شاید اتنا زیادہ نہیں ہوتا لیکن بلوچستان اس لیے اہم مقام ہے کہ اس کے راستے گندم ملک سے باہر سمگل ہوتی ہے۔

حال ہی میں صوبائی حکومت نے بلوچستان میں ایران اور افغانستان کے ساتھ واقع سرحدی علاقوں کے دس کلومیڑ کے اندر کھاد کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس کے ساتھ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے دیگر تین صوبوں کی جانب سے بلوچستان کے داخلی راستوں پر چیک پوسٹس قائم کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ وہاں سے داخل ہونے والی مال بردار گاڑیوں کی چیکنگ کی جا سکے۔ یہ اقدامات کھاد کی مبینہ سمگلنگ کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلوچستان زمیندار ایکشن کمیٹی کے سیکرٹری جنرل حاجی عبدالرحمان بازی کا کہنا تھا کہ زیادہ تر سمگلنگ افغانستان کی طرف ہوتی ہے اور اس کو روکنے کی سنجیدہ حکومتی کوششیں سامنے نہیں آئیں۔

’اس مرتبہ بارشیں اچھی ہونے کی وجہ سے ہمیں امید تھی کہ گندم کی فصل بہت اچھی ہو گی مگر اس بحران کی وجہ سے ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آ رہا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’یہ کیسے ہو سکتا ہے اتنی بڑی سمگلنگ کا پتہ نہ چلے‘

سندھ آبادگار بورڈ کے نائب صدر محمود نواز شاہ کے مطابق ملک میں ضرورت سے زیادہ یوریا بنائی گئی لیکن اس کی سپلائی میں حالیہ کمی کی وجہ صوبائی اور وفاقی دونوں سطح پر حکومتی نگرانی کا فقدان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کھاد تیار کرنے والی کپمنیوں نے تو کھاد ڈیلرز کو فراہم کر دی جنھوں نے اسے آگے کسان تک پہنچانا تھا لیکن اگر وہ کسان تک نہیں پہنچی تو اس کا مطلب ہے وہ ڈیلرز کی سطح پر غائب ہوئی اور ڈیلرز کو کنٹرول کرنا صنعت کی ذمہ داری نہیں تھی۔

’یہ بھی ایک بہانہ ہی ہے کہ یوریا افغانستان سمگل ہو گئی۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں کھاد سمگل ہو اور حکومت کو اس کا پتہ نہ چلے اور وہ اسے روک نہ سکے۔‘

محمود نواز شاہ کے مطابق یہ حکومت کا کام تھا کہ وہ اس بات کی نگرانی کرے کہ اگر صنعت کی طرف سے کھاد ڈیلر کو پہنچائی گئی تو وہاں سے وہ کدھر گئی۔

ذخیرہ اندوزی کیسے ہوئی؟

صوبہ پنجاب کے محکمہ زراعت کے ایکسٹینشن کے شعبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیر محمد شیراوت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیلرز کی سطح پر جو کھاد غائب ہوتی ہے اس میں کھاد بنانے والی کمپنیوں کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔

’ہم نے ایک صورتحال ایسی بھی دیکھی جس میں کمپنی کی طرف سے مقرر کردہ ڈیلر سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔‘

ان کے مطابق یوریا کی سپلائی میں کمی کی ایک بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمے نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا تاہم اس کے باوجود تمام ذخیرہ اندوزوں تک پہنچنا مشکل کام ہوتا ہے۔

’وہ ایسی جگہوں پر کھاد کو چھپاتے ہیں جہاں ان تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کبھی تو خاندان کے افراد اور خواتین کو بٹھا دیتے ہیں وہاں اور پھر ہمارے عملے کے لیے چادر اور چار دیواری کا خیال کرنا پڑتا ہے۔‘

ڈاکٹر شیر محمد شیراوت کے مطابق بحران کی وجہ حکومت کا بڑے پیمانے پر ایکشن بھی تھا۔ جب بحران کا آغاز ہوا تو حکومت نے ڈیلرز اور افراد کے خلاف مقدمات درج کرنے شروع کیے جو مہنگے داموں یوریا فروخت کر رہے تھے۔

’اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ یوریا منظر سے بالکل غائب ہو گئی۔ ڈیلرز اور ٹریڈرز نے اسے چھپا لیا۔‘

تو کیا حکومت یوریا درآمد کر سکتی ہے؟

حکومت کا مسئلہ یہ تھا کہ یوریا کے بحران کو حل کرنے کے لیے وہ کھاد بڑی مقدار میں باہر سے درآمد بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت پاکستان میں ملنے والی یوریا کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی۔

ڈاکٹر شیر محمد شیراوت کے مطابق باہر سے ملنے والے یوریا کے بیگ کی قیمت دس ہزار پاکستانی روپے سے زیادہ تھی۔

وفاقی حکومت نے حال ہی میں چین سے سستے داموں پر یوریا منگوانے کی کوشش کی ہے تاہم ڈاکڑ شیر محمد کے مطابق حکومت ایک حد تک ہی سبسڈی دے سکتی ہے۔

اگر وہ بہت زیادہ قیمت پر یوریا درآمد کرے گی تو سبسڈی دینے کے بعد وہ بھی کسان کو اس قیمت سے بہت زیادہ قیمت پر دستیاب ہو گی جس میں وہ مقامی طور پر تیار ہونے والی یوریا خریدتا ہے۔

اس بحران سے پاکستان کو کتنا معاشی نقصان ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر شیر محمد سمجھتے ہیں کہ ان کا محکمہ کسانوں کو یوریا کے علاوہ دیگر متبادل کھادوں کے استعمال کے حوالے سے بھی آگاہی دیتا رہتا ہے تاہم اس میں مشکل یہ ہوتی ہے کہ روایتی کسان جو کھاد ایک مرتبہ استعمال کر لیتا ہے وہ باآسانی اس کو چھوڑتا نہیں۔

ان کے خیال میں یوریا کی حالیہ کمی کی وجہ سے بھی گندم کی فصل کو زیادہ نقصان نہیں ہو گا کیونکہ زیادہ تر کسانوں نے یوریا مہنگے داموں پر خرید کر ایک مرتبہ گندم کو دے دی تھی۔ اس کے علاوہ بارشیں بھی وقتی اور کافی ہو چکی تھیں۔

دوسری طرف سندھ آبادگار بورڈ کے نائب صدر محمود نواز شاہ سمجھتے ہیں کہ اس بحران سے نہ صرف گندم کی فصل میں پاکستان کو کئی ملین ٹن کی گندم کی کمی کا سامنا ہو گا بلکہ خریف کی فصلوں میں بھی نقصان کا خدشہ ہے۔

’اس طرح پاکستان میں خوراک کی کمی کا بحران بھی پیدا ہو سکتا تھا جس کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو زیادہ خوراک درآمد کرنا پڑے گی۔‘

اس کے ساتھ ہی پاکستان میں اگر خریف کی فصلوں کو بھی ایسے ہی بحران کا سامنا کرنا پڑا تو ماہرین کے مطابق پاکستان کی زرعی اجناس کی برآمدات میں بھی کمی آئے گی اور حکومت کو زیادہ زرِمبادلہ خوراک کی کمی کو پورا کرنے پر خرچ کرنا پڑے گا۔