پاکستان نے وہ کون سے اقدامات اٹھائے جن کے نتیجے میں پولیو کیسز میں کمی دیکھنے میں آئی ہے؟

،تصویر کا ذریعہgettyimages
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حالیہ دنوں میں پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد میں خاصا واضح فرق نظر آیا ہے۔ حکام کے مطابق صرف 2020 تک پاکستان میں 84 کیسز تھے، اور اس سے پہلے 2019 میں 97، لیکن 2021 سے اب تک پاکستان میں پولیو کا صرف ایک کیس رہ گیا ہے۔
تو پاکستان نے وہ کیا اقدامات اٹھائے جن کے نتیجے میں پولیو کیسز میں اتنی واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے؟
اور افریقہ میں گذشتہ پانچ سال میں پولیو کے سامنے آنے والے پہلے کیس کا پاکستان سے کیا تعلق ہے اور کیا اس سے پولیو کی جاری مہم پر کوئی فرق پڑے گا؟
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے انسدادِ پولیو مہم کے ڈائریکٹر حامد جعفری نے بتایا کہ پاکستان نے پچھلے چند سالوں میں اپنی پلاننگ اور پولیو کی ٹیم پر خاصی توجہ دی ہے 'کووڈ وبا کے اوائل میں ہر طرف خوف تھا کہ اب پولیو مہم کا کیا بنے گا۔ اُس وقت پولیو مہم کو چار ماہ کے لیے معطل کیا گیا تھا۔ لیکن کووڈ وبا کے چند ماہ گزرنے کے بعد پاکستان نے اپنی پولیو مہم کو دوبارہ شروع کیا۔'
انھوں نے بتایا کہ 'کووڈ وبا کے دوران سرحدوں پر، خاص طور سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود سرحد پر، محدود آمدورفت سے بھی پولیو مہم کو کافی مدد ملی۔'
پولیو مہم کے دوران اکثر پاکستان کے کئی علاقوں خاص طور سے خیبر پختونحوا اور سندھ میں پولیو ٹیم پر حملوں کے واقعات سامنے آئے۔ حامد نے کہا کہ پولیو مہم کو چلانے والوں اور قانون نافذ کرنے والوں کے درمیان رابطہ بھی خاصا بہتر ہوا ہے 'خطرہ تو رہتا ہے، کبھی زیادہ ہوجاتا ہے کبھی بالکل کم ہوجاتا ہے۔ لیکن پولیو مہم چلانے والوں اور قانون نافذ کرنے والوں کے درمیان کوآرڈینیشن پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر ہوئی ہے۔'
پولیو مہم سے جڑے دیگر افسران پلاننگ کو بھی ایک وجہ مانتے ہیں۔ جبکہ پولیو مہم کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف عناصر کو دیکھنا پڑتا ہے جن میں ٹیکنیکل، آپریشنل اور سماجی عناصر شامل ہیں۔

اگر تھوڑا پیچھے جائیں تو پاکستان میں پولیو مہم کے دوران اکثر علاقوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں مل پاتے تھے۔ اس دوران انتظامیہ نے ان وجوہات کا کھوج لگانے کی کوشش کہ آخر یہ بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم کیوں رہ جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیبر پختونخوا میں 2019 کے دوران ایسے واقعات تیزی سے بڑھنے لگے۔ اور انتظامیہ کے تفتیش کرنے پر پتا چلا کہ بہت سے والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلانا چاہتے تھے۔ اسی لیے وہ پہلے سے ان کی انگلی پر نیلے مارکر سے نشان لگا دیا کرتے تھے۔
اسی طرح پشاور سے بہت سے بچے اپنے والدین کے ساتھ سرحد پار افغانستان چلے جاتے تھے اور مہم کے دوران 'موجود نہیں' کا نشان ان کے گھر سے سامنے لگادیا جاتا تھا۔ نتیجتاً ان بچوں کو پبلک بسوں میں پولیو کے قطرے پلانے کا پلان بنایا گیا۔
2014 کے دوران کراچی کا اتحاد ٹاؤن بھی پولیو مہم کے لیے ریڈ زون مانا جاتا تھا۔ اس دوران پمفلٹ شائع کیے گئے اور لوگوں کو گھر گھر فارم پُر کرنے کے لیے دیے گئے۔ فارم پُر کروانے کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ یہ جانا جاسکے کہ لوگ پولیو مہم سے اختلاف کیوں رکھتے ہیں۔
کچھ ماہ بعد وہاں کے رہائشیوں کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر آمادہ کرنے کے لیے مقامی مولویوں اور مذہبی جماعت جمعیت علماِ اسلام کو پولیو مہم کا حصہ بنایا گیا۔
اس دوران کراچی میں ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے بتایا کہ زیادہ تر لوگوں نے ان فارمز میں 'مقامی مولوی یا مشر کے کہنے پر' بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا تھا۔ جس کے بعد مقامی مولویوں اور مذہبی جماعتوں کے ذریعہ لوگوں کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پھر 2019 میں فیس بُک اور یوٹیوب پر پولیو کے قطروں کے خلاف باضابطہ طور پر مہم شروع ہوئی جس کا سراغ آج تک نہ لگ سکا کہ یہ ویڈیوز کہاں سے اور کس نے بنائیں۔
اس ویڈیو کا بنیادی مقصد گھر بیٹھے والدین کو نشانہ بنانا تھا جس میں انسدادِ پولیو مہم کو ٹارگٹ کرتے ہوئے اسے 'مغرب کی سازش' بتایا گیا۔
اس بات کی بنیادی کڑی امریکہ کی پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے کے لیے فرضی مہم چلانے سے جڑتی ہے۔ اس فرضی مہم کے دوران ایبٹ آباد میں سکیورٹی اہلکاروں نے پولیو مہم کا بہانہ بنا کر امریکہ کو مطلوب دہشتگرد اسامہ بن لادن کو ڈھوننے کی کوشش کی تھی۔ جس کے بعد سے لوگوں کا اعتبار اس مہم سے اٹھ گیا۔
ڈاکٹر شہزاد بیگ پچھلے کئی سالوں سے حکومتِ پاکستان کے پولیو پروگرام سے منسلک ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ سب سے پہلے ضروری تھا کہ لوگوں تک پہنچنے والی ٹیموں میں سرمایہ لگائیں 'ہم نے ناصرف خطرات کا جائزہ لیا بلکہ گھر گھر جانے والی ٹیم اور ان کو بھیجنے والوں کا احتساب بھی لازمی بنایا۔'
پولیو مہم میں کام کرنے والوں کو ایک عرصہ دراز سے دیہاڑی کے لحاظ سے پیسے ملتے تھے۔ لیکن حکومتی ارکان کا دعویٰ ہے کہ اب 'حالات بہتر ہیں۔'
حامد جعفری کہتے ہیں کہ پلاننگ میں بہتری آنے سے ان لوگوں تک بھی رسائی حاصل ہوسکی ہے جو پہلے پولیو پروگرام کے بارے میں سننا ہی نہیں چاہتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ 'یہ ایک مرحلہ وار کام ہے جس دوران پاکستان نے تمام تر مشکلات کے باعث بہتر پلاننگ سے ان لوگوں تک رسائی حاصل کی ہے جن تک پہلے پہنچنا مشکل تھا۔'
کوئٹہ اور کراچی میں اب بھی ایسے علاقے ہیں جہاں لوگ پولیو مہم کے خلاف ہیں۔ لیکن حامد کے مطابق اب ان کی تعداد کم ہوچکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وائلڈ پولیو اور افریقہ
حامد جعفری نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت انوائرمنٹ ٹیسٹنگ بہت زیادہ کی جاتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پانی اور گٹر سے سامپل لیے جاتے ہیں جس سے پولیو وائرس کی موجودگی کے بارے میں پتا لگایا جاتا ہے۔
2021 کے اوآخر میں خیبر پختونخوا کے جنوب میں واقع اضلاع سے وائلڈ پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جن میں ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور جنوبی وزیرستان بھی شامل تھے۔ جس سے انتظامیہ کو یہ پتا چلا کہ وائرس اب بھی موجود ہے اور پنپ رہا ہے۔
اس معلومات کے نتیجے میں جنوبی خیبر پختونخوا انٹینسو پروگرام شروع کیا گیا۔ حامد جعفری نے کہا کہ 'ہم یہ نہیں چاہتے کہ یہ وائلڈ وائرس اس دوران زندہ رہ جائے جس کے بعد یہ بڑے سینٹرز جیسے کہ کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں دوبارہ پھیل جائے۔'
یہ بھی پڑھیے
وائلڈ پولیو تین قسم کا ہوتا ہے جس کی اب تک پہلی اور دوسری قسم کو دنیا سے ختم کیا جا چکا ہے۔ اب اس کی پہلی قسم کا خاتمہ باقی رہتا ہے۔ اور یہی وہ قسم ہے جو اس وقت پاکستان اور افغانستان میں پائی جاتی ہے۔
حال ہی میں افریقہ کے جنوب مشرق کے ملک مالاوی میں پانچ سال بعد پولیو کا نیا کیس آیا ہے۔ اس کیس کی قسم وہ ہی ہے جو پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں افریقہ کے موجودہ سٹیٹس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
لیکن حامد کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے دنیا دوبارہ سے کھل رہی ہے، اس کے لیے قومی سطح پر پھر سے پولیو مہم کو جاری رکھنا ہوگا 'افریقہ میں جہاں اس کی ضرورت آج بھی وہیں پاکستان کو بھی اپنے ملک میں اس کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنا ہوگا۔'
انھوں نے کہا کہ پاکستان مکمل طور پر وائرس کا خاتمہ کر سکے گا یا نہیں یہ تو وثوق سے نہیں کہا جاسکتا 'لیکن اگر اسی طرح سے پولیو مہم جاری رہی، تو بیشک یہ دن بھی آ سکتا ہے کہ پاکستان مکمل طور پر پولیو سے پاک ہو جائے۔'











