راولپنڈی میں بسنت: پابندی کے باوجود پتنگ بازی کرنے والے اور پولیس آمنے سامنے، سینکڑوں گرفتاریاں

بسنت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

دن بھر اور پھر رات ڈھلنے تک راولپنڈی شہر کے مختلف علاقوں میں شدید ہوائی فائرنگ سنائی دیتی رہی، یہ نہ تو کسی پولیس مقابلے اور نہ ہی کسی شادی کے باعث تھی بلکہ شہر میں بسنت منائی جا رہی تھی۔

دن ڈھلنے کے بعد رات گئے اب منظر بدل گیا ہے، چھتوں پر شور مچاتے، فائرنگ اور باجے بجاتے سینکڑوں نوجوان اب شہر کے مختلف تھانوں میں بند ہیں۔

ان کی گرفتاری کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ ہم دروازے پر دستک دیتے ہیں لیکن اکثر لوگ باہر سے تالا لگا دیتے ہیں ایسے میں ہمیں پھر پتنگ اڑانے والوں کے ہمسائیوں کی چھت پھلانگ کر انھیں گرفتار کرنا پڑتا ہے۔

پولیس کے سینکڑوں اہلکار کینٹ کے علاوہ دیگر علاقوں میں ڈیوٹیاں دے رہے تھے کیونکہ وہاں کچھ دن پہلے بسنت منائی جا چکی ہے۔

فضا میں حرکت کرتے ڈرون اور بلند عمارتوں میں ہاتھوں میں دوربین لیے پولیس اہلکار دراصل پتنگ اڑانے والوں کا سراغ لگانے کی کوشش میں مصروف رہے لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی اس شہر کے لوگوں نے بسنت منا کر چھوڑی۔

سوشل میڈیا پر دکھائی دیتی تصاویر اور ویڈیوز اس بات کا ثبوت ہیں کہ قانون کو سرِعام توڑا گیا۔

بسنت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بائیس سالہ فصیح نے بی بی سی کو بتایا کہ 'میں سورج ڈھلنے سے پہلے چھت پر گیا لیکن فوراً واپس اتر آیا۔ فضا میں پتنگیں اتنی نہیں تھیں لیکن فائرنگ اتنی شدید اور مسلسل تھی کہ مجھے واپس آنا پڑا۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'باہر بہت پولیس تھی، گلیوں میں بھی سڑکوں پر بھی اور میں نے دیکھا کہ پولیس اہلکار ایک لڑکے کو اس کے گھر کی چھت سے گرفتار کر کے لے جا رہے تھے۔'

پولیس نے حفاظت کے پیش نظر راولپنڈی کے فلائی اوورز پر موٹر سائیکل چلانے والوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ نائلن کی یہ ڈور موٹر سائیکل سواروں کی جان لی سکتی ہے۔

راولپنڈی پولیس کے اہلکار انسپکٹر سجاد نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ بسنت کے باعث مختلف ہسپتالوں میں 25 زخمیوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پولیس نے 200 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس برس 900 سے زیادہ پتنگ فروشوں اور پتنگ اڑانے والے افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی تصاویر میں گھروں کی چھتوں پر پتنگوں کو قبضے میں لیتے پولیس اہلکار دکھائی دیتے ہیں۔’

خیال رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پتنگ بازی کے تہوار بسنت پر پابندی عائد ہوئے 15 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے سنہ 2007 میں بسنت کے تہوار پر پابندی عائد کی گئی تھی جس پر سنہ 2018 میں نظرِ ثانی کی گئی تھی تاہم بعد میں اسے برقرار رکھا گیا تھا۔

پولیس

،تصویر کا ذریعہRawalpindi Police

راولپنڈی کے علاقے بنی میں رات گیارہ بجے کے بعد بھی پولیس کی جانب سے پتنگ بازوں کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ملیں۔ علاقے کے ایک مکین نے بتایا کہ اب بھی پتنگ بازی جا ری ہے اور ہماری گلی میں پولیس کا گشت جاری ہے اور وہ چار سے پانچ بندوں کو گاڑی مین ڈال کر لے گئے ہیں۔

پولیس کی جانب سے جاری کی جانے والی تصاویر میں کئی درجن افراد کو متعدد تھانوں میں بند کھڑا دکھایا گیا ہے۔

انسپکٹر سجاد کہتے ہیں کہ 'پتنگ بازی اندرون شہر میں زیادہ ہوتی ہے اور چونکہ اس پر پابندی ہے اس لیے پتنگ فروشی کی اسوسی ایشن کے لوگ سوشل میڈیا پر مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے بسنت کا اعلان کرتے ہیں اور اس بار یہ 18 تاریخ بتائی گئی۔'

یہ بھی پڑھیے

پولیس کا کہنا ہے کہ اس سال اب تک ایک لاکھ سے زیادہ پتنگیں اور ڈور پکڑی جا چکی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی کرنے والے کو چھ ماہ قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

انسپکٹر سجاد کہتے ہیں کہ 'شہر میں پتنگ بازوں تک پہنچنے والی ڈور مقامی سطح پر نہیں بن رہی یہ زیادہ تر خیبر پختونخوا سے آ رہی ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں آگے سزا دینا نہ دینا جج کے فیصلے پر منحصر ہوتا ہے۔

بسنت

،تصویر کا ذریعہRawalpindi Police

پولیس کا کہنا ہے کہ اس بار کوئی جانی نقصان پتنگ کی ڈور یا ہوائی فائرنگ سے نہیں ہوا لیکن گذشتہ دنوں جب کینٹ میں ایک ڈولفن پولیس سکواڈ میں شامل اہلکار کو پتنگ بازی سی روکنے پر ایک شہری نے زخمی کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس جمع ہونے والی پتنگوں اور ڈور کو ایک کالج کی حدود میں لے جا کر آگ لگا دی گئی تھی۔

تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بسنت نہ بھی ہو تو بھی کسی شاہراہ یا اندرون شہر سے گزرتے بچے یا بڑے گردن پر ڈور پھر جانے سے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

وہ ڈور کس کی پتنگ کی ہوتی ہے اور حادثے کے مقام پر کھڑے لوگ جان نہیں پاتے اور کبھی کبھی پتنگ اڑانے کے شوق میں محظوظ ہوتے نوجوان بے خبر رہ جاتے ہیں کہ ان کی ڈور کسی کے خون میں رنگ چکی ہے۔