’فلائی جناح‘: ایئرعریبیہ کو پاکستان میں پروازوں کی اجازت پر پی آئی اے برہم کیوں؟

پی آئی اے

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

پاکستان کی قومی ایئر لائن، پی آئی اے، کی جانب سے حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے ایک خط میں ایک غیر ملکی ایئر لائن کو ملک کے داخلی روٹس پر پروازیں چلانے کی اجازت پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے پی آئی اے کے لیے معاشی طور پر نقصان دہ قرار دیا گیا۔

پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی جانب سے وزیراعظم کو بتایا گیا ہے کہ قومی ایئر لائن کے علاوہ ملک کی نجی شعبے میں کام کرنے والی ایئر لائنز کی جانب سے بھی اس پیشرفت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

قومی ایئر لائن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ملک کی کمزور ایوی ایشن صنعت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اور اس کا طویل مدتی نقصان بہت زیادہ ہو گا۔

حکومتی شعبے میں کام کرنے والے پی آئی اے کے علاوہ نجی شعبے کی تین ایئر لائنز اس وقت ملک کے داخلی روٹس پر پروازیں چلا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں متحدہ عرب امارات کی ’ایئر عریبیہ‘ نامی ایئر لائن کو ایک پاکستانی بزنس گروپ کی ’فلائی جناح‘ نامی فضائی کمپنی کے باہمی اشتراک سے اندرون ملک پروازیں چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔

پاکستان میں ایوی ایشن انڈسٹری سے منسلک افراد، ماہرین اور پی آئی اے کی جانب سے اس اقدام کو مقامی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے نقصان قرار دیا گیا ہے تاہم ملک میں ایوی ایشن شعبے کے ریگولیٹر سول ایوی ایشن کی جانب سے ان خدشات کو مسترد کیا گیا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ’فلائی جناح‘ میں ایک مقامی بزنس گروپ اکثریتی حصص کا مالک ہے۔

پاکستان کی قومی ایئر لائن اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے اور اس کی 30 جون 2021 کو ختم ہونے والے مالی سال کے مالیاتی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ایک سال میں پی آئی اے نے 25 ارب کا خسارہ برداشت کیا۔ کمپنی کا زیر جائزہ سال میں ریونیو پیسنجر کلومیٹرز میں بھی 22 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی۔

ایئر عریبیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پی آئی اے نے کس تشویش کا اظہار کیا؟

حکومتی شعبے میں کام کرنے والی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے وزیراعظم کو ایک خط ’مقامی ایوی ایشن انڈسٹری کے تحفظ‘ کے عنوان سے لکھا۔

بی بی سی اُردو کو موصول ہونے والے اس خط کے مطابق پی آئی اے کے منتظم اعلیٰ نے وزیراعظم کو بتایا کہ خبروں کے مطابق حکومت پاکستان نے ایک غیر ملکی ایئر لائن کو اندرون ملک پروازیں چلانے کی اجازت دی ہے جس کا مقصد ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کو ترغیب دینا بتایا گیا ہے۔

ان کے مطابق یہ اقدام ملک کی کمزور ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔ انھوں نے اگرچہ تکنیکی طور یہ کہا ہے کہ یہ معاہدہ مقامی فضائی کمپنی اور غیر ملکی فضائی کمپنی کے درمیان ہے جس کے تحت غیر ملکی کمپنی پاکستان میں طیارے لائے گی اور اندرون ملک پروازیں شروع کرے گی۔

پی آئی اے کے سی ای او کی جانب سے کہا گیا یہ ایک طریقے سے قومی ایوی ایشن پالیسی کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت ایئر عریبہ کو اندرون ملک پروازیں چلانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے اس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اب ’فلائی جناح‘ کی جانب سے بیرون سرمایہ کاری کے نام پر ایئر عریبیہ کو اندرون ملک پروازوں کی اجازت مل جائے گی۔

پاکستان میں ایوی ایشن شعبے کے ریگولیٹر سول ایوی ایشن اتھارٹی سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو اتھارٹی کے ترجمان نے مؤقف دیتے ہوئے سب سے پہلے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اندرون ملک پروازوں کے حقوق کسی غیر ملکی فضائی کمپنی کو دیے گئے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

ترجمان نے کہا کہ جہاں تک فلائی جناح تک کا تعلق ہے اس میں ایک مقامی بزنس گروپ اکثریتی حصص کا مالک ہے اس لیے یہ ایئر لائن ایک مقامی کمپنی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ایک غیر ملکی فضائی کمپنی ملک کے اندرونی روٹس پر قبضہ جما لے گی۔

انھوں نے کہا ملک کی سول ایوی ایشن پالیسی اور اس سے متعلق قوانین اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو ملک میں لایا جائے۔

کیا غیر ملکی فضائی کمپنیوں کو داخلی روٹس پر پروازوں کی اجازت ہوتی ہے؟

پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ایسا انتظام دنیا کے ان ملکوں میں بھی نہیں ہوتا جو تجارتی طور پر بہت زیادہ لبرل پالیسیوں کے حامل ہیں جیسے کہ امریکہ۔

اس سلسلے میں ایوی ایشن کے شعبے کے اُمور سے منسلک افراد سے جب بات کی گئی تو انھوں نے بتایا کہ پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہاں بھی ایسا نہیں اور دنیا میں بھی بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی غیر ملکی فضائی کمپنی کو کسی ملک کے داخلی روٹس پر پروازیں چلانے کی اجازت ہو۔

ونگ کمانڈر (ریٹائرڈ) نسیم احمد نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا ایسا بہت کم ہوتا ہے تاہم امریکہ میں ترکش ایئر لائن کو ایسی اجازت حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ اصل میں ایسے معاہدے دو فریقوں کے باہمی معاہدے ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا اگر پی آئی اے کو اس پر اعتراض ہے تو اسے چاہیے کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکٹائے تاہم انھوں نے کہا یہ اجازت نہیں دینی چاہیے۔

پی آئی اے

ایوی ایشن کے اُمور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی جاوید چوہدری نے بتایا کہ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا کہ کسی غیر ملکی فضائی کمپنی کو اندرون ملک پروازوں کی اجازت حاصل ہو۔

مقامی ایوی ایشن انڈسٹری اس کی مخالفت کیوں کر رہی ہے؟

نسیم احمد کہتے ہیں کہ اُن کی مخالفت سمجھ میں آنے والی ہے۔ پی آئی اے کے بین الاقوامی فضائی بزنس میں شئیر ویسے بھی کم ہو گیا ہے اور جو وہ بین الاقوامی فضائی آپریشن کرتی ہے وہ اب حج، عمرے اور مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے پاکستانی ورکروں کے علاوہ نہیں۔

’اب اگر داخلی روٹس پر بھی غیر ملکی ایئر لائن آ جائے گی تو اس سے پی آئی اے کے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے جس کی بنیاد پر یہ اس کی مخالفت کر رہی ہے۔‘

ایوی ایشن کے امور کے صحافی طاہر عمران نے اس سلسلے میں کہا یہ اقدام مقامی فضائی کمپنیون کے لیے نقصاندہ ہو گا۔

انھوں نے کہا تاہم یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ ڈومیسٹک روٹس کبھی ایئر لائنز کے لیے منافع بخش نہیں ہوتے اور اگر ایئر لائنز پر ڈومیسٹک روٹس چلانا لازمی نہ ہو تو وہ ان کی تعداد کم کر دیں۔

اس سلسلے میں پی آئی اے کے ترجمان عبد اللہ حفیظ خان نے کہا کہ پی آئی اے ہمیشہ اپنے صارفین کو بہترین خدمات فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے اور متوازی مقابلے کی فضا کو ہوابازی کی صنعت کے فروغ کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے تاہم مسابقت قانون کے مطابق اور منصفانہ ہونی چاہیے اور اس بات کی یقین دہانی ریگولیٹری امور کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ نہ صرف سب کے لیے برابر مواقع میسر ہوں بلکہ ساتھ ساتھ ملکی ہوا بازی کی صنعت کے مفادات کی نگرانی بھی کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک بین الاقوامی ایئرلائن کا ملکی ایئرلائن کے روپ میں آپریشن کا آغاز نہ صرف ملکی ہوا بازی پالیسی سنہ 2019 کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس اقدام، خاص طور پر ’کابوٹاژ‘ کے حق کے استعمال کی مثال دنیا کے ترقی یافتہ اور لبرل ممالک میں بھی نہیں ملتی۔

’ایسے اقدام سے پاکستان میں ہوابازی کی صنعت کی حوصلہ شکنی ہو گی اور تمام ملکی ایئر لائن اس امر کے منافی اپنے رائے کا اظہار پہلے ہی کر چکی ہیں۔ پی آئی اے نے بحیثیت قومی ایئر لائن تمام پاکستانی ایئرلائنز کی جانب سے آواز مقتدر حلقوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔‘

ایوی ایشن انڈسٹری کے افراد کے مطابق ’ایئر عریبیہ‘ اس اقدام کے ذریعے پاکستان میں اپنی فریکوئنسی بڑھانا چاہتی ہے۔

اس بارے میں پی آئی کے ترجمان نے کہا کہ یہ پاکستان کی قومی ایوی ایشن پالیسی کے خلاف ہے جو کسی غیر ملک کی فضائی کمپنی کو یہ حقوق دینے پر ایسے ہی حقوق اپنے ملک کی ایئر لائن کے حاصل کرنے کے لیے کہتی ہے اور آرگینک مارکیٹ گروتھ کے اصولوں کے مطابق ہے۔

انٹرنینشل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اندازوں کے مطابق کورونا کی وجہ سے ایوی ایشن انڈسٹری کے کاروبار میں جو کمی واقع ہوئی ہے اس کی وجہ سے ایئر ٹریفک کے جو اعداد و شمار سنہ 2019 میں تھے وہ سنہ 2023 کے آخر تک بھی حاصل نہیں ہو پائیں گے۔