آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہراسانی: ’کوئی بھی پیغام جس سے دوسرا شخص ذہنی اذیت کا شکار ہو ہراسانی ہے‘
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
اگر آپ ایک خاتون ہیں تو آپ یقیناً سمجھ سکتی ہیں کہ ہر صبح غیر ضروری ’گڈ مارننگ‘ اور ہر رات شب بخیر کے پیغامات کس قدر اذیت ناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ بات اس وقت مزید پریشان کن ہو جاتی ہے جب آپ کے سپروائزر، دفتر میں کام کرنے والے ساتھی یا کوئی سینیئر مینیجر اس قسم کے پیغامات بھیجیں۔
میں ایک صحافی ہوں، سوال کر سکتی ہوں، شکایت کر سکتی ہوں اور کوئی بھی غلط عمل عوام کے سامنے اجاگر کرسکتی ہوں، اس کے باوجود میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہوں یا واٹس ایپ اور ایس ایم ایس باکس، سب ہی گڈ مارننگ، گڈ نائٹ، شعر و شاعری وغیرہ جیسے پیغامات سے بھرے رہتے ہیں۔ اور اس فہرست میں سیاستدان، سرکاری افسران، حتی کہ بعض اوقات وہ افراد بھی شامل ہو جاتے ہیں جن سے ہمارا رابطہ کسی ایک واقعے یا خبر کے لیے ہوا ہو۔
ایسے موقع پر بہت سی خواتین بعض اوقات خاموشی اختیار کرتی ہیں جبکہ کچھ دھیمے انداز میں اور کئی سخت الفاظ میں ایسے پیغامات بھیجنے والوں کو منع کرتی ہیں کہ وہ ایسا نہ کریں۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ باز نہ آنے کی صورت میں یہی پیغامات ہراسانی کے مقدمے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
یہی بات وفاقی محتسب برائے ہراسانی کشمالہ طارق نے تین سال قبل انہی دنوں ایک تقریب کے دوران کہی تھی اور اب ایک بار پھر انھوں نے یہ بات دہرائی ہے۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران انھوں نے یہ بات ان الفاظ میں سمجھائی:
’بسم اللہ الرحمان الرحیم (سے) بابرکت صبح (کا پیغام)، پھر اس کے بعد سہ پہر میں شعر و شاعری، پھر میں نے کہا تھا کہ شام تک کچھ اور آجاتا ہے، پھر گڈ نائٹ تک کہانی۔۔۔ تو یہ سب کچھ ہراسمنٹ ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسا پیغام جس سے دوسرا شخص ذہنی اذیت کا شکار ہو، اس کے لیے کام کرنا مشکل ہو جائے اور وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے، ہراسانی کی زمرے میں آتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا یا کسی بھی پلیٹ فارم پر بھیجے گئے غیر ضروری پیغامات متعلقہ شخص کی پرائیویسی میں مداخلت ہیں۔
ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین، خصوصاً خواتین، مطمئن نظر آتی ہیں جبکہ کچھ افراد نے اسے ان کی ذاتی رائے بھی قرار دیا ہے۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص منع کرنے کے باجود ایسے پیغامات سے باز نہیں آتا تو اسے ہراسانی ہی سمجھا جائے گا۔
اسما طارق نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’کیا آپ نے کبھی ایک خاتون کو دیکھا ہے جو ہر روز صبح بخیر کے پیغامات بھیجتی ہو؟‘
اسی طرح ایک ٹوئٹر صارف نے کہا کہ اس میں سب کچھ شامل ہے، اور اگر کسی نے کہا کہ دوبارہ ایسا نہ کریں، لیکن (اس کے باوجود) پیغام دہرایا گیا تو یہ ہراسمنٹ ہے۔
خیال رہے کہ کام کی جگہ پر ہراسانی سے متعلق ایکٹ 2010 میں حال ہی میں ترمیم بھی کی گئی ہے جس کے بعد اس کا دائرہ کار وسیع ہو گیا ہے۔ مرد پہلے بھی اس قانون کے تحت شکایت درج کروا سکتے تھے، اب خواجہ سرا بھی ہراساں ہونے کی صورت میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں ہونے والے ہراسگی کے واقعات بھی اب وفاقی و صوبائی محتسب کے دفتر میں رپورٹ ہو سکتے ہیں۔ اسی قانون میں ہراسمنٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی بات چاہے وہ جنسی نوعیت کی ہو یا نہ ہو مگر دوسرے شخص کو متاثر کرے اور وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے یا اس کے لیے کام پر توجہ دینا مشکل ہوجائے، سب کچھ ہراسمنٹ ہے۔
ٹوئٹر صارف وسیم رضا نقوی نے کہا کہ ’ہر وہ چیز جس سے سامنے والا ’ان کمفرٹیبل‘ یا بے چین محسوس کرے، وہ ہراسگی کے زمرے میں آتا ہے، وہ چاہے غیر ضروری میسجز ہوں یا گھورنا۔‘
جبکہ صائم رضوی نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلسل تین بار سے زائد فون پر رِنگ کرنا بھی ہراسمنٹ اور ذہنی اذیت ہے۔ پاکستان میں لوگوں کو پیغامات سے منسلک اخلاقیات سیکھنی چاہیئں۔‘
کشمالہ طارق نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بھی ہراسمنٹ ہے کہ آپ کے دفتر کا کوئی ساتھی بغیر کسی وجہ کے آپ کو ’پیاری‘ کہہ دے۔‘ مقامی میڈیا پر موجود ان کے بیان کے مطابق ایک خاتون سے بہتر یہ کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ ’بیڈ ٹچ یا گھورنا‘ کیا ہے۔
’کوئی بھی نامناسب جملہ، چاہے وہ طنزیہ کہا گیا ہو یا فلرٹ کی خاطر، ہراسمنٹ کے زمرے میں آئے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ تمام اداروں میں ہراسگی کے خلاف قائم کی گئی کمیٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ کیس چھوٹا ہو یا بڑا، وہ ایسے معاملات پر فوری فیصلہ کریں۔