’کیا آپ نے کبھی مذہب تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں کیا؟‘

    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں غیرمسلم آباد ہیں جنھیں روزمرہ عوامی زندگی میں اپنی مذہبی شناخت کی وجہ سے تفریق کا سامنا رہتا ہے۔

پاکستانی ہندو ورشا اروڑا نیشنل انسٹی نیوٹ آف ماڈرن لینگویجز(نمل) میں شعبہ ابلاغ عامہ کی طالبہ ہیں۔

عوامی مقامات پر ہندو خواتین سے برتاؤ کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ 'جب لوگوں کو میری مذہبی شناخت کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو بعض یہ جاننا چاہتے ہیں کہ میں کب ہجرت کرکے انڈیا سے پاکستان آئی تھی؟ ایسے مو اقع پر مجھے انھیں بتانا پڑتا ہے کہ ایسا کبھی بھی نہیں تھا۔ ہم لوگ شروع سے یہیں پہ رہتے ہیں۔

'اکثرلوگ سوال کرتے ہیں کہ اچھا اگر آپ شروع سے پاکستان میں رہتے ہیں تو آپ کا کبھی ارادہ نہیں ہوا کنورٹ (مذہب تبدیل کرنا) ہونے کا۔'

اجالا حیات نیشنل کالج آف آرٹس میں فائن آرٹس کی طالبہ ہیں۔ انھوں نے کچھ عرصے پہلے ایک کلاس اسائنمنٹ کے لیے ماتھے پربندیا لگا کے مقامی ٹرانسپورٹ میں سفر کیا تاکہ ہندوؤں کے بارے میں لوگوں کے خیالات اور رویوں کا اندازہ لگایا جاسکے۔

'ساری توجہ ماتھے پر لگے ایک سرخ نقطے (بندیا) پہ تھی۔ ہرشخص مڑمڑ کے عجیب انداز میں دیکھ رہا تھا جیسے کہ تم یہاں کیا کررہی ہو؟

اجالا نے بتایا کہ 'بہت سے لوگ اُن سےمذہب پہ بات کرنا چاہ رہے تھے۔ ہم دو لڑکیوں کے بیچ میں بیٹھی ایک برقعے والی آنٹی نے براہ راست مجھے تو نہیں لیکن ساتھ بیٹھی ایک لڑکی سے بولا کہ دیکھو کس طرح میٹرو میں بندی لگا کے پھر رہی ہے۔ آپ جس جگہ رہیں وہاں کے کلچر میں ڈھل جانا چاہیے۔'

اسی تجربے پراپنی رائے دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ 'جب مغرب میں ہم سے کوئی اس طرح کہتا ہے تو کتنا برا مناتے ہیں کہ ہمارا مذہب ہے، ہمارا کلچر ہے، اسے قبول کرنا چاہیے۔'

میڈیا میں اپنا کریئر بنانے کی خواہش مند ورشا سے گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ مختلف موضوعات پر کھل کر بہت ہی جامع بحث کرتی ہیں لیکن انہیں افسوس ہوتا ہے کہ مذہبی شناخت ظاہر ہونے پر یہ موضوعات بہت محدود ہوجاتے ہیں۔

'عام بحث کبھی نہیں ہوتی۔ ہندو، مسلم، کرسچین، انڈیا، پاکستان۔ بحث بس انہی موضوعات کے گرد گھومتی رہتی ہے۔'

ورشا اور اجالا نے اپنے تجربات سے بتایا کہ بعض دفعہ پبلک ٹرانسپورٹ میں لوگوں نے اپنی نشست ہی تبدیل کرلی۔ ورشا خود ہی اس کی توجیحات بھی پیش کرتی ہیں کہ 'شاید انھوں نے گاڑی سےاترنا ہو۔ شاید میں ہی منفی انداز میں سوچ رہی ہوں۔'

البتہ اجالا نے اس رویے کو بہت شدت سے محسوس کیا۔ 'ایک روز بس بہت خالی تھی۔ میں ایک خاتون کے برابر والی سیٹ پہ بیٹھ گئی تو وہ فوراً اٹھ کے اگلی سیٹ پر چلی گئیں۔ حالانکہ اسی بس میں میری دوست اپنے جنازے کے دعوت نامے بانٹ رہی تھی جو کہ بہت عجیب وغریب بات تھی لیکن اُس کے ساتھ وہ بہت فرینڈلی تھیں۔'

ورشا کو کالج کے ابتدائی دنوں میں دوستیاں بنانے میں بھی مشکل پیش آئی۔

'مجھے شروع میں کچھ چیلنجز فیس کرنے پڑے کہ میری کچھ سہیلیاں تھیں جو مجھ سے لے کر کچھ کھاتی پیتی نہیں تھیں۔ لیکن اب وہ میری بہت اچھی دوست ہیں کیونکہ اس سارے ٹائم میں انھوں نے مجھے ایک انسان کے طور پر جانا ہے سمجھا ہے۔'

اجالا کےخیال میں پاکستانی معاشرے میں عدم رواداری اور عدم برادشت عام ہے پھر چاہے وہ کسی بھی طرح کی جداگانہ سوچ ہو، مذہب ہو یا لباس۔

'صرف مذہب کےلیے ہی نہیں بلکہ کسی بھی قسم کے فرق کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ جیسے کوئی لڑکی جینز پہن کے بازار میں جاتی ہے تو اسے بھی اسی قسم کی ہراسگی کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔'

اجالا کے برعکس ورشا کا ماننا ہے کہ اب انڈین ٹی وی چینلز اور ڈرامے دیکھ دیکھ کے پاکستانی معاشرے میں ہندوؤں کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ 'کئی بارایسا ہوتا ہے کہ مندر آتے وقت بندی لگا کے آتے ہیں اور میری امی نے سندُور لگایا ہوا ہوتا ہے۔ انھیں دیکھ کے کبھی کوئی کہتا ہے کہ آپ کے یہاں شاید کوئی چوٹ لگی ہے لیکن پھر لوگ سمجھ جاتے ہیں۔'