پاکستانی خواتین کی تصاویر پر انڈین صارفین کے نازیبا تبصرے: ’اب ہمارے ہمسایہ ملک کی خواتین بھی ان لوگوں سے محفوظ نہیں‘

پاکستانی اور انڈین مسلم خواتین کی عید پر سیلفیاں اور تصاویر جب سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوئیں تو انڈین مرد میدان میں آئے اور انھوں نے نہ صرف ان تصاویر پر نازیبا تبصرے کیے بلکہ ان تصاویر کو یوٹیوب چینل کے ذریعے شیئر بھی کیا۔

جب متعلقہ حکام کو اس حوالے سے شکایات موصول ہوئیں تو پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے اور سائبر کرائم کی تحقیقات شروع کر دیں۔

’تصاویر کی بولیاں لگائی جاتی رہیں‘

یوٹیوب پر لائیو سٹریم کے دوران ان انڈین صارفین کی طرف سے خواتین کے بارے میں نازیبا تبصرے کیے جاتے رہے، اور اس ویڈیو کو دیکھنے والوں کی جانب سے ان کی بولیاں بھی لگائی جاتی رہیں، جس کے بعد ٹوئٹر پر صارفین کی جانب سے اس ویڈیو کو عمل میں لانے والے افراد کی سخت مذمت کی گئی اور ٹوئٹر انتظامیہ سے اس اقدام میں ملوث صارفین کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل بھی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

اسی طرح انڈیا میں متعلقہ پولیس حکام سے ان افراد کے خلاف سائبر کرائم سے متعلق کارروائی عمل میں لانے کی درخواست کی گئی جس پر جانپور پولیس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بتایا گیا کہ ان کے سائبر سیل کی جانب سے کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسی طرح ایک انڈین صحافی روہینی سنگھ نے جب ریاست جھارکنڈ کے وزیِر اعلیٰ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی تو انھوں نے بتایا جھارکنڈ پولیس اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ جھارکنڈ پولیس کے ٹوئٹر ہینڈل سے بتایا گیا کہ ان کا سائبر ونگ بھی اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

انڈین صارفین اس موقع پر پاکستانی خواتین سے معذرت کرتے دکھائی دیے اور اکثر انڈین خواتین نے تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ یہ افراد اب ہمارے ہمسایہ ملک کی خواتین کے بھی درپے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ملکوں میں مسلمانوں نے 13 یا 14 مئی سے عیدالفطر کا تین روزہ تہوار منانے کا آغاز کیا تھا۔

کورونا وائرس کی وبا کے ان دنوں میں جہاں اکثر ممالک لاک ڈاؤن میں ہیں اور مسلسل دوسرے سال عید کا تہوار محدود ہو کر رہ گیا ہے، ایسے میں اکثر صارفین سوشل میڈیا کا رخ کر رہے ہیں اور اس کے ذریعے اپنی تصاویر شیئر کرتے ہوئے عید کی خوشیاں دوبالا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم جیسے ہی چند انڈین صارفین کی جانب سے اس لائیو سٹریم کے بارے میں بات سوشل میڈیا پر پھیلی تو اکثر پاکستانی خواتین نے عید کے جوڑے میں اپنی تصاویر ہٹا لیں یا اپنا اکاؤنٹ پرائیویٹ کر دیا۔

اس سٹریم کے دوران اُن خواتین کو بھی نشانہ بنایا گیا جو اس کی مذمت کر رہی تھیں۔ اس حوالے سے پاکستان اور انڈیا دونوں ہی جانب سے خواتین کا سخت ردِعمل سامنے آیا۔

اس حوالے سے ایک صارف نے مذمتی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'اب ہمارے ہمسایہ ملک کی خواتین بھی ان لوگوں سے محفوظ نہیں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ان افراد کو رپورٹ کرنا ہو گا تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

انڈیا میں موجود رضاکاروں اور صحافیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان افراد کے علاقوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا۔

ثانیہ احمد نامی انڈین صارف جو اس لائیو سٹریم میں نشانہ بھی بنیں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ان افراد نے سوشل میڈیا پر ہماری زندگیاں عذاب کر دی ہیں۔ یہ ہمیں گالیاں دینے سے ہماری تصاویر کے غلط استعمال کرنے سے اب ہماری بولیاں لگانے تک آ چکے ہیں۔

زویا رسول نامی ایک صارف نے اس حوالے سے ایک تھریڈ لکھا اور کہا کہ 'ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں ہمارے پاس تمام ثبوت بھی موجود ہیں کوئی ایسا قانون نہیں ہے جس کے ذریعے ہم ان افراد کو سزا دلوا سکتے ہیں۔

'یہ لکھتے ہوئے بھی میں اپنے الفاظ کو بہت محتاط طریقے سے استعمال کر رہا ہوں، لیکن یہ لوگ ہمیں گالیاں دینے کی جرات رکھتے ہیں۔ اس معاشرے کا غلاظت اور اندھیرے کے علاوہ کیا مستقبل ہو سکتا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ یہ اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے والی ریاست کی وجہ سے ہے۔

’یوٹیوب سے ویڈیوز ہٹا دی گئیں‘

جب سرحد کے دونوں اطراف اس رویے کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں تو اس کا اثر متعلقہ حکام پر بھی خوب پڑا۔

یوٹیوپ پر لائیو سٹریم کی جانے والی اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور متعلقہ حکام کی اس حوالے سے کارروائی عمل میں لائے جانے کے بعد اب پرائیویٹ کر دیا گیا ہے اور اکاؤنٹ کے ذریعے شیئر کی جانے والی تمام ویڈیوز ہٹا دی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں خواتین کو سوشل میڈیا پہلے ہی خاصی مشکلات درپیش رہتی ہیں اور انھیں آن لائن ہراسگی کا سامنا رہتا ہے۔ اب انھیں عید پر تیار ہو کر تصاویر بنانا بھی مہنگا پڑ گیا۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے آج کل دنیا کو جتنا قریب کر دیا ہے اس کے مسائل اتنے ہی بڑھ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سڈی سیز چلانے والی بلاگر آمنہ نیازی نے کچھ عرصے قبل بی بی سی کے موسی یاوری کو بتایا تھا کہ ٹرولنگ اور ہراس پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے۔

سوشل میڈیا ٹرولنگ کے حوالے سے آمنہ نیازی کا کہنا تھا کہ 'ہر چیز کا جواب دینا ضروری نہیں'