خانیوال میں توہین مذہب کے الزام میں شہری کی ہلاکت: ’غسل دیتے ہوئے پتا چلا ظالموں نے بھائی کی تمام انگلیاں ٹوکے سے کاٹ دی ہیں‘

پولیس جائے وقوعہ پر کھڑی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپولیس جائے وقوعہ پر کھڑی ہے
    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

’مجھے فجر کے وقت مقامی پولیس ایس او صاحب کا فون آیا۔ کہنے لگے کہ ’تم مشتاق کے بھائی ہو؟‘ میں نے جواب دیا، جی۔ انھوں نے مجھے فوری تھانے آنے کا کہا۔ میں جب وہاں پہنچا تو انھوں نے مجھ سے مزید پوچھ گچھ کی۔۔۔۔ میں نے پوچھا خیر تو ہے؟ مجھے لگا کہ میرا بھائی کہیں سے انھیں ملا ہے اس لیے پوچھ رہے ہیں۔‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال میں اتوار کو توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے شخص کے بھائی ذوالفقار احمد کا کہنا ہے کہ مشتاق ذہنی مرض میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے انھیں ان کی فکر رہتی تھی۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ تفتیش کے دوران پولیس اہلکار ’کاغذ پر کچھ لکھ رہے تھے۔ میں نے پھر پوچھا ’خیر تو ہے؟‘ لیکن وہ لکھتے رہے۔ انھوں نے کہا ’ایف آئی آر کاٹ رہے ہیں۔‘ میں نے پھر کہا کہ ’ہوا کیا ہے، خیر تو ہے؟‘ تیسری مرتبہ پوچھنے کے بعد انھوں نے بتایا کہ آپ کا بھائی مشتاق، اللہ کو پیارا ہو گیا ہے۔‘

مشتاق احمد کی تدفین اتوار کو جبکہ رسم قل پیر کو ادا کی گئی اور یہ مشتاق کے اہل خانہ کے لیے ایک انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہے۔

اس کیس میں پولیس نے 33 نامزد اور 300 نامعلوم افراد کے خلاف قتل سمیت سنگین جرائم کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس کیس میں نامزد 21 مرکزی ملزم اور 102 مشتبہ افراد کو اب تک حراست میں لیا جا چکا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات کو ’نہایت سختی سے کچلیں گے۔۔۔ ذمہ داروں اور فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات طلب کی ہیں۔‘

پنجاب پولیس کے مطابق واقعے کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کر دی گئی ہے اور ملزمان کو پکڑنے کے لیے دستیاب فوٹیجز کے فرانزک تجزیے کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور ان کے کردار کا تعین کیا جائے گا۔

خانیوال واقعہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’مشتاق ذہنی مریض تھا، علاج کے لیے نو ایکڑ زمین تک بیچ دی‘

ذوالفقار بتاتے ہیں کہ پولیس نے ’مجھے وہ تمام ویڈیوز دکھائیں جن میں میرے بھائی کو لوگ اینٹوں سے مار رہے تھے۔ میں نے وہ ویڈیو بھی دیکھی جس میں لوگ مشتاق کو مارنے کا کہہ رہے تھے کہ اس کی لاش کو جلا دو۔۔۔ (پھر) انھوں نے اس کی لاش درخت سے لٹکا دی جسے کئی گھنٹے گزرنے کے بعد پولیس اتارنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد انھوں (پولیس) نے مشتاق کی لاش ہمارے حوالے کی۔‘

ذوالفقار یاد کرتے ہیں کہ ’جب میں نے اسے غسل دیا تو میرے لیے بہت تکلیف دہ لمحہ تھا کیونکہ اس کے جسم کا کوئی حصہ نہیں تھا جہاں زخم نہ ہو۔

’یہی نہیں بلکہ غسل دیتے ہوئے مجھے پتا چلا کہ ظالموں نے اس کے ہاتھ کی دس کی دس انگلیاں ٹوکے سے کاٹ دی ہیں اور اینٹیں مار مار کر اس کا حُلیہ بگاڑ دیا ہے۔‘

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مشتاق احمد ذہنی طور پر بیمار تھے۔ ان کے بھائی ذوالفقار احمد کے مطابق مشتاق گذشتہ17 سال سے شیزوفرینیا کا شکار تھے۔

انھوں نے مشتاق کے علاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم نے اس کا بہت علاج کروایا۔ یہاں تک کہ ہماری نو ایکڑ زمین تھی، ہم نے وہ تک بیچ دی کیونکہ ہم ملتان کے ایک نجی ڈاکٹر اور دیگر جگہوں سے بھی اس کا علاج کرواتے رہے لیکن اس کی حالت میں بہتری نہیں آئی۔ بعد میں ہم نے بھی علاج کروانا چھوڑ دیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس اس کا تمام میڈیکل ریکارڈ موجود تھا جسے ہم نے پولیس کو فراہم کر دیا ہے۔‘

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مشتاق کی بیوی اور دو بچے انھیں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ذوالفقار کے مطابق ’وہ کہتی تھی کہ اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں۔ وہ کماتا بھی نہیں نہ ہی خرچہ دیتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

مشتاق کے بھائی نے یہ بھی بتایا کہ وہ مبینہ طور پر ’اکثر اپنی بیوی کو مارتا بھی تھا۔ اس لیے جب پانچ سال پہلے اسے کورٹ کی طرف سے خلا کا نوٹس آیا تو میں نے اسے یہ سوچ کر نہیں بتایا کہ یہ پاگل کہاں عدالتوں کے چکر کاٹے گا۔‘

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ مشتاق کراچی منتقل ہوگیا تھا مگر اکثر گھر سے غائب رہتا تھا لیکن بیماری کے باوجود انھیں اپنے بہن بھائیوں کی پہچان تھی۔

’ہاں ایک بات وہ سب سے کرتا تھا کہ بھائی مجھے سو روپے دے دو۔۔۔ باجی مجھے سو روپے دے دو۔۔۔ مانگتا وہ سو روپے ہی تھا۔‘

خانیوال میں ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والا شخص

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتوہین مذہب کے الزام میں ہلاک کیے گئے شخص کی تدفین اتوار کے روز کر دی گئی

ذوالفقار بتاتے ہیں کہ ’بیس دن پہلے مشتاق میرے گھر چک 12 خانیوال آیا۔ یہاں وہ میرے پاس چھ دن رہا۔ میں نہیں جانتا وہ کیسے یہاں تک پہنچا لیکن چھ دن بعد مجھ سے کہا کہ بھائی مجھے سو روپے دے دو۔ میں نے کہا کہ سو روپے کا کیا کرے گا؟ تو کہنے لگا کہ دکان سے سگریٹ لے کر پیئوں گا۔ میں نے اسے سو روپے دے دیے اور وہ لے کر پھر غائب ہوگیا۔ جس کے بعد ہمیں نہیں پتا کہ وہ کہاں گیا۔

’جس مقام پر یہ واقعہ ہوا ہے وہاں سے 10 کلومیٹر دور میری بہن کا گھر ہے۔ اس کی ہلاکت سے دو روز قبل وہ میری بہن کے گھر چلا گیا اور دو دن وہاں رہا۔ وہاں سے بھی اس نے سو روپے لیے اور چلا گیا۔ اس کے بعد مجھے پولیس کی جانب سے اس کی موت کی اطلاع ہی ملی۔‘

’ہمارے دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے‘

ہلاک ہونے والے شخص کے بارے میں ابتدائی طور پر ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا کہ یہ شخص اس واقعے سے قبل علاقے میں نہیں دیکھا گیا تھا۔ کچھ مقامی لوگوں نے پولیس کو بتایا کہ مذکورہ شخص سنیچر کے روز سارا دن بھیک مانگتا رہا تھا۔

اس نویت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس واقعے سے دو ماہ قبل سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں سرلنکن شہری کو تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش کو آگ لگا دی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد بھی پولیس کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق مشتاق کی ہلاکت سے قبل ہی پولیس کو اس واقعے کی اطلاع مل چکی تھی لیکن اس کے باوجود بھی پولیس انھیں بچانے میں ناکام رہی۔

اس بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہو ڈی آئی جی آپریشز کامران عادل کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ’ہمارے دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

’جب ایس ایچ او کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر مسجد پہنچ گئے تھے۔ جتنی دیر میں پولیس نے مزید نفری بلائی اور اسے ریسکیو کرنا چاہا وہاں کافی بڑا مشتعل ہجوم جمع ہو گیا جس کی زد میں آکر ایس ایچ او بھی زخمی ہوا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ایسی صورت حال میں سب سے پہلے پولیس کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اس شخص کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا جائے تاکہ اس کی جان بچائی جاسکے۔

مشتاق کی ذہنی بیماری کے بارے میں بات کرتے ہوئی انھوں نے بتایا کہ ان کے لواحقین کی جانب سے پولیس کو تمام تر ریکارڈ دیا گیا ہے جس میں یہ بات واضع ہے کہ وہ شیزو فرینیا کے مریض تھے۔