مراد سعید: وفاقی وزاتوں کی کارکردگی پر وزیراعظم کی مبارکباد اور سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

،تصویر کا ذریعہCourtesy PM office
’سزا اور جزا کے بغیر کوئی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا، میں وفاقی وزیر مراد سعید کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اُن کی وزارت کارکردگی میں پہلے نمبر پر رہی۔ سب سے نوجوان وزیر اور سب سے بہتر پرفارمنس۔‘
یہ الفاظ وزیراعظم عمران خان کہ ہیں جو انھوں نے دس بہترین وفاقی وزارتوں کی رینکنگ کی تقریب سے اپنے خطاب کے دوران ادا کیے۔
وزیر اعظم کے اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مراد سعید کی کارکردگی پر تبصرے کرنے والوں کا جیسے تانتا بندھ گیا ہو۔ مگر پہلے ایک نظر دوڑاتے ہیں کہ دس وزارتوں پر جنھیں وزیراعظم سے بہترین کارکردگی کا ایوارڈ موصول ہوا ہے۔
ان دس وزارتوں میں وزارت مواصلات پہلے نمبر پر، اسد عمر کی وزارت پلاننگ کا دوسرا نمبر، یہ ریکنگ جاری کرنے والے شہزاد ارباب کی غربت کے خاتمے کی وزارت نے تیسرا، شفقت محمود کی وزارت تعلیم نے چوتھا، شیریں مزاری کی وزارت برائے انسانی حقوق نے پانچواں نمبر حاصل کیا ہے۔ چھٹے، ساتویں اور آٹھویں نمبر پر وزارت صنعت و پیداوار، نیشنل سکیورٹی ڈویژن اور کامرس اور تجارت کی وزارتیں ہیں۔
شیخ رشید کی وزارت داخلہ نے نواں جبکہ نیشنل فوڈ سکیورٹی کی وزارت نے دسواں نمبر حاصل کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے اس رینکنگ کو میعاری قرار دیا ہے مگر پھر بھی سوشل میڈیا پر ان وزارتوں کی کارکردگی کی علیحدہ سے بھی خبر لی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین یہ سوالات پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ یہ اسناد کن بنیادوں پر دی گئی ہیں، ان کی رپورٹ بھی شیئر کی جائے۔
عمران نامی ایک صارف نے وفاقی وزیر برائے داخلہ شیخ رشید اور وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کو آڑے ہاتھوں لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے لکھا کہ ’کیا ہم وزیرِ اعظم کے دفتر میں کارکردگی سے متعلق جمع کروائی گئی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں۔ میں انسانی حقوق اور داخلہ سے متعلق رپورٹ پڑھنا چاہوں گا، کیونکہ یہ نتائج ہضم کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ ان کی کارکردگی بظاہر بُری ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@PTIofficial
مکمل درجہ بندی دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وزارتِ خزانہ کا درجہ 17واں، اکنامک افیئرز ڈویژن کا آخری یعنی 23 واں اور وزارتِ ریلوے جو کچھ عرصہ قبل تک موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید کے پاس تھی، اس کا نمبر 19واں ہے۔
انیل اقبال نامی صارف نے رینکنگ سے متعلق ایک اہم نقطہ اٹھایا۔ انھوں نے لکھا کہ ’جس ملک میں فنانس اتنی ہی اہم ہے جتنی قومی سالمیت، وہاں وزارتِ خزانہ اور اکنامک ڈویژن کا رینک سب سے بُرا ہے۔ ریلوے کو بھی دیکھ لیں، یہ مکمل طور پر قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے۔‘
یہاں یہ بات بتانا بھی اہم ہے کہ پی ٹی آئی کے دور میں مختلف وزارتوں میں وزرا کو کئی مرتبہ تبدیل کیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اگلی دفعہ: انشااللہ
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کیونکہ پہلی دس پوزیشنوں پر آنے والی وزارتوں میں ہی اسناد تقسیم کی گئیں اس لیے جو وزارتیں یہ اسناد لینے میں ناکام رہیں، ان کے وزرا نے اگلی مرتبہ اچھی کاکردگی کی بات کی جن میں فواد چوہدری بھی شامل ہیں۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کابینہ کی دس وزارتوں کو مبارکباد پیش کی ہے اور ساتھ اس امید کا بھی اظہار کیا کہ وہ اگلی دفعہ اچھی کارکردگی دکھانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔
صارفین کی بڑی تعداد نے مراد سعید کی کارکردگی کو ہی موضوعِ بحث بنایا تاہم کچھ صارفین کی جانب سے وزارتِ ایوی ایشن کو تیسرا نمبر دینے پر سوالات اٹھائے گا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@smzrz
صارف محمد بلال نے بھی شکایت کی کہ مراد سعید کے دور میں گذشتہ تین برس میں ٹول ٹیکسز دگنا ہو گیا ہے اور اس پر پھر انھیں تعریفی سند بھی تھما دی گئی۔
ایک صارف زین رضا کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک بہترین طریقہ ہے کہ آپ وزارتوں کی کارکردگی کو پہلے سے متعین کردہ اہداف کے ذریعے پرکھیں، اور پھر اس سے مراعات اور انعام کو جوڑ دیا جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
ایک صارف نے لکھا کہ ’ایوی ایشن کو تیسرا نمبر دیا گیا ہے حالانکہ ہوا بازی کے وزیر نے یورپ میں ایئرلائن پر پابندی لگوا دی تھی اور پاکستانی پائلٹس کے لیے پوری دنیا میں بحران پیدا کر دیا تھا۔‘
تاہم امتیاز احمد نامی صارف نے لکھا کہ ’تاریخ میں پہلی بار جہموری اقدام، حکومتی کارکردگی کا عوام کے سامنے لانا سہی معنوں میں جہموریت کا حسن ہے۔‘











