پی ٹی آئی کی کارکردگی پی ٹی آئی کی اپنی اعلیٰ قیادت کی نظر میں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
رواں ہفتے وزير اعظم پاکستان عمران خان نے اپنی کابینہ سے کارکردگی معاہدے پر دستخط کروانے کے بعد تقریر میں کہا کہ اب وقت گزر گیا ہے کہ ہم یہ بہانہ پیش کریں کہ ہم نئے ہیں یا سیکھ رہے ہیں۔ ’ڈھائی سال کا جو وقت بچا ہے اب اس میں پرفارم کرنا ہوگا۔`
اسی موضوع پر جب بی بی سی اردو نے وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری سے بات کی تو انھوں نے پی ٹی آئی سمیت تمام صوبائی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس میں ہماری اپنی حکومت کے لوگ بھی شامل ہیں کیونکہ وہ صوبوں میں بیوروکریسی سے بھی کام نہیں کروا سکے۔
وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ جب وہ حکومت میں آئے تو انھیں معاملات اور چیزوں کو سمجھنے کا مناسب وقت نہیں ملا۔ عمران خان نے امریکہ کے نو منتخب صدر جوبائیڈن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں سوچ رہا تھا کہ جب جوبائیڈن اپنا آفس سنبھالیں گے تو ان کی کتنی تیاری ہو گی اور اس کے مقابلے میں میری کتنی تیاری تھی جب میں نے آفس سنبھالا۔
عمران خان کے مطابق ’جب میں نے حکومت سنبھالی تو 20 دن کا وقت بھی نہیں ملا اور ان دنوں میں بھی ہم اپنی حکومت بنانے کے لیے نمبر پورے کر رہے تھے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد انھیں حالات کو سمجھنے میں تین مہینے لگے۔
توانائی کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ہمیں ڈیڑھ سال تک صحیح ڈیٹا ہی نہیں دیا گیا۔ اس لیے حکومت سنبھالنے سے پہلے بریفنگ ہونی چاہیے تاکہ ان کے مطابق پالیسیز تشکیل دی جا سکیں۔‘
حزب اختلاف اور دیگر کچھ حلقوں کی جانب سے یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم نے دراصل اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی ہار تسلیم کی ہے۔
بی بی سی نے وزیر اعظم عمران خان کی اس تقریر کے بعد یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ تحریک انصاف کو حکومت چلانے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت کی اچھی کارکردگی کی راہ میں کیا روکاوٹیں ہیں؟
’اٹھارہویں ترمیم سب سے بڑی رکاوٹ ہے‘۔ وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے عمران خان کی تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم جس سیاق و سباق میں یہ بات کر رہے تھے وہ یہ ہے کہ جب آپ اقتدار میں آتے ہیں تو پہلے چھ مہینوں میں آپ اپنی ٹیم بنا رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ملک میں درپیش مسائل کو سمجھ رہے ہوتے ہیں۔
انھوں نے گورننس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سب بڑا مسئلہ اس وقت اٹھارہویں ترمیم ہے، جس کی وجہ سے کسی کو نہیں پتا کہ کس نے کیا کرنا ہے۔
انھوں نے اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی مثال دہتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں وفاقی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے کیونکہ یہ صوبوں کا کام ہے۔
اگر ہم صوبوں کی بات کریں تو میرے خیال میں اس وقت ہمارے تمام صوبے انتہائی بُری کارکردگی دکھا رہے ہیں، جس میں ہماری اپنی حکومت کے لوگ بھی شامل ہیں کیونکہ وہ صوبوں میں بیوروکریسی سے بھی کام نہیں کروا سکے۔
انھوں نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں وفاق کی جانب سے پنجاب کو 2600 ارب روپے دیے گئے۔
وفاقی وزیر کے مطابق سندھ کو 1600 ارب، خیبر پختونخوا کو 1100 ارب روپے جبکہ بلوچستان کو 600 ارب روپے دیے گئے ہیں۔ اب جب آپ یہ دیکھتے ہیں کہ یہ پیسہ کہاں خرچ ہوا تو کوئی کسی کو نہیں پتا کہ یہ پیسے کہاں گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے بیوروکریسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم صوبے کی بات کرتے ہیں تو دو لوگ ہی سب سے پہلے ہوتے ہیں ایک وزیر اعلیٰ اور اس کے بعد چیف سیکریٹری ہیں۔
انھوں نے گورننس میں ایک اور کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں سیاسی جماعتوں اور حکومت کے نیچے باقاعدہ ریسرچ کرنے والے ونگ ہوتے ہیں جو لیڈر شپ کو آگاہ کرتے ہیں کہ اصل زمینی حقائق اور بڑے مسائل کیا ہیں، جس کے بعد حکمت عملی دی ترتیب دی جائے۔
ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے اپنی پارٹی بھی یہ نہیں کر پائی ہے۔
انھوں نے گڈ گورننس میں حائل ایک اور رکاوٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں درست ڈیٹا کا موجود نہ ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے ہاں فیصلے جس بنیاد پر ہو رہے ہوتے ہیں وہ بنیاد ہی غلط ہے، جو گڈ کورننس کو متاثر کرتی ہے۔
مزید پڑھیے
حکومت اور بیوروکریسی کے تعلقات
تحریک انصاف کی حکومت اور پاکستان کی بیوروکریسی کے تقلقات کے پس منظر پر نظر ڈالیں تو مختلف واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت اور بیوروکریسی کے درمیان تعلقات گذشتہ ڈھائی سالوں میں خوشگوار نہیں رہے ہیں اور یہ کشیدگی آج بھی اپنی جگہ موجود ہے جس کا ذکر کل بھی وزیر اعظم نے بالواسطہ کیا۔
اس سے پہلے بھی وزیر اعظم سمیت حکومتی نمائندگان کی جانب سے کئی مرتبہ بیوروکریسی کو ملک میں گڈ گورننس نہ ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا چکا ہے۔
یہی نہیں بلکہ حکومت کے جانب سے اس کے ردعمل میں چیف سیکرٹریز سمیت کئی مرتبہ اعلیٰ افسران کو تبدیل کیا گیا جبکہ حکومت کی جانب سے ہمیشہ یہ موقف اپنایا گیا کہ پاکستان کی بیوروکریسی یعنی اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والے سینیئر سرکاری حکام تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں بعض سنگین نوعیت کے تحفظات کے باعث سست رفتاری یا 'گو سلو' کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جسے وزیراعظم عمران خان عدم تعاون قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب بیوروکریسی میں مسلسل تقرریوں اور تبادلوں کے باعث تشویش پائی جاتی ہے۔
یہی نہیں بلکہ گذشتہ دو برس کے دوران وفاقی اور صوبائی سطح پر کام کرنے والے بہت سے افسران نے وزیراعظم سے حکومتی نمائندگان کے رویوں اور کام کرنے کے طریقہ کار سمیت یہ شکایت بھی کی کہ نیب اہلکار انھیں بدعنوانی کی تحقیقات اور تفتیش کے نام پر ہراساں کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گڈ گورننس اور حالات کو کیسے بہتر بنایا جائے؟
اس معاملے پر بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے گورننس کے نظام پر گہری نظر رکھنے والی ماہر آسیہ ریاض نے کہا کہ سیاسی جماعتیں جب حکومت میں آتی ہیں تو وہ یہ سوچ رکھتی ہیں کہ فلاں اعلیٰ بیوروکریٹ نے ہماری حریف جماعت کے ساتھ کام کیا ہے تو شاید اب وہ ہمارے ساتھ کام نہیں کر سکتا ہے۔
اور یہی سوچ بیوروکریسی کو مزید مضبوظ بنا دیتی ہے جبکہ اصولاً سرکاری افسر کی وفاداری حکومت وقت کے ساتھ ہونی چاہیے۔
دوسری جانب بیوروکریسی حکومت کے ماتحت ہوتی ہے اور اس بارے میں ہمارے قوائد وضوابط اور ان کے کام کرنے کا طریقہ کار بہت واضح ہیں۔
اس لیے اگر وہ کام نہیں کر رہے ہیں تو حکومت وقت کے پاس یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ ان کو تبدیل کر سکیں۔ یہی نہیں بلکہ اگر انھیں لگتا ہے کہ بیوروکریسی سے متعلق قوائد وضوابط اور کام کرنے کا طریقہ کو تبدیل کرنے سے بہتری آسکتی ہے تو حکومت کو یہ کرنے سے کون روک رہا ہے۔
یہاں حکومت کا شکایت کرنا غلط ہے۔
آٹھارہویں ترميم اور این ایف سی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وفاق اگر اس پر شکایت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں تو میں مانتی ہوں کہ یہ بات درست ہے۔ یہ مسئلہ اس حکومت کو ہی نہیں بلکہ آنے والی حکومتوں کو بھی درپیش ہوگا۔ اس لیے میرے خیال میں اس کا دوبارہ جائزہ لے کر تبدلیاں کرنے میں کو حرج نہیں ہے کیونکہ اگر اس سے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے تعلقات میں بہتری آسکتی ہے تو یہ کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
یہاں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ حکومت نے اپنے پاس کون سے اختیارات رکھے ہوئے ہیں اور کون سے اختیارات انھوں نے کسی اور کے حوالے کیے ہوئے ہیں۔ جو اختیارات حکومت کے پاس ہیں اگر ان کے بارے میں بھی وزیر اعظم اور حکومت اگر یہ کہتی ہے کہ بیوروکریسی چلنے نہیں دے رہی تو اس میں کون قصور وار ہے۔
وہ سیاسی جماعت جو کہتی ہے کہ ہم نے 22 سال سیاسی جدوجہد کی اور کئی سالوں سے وہ کوشش کر رہی تھی کہ وہ اقتدار میں آئے، اب وہ اقتدار میں آنے کے بعد اگر یہ کہیں کہ ہماری تیاری نہیں تھی یا ہمیں اصل حقائق کا پتا ہی نہیں تھا تو تین سال وہ سیکھنے میں لگا دیتی ہے تو اس میں عوام کا تو کوئی قصور نہیں ہے، جنھوں نے انھیں ووٹ دیا ہے۔
ہماری سیاسی جماعتوں میں سب سی بڑی خامی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو گورننس کے لیے تیار نہیں کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم اتنے سالوں سے وہاں کے وہاں ہی کھڑے ہیں۔
ہمارے ملک کی سب سیاسی جماعتیں شکایات کرتی ہیں جبکہ وہ سمجھتی اور جانتی ہیں کہ ہمارے ملک میں بیوروکریسی کیسے کام کرتی ہے اور معاملات کیسے چلتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی ان کی کوئی پالیسی پلاننگ نہیں ہوتی ہے۔
اگر آج بھی وزیر اعظم امریکہ کے نظام کی مثال دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہاں کے صدر کو اقتدار میں آنے اور ہھر چیزیں سمجھنے کا وقت ملتا ہے تو انھیں یہ بھی سمجھنا چاہیے امریکہ میں صدارتی نظام ہے جبکہ پاکستان میں پارلیمانی نظام ہے اور حکومت میں آنے سے پہلے وزیر اعظم کو یہ بات پتا تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کابینہ میں زیادہ تر وزرا تجربہ کار ہیں اور گذشتہ حکومتوں کا بھی حصہ رہے ہیں؟
جب وزیر اعظم کہتے ہیں کہ اب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم سکیھ رہے رہے ہیں یا ہمارے پاس تجربہ نہیں تھا تو یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر کابینہ کے اراکان پر نظر ڈالیں تو اس میں شامل زیادہ تر وزرا وہ ہیں جو تجربہ کار ہیں اور وہ گذشتہ حکومتوں کا بھی حصہ رہے ہیں۔ اس کے باوجود بھی خراب کارگردگی کا ملبہ غیر تجربہ کاری پر ڈالنا مناسب ہو گا؟
اس سوال کے جواب میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ پرانے لوگ ہماری کابینہ کا حصہ ہیں، جن میں زیادہ تر ٹیکنو کریٹس ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ کل وزیر اعظم نے بھی یہی کہا ہے کہ احتساب اور سسٹم دونوں کو ایک ساتھ چلنا چاہیے۔
اگر ہم ٹیکنوکریٹ کی بات کریں تو وہ حقائق دیکھتے ہوئے فیصلے کرتے ہیں جبکہ حکومت کو عوام دوست فیصلے بھی کرنے ہوتے ہیں۔ اس لیے جو اتنے سالوں سے پالیسیاں چل رہی ہیں وہ ایک دو برس میں ٹھیک کرنا بہت مشکل ہے۔
ہمیں مسائل کو حل کرنے کے لیے اور چیزوں کو بہتر کرنے کے لیے متبادل فیصلوں کی طرف جانا ہو گا۔
انھوں نے پرفارمنس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہر وزیر کو مخصوص کام دیے گئے ہیں اور ان کاموں کی بنیاد پر اپنی کارکردگی دیکھنا ہو گی، جس کے بعد نمبر لگیں گے اور اس منسٹر کی پرفارمنس کا جائزہ لیا جائے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ حکومت گڈ گورننس میں حائل بیوروکریسی کے بارے میں بات کرتی ہے تو آپ اس مسئلے کو کیسے حل کریں گے، جس پر ان کا کہنا تھا کہ پرفارمنس معاہدے کے ذریعے ایک کوشش ہی ہے۔ دیکھیں آگے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔









