ہری سنگھ نلوا: ہزارہ ڈویژن کو تخت لاہور کے تابع کرنے والے سکھ گورنر کون تھے؟

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں ہری سنگھ نلوا کا مجسمہ مقامی انتظامیہ نے اُتار لیا ہے۔ پنجاب کے سکھ حکمران رنجیت سنگھ کے کامیاب ترین جنرل کے نام سے منسوب چوک پر یہ مجسمہ سنہ 2017 میں نصب کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ہری پور کے بانی کے مجسمے سے مذہبی سیاحت اور رواداری کو فروغ ملے گا۔

ڈپٹی کمشنر ہری پور اور اسٹنٹ کمشنر ہری پور سے اس مجسمے کو اپنی جگہ سے اکھاڑنے کی وجوہات جاننے کے لیے بی بی سی نے رابطہ کیا مگر اس خبر کی اشاعت تک انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اس مجسمے کی تعمیر پر 25 لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔

ہری پور کے جس چوک میں یہ مجسمہ نصب تھا وہ ’پڑیاں چوک‘ کہلاتا ہے۔ یہ شاہراہ قراقرم پر واقع ہے جو ہری پور کو اسلام آباد، راولپنڈی اور ایبٹ آباد سے ملاتی ہے۔

مقامی تاجروں کے مطابق مجسمہ ہٹانے کے بعد اس چوک پر جلی حروف میں ’صدیق اکبر چوک‘ لکھا گیا ہے جس کا مطالبہ مبینہ طور پر ایک مذہبی تنظیم کی جانب سے کیا جا رہا تھا۔ تاہم مقامی تاجروں کے مطابق مجسمہ ہٹانے سے قبل بھی بعض مقامی افراد اس چوک کو صدیق اکبر چوک کے نام ہی سے منسوب کرتے تھے۔

لمحوں میں مجسمہ اکھاڑ دیا گیا

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جمعہ کی شب ہری پور کے مصروف چوک میں تحصیل میونسپل کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نصب شدہ مجسمے کو اس کی جگہ سے اکھاڑ رہی ہے۔ موقع پر موجود ایک عینی شاید کے مطابق جمعہ کی شام میونسپل کمیٹی کے کارکن بڑی تعداد میں آئے جنھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے لمحوں میں مجمسہ اکھاڑ دیا۔

ایک اور عینی شاید کے مطابق ’ابھی کل ہی کی بات ہے کہ مجمسہ لگایا گیا تھا مگر جمعہ کی شب اچانک اس کو گرد دیا گیا۔ ہم نے اہلکاروں سے پوچھا کیوں توڑ رہے ہو تو کہنے لگے کہ اوپر سے احکامات آئے ہیں۔ مجمسہ توڑ کر وہ لمحوں میں چلتے بنے۔‘

’پاکستان کی مذہبی روداری کی پالیسی پر ضرب پڑی‘

صوبہ خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں سکھوں کے رہنما بابا گوپال سنگھ کا کہنا ہے ’ہم چاہتے ہیں کہ تاریخ اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کی جائے۔ یہ پاکستان کے روشن مستقبل اور روشن خیال چہرے کے لیے بہت ضروری ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’نئے شہر اور قصبے بنائیں اور اُن کا جو دل چاہتا ہے نام رکھیں، جیسے اسلام آباد کا نام رکھا گیا ہے، مگر مسلمہ اور تاریخی علاقوں کے نام اور مجسمے ہٹانے سے ریاست پاکستان کی رواداری کی پالیسی پر ضرب پڑتی ہے۔ اس سے حکومت کی جانب سے مذہی سیاحت کو فروغ دینے کے منصوبے پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔‘

مجسمہ لگانا ٹھیک تھا یا ہٹانا؟

شہری حقوق کے لیے قائم کردہ تنظیم ’ہم عوام‘ کے پیٹرن اِن چیف سردار فدا حسین کے مطابق سوچنا ہو گا کہ کل جب بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ ہری سنگھ نلوا کا مجسمہ لگایا گیا تھا، تو وہ اقدام صیح تھا یا اب مجسمہ مسمار کرنے کا؟

’مجسمہ نصب کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ مذہبی سیاحت اور رواداری کو فروغ دے رہے ہیں۔ آج مجمسہ مسمار کر کے کس چیز کو فروغ دیا گیا ہے؟ ایسے فیصلے کرنے والے بھول رہے ہیں کہ تاریخ کو نہ تو بدلا جا سکتا ہے نہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں تاریخ کو قبول کرنے کا ظرف پیدا کرنا چاہیے۔ ہری پور کے ذکر کے ساتھ ساتھ ہری سنگھ نلوا کا ذکر ضرور آئے گا۔ مجمسہ ہٹانے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔‘

رنجیت سنگھ کا سب سے کامیاب سپہ سالار

سکھوں کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے جہانداد خان تنولی کے مطابق ’ہری سنگھ نلوا سکھ خالصہ فوج کے سپہ سالار یا کمانڈر ان چیف تھے۔ رنجیت سنگھ کی سلطنت کے قیام اور اس کی فتوحات میں ہری سنگھ نلوا کا بہت بڑا کردار تھا۔ انھوں نے کم از کم بیس بڑی اور تاریخی جنگوں کی کمان کی یا ان میں حصہ لیا تھا۔‘

ان میں اہم ترین قصور، سیالکوٹ، اٹک، ملتان، کشمیر، پشاور اور جمرود کی جنگیں تھیں جن میں ہری سنگھ نلوا نے کمان کی تھی اور فتح حاصل کی تھی۔

جہانداد خان کا کہنا تھا کہ ’سکھوں ک دور میں ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں کہ سکھ حکمرانوں نے کوئی تعمیرات کی ہوں مگر ہری سنگھ نلوا نے کم از کم 56 مختلف عمارتیں تعمیر کروائی تھیں جن میں قلعے، گوردوارے، باغات، حویلیاں، اور سرائے عام شامل تھیں۔‘

جہاندار خان تنولی کے مطابق انھوں نے زیادہ تر عمارات آج کے صوبہ خیبر پختونخوا، کشمیر اور پنجاب میں تعمیر کروائی تھیں۔ جن میں سے کئی آج بھی موجود ہیں۔ کئی ایک کو ثقافتی ورثہ قرار دے کر محفوظ کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اُن کی فوجی زندگی اور فتوحات پر 19ویں صدی میں کئی یادگار گانے اور ترانے لکھے گے تھے۔ 20ویں صدی میں انڈیا کی ایک مشہور فلم میں ’میرے دیس کی دھرتی‘ پر ہری سنگھ نلوا پر گانا گایا گیا تھا۔ سنہ 2013 میں انڈیا کی حکومت نے ان کی یاد میں یادگاری ٹکٹ جاری کیا تھا جبکہ اس ہی سال ایک فلم بھی ریلیز کی گئی تھی۔‘

جہانداد خان تنولی کے مطابق ہری سنگھ نلوا کشمیر، پشاور اور ہزارہ میں گورنر بھی تعنیات رہے تھے۔

ہزارہ ڈویژن کو مطیع کرنے والا سکھ گورنر

صوبہ خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے اعجاز احمد کے مطابق ’ہری سنگھ نلوا کے بارے میں اس رائے کا اظہار کیا جاتا ہے کہ انھوں نے کچھ عرصہ ہی کے لیے سہی مگر اس پورے خطے کو تخت لاہور کے مطیع کر دیا تھا۔ رنجیت سنگھ نے انھیں یہاں پر بغاوتیں کچلنے کے لیے تعنیات کیا تھا کیونکہ ان سے پہلے تعنیات ہونے والے گورنر اس میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔‘

محقق صاحبزادہ جواد الفیضی کہتے ہیں کہ ’ہزارہ ڈویژن میں سکھ راج کے تخت لاہور کے خلاف شدید بغاوت تھی۔ کشمیر کا علاقہ سکھوں کے زیر تسلط آ گیا تھا مگر ہزارہ ڈویژن میں ایسا ممکن نہیں ہو رہا تھا یہاں تک کہ ہری سنگھ نلوا سے پہلے کم از کم تین سکھ جرنیل قتل ہوئے تھے جبکہ سنگھ گورنر امر سنگھ مجیٹھیا کو ایبٹ آباد کے علاقے گلیات کے گاؤں سمندر کھٹہ میں قتل کیا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ ڈویژن کا دربند کا علاقہ جس کا بیشتر حصہ تربیلا ڈیم کے نیچے آ چکا ہے اس زمانے کی طاقتور امب ریاست کا دارالحکومت تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’سکھوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت کی وجہ سے سکھوں کی کشمیر پر عملداری بھی مشکل ہوتی جا رہی تھی۔ ایسے میں امر سنگھ مجیٹھیا کا قتل تخت لاہور کے لیے چیلنج تھا۔‘

’اسی وجہ سے رنجیت سنگھ نے اپنے سب سے قابل بھروسہ سپہ سالار ہری سنگھ نلوا کو ہزارہ ڈویژن کا گورنر تعنیات کر کے بغاوت کو کچلنے اور سکھوں کی عمل داری قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہری سنگھ نلوا اس سے پہلے کشمیر کے گورنر تھے۔‘

صاحبزادہ جواد الفیضی بتاتے ہیں کہ ان علاقوں کی اہمیت تاریخ اور یہاں پر پائی جانے والے مزاحمت کو صرف اس واقعے سے سمجھ لیں جو مؤرخ ہری رام گپتا نے اپنی کتاب میں لکھی ہے۔

دربند کے آم

اس کتاب کے مطابق ’مہاراجہ رنجیب سنگھ نے اپنے سپہ سالار ہری سنگھ نلوا سے کہا کہ ہمیں پتا چلا ہے کہ دربند میں آم کے درختوں پر انتہائی لذیذ آم ہیں۔ جس پر ہری سنگھ نلوا نے جواب دیا کہ میرے آقا دربند ہمارے بہت بڑے دشمن پائندہ خان تنولی کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہ علاقہ دریائے سندھ کے کنارے پر واقع ہے۔ جہاں پر رسائی کافی مشکل ہے مگر آپ کا یہ تابعدار غلام اس پھل کو پہچانے کی پوری کوشش کرے گا۔‘

بعد میں دربند سے آم کا پورا درخت اکھاڑ کر دربار لاہور بھجوایا گیا تھا۔

صاحبزادہ جواد الفیضی کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے رنجیت سنگھ نے دربند کے آم کے لیے تو ہری سنگھ نلوا کو سندیسہ نہیں بھجوایا ہو گا بلکہ یہ تخت لاہور کی جانب سے ہزارہ ڈویژن میں تعینات اپنے سب سے قابل سپہ سالار کو اچھے الفاظ میں ایک ڈھکا چھپا پیغام تھا۔ جس کو یقینی طور ہر ہری سنگھ نلوا نے بھی سمجھ لیا ہو گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’آم کا درخت بھجوانے کا مطلب بھی عمل داری کو قائم کرنا یا کسی حد تک کچلنا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

جہاندار خان تنولی کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ایبٹ آباد کا وجود نہیں تھا۔ ایبٹ آباد کے اردگرد کچھ علاقے موجود تھے۔ ہری پور کے مقام کو ہزارہ ڈویژن کا داخلی راستہ سمجھا جاتا تھا۔ ہری سنگھ نلوا ایک جہاندیدہ سپہ سالار تھے۔ انھوں نے مقامی لوگوں کی بغاوتیں کچلنے کے لیے اپنا مرکز آج کے ہری پور کے مقام پر قائم کیا تھا۔

قلعہ ہرکشن گڑھ اور ہری پور

اعجاز احمد کے مطابق ہری سنگھ نلوا نے ہری پور شہر کی بنیاد سنہ 1823 میں رکھی تھی۔ انھوں نے سب سے پہلے یہاں پر ایک قلعہ ہرکشن گڑھ بنوایا تھا۔ یہ قلعہ دفاعی نقطہ نظر سے بنایا گیا تھا۔ ہری سنگھ نلوا نے ہزارہ ڈویژن میں اسی علاقے کو اپنا صدر مقام بھی بنایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قلعے سے شہر کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس شہر کو بہترین نقشے پر بنایا گیا تھا۔ یہ شہر بھی قلعہ بند تھا۔ اس میں چھ دروازے تھے۔ جس میں شیرانوالہ گیٹ آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ قلعے کے اردگرد خندق بنائی گئی تھی۔ شہر کے لیے بہترین نہری نظام بنایا گیا تھا۔

اعجاز احمد کے مطابق ہری پور کا قلعہ اب بھی موجود ہے۔ اس کے ایک حصے میں پولیس سٹیشن اور دوسرے حصے میں تحصیل کچہری کا دفتر ہے۔

بعد میں انگریز دور کے اندر بھی اس شہر کا نام ہری کے قصبے سے ہری پور پڑ گیا تھا۔ مقامی لوگوں کے مشورے سے اس کو ہری پور ہی کا سرکاری نام دیا گیا تھا جو کہ انگریز دور سے چلا آ رہا ہے۔