آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تخت باہی: خیبر پختونخوا میں ’بدھا کا 1700 سال پُرانا مجسمہ‘ توڑنے والے افراد گرفتار
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں تخت باہی کے مقام کے قریب ایک مکان کی کھدائی کے دوران دریافت ہونے والے بدھا کے تقریباً 1700 سال پرانے مجسمے کو توڑنے والے افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ تعمیراتی کام کنرے والے مقامی ٹھیکیدار نے وہاں موجود ’مذہبی رہنماؤں کے کہنے پر‘ مجسمے کو توڑا تھا۔
تخت باہی پولیس تھانے کے انسپکٹر فیض محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ کی درخواست پر نوادرات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں ٹھیکیدار اور اس کے مزدور شامل ہیں۔
اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کی اطلاع کے مطابق کھدائی کے دوران ایک بیش قیمت بت برآمد کیا ہے اور پھر اس کو توڑ دیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ آثار قدیمہ کو توڑنا غیر قانونی عمل ہے اور نوادرات ایکٹ کی دفعات 44، 24، 18، اور سیکشن 57، 60 اور 63 کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس انسپکٹر فیض محمد نے بتایا کہ اس بدھا کا سر نہیں تھا اور انھوں نے ٹانگوں تک بدھا کو توڑدیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے کہ انھیں کسی مذہبی رہنما نے کہا کہ اسے توڑ دینا چاہیے بلکہ انھوں نے خود اس بدھا کو اپنے طور پر توڑا ہے۔
اس ویڈیو میں جو لوگ بدھا کو توڑ رہے ہیں وہ آپس کی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ ’مبارک ہو مبارک ہو‘ اور وہ اس بدھا پر نام کے کندہ ہونے کا بھی کہہ رہے ہوتے ہیں۔
ڈائریکٹر آثار قدیمہ عبدالصمد خان نے کہا ہے کہ کم علمی کی وجہ سے یہ بدھا توڑا گیا ہے حالانکہ یہ انتہائی نایاب بدھا ہیں جو اس خطے میں پائے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں ایسی کوئی بات معلوم نہیں ہوئی کہ کسی مذہبی رہنما نے انھیں بت توڑنے کا کہا ہو لوگوں نے خود اپنے طور پر یہ بت توڑا ہے۔
مجسمہ ملا کہاں؟
بدھا کا یہ مجسمہ ضلع مردان کی تحصیل تخت باہی کے قریب ایک دیہات سربنڈی سے ملا ہے۔
صوبائی دارالحکومت پشاور سے 80 کلو میٹر دور تخت باہی بدھ مت آثار قدیمہ کے باقیات کے حوالے سے اہمیت کا حامل مقام ہے جس کی تاریخ تقریباً دو ہزار سال پرانی ہے۔
ڈائریکٹر آثار قدیمہ خیبر پختونخوا عبدالصمد نے بی بی سی کو بتایا کہ گاؤں میں ایک مکان کی کھدائی کے دوران بدھا کا یہ مجسمہ دریافت ہوا لیکن وہاں موجود لوگوں نے اسے توڑ دیا ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ جب مکان کی کھدائی کے دوران یہ مجسمہ ملا تو اس موقع پر ’مقامی مذہبی رہنما آئے اور انھوں نے کہا کہ بدھا کے اس مجسمے کو توڑ دو۔‘ اس تجویز پر وہاں ٹھیکیدار اور مزدوروں نے مجسمے کو ہتھوڑے کی مدد سے توڑ دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس مجسمے کو توڑنے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔
بی بی سی نے خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر عبدالصمد خان کا کہنا ہے کہ انھیں اس بارے میں جیسے ہی معلوم ہوا، انھوں نے اس پر کارروائی کی۔
انھوں نے کہا کہ ’بدھا کا یہ مجسمہ کوئی 1700 سال قدیم معلوم ہوتا ہے اور مقامی لوگوں کو چاہیے تھا کہ وہ متعلقہ حکام کو اس بارے میں اطلاع دیتے۔‘
تخت باہی: بدھ مت تہذیب کا امین
تخت باہی میں آثار قدیمہ کے متعدد کھنڈرات پائے جاتے ہیں اور ماضی میں یہ مقام بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے اہم مذہبی اور علمی درسگاہ رہا ہے۔
یہاں کوئی دو ہزار سال پہلے کی تہذیب و تمدن، رہن سہن اور اس وقت کے گاؤں اور ان کے آثار یہاں موجود ہیں۔ تخت باہی ضلع مردان سے کوئی 30 کلومیٹر دور واقع ہے۔
اس علاقے میں صرف تخت ہاہی کے آثار قدیمہ ہی نہیں بلکہ آس پاس تیرہ سے چودہ ایسے قدیم مقامات ہیں جن کا تعلق بدھ مت اور اشوک بادشاہ کے دور سے ہے۔ یہاں بدھا کے مجسمے اور تاریخی سلیپنگ سٹوپا بھی پائے جاتے ہیں۔
یہ کھنڈرات برطانوی دور میں سنہ 1836 کے آس پاس دریافت ہوئے تھے اور 1852 میں کھدائی شروع کی گئی تھی۔ یو نیسکو نے 1980 میں ان آثار قدیمہ کو بین الاقوامی ورثہ قرار دیا تھا۔
سوشل میڈیا پر اس بارے سخت رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے جس میں متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
یہ رائے بھی سامنے آئی ہے کہ اس طرح کے قدیم مجسمے پوری دنیا کے لیے نایاب اثاثہ ہوتے ہیں۔
’عدم تشدد کی پالیسی اپنانا ہو گی‘
بی بی سی نے اس واقعے پر سرحد کنزرویشن نیٹ ورک اور ہیریٹیج کے نمائندہ ڈاکٹر عادل ظریف سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کا ایک مقصد لوگوں میں آگہی اور معلومات فراہم کی جائیں تاکہ انھیں معلوم ہو سکے کہ یہ اس ملک میں انمول اثاثہ ہے۔
’گندھارا تہذیب اس علاقے میں پائی جاتی ہے اور تخت باہی اس علاقے کی شناخت ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس مجسمے کو محفوظ کرنا چاہیے۔ ’اسے تباہ کرنا مناسب نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس بارے میں سکولوں و کالجوں میں لوگوں کو آگہی دینے کی ضرورت ہے۔ ’کچھ عرصہ قبل جو نصاب اور تقریروں کے ذریعے جو سوچ بنائی گئی تھی اسے تبدیل کرنا ہو گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اب ’جہادی کلچر‘ سے ہٹ کر ہمیں عدم تشدد کی پالیسی اپنانا ہو گی۔ نصاب میں تبدیلی لانا ہو گی اور لوگوں کی ذہنی تربیت کرنا ہو گی تاکہ ہم اس طرح کے اثاثے محفوظ بنا سکیں۔‘
ڈاکٹر عادل ظریف نے بتایا کہ تخت باہی میں متعدد مقامات ایسے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس مکان کے قریب مزید ایسے نوادرات ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام اور عام لوگوں کو یہ علاقہ محفوظ بنانا چاہیے۔