آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے ٹیکسلا میں صلیبی شکل کا سٹوپا انتہائی مقدس
- مصنف, عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ٹیکسلا
بدھ مت دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک ہے مگر پاکستان میں اس کے پیروکاروں کی تعداد نہایت کم ہے۔ اس کے باوجود یہاں گوتم بدھ کے عقیدت مندوں کے آنے کے لیے قدیم مقامات اور قیمتی نوادرات موجود ہیں۔
ملک میں گذشتہ کچھ عرصے سے مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کرتارپور راہداری سمیت مختلف منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں گندھارا ورثے میں غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی کے پیش نظر بدھت مت سے منسلک مقامات زیرِ غور ہیں۔
ٹیکسلا پانچویں صدی قبل مسیح سے دوسری صدی تک بدھ مت کی تعلیمات کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں مختلف سٹوپا، عبادت گاہیں اور آثارِ قدیمہ ہیں جن سے مذہبی سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے۔
یہ جگہیں نہ صرف پاکستان کے قدیم مقامات میں سے ہے بلکہ انھیں بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے ایک اہم عبادت گاہ کا درجہ بھی حاصل ہے۔ خطے میں میانمار، نیپال اور کوریا سمیت کئی ممالک ہیں جہاں اس مذہب کے ماننے والے بڑی تعداد میں آباد ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’بھمالہ سٹوپا سب سے مقدس‘
ٹیکسلا میں بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے گذشتہ ہفتے ایک قدیم مقام پر ساتویں صدی کے بعد ایک بار پھر خاص عبادت کی تقریب منعقد کی گئی۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ کے زیر نگرانی یہ تقریب ضلع ہری پور میں واقع بھمالہ سٹوپا پر ہوئی۔ یہاں کوریا سے آئے راہبوں نے امن اور سلامتی کا پیغام دیا۔
اس بارے میں کوریا کے بزرگ راہب ڈاکٹر ثنم کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے دنیا میں سات انتہائی مقدس مقامات ہیں۔ ان میں سے یہ سب سے مقدس مقام ہے۔ اس کا مطلب ہے یہاں پوری کائنات کی طاقت جمع ہوجاتی ہے۔‘
’ہمارے لیے یہ ایک اہم مقام ہے۔ ہم پر اس جگہ کا ایک انوکھا اثر ہوتا ہے۔‘
خانپور ڈیم کے قریب یہ جگہ ایک قدرتی ٹیلے پر واقع ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ قدیم جگہ اوپر سے صلیب نما ہے اور اپنی اس منفرد شکل کے ساتھ یہ گندھارا تہذیب کی آخری نشانیوں میں سے ہے۔
بھمالہ سٹوپا پہنچنے کے لیے خانپور ڈیم کے قریب سے ایک راستہ نکلتا ہے۔ سڑک کی حالت تو اتنی اچھی نہیں لیکن پہاڑوں کے دامن میں دریائے ہرو کا نظارہ سفر کی تھکاوٹ دور کردیتا ہے۔
یہ قدیم سٹوپا 1930 کی دہائی میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر جان مارشل نے دریافت کیا، جنھوں نے سندھ کے شہر لاڑکانہ میں موئن جو دڑو بھی دریافت کیا تھا۔ یونیسکو کی فہرست میں شامل اس تاریخی مقام کے کچھ آثار ٹیکسلا میوزیم میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
اس مقام پر پہنچنے پر اور درجنوں سیڑیاں چڑھنے کے بعد آپ کو صلیب کی شکل کا سٹوپا نظر آئے گا جہاں ہزارہ یونیورسٹی کے طلبہ اکثر اپنے معائنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ ادھر تین مرتبہ باقاعدہ کھدائی ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود ماہرین یہاں مزید کام کے بعد اہم دریافتوں کے لیے پرامید ہیں۔
سٹوپا کے چاروں اطراف سیڑھیاں ہیں اور یہیں بدھ مت کے پیروکار عبادت کرنے آتے ہیں۔ اس مقام پر پہلے سے موجود چونے کے بت، عبادت خانے اور نوادرات دیکھے جاسکتے ہیں۔
خوابیدہ بدھا کا مجسمہ
ماہرین کے مطابق بھمالہ سٹوپا سے درآمد خوابیدہ بدھا کا مجسمہ کنجور پتھر کا ہے اور ممکن ہے کہ یہ خطے میں بدھ مت کے قدیم مجسموں میں سے ہے۔
ٹیکسلا میوزیم کے کیوریٹر عبدالناصر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پوری دنیا میں گندھارا تہذیب کے باقیات کے لیے افغانستان میں ہدہ اور پاکستان میں ٹیکسلا مشہور ہیں۔‘
’گندھارا تہذیب کی مذہب سے جڑی آرٹ پوری دنیا میں مقبول ہے۔ اس آرٹ کے مقاصد مذہب کا فروغ اور عبادت تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ آرٹ گھروں میں نہیں بلکہ کسی سٹوپا میں راہب کی سربراہی میں بنائی جاتی تھی۔ جیسے ہم (مسلمان) مسجد بناتے ہیں، اسی طرح یہ مجسمے خاص عبادت کے طریقوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔‘
’ان مجسموں کے کپڑے، زیور اور انداز پوری دنیا میں تقریباً ایک جیسے نظر آتے ہیں۔‘
بھمالہ سٹوپا سے برآمد ہونے والے مجسموں کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ’خوابیدہ بدھا کے مجسمے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ گوتم بدھ کے دنیا سے جانے کی نشان دہی کرتا ہے۔‘
سیاحت کے فروغ کے لیے مذہبی ہم آہنگی ضروری سٹوپا پر ہونے والی تقریب کے منتظمین میں شامل صدف رضا نے بتایا کہ راہب یہاں کوریا سے یہ دیکھنے آئے ہیں کہ پاکستان میں گندھارا تہذیب کے حوالے سے حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔
’اگر ہم ان مقامات کو ان کے لیے کھول دیں گے اور اس کی بہتری کے لیے کام کریں گے تو نہ صرف ہمارے ملک میں سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ انھیں ان کے سکون کی جگہ مل جائے گی۔‘
یہ عبادت انوکھی اس لیے بھی تھی کہ اس کا مقصد علاقائی امن کا حصول تھا۔
راہب ڈاکٹر ثنم نے تقریب کے دوران کشمیر کے مسئلے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اس خطے میں امن و سلامتی دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملے۔
’ہم سب ایک ہیں۔ ہمارے لیے پاکستان ہمارے ملک جیسا ہے۔ چاہے آپ بدھ مت کے پیروکار ہوں یا اسلام کو مانتے ہوں، ہم سب ایک ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں، ایک دوسرے کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا یہ نہیں چاہتا۔ ہم آفاقی حکم کی نافرمانی کر رہے ہیں۔‘
’میں اس خطے میں امن لانا چاہتا ہوں کیونکہ ہم سب ایک جیسے ہیں۔‘
اس خصوصی عبادت کے دوران راہب ڈاکٹر ثنم نے یہاں کی عبادت گاہوں اور خانقاہوں پر دودھ اور پھلوں کا چڑھاوا چڑھایا۔
۔