آمنہ مفتی کا کالم ’اڑیں گے پرزے‘: پڑا ہوا جزیرہ، مرا ہوا دریا

- مصنف, آمنہ مفتی
- عہدہ, مصنفہ و کالم نگار
ہاؤسنگ کالونیز بنانے کا مرض، نئے شہر بنانے کا مراق، زرعی زمینیں اجاڑ کے ان پہ کنکریٹ کے ویرانے بنانے کی بیماری تو خیر پرانی ہے۔ راوی ریور فرنٹ کا منصوبہ البتہ ماحول کی اس بربادی کی کہانی میں ایک نیا باب کھلا ہے۔
کتنے ہی برسوں سے ترقی، روزگار میں اضافے، سرمایہ کاری اور بڑھتی آبادی کی رہائشی ضروریات پوری کرنے کے نام پہ کالونی در کالونی ایک وحشت ناک آبادی پھیلائی جا رہی تھی لیکن ابھی دیوانگی، سمندروں، افتادہ جزیروں اور دریاوں کی چھوڑی زمینوں سے دور تھی۔ کچے کے علاقے، اب بھی کافی حد تک اپنی اصل حالت میں برقرار تھے۔
انسان کی ہوس کا کوئی کنارہ نہیں، زمین بیچ کر کھانے والے، زرعی زمینیں اجاڑتے اجاڑتے اب اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ ان کی نظریں کراچی کے پاس یوں ہی ’پڑے ہوئے جزیروں‘ اور بڈھے راوی کے کناروں پہ بھی پڑ گئیں۔
ارباب حل و عقد کا یہ ہے کہ کرایہ دار ہیں اپنا مکان تھوڑی ہے کے مصداق، جتنے منصوبوں کا افتتاح کر جائیں، جس قدر دوستوں کو خوش کر جائیں، اور جس جس پیارے کو نواز جائیں بس یہ ہی حکمرانی کی معراج ہے۔

،تصویر کا ذریعہMeinhardt group
نہ کسی نے کبھی ماحول کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور نہ یہ جاننے کی زحمت کی ہے کہ جو منصوبے آپ بنانا چاہتے ہیں، جو جنگلات اگانے کے آپ دعوے کر رہے ہیں ان سے پہلے بھی یہاں جنگل تھے، بیلے تھے، قدرتی، ٹبے،ٹویے، ٹیلے اور ٹیکریاں تھیں۔
ان ٹبوں پہ آبادیاں تھیں اور اب آبادیوں میں وہ لوگ بستے تھے جو ان دریاوں کے اسرار سمجھتے تھے۔
جب اجنبی حکمرانوں نے آبپاشی کے نظام کے نام پہ ماحول سے چھیڑ چھاڑ شروع کی تو کون جانتا تھا کہ ایک دن یہ مقدس دریا صرف سیوریج کے نالے بن کر رہ جائیں گے۔
آمنہ مفتی کے دیگر کالم پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سمندر سے زمین چھین کر خاک اڑانے والوں نے اب یہ سوچا کہ بڈھے راوی کا بھی تو کوئی پرسان نہیں چنانچہ گدھوں کے یہ پرے، راوی کی لاش پہ اتر آئے جہاں پہلے ہی چیل گوشت کی بھوکی چیلیں چلچلاتی، حیران اڑ رہی تھیں۔
اب ایسا ہے کہ ماحول کا نوحہ لکھنے والے معدودے چند لوگوں کی آواز سنی گئی اور کچھ مدت کے لیے یہ منصوبہ ملتوی ہو گیا ہے لیکن تاوقتیکہ؟
کوئی دن جاتے ہیں کہ راوی کا کنارہ کنکریٹ کا جنگل بن جائے گا اور بچا کھچا یہ دریا بھی کالونی برد ہو جائے گا۔ یہ آشنا دریا، انسانی ہوس کی نذر ہو جائے گا۔
جھیلوں، بیراجوں اور جنگلات کی کہانیاں ہم نے بہت سن رکھی ہیں۔ جہاں رہائشی آبادیوں میں انسانوں کے لیے بنیادی انسانی سہولیات گیس بجلی پانی تک مہیا نہیں کی جاتیں وہاں دریا کو کون سانس لینے دے گا؟

،تصویر کا ذریعہRUDA.GOV.PK
بڑھتی آبادی کے لیے رہائش کی سہولت ،سرمایہ کاری کا فروغ اور روزگار میں اضافے کے سبز باغ دکھانے والے بھی جانتے ہیں کہ وہ سچ نہیں کہہ رہے۔ سچ یہ ہی ہے کہ جو ظلم ہم ماحول کے ساتھ کرتے آ رہے تھے اس کڑی میں یہ منصوبہ ظلم عظیم ہو گا۔
سیانا آدمی کبھی سانپ کی لکیر اور دریا کے راستے پہ پاؤں نہیں رکھتا ۔ اس میں جو حکمت ہو وہ وہی جانتے ہیں جنھوں نے سانپ کا راستہ کاٹا ہو یا دریا کے رستے پہ پیر دھرا ہوا۔ کوئی بھی جزیرہ پڑا ہوا نہیں ہوتا اور کوئی دریا مرا ہوا نہیں ہوتا،مشتری ہوشیار باش!












