تاحیات نااہلی کے خلاف بار ایسوسی ایشن کی عدالت عظمیٰ میں درخواست پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کے اعتراضات

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کی گئی درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے تاحیات نااہلی کے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ عدالتِ عظمیٰ اس قانون پر نظرثانی کرے۔
رجسٹرار آفس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں یہ واضح نہیں کیا کہ اس میں وہ کون سے ایسے عوامی مفادات ہیں جن کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت آئین کے آرٹیکل 184 کے سب سیکشن تین کے تحت کارروائی عمل میں لائے۔
اعتراض میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آئینی درخواست میں دو متضاد استدعا کی گئی ہیں اور اس کے علاوہ رجسٹرار آفس کی طرف سے لگائے گئے اعتراض میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ آرٹیکل 184 کے سب سیکشن تین کے تحت اٹھائے گئے نکات تسلی بخش نہیں۔
رجسٹرار آفس کی طرف سے اس اعتراض میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن افراد کی نااہلی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کی گئی ہے اس سلسلے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔
اس اعتراض میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ پہلے سے ہی موجود ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے ان اعتراضات کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔
واضح رہے کہ سنہ 2017 میں سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو تاحیات نااہل قرار دیتے ہوئے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے سے روک دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ تاحیات نااہلی کے اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 184 کے سب سیکشن 3 کے تحت سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ کے طور پر امور سرانجام نہیں دے سکتی کیونکہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہیں ملتا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہ ملنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کسی معاملے کا از خود نوٹس بھی اسی قانون کے تحت لیتی ہے۔
درخواست میں یہ مؤقف بھی اپنایا گیا ہے کہ اپیل کے حق کے بغیر کسی بھی شخص کی تاحیات نا اہلی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپیل کے حق کے بغیر تاحیات نا اہلی متعلقہ حلقہ کے ووٹرز کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
اگر یہ درخواست سماعت کے لیے منظور ہو جاتی ہے اور سپریم کورٹ اس کے حق میں فیصلہ صادر کرتی ہے تو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو بھی براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
عدالت عظمیٰ نے ان دونوں کو اپنے مالیاتی گوشواروں میں درست اثاثے ظاہر نہ کرنے کی بنا پر تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔
دونوں رہنماؤں کی نااہلی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہوئی تھی اور عدالت کا کہنا تھا کہ دونوں غلط بیانی کے مرتکب پائے گئے تھے، اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے اور یوں ان کی نااہلی تاحیات رہے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images/AFP
نواز شریف کو جولائی سنہ 2017 میں جبکہ جہانگیر ترین کو دسمبر2017 میں نااہل قرار دیا گیا تھا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اپریل 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے تاحیات ناہلی سے متعلق درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے آئین کے اس آرٹیکل کو برقرار رکھا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ قانون مستقل رہے گا اور یہ عوام کی ضرورت کے عین مطابق ہے کیونکہ لوگ چاہتے ہیں کہ انھیں انتخابات کے نتیجے میں ایسے رہنما میسر آئیں جو کہ صادق اور امین ہوں۔
اس بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا تھا کہ سماعت کے دوران کچھ وکلا کی طرف سے یہ معاملہ بھی اٹھایا گیا کہ تاحیات نااہلی کا قانون غیر مناسب اور زیادہ سخت ہے، جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا تھا کہ یہ معاملہ عدالت میں اٹھانے کے بجائے پارلیمنٹ میں لایا جائے اور وہ اس بارے میں فیصلہ کرے۔
یہ بھی پڑھیے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کی جانے والی حالیہ درخواست میں متعدد ایسے مقدمات کا حوالہ دیا گیا جن میں عدالت نے مختلف ادوار میں سیاست دانوں کو اسی قانون کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔ ان میں زیادہ تر فیصلے سنہ 2013 سے سنہ 2018 کے درمیانی عرصے کے ہیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ سنہ 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم ہونے والے لارجر بینچ نے تاحیات نااہلی کے قانون سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران نواز شریف اور جہانگیر ترین کو براہ راست درخواست دے کر فریق بننے کا نہیں کہا تھا، تاہم جسٹس ثاقب نثار نے یہ ضرور کہا تھا کہ اگر کوئی شخص اس قانون سے متاثر ہوا ہو اور اس میں فریق بننا چاہے تو اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے۔
اس کے باوجود مذکورہ افراد نے فریق بننے کے لیے درخواست نہیں دی تھی۔









