خیبر پختونخوا: شانگلہ کے قریب لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاکتیں حادثہ یا انتظامیہ کی غفلت؟

لینڈ سلائیڈ

،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’اگر میرے ماموں کی درخواستوں پر بروقت کارروائی کی جاتی تو آج ان کا خاندان اس طرح تباہ و برباد نہ ہوتا۔ انھوں نے لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو کئی درخواستیں دی تھیں مگر ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انتظار کیا جاتا رہا کہ کوئی حادثہ ہو تو حکومت اور انتظامیہ حرکت میں آئے۔‘

یہ کہنا تھا خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کی تحصیل آلپوری کے گاؤں موتہ خان میں لینڈ سلائیڈنگ نے نتیجے میں ہلاک ہونے والے خورشید علی کے بھانجے خالد خان کا۔

شانگلہ ریسیکو 1122 کے مطابق سنیچر کو رات گئے تک جائے حادثہ سے چھ لاشوں اور چار زخمیوں کو نکالا گیا ہے۔

شانگلہ ریسیکو 1122 کے مطابق الپوری کے علاقے گاؤں موتہ خان میں تقریباً چھ دن قبل لینڈ سلائیڈنگ کا نشانہ بننے والے مکان سے کم سن بچے راحیل کی لاش کو بر آمد کر لیا گیا ہے۔ راحیل ہلاک ہونے والے خاندان کے سربراہ خورشید علی کا نواسا تھا۔

اس طرح لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد چھ ہو چکی ہے۔ جس میں خاندان کے سربراہ خورشید علی، ان کے دوست عبدالکلام، خورشید علی کی دو نواسیاں، ایک نواسا اور ایک پوتا شامل ہے۔

شانگلہ ریسیکو 1122 کے مطابق بچے کی لاش ملبے تلے دب چکی تھی۔ عملی طور پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے تین منزلہ مکان کا نام و نشان ہی مٹ چکا تھا۔ اس ریسیکو آپریشن میں مجموعی طور پر ضلع لوئر کوھستان، سوات، مالاکنڈ کے 130 سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا۔

لاش کی تلاش کا کام ہیوی مشنیری، سرچ کیمرے اور سینسر ڈیوائسز کی مدد سے کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ الپوری بشام روڈ کو گذشتہ روز ہی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا۔

لمحوں میں تین منزلہ مکاں کا نشان ختم ہو گیا

اس واقعے کے عینی شاہد جمشید خان کہتے ہیں کہ 'ہم اپنے دوستوں کے ساتھ اس مقام سے تھوڑا فاصلے پر کھڑے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ اوپر سے بڑے پتھر نیچے لڑھکنا شروع ہوئے ہیں۔ مجھے اسی وقت اندازہ ہو گیا کہ یہ خورشید علی کے گھر پر گرنے والے ہیں۔ میرے ساتھ موجود کچھ لوگ خورشید علی کے گھر کی طرف دوڑے کچھ نے آوازیں لگانا شروع کیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ اوپر سے لڑھکتے پتھر خوفناک آواز پیدا کر رہے تھے۔ 'گھر کی طرف دوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ لڑھکتے پتھر لمحوں میں تین منزلہ مکان پر گر چکے تھے۔ مکان کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔

ہم موقع پر پہنچے تو دیکھا کہ مکان کا زیادہ تر ملبہ ندی میں پڑا ہوا تھا۔ اس وقت ندی کا بہاؤ بھی انتہائی تیز ہو گیا تھا۔'

لینڈ سلائیڈنگ کے اس حادثے میں اس گھر کے سربراہ خورشید علی، ان کی دو کم سن نواسیاں، ایک پوتا اور ایک دوست ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ حادثے کے وقت گھر میں موجود خواتین جن میں خورشید علی کی اہلیہ، ان کی بیٹی، بہو، اور دو ماہ کی پوتی زخمی ہیں۔

خورشید علی نے اس واقعے سے دس ماہ قبل مقامی انتطامیہ کو اس خطرے سے تحریری طور پر آگاہ کیا تھا جس کے دستاویزی شواہد موجود ہیں۔

خورشید علی خان

،تصویر کا ذریعہKhalid Khan

،تصویر کا کیپشنلینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاک ہونے والے خورشید علی خان

خدا کے لیے رحم کرو میرے بچے مر جائیں گے

آلپوری بشام شاہراہ تقریباً 35 کلومیٹر طویل ہے جو کہ پتھریلے پہاڑ سے گزر کر بشام ہائی وے سے جا ملتی ہے۔ چند سال قبل اس شاہراہ کی توسیع کی گئی اور اس کے لیے مختلف مقامات سے پہاڑ کو کاٹا گیا تھا۔

خورشید علی خان کا گھر اس شاہراہ کے بالکل اوپر ایک ایسے ڈھلوانی مقام پر تھا جہاں سڑک کی توسیع کے لیے پہاڑ کٹائی کے بعد کمزور ہو گیا تھا اور وہاں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

خورشید کے بھانجے خالد خان کے مطابق ان کے ماموں نے متعدد مرتبہ انتظامیہ کی توجہ اس طرف مبذول کروانے کی کوشش کی اور کئی درخواستیں بھی دی کہ ان کے گھر اور ملحقہ علاقے میں سڑک کی توسیع کے دوران پہاڑ کی کٹائی سے لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔

خالد خان بتاتے ہیں کہ 'مجھے علم ہے کہ اپنی تیسری درخواست میں میرے ماموں نے کہا تھا کہ خدا کے لیے ہم پر کچھ رحم کرو۔ میرے بچے مر جائیں گے۔ ہمارا گھر عین اس جگہ پر ہیں جہاں اوپر سے بڑے بڑے پتھر گر سکتے ہیں۔ ان پتھروں تلے میرے بچے دب جائیں گے اور ہماری دنیا اندھیر ہوجائے گئی۔'

خورشید علی کی کم سن نواسی جو اس حادثے میں ہلاک ہو گئی

،تصویر کا ذریعہKhalid Khan

،تصویر کا کیپشنخورشید علی کی کم سن نواسی جو اس حادثے میں ہلاک ہو گئی

خالد خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال اپریل میں اسی مقام پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔ اس دوران ان کے ماموں کے گھر پر بھی کچھ پتھر گرے تھے مگر گھر کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا۔'

خالد خان بتاتے ہیں کہ 'گذشتہ برس لینڈ سلائیڈنگ کے بعد میرے ماموں اپنے اس گھر کو چھوڑ کر قریب ہی کرائے کے ایک مکان میں منتقل ہو گئے تھے۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'میرے ماموں (خورشید خان) کوئلے کا ایک معمولی کاروبار چلاتے تھے اور ان کی محدود آمدن تھی، گذشتہ برس مئی سے لے کر رواں برس جنوری تک اسی کرائے کے مکان میں رہے۔'

خالد خان کہتے ہیں کہ محدود آمدن کے باعث خورشید علی خان کی حیثیت سے زائد اخراجات ہونے اور آلپوری بشام شاہراہ پر پتھر گرنا بند ہونے کے بعد انھوں نے واپس اپنے گھر آنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 'وہ اس سال جنوری ہی میں اپنے گھر منتقل ہوئے تھے کہ یہ حادثہ پیش آگیا۔'

خط

،تصویر کا ذریعہSher Ali

،تصویر کا کیپشنخورشید علی کا لینڈ سلائیڈ کے متعلق انتظامیہ کو لکھی گئی درخواست

سڑک کی توسیع کے دوران پہاڑ کمزور ہوئے

کول مائن ورکر ویلفیئر ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین علی باش نے اس واقعے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چند برس قبل آلپوری بشام روڈ کی توسیع کے دوران متعلقہ حکام نے پہاڑ کو مختلف مقامات سے کاٹنے کا کام باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس بات کا خیال رکھا گیا کہ اس سے پہاڑ کمزور نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جس وقت سڑک کی توسیع کا کام جاری تھا اس وقت ہم مقامی لوگ بار بار اس بات کی طرف توجہ دلا رہے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ روڈ کی توسیع کے بعد پہاڑ کمزور ہو جائے اور اس سے ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ عوام کے جان و مال کے لیے بھی خطرہ بن جائے۔‘

علی باش کا کہنا تھا کہ اس پہاڑ میں مٹی اور درخت کم ہی موجود ہیں اس لیے علاقے کے عام اور ان پڑھ لوگ بھی یہ سمجھتے تھے کہ اگر اس پہاڑ کی کٹائی کے دوران احتیاط سے کام نہ لیا گیا تو اس سے پہاڑ خطرناک ہوسکتا جو کہ اب ہو چکا ہے۔

علی باش کے مطابق اس واقعے سے قبل بھی کئی مرتبہ یہاں پر لینڈ سلائیڈنگ ہوچکی ہے۔ جس میں مسافر اور مقامی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ’عملاً تو یہ لگ رہا ہے کہ پہاڑ کے اس دامن پر محفوظ سفر اور زندگی مشکل ہوچکی ہے۔‘

علی باش کا کہنا تھا کہ اس مقام پر کم از کم 11 اور گھر ایسے ہیں جو خطرے کا شکار ہیں۔ ’یہ غریب لوگ ہیں زیادہ تر لوگ کوئلہ کے کام ہی سے منسلک ہیں۔ ان کے پاس وسائل نہیں ہیں کہ وہ دوسرے کسی مقام پر جا کر اپنی رہائش اختیار کریں۔ اس لیے فوری طور پر ان لوگوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

حالیہ لینڈ سلائیڈنگ کے واقعے پر خورشید علی خان اور ان کے گھر والوں کی ہلاکت پر بات کرتے ہوئے علی باش کا کہنا تھا کہ اگر اس واقعے کا مقدمہ درج نہ ہوا تو احتجاجی مظاہروں سمیت ہر طرح سے احتجاج کیا جائے گا۔

تحصیل آلپوری سے وزیر اعظم ٹائیگر فورس کے رکن شیر علی کا کہنا تھا کہ انھوں نے بھی اس حوالے سے شکایات درج کروائیں تھیں۔

مقامی افراد سے کہا تھا کہ علاقہ خالی کر دیں

اسٹنٹ کمشنر آلپوری غلام غوث نے بی بی سی بات کرتے ہوئے اس پر اتفاق کیا کہ الپوری شانگلہ روڈ کی توسیع کے بعد سے اس سڑک پر لینڈ سلائیڈنگ کی شکایات آ رہی ہیں۔ اسٹنٹ کمشنر آلپوری نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ لینڈ سلائیڈنگ واقعے میں ہلاک ہونے والے خورشید علی نے انتظامیہ کے پاس اس بارے میں مختلف درخواستیں جمع کروائی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے وہ درخوستیں فی الفور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ضروری کارروائی کے لیے نہ صرف ارسال کر دیں بلکہ حفاظتی اقدامات کے لیے سفارشات بھی کی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مقامی افراد سے کہا گیا تھا کہ وہ یہ علاقہ خالی کر دیں کیونکہ اس مقام پر رہائش رکھنا خطرناک ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’شانگلہ ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ یہاں پر ہموار زمین بہت کم ہے اور سڑک وغیرہ کی تعمیر پہاڑ کاٹے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔‘

خط

،تصویر کا ذریعہSher Ali

،تصویر کا کیپشنڈپٹی کمشنر شانگلہ کے خط کی نقل نیشنل ہائی وے اتھارٹی سوات کو بھی ارسال کی گئی تھی

بی بی سی نے اس بارے میں موقف جاننے کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی سوات سے رابطہ کیا مگر ان کی جانب سے کوئی بھی جواب نہیں ملا۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ خورشید علی کی جانب سے 27 اپریل 2021 کو ڈپٹی کمشنر ضلع شانگلہ کے نام حفظ ماتقدم برائے لینڈ سلائیڈنگ کے نام سے درخواست لکھی گئی تھی۔

اس درخواست کے جواب میں چار مئی یعنی تقریبا ایک ہی ہفتے کے بعد ڈپٹی کمشنر آفس شانگلہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر آلپوری کو خط بھیجا گیا جس میں تحریر ہے کہ خورشید علی کی شکایت کو قانون اور آئین کے مطابق نیشنل ہائی وے کی معاونت سے دور کیا جائے۔

اسی خط کی ایک کاپی ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل ہائی وے اتھارٹی سوات کو بھی اس ہدایت کے ساتھ بھیجی گئی کہ یہ معاملہ سنجیدہ ہے اسے جلد حل کیا جائے۔

نیشنل ہائی وے سوات کی جانب سے ڈائریکٹر نیشنل ہائی وے پشاور کو ایک خط 17جون 2021 کو ارسال کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ خوازہ خیلہ بشام روڈ جس کو این 90 کا نام دیا گیا ہے پر غیر فعال سلائیڈ موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خط میں کہا گیا ہے کہ اپریل، مئی میں تیز اور متواتر بارشوں کی وجہ سے دو غیر فعال سلائیڈ این 90 روڈ پر آنے سے روڈ بلاک ہوا تھا۔ اور ٹریفک بحالی کے لیے ملبہ کو ہٹایا گیا تھا۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ سلائیڈ اب متواتر روڈ پر آ رہی ہیں جس سے نہ صرف یہ کہ ٹریفک میں خلل پڑتا ہے بلکہ آبادیوں کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔

خط

،تصویر کا ذریعہSher Ali

،تصویر کا کیپشننیشنل ہائی وے سوات کی جانب سے ڈائریکٹر نیشنل ہائی وے پشاور کو ایک خط 17جون 2021 کو ارسال کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ خوازہ خیلہ بشام روڈ جس کو این 90 کا نام دیا گیا ہے پر غیر فعال سلائیڈ موجود ہیں

خط میں سفارش کی گئی ہے کہ اس معاملے کے مکمل حل کے لیے حفاظتی دیوار تعمیر کی جائے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر شانگلہ نے فون کال کے علاوہ اپنے خط کے ذریعے سے بھی خطرے سے آگاہ کیا اور کہا ہے کہ آبادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

خط میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اعلیٰ حکام سے حفاظتی اقدامات شروع کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی سوات اور ڈپٹی کمشنر شانگلہ کے خطوط پر کیا کارروائی ہوئی؟ اس پر اسٹنٹ کمشنر الپوری نے کوئی جواب نہیں دیا جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی سوات سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔

لینڈ سلائیڈ

،تصویر کا ذریعہRescue 1122

'یہ حادثہ نہیں انتظامیہ کی غفلت کا نتیجہ ہے'

لینڈ سلائیڈنگ کے حادثے میں خورشید علی کی زحمی ہونے والی حاملہ بیٹی شیما کی دو بیٹیاں ہلاک ہو گئی ہیں۔ جبکہ حاملہ خاتون کو زخمی حالت میں سیدو شریف سپتال سوات پہنچایا گیا جہاں پر انھوں نے ایک بچی کو جنم دیا ہے۔

خورشید خان کے بھانجے خالد خان کے مطابق ان کی ماموں زاد بہن شیما بچی کو جنم دینے کے بعد کچھ اچھی حالت میں نہیں ہیں جبکہ نومولود کو بھی انکیوبیٹر میں رکھا گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ دعا ہے کہ 'دونوں ماں بیٹی محفوظ رہیں۔ ابھی انھیں (شیما کو) بیٹیوں اور والد کی ہلاکت کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔'

شانگلہ کی تحصیل آلپوری کے گاؤں موتہ خان میں لینڈ سلائیڈنگ کا شکار بننے والے بدقسمت خاندان کے رشتہ دار خالد خان کہتے ہیں کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی غفلت کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کروایا جائے گا۔ 'گھر سے چار جنازے اٹھنے اور ایک بچی کے تاحال لاپتہ ہونے کے باعث ابھی افراتفری کا عالم ہے۔ اس صورتحال سے نکل آئیں انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ زبانی ہم نے پولیس افسران کو بتا دیا ہے کہ ہمارا مقدمہ درج کیا جائے۔'