پاکستان اور صدارتی نظام کی بحث: ’طاقت کی مرکزیت کی بات تو ہوتی ہے پر طاقت کو بانٹنے سے گھبرایا جاتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عارف شمیم
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس، لندن
پاکستان کے قریبی ہمسایہ ممالک میں ترکی ہی ایک ایسا ملک ہے جو پارلیمانی اور صدارتی نظام کو ملا جلا کے تجربے کرتا رہا ہے اور کیونکہ اس کا تعلق خلافت کے دور سے بھی ہے اس لیے پاکستان میں سیاسی نظام کی ایک مرتبہ پھر اٹھنے والی بحث میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
ترکی میں تین مارچ 1924 کو خلافتِ عثمانیہ کا اختتام ہوا اور 29 اکتوبر کو ریپبلک آف ترکی وجود میں آئی جس کے پہلے صدر مصطفیٰ کمال اتا ترک بنے۔ سنہ 1982 میں ایک آئینی ریفرنڈم کے بعد وہاں ایک نیا آئین متعارف کروایا گیا۔
اس کے بعد 2017 میں مزید آئینی ترامیم کی گئیں جس کے بعد وزیرِ اعظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور صدر کو ہی ریاست اور حکومت کا سربراہ بنا دیا گیا اور اس طرح ترکی ایک پارلیمانی سے صدارتی نظام والی ریاست بن گیا۔
موجودہ صدر رجب طیب اردگان وزیرِ اعظم بھی رہے اور اب مضبوط صدر بھی ہیں۔ تاہم دنیا کے مختلف ممالک کے سیاسی نظاموں کو دیکھتے ہوئے ترکی ایک مکمل ’ہائبرڈ ریاست‘ کی بہترین مثال لگتی ہے۔ ہمارے ہمسایہ قریبی ممالک میں بنگلہ دیش اور سری لنکا نے بھی ایسے تجربے کیے ہیں لیکن وہ ایک الگ بحث ہے۔
پاکستان میں بھی گاہے بگاہے صدارتی نظام حکومت رائج کرنے کا مطالبہ سامنے آتا رہتا ہے۔ ایک آدھ بار اس کا تجربہ بھی کیا گیا لیکن زیادہ تر صدارتی نظام کی خواہش آمرانہ حکومتوں سے مارشل لا کی صورت میں ہی پوری کی گئی۔
اس مرتبہ فرق یہ ہے کہ دبے دبے یا پھر پھر کبھی کھلے الفاظ میں برسرِ اقتدار جمہوری حکومت کی طرف سے بھی نظام کی تبدیلی کے اس مطالبے کی بازگشت سنائی دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
عمومی طور پر یہ دیکھا گیا ہے ماضی میں جب بھی ملک میں سیاسی حکومت کسی بحران کی زد میں آتی ہے تو ایک خاص طبقہ اس کا قصوروار پارلیمانی نظام حکومت اور مافیاز کو قرار دیتا ہے۔ تاہم پھر منتخب نمائندے پارلیمانی نظام کی حمایت میں سامنے آ جاتے ہیں، اور یہ بحث چلتے چلتے خود ہی کچھ عرصے بعد دم توڑ دیتی ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کئی مرتبہ یہ اشارہ کر چکے ہیں کہ وہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن موجودہ نظام کی وجہ سے وہ کر نہیں پاتے۔ آخر کیا مشکلات ہیں اور کیوں پاکستان میں صدارتی نظام نافذ کرنے کے متعلق ایک مرتبہ پھر سے بحث میں تیزی آ گئی ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
استاد اور قانونی اور پالیسی اصلاحات کے ماہر اور مصنف اسامہ صدیق سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ہمیشہ کچھ سال بعد تاریخ اپنے آپ کو دہرانے لگتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں تو اس کو کافی مضحکہ خیز سمجھتا ہوں اور آپ اس کے متعلق پہلے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ اب کب کہا جائے گا۔
’الیکشن سے کچھ دیر پہلے، خاص طور پر اگر کارکردگی اچھی نہ ہو تو، جو عموماً نہیں ہوتی، اس قسم کی گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔ آپ دیکھیے گا کہ ابھی خلافت پر گفتگو شروع نہیں ہوئی، نہیں تو وہ بھی شروع ہوتی ہے یا اور کوئی نظام جس کے متعلق آپ سوچ سکیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ایسی گفتگو یوں ہی نہیں شروع ہوتی بلکہ ’خاص قوتوں کی شہہ پر اس کا آغاز ہوتا ہے اور اس کا مقصد لوگوں کا دھیان بٹانا ہوتا ہے کہ اس مرتبہ بھی جو ہم کچھ کر نہیں پائے اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمانی نظام خراب ہے۔ کیونکہ جن کو لایا گیا ہوتا ہے ان کے متعلق تو نہیں کہا جا سکتا کہ وہ خراب ہیں یا کرپٹ ہیں اس لیے ملبہ نظام پر ڈال دیتے ہیں۔‘
سیاسی تجزیہ کار اور پنجاب کے سابق نگراں وزیرِ اعلیٰ حسن عسکری رضوی بھی سمجھتے ہیں کہ صدارتی نظام لانے کی بحث بہت پرانی ہے اور پاکستان بننے کے کچھ ہی سال بعد شروع ہو گئی تھی۔
ان کے مطابق صدارتی نظام کی بحث ’1950 کی دہائی سے چل رہی ہے۔ جب پہلا آئین بنا تھا اس وقت بھی یہ بحث تھی، پھر جب ایوب خان نے ملک میں صدارتی نظام متعارف کروایا تو اس سے پہلے انھوں نے ایک آئینی کمیشن بنایا تھا، اس کمیشن میں پارلیمانی نظام کا بہت مظبوط تنقیدی جائزہ موجود ہے، جس میں صدارتی نظام کا جواز پیش کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’دوسرا یہ ہے کہ موجودہ دور میں دو طرح کے مسائل ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ عمران خان خود ہی وقتاً فوقتاً یا ان کی جماعت کے لوگ یہ اشارہ دیتے رہتے ہیں کہ ہم کیا کریں، ہم کس طرح پالیسی چلائیں، ہمیں تو اپنے اتحادیوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے، ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے اور اگر کوئی ایسا نظام ہو جہاں حکومت کے سربراہ کے پاس اختیار ہو تو وہاں کام مؤثر ہو گا۔‘
حسن عسکری کہتے ہیں کہ عمران خان اکثر چینی نظام کی تعریف کرتے ہیں جو کہ انتہائی مرکزیت پر مبنی سیاسی ماڈل ہے۔ ’دوسرا یہ ہے کہ ہمارے ہاں روایتی طور پر آمرانہ نظام رہے ہیں اور اب بھی وہ چیزیں موجود ہیں۔ اس وقت جو اقتصادی پالیسیوں میں مسائل نظر آ رہے ہیں ان کے متعلق بھی خیال ہے کہ اگر ان پالیسیوں کو چلانا ہے تو مظبوط حکومت کی ضرورت ہے اور پارلیمانی نظام میں مظبوط حکومت ہو نہیں سکتی۔ اس وجہ سے یہ ساری باتیں ہو رہی ہیں۔‘
اسامہ صدیق سمجھتے ہیں کہ کسی نئے نظام کے متعلق بات کرنے یا کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہر نظام پر بحث اور تحقیق ہونی چاہیے کہ آیا ہمیں اس کی ضرورت ہے بھی یا نہیں اور اگر ہے تو کیوں ہے اور اگر نہیں تو کیوں نہیں۔
’جہاں تک صدارتی نظام کا تعلق ہے اس میں کوئی برائی نہیں کہ اس نظام یا نئے نظاموں کے بارے سوچا جائے۔ لیکن جو سب سے زیادہ سوچنے کی چیزیں ہیں وہ یہ ہیں کہ ہم نے پارلیمانی نظام کو موقع ہی کب دیا۔ سب کو پتہ ہے کہ ہمارے آئین میں کتنی زیادہ ترامیم کی گئیں اور کسی نہ کسی طریقے سے پارلیمان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی۔
’اس کی سب زیادہ المناک مثال آئین کی شق 58 ٹو بی ہے جس کے تحت صدر کے پاس اختیار تھا کہ وہ اگر اپنی عقل کے مطابق سمجھتا ہے کہ اسمبلیوں کی کارکردگی اچھی نہیں ہے تو وہ انھیں تحلیل کر سکتا تھا۔ ہم نے ایک پوری دہائی اس میں ضائع کی اور چار حکومتیں اس کا شکار ہوئیں۔‘
صدارتی نظام کا تجربہ کتنی مرتبہ ہو چکا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حسن عسکری کہتے ہیں کہ اگرچہ صدارتی نظام لانے کی بحث تو ہمیشہ ہوتی رہتی ہے لیکن اسے حقیقی طور پر لانے کا تجربہ صرف ایک ہی مرتبہ کیا گیا ہے۔
’مکمل صدارتی نظام کا تجربہ ایوب خان نے ہی 1962 سے 1969 تک کیا تھا۔ باقی ادوار مارشل لا کے تھے جو کہ بذاتِ خود سینٹرلائزڈ یا سب کچھ مرکز کے تحت لانے والے ہوتے ہیں۔ ایوب خان کا 58 سے 62 تک مارشل لا، پھر یحییٰ خان، ضیاالحق اور مشرف کے مارشل لا، ان ساروں میں کمان ایک شخص میں مجتمع ہوتی ہے جو کہ صدارتی نظام میں بھی نظر آتی ہے۔ یہ طاقت کی مرکزیت ہے۔‘
حسن عسکری ایک بہت بنیادی نقطہ اٹھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر ہمارے ہاں سینٹرلائزیشن آف پاور (طاقت کی مرکزیت) کی بات ہوتی ہے لیکن لوگ ڈسپرسل آف پاور (طاقت کو بانٹنے) سے گھبراتے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ اس سے انتہائی آمرانہ نظام بن سکتا ہے اور اس میں پاکستان کے تنوع کی جگہ بنانا بہت مشکل ہو جائے گا۔‘
اسامہ صدیق کہتے ہیں کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام کو کنٹرول کرنے کے طریقہ کار چلتے رہے ہیں اور ایوب صاحب کے زمانے میں ہم صدارتی نظام بھی لا چکے ہیں۔ ’ہمارے پاس مظبوط صدارتی موجودگی مشرف صاحب کے زمانے میں بھی رہی ہے، اس لیے ایسا نہیں کہ کہ پہلے یہ سب کچھ نہیں ہوا ہے۔ ایک ایسی سوچ موجود ہے کہ کوئی فرشتہ نما انسان جو یہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا،سو اس طرح کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔
’پہلی بات یہ ہے کہ اس بحث میں نیت صاف ہی نہیں لگتی۔ ایسا لگتا ہے کہ اصل مقصد حقیقی مسائل سے ہٹانا ہے۔ دوسرا یہ کہ پارلیمانی نظام کو ہم نے کبھی موقع ہی نہیں دیا۔ تیسرا ہم صدارتی نظام پہلے ہی آزما چکے ہیں اور چوتھا اور اہم پہلو یہ ہے کہ صدارتی نظام پر کوئی خاص نہیں سوچا گیا کہ اس کا کیا ڈھانچہ ہو گا یا اس کی کیا خاصیت ہے۔ یہ سب کچھ ایک نعرہ بازی لگتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’اگر پارلیمانی یا کسی اور نظامِ حکمرانی میں کوئی مسئلہ ہے تو وہ اصل میں انتظامیہ کی طاقت کے ناجائز استعمال کا ہے۔ اس طاقت کے ناجائز استعمال کی وجوہات پیچیدہ اور بہت سی ہیں۔ عدلیہ سمیت بہت سے اداروں کا کمزور ہونا، اندرونی نظام کا نہ ہونا، پارلیمانی نظام میں جو حکومت آتی ہے اس کو اپنی میعاد پوری نہ کرنے دینا، سول سوسائٹی میں اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگانا وغیرہ۔ سو اس کا تعلق پارلیمانی نظام سے بالکل نہیں ہے۔ اگر آپ صدارتی نظام لائیں گے تو پھر بھی وہی طبقے اور گروپ غالب آ جائیں گے جن کے بارے میں اب بھی خدشہ ہے کہ وہ غالب ہیں۔‘
کیا اس کے لیے نیا آئین درکار ہو گا؟
اسامہ اس بارے میں پرامید نہیں ہیں کہ موجودہ نظام کے ہوتے ہوئے صدارتی نظام لایا جا سکتا ہے۔ وہ اسے (آئین کے) ’بنیادی ڈھانچے کا نظریہ‘ کی مثال دے کر سمجھاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اس نظریے کو انڈیا کی سپریم کورٹ نے لاگو کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ آئین کی کچھ ایسی چیزیں ہیں جنھیں آپ تبدیل کر ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ آئین کی روح ہیں۔
’پاکستان میں بھی ایسے بہت سے فیصلے آئے جن میں ہم نے بنیادی ڈھانچے کے نظریے کو بہت قریب سے دیکھا لیکن ہم نے اس کو باقاعدہ طور پر اپنایا نہیں۔ ان فیصلوں میں سپریم کورٹ نے کہا کہ بنیادی حقوق کا باب، آزاد عدلیہ، وفاقی نظام ہے، پارلیمانی نظامِ حکومت، یہ آئینی نظام کی روح ہے۔
’اس لیے اگر آپ اس آئینی نظام کے اندر رہتے ہوئے اسے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ممکن نہیں ہے، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ ہم نے اس نظریے کو باقاعدہ طور پر نہیں اپنایا ہے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ اگر ایسی کوئی چیز ہو اور اگر اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے تو کافی امکان ہے کہ عدالت میں ہی اس چیز کو روکا دیا جائے۔‘
یہ بھی پڑھیے
’دوسری بات یہ ہے کہ عموماً اتنی بڑی تبدیلی کے لیے کوئی دستور ساز اسمبلی ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ کیسے ہو گی جب پہلے ہی ایک آئینی نظام موجود ہے۔ یا تو یہ ہو کہ وہ آئینی نظام ختم ہو جائے جیسے کہ کوئی انقلاب آ جائے یا مارشل لا لگ جائے، لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا کہ مارشل لا کو بھی بعد میں عدالتوں میں چیلنج کر دیا گیا تھا۔‘
وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس سوال کا کوئی بھی واضح قانونی جواب ہے کہ اگر آپ نے اس پارلیمانی نظام کے اندر رہتے ہوئے آئین کو تبدیل کر دیا ہے یعنی کہ ایک صدارتی نظام لے کر آتے ہیں تو آپ اس کے لیے کیا طریقۂ کار اپنائیں گے۔‘
اُن کے مطابق ’یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں ابھی پتہ نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ایسا ہو نہیں سکتا، لیکن میں یہ بھی کہہ رہا ہوں کہ یہ بہت آسانی سے بھی نہیں ہو سکتا۔‘
اسامہ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ کس قسم کا صدارتی نظام لانا ہے کیونکہ وہ بھی کوئی ایک ماڈل تو نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت کے مختلف ماڈل: ہم کیا چاہتے ہیں؟
اسامہ صدیق کہتے ہیں کہ ابھی تک اس حکومت کے دوران جو ماڈل ہمیں پیش کیے ہیں کہ ہمیں ان کے مطابق چلنا چاہیے، ان میں ریاست مدینہ کا ماڈل بھی ہے، اس میں سکینڈی نیویا کا بھی ہے، امریکہ کا صدارتی نظام بھی اور چین کا انتہائی مرکزی ماڈل بھی۔ ’اگرچہ ان میں کچھ چیزوں میں تھوڑی بہت مماثلت ہو گی لیکن یہ چاروں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ میرے خیال میں یہاں کوئی تصوراتی وضاحت نہیں ہے کہ ہم کس کو اپنانا چاہتے ہیں۔‘
حسن عسکری سمجھتے ہیں کہ بہت سارے نظاموں کی سوچ کوئی حقیقت پسندانہ سوچ نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وزیرِ اعظم بھی مختلف نظاموں کی بات کرتے ہیں تو وہ بھی ’ایک ابسٹریکٹ سوچ‘ ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’ہر نظام اپنی ایک اکائی یا حیثیت رکھتا ہے۔ آپ یہ نہیں کر سکتے کہ ایک لائن ایک نظام سے لے لیں اور دوسری دوسرے سے۔‘
ایوب دور کے صدارتی نظام کی ’رومانویت‘
اسامہ صدیق زور دیتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایوب دور کی رومانویت سے نکلا جائے۔ ان کے مطابق اس دور کو باریک بینی سے دیکھنا بہت ضروری ہے۔
’اس دور کی اقتصادی ترقی پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اس دور کی اقتصادی کارکردگی بہت سطحی تھی۔ دوسرا اس دور میں عدم مساوات بہت بڑھی تھی، دولت کی مرکزیت بڑھی تھی۔ اس زمانے میں جو بیج بوئے گئے، معاشرے کو مختلف طریقوں سے تقسیم کیا گیا جس کا نتیجہ 1971 جیسے واقعے کی صورت میں سامنے آیا اور شہری آزادیوں کو نقصان پہنچا۔
’دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس ’ترقی کے دور‘ کے دور کے بعد کیا بنا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم وہ ادارے اور ڈھانچے نہیں بنا سکے جن کی وجہ سے نظام چلتے ہیں۔‘
اس پر مزید بات کرتے ہوئے اسامہ صدیق کہتے ہیں کہ ’جب آپ فوج کی مداخلت کو نارملائز کر دیتے ہیں تو آپ ان چند ممالک میں شمار کیے جاتے ہیں جہاں آج تک یہ تصوراتی وضاحت پیدا نہیں ہوئی کہ فوج کا سیاست میں کیا کام ہے، یہ ایک سویلین حل ہے، ایک سیاسی عمل ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’حقیقت یہ ہے کہ کوئی خاطر خواہ ترقی نہیں ہوئی بلکہ ادارے تباہ ہوئے ہیں اور ایک افسانوی دنیا پیدا کر دی گئی اور اگر آپ ان کے لائے ہوئے اعداد و شمار پر غور کرنا شروع کریں، ذرا گہرائی میں جائیں تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پہلے پارلیمانی اور صدارتی نظام میں فرق بتائیں
اسامہ کہتے ہیں کہ وہ بالکل پارلیمانی جمہوریت کے ویسٹ منسٹر نظام کے علمبردار نہیں ہیں اور ان کے خیال میں ہر جگہ کسی بھی پارلیمانی یا صدارتی نظام کو مقامی حالات کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔
’میں کہتا ہوں کہ پہلے وہ پارلیمانی نظام اور صدارتی نظام میں ہمیں خاص فرق بتائیں جو کہ اس ساری تبدیلی کے بعد نمایاں ہو گا۔ دوسرا یہ کہ کسی جگہ کا نظام کسی بالکل مختلف جگہ پر ’ٹرانسپلانٹ‘ نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں ہمیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ ہم وہاں سے یہ کیا چیز اٹھائیں گے اور اسے اپنے حالات و واقعات کے متعلق (کیسے) ڈھالیں گے۔‘
حسن عسکری اس بحث کو یہ کہہ کر ختم کرتے ہیں کہ پاکستان میں صدارتی نظام کے بننے کے امکانات عملی طور پر بہت کم ہیں کیونکہ سیاسی طاقتیں اس کی مخالفت کریں گی اور پاکستان میں صدارتی نظام لانے کا ماضی کا تجربہ ’کوئی اتنا اچھا‘ بھی نہیں تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں مسئلہ بڑا سادہ ہے اور وہ ہے ’ہیومن فائبر کا مسئلہ‘۔
’آپ کوئی بھی نظام لے آئیں، اسے چلانا تو انسان نے ہی ہے، نظام خود تو علاج نہیں کرتا وہ تو آپ کو راستہ بتاتا ہے۔ اگر اسے چلانے والے بے ایمانی سے کام کریں یا ذاتی مفاد کے لیے کام کریں تو کوئی بھی نظام ناکام ہو سکتا ہے۔ اس لیے چاہے یہاں کوئی بھی نظام لے آئیے، اگر ہمارا طور طریقہ پاکستان میں یہی ہے، جو کہ ہے، تو ہر سسٹم ناکام ہو جائے گا۔‘












