بلوچستان: گوادر، کیچ میں شدید بارشوں سے املاک کو نقصان

بلوچستان سیلاب
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

'جب نیٹ پر آیا تھا کہ بارش ہوگی تو آپ لوگوں نے کیوں نکاسی آب کے نالوں کو صاف نہیں کیا جن کے بند ہونے سے بارش کاپانی ہمارے گھروں میں داخل ہوگیا؟‘

یہ سوال تھا گوادر کی متحرک سماجی کارکن ماسی زینی کا جن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

ماسی زینی کا کہنا تھا کہ پانی گھروں میں داخل ہونے کی وجہ سے لوگوں کے بستر اور دیگر سامان برباد ہو گیا اور وہ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔

بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر اور اس سے متصل ضلع کیچ میں بارشوں سے بڑی تعداد میں گھروں کے علاوہ املاک کو نقصان پہنچا ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

کمشنر مکران ڈویژن شبیر احمد مینگل نے بتایا کہ صورتحال اب قابو میں ہے اور لوگوں کو امداد کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

مکران ڈویژن کے ان دو اضلاع کے علاوہ افغانستان سے متصل ضلع چمن میں بھی سیلابی ریلوں سے گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ قلعہ سیف اللہ میں برفباری کی وجہ سے کوئٹہ اور ژوب کے درمیان ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔

گوادر اور متصل علاقے سب سے زیادہ متاثر

ضلع گوادر اور اس سے متصل ضلع کیچ کے متعدد علاقے دو روز تک وقفے وقفے سے طوفانی بارشوں کی زد میں رہے۔

گوادر شہراور ضلع کے دیگر علاقوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پرجو ویڈیوز وائرل ہوئیں ان میں نظر آرہا ہے کہ مختلف علاقے زیرآب آگئے ہیں۔

بلوچستان سیلاب

گوادر شہر کے ملا فاضل چوک میں اتنا پانی کھڑا تھا کہ وہاں کشتیاں چلتی نظر آرہی تھیں جبکہ بعض علاقوں میں امدادی کارکن، جو کہ ’حق دو تحریک‘ کے بتائے جاتے ہیں ،ایک کشتی میں خواتین کو سیلابی پانی سے نکال رہے ہیں۔

ان ویڈیوز میں ملا بند کے علاقے میں گھروں کے اندر کئی فٹ پانی کھڑا نظر آتا ہے۔

گوادر کے سینئر صحافی بہرام بلوچ نے بتایا کہ خود گوادر شہر ان بارشوں سے بری طرح سے متائثر ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گوادر کی پرانی آبادی والے علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔

بہرام بلوچ کا کہنا تھا کہ جو علاقے گھروں میں پانی داخل ہونے یا پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے زیادہ متائثر ہوئے ہیں، ان میں ملابند،کوہ بن وارڈ،گتی لائن، فاضل چوک اورکماڑی وغیرہ شامل ہیں۔

ماسی زینی کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔۔ ایک ویڈیو میں وہ کہہ رہی ہیں کہ بارشوں کی پیش گوئی پہلے سے کی گئی تھی۔

وہ کہہ رہی ہیں کہ جب معلوم تھا کہ بارشیں ہوں گی تو نالیوں کو صاف کیا جاتا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے گھر زیر آب آ گئے اور اب لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ملابند کے ایک رہائشی شکیل فیصل نے بتایا کہ یہ علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ماہی گیروں کا علاقہ ہے جس میں اندازاً پانچ سو کے قریب گھر زیر آب آ گئے۔

بلوچستان سیلاب

انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں نہ صرف لوگوں کے گھروں کا سامان بلکہ دکانوں کے سامان کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دو دن تک یہاں حق دو تحریک کے کارکنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کے گھروں اور محلوں سے پانی نکالنے کا کام کیا ۔

انہوں نے بتایا کہ حق دو تحریک کے کارکنوں نے گزشتہ شب بارش میں ایکسپریس وے پر بطور احتجاج تین گھنٹے تک دھرنا بھیبدیا۔

شکیل فیصل کا مزید کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر گوادر جمیل بلوچ ان سے مذاکرات کرنے آئے اور ان کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دھرنے کے بعد نیوی کے اہلکار آئے اور پانی نکالنے کے لیے کچھ بوزرز ساتھ لائے۔

بلوچستان سیلاب

شکیل فیصل نے بتایا کہ ملابند اور دیگر علاقوں میں لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اور ان کو فوری ریلیف کی ضرورت ہے۔

ایک ویڈیو میں یونین کونسل جنوبی میں ایک شخص نکاسی آب کے ناقص نظام پر ناراض دکھائی دے رہا ہے۔

وہ کہہ رہا ہے کہ ابھی ایم پی اے صاحب آئیں گے اور دورہ کر کے چلے جائیں گے لیکن ان کے اس دورے کا فائدہ نہیں ہوگا ۔

ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے نکاسی آب کا نظام ناقص بنایا ان کے خلاف کاروائی ہونی چائیے۔

ایک اور ویڈیو میں ایک شخص کے پس منظر میں ان کا گھر نظرآرہا ہے جو کہ گرگیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ نیو ٹاﺅن کا علاقہ ہے جس میں ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے گھر بھی گر گئے ہیں ۔

وہ کہہ رہے ہیں وہ ایک غریب شخصی ہیں اور پریشان ہیں کہ اب کیا کریں۔

گوادر کے ایک مقامی صحافی جاوید نے بتایا کہ بارشوں کے ساتھ ساتھ گوادر میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مشکل صورتحال میں یہ ایک اضافی پریشانی ہے جس کا 48گھنٹوں سے لوگوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

گوادر سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی حمل کلمتی اور ڈپٹی کمشنر گوادر جمیل بلوچ نے شہر اور نواحی علاقوں کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

بلوچستان کے دیگر علاقے بھی بارشوں سے متاثر

گوادر سے متصل ضلع کیچ کے متعدد علاقے بھی بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

کمشنر مکران ڈویژن شبیر احمد مینگل نے بتایا کہ ضلع کیچ میں بل نگور اور بعض دیگر علاقوں میں گھر وغیرہ گرے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے ۔

بلوچستان سیلاب

انہوں نے بتایا کہ تربت شہر میں بارش ہوئی ہے لیکن اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ادھر افغانستان سے متصل سرحدی ضلع چمن میں بھی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے نقصانات ہوئے۔

چمن میں نقصانات کے بارے میں معلومات کے لیے ڈپٹی کمشنر چمن سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کال وصول نہیں کی تاہم چمن کے سینئر صحافی نورزمان اچکزئی نے بتایا کہ چمن شہر اور مضافات میں گھروں کو بارشوں سے نقصان پہنچا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں درجنوں مکانات متاثر ہوئے ہیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلابی ریلوں میں دو گاڑیاں اور تین موٹر سائیکلیں بہہ گئی تھیں جن کو حکام نے نکال لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چمن میں توبہ اچکزئی میں برفباری ہوئی جس کی وجہ سے رابطہ سڑکوں پر آمدورفت متائثر ہوئی ہے۔

چمن کے علاوہ ضلع پشین میں برشور، قلعہ سیف اللہ میں کان مہترزئی اور کنچوغی کے علاوہ ضلع زیارت میں بھی برفباری سے رابطہ سڑکوں پر آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔

ریلیف کے لیے حکومتی اقدامات

گوادر اور کیچ کے حوالے سے جب کمشنر مکران ڈویژن شبیر احمد مینگل سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ دونوں اضلاع میں گھروں اور املاک کو نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور اس مقصد کے لیے پی ڈی ایم اے نے خوراک اور دیگر اشیاء روانہ کر دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔

کوئٹہ میں پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دونوں اضلاع میں متعدد علاقے زیر آب آ گئے ہیں جبکہ گوادر میں تین علاقے بارشوں سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جن میں بل کراس، دنے سر اور کشاپ شامل ہیں۔

بلوچستان سیلاب

اہلکار نے مزید بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں فوڈ اور نان فوڈ آئیٹمز کے علاوہ خیمے وغیرہ بھیجے گئے ہیں اور امداد کا سلسلہ جاری ہے۔

فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق ساحلی علاقوں میں فوج لوگوں کو امداد دینے اور متاثرین کو وہاں سے نکالنے میں سوِل انتظامیہ کی مدد کر رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پسنی، سربندر، نگور اور جیونی کے علاقوں میں لوگوں کو خوراک اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے۔