ریکوڈک منصوبہ: ٹھیتیان کاپر کمپنی کے دو شراکت داروں میں سے ایک حکومت پاکستان سے ’معاہدے پر راضی‘

چاغی
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کی شب ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ ’حکومت بلوچستان کی خاطر وفاقی حکومت ریکوڈک پراجیکٹ پر اٹھنے والا تمام مالی بوجھ اٹھائے گی۔‘

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے وزیراعظم کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ ’وزیراعظم کا ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان کا مالی بوجھ اٹھانے کا اعلان تاریخی ہے۔۔۔ یہ فیصلہ بلوچستان کے عوام کے لیے امن، خوشحالی اور استحکام کا آغاز ثابت ہو گا۔‘

وزیر اعظم کی جانب سے یہ ٹویٹ ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب بلوچستان میں ریکوڈک کا موضوع زیرِ بحث ہے اور اس کی وجہ بنی تھی پیر 27 دسمبر کو ہونے والا صوبائی اسمبلی کا وہ ’اِن کیمرا اجلاس‘ جس میں اراکین اسمبلی کو اس پراجیکٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اس اجلاس میں شامل بلوچستان اسمبلی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ بلوچستان اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو چھ ارب ڈالر کی ادائیگی سے بچانے کے لیے اس منصوبے کا ایک شراکت دار بعض شرائط پر معاہدے پر آمادہ ہے۔

اس رکن اسمبلی کے مطابق صوبے میں سونے اور تانبے کے سب سے بڑے ذخائر ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے حکومت پاکستان چھ ارب ڈالر کے جرمانے کی ادائیگی سے بچنے کے لیے ٹھیتیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے دو شراکت داروں میں سے ایک شراکت دار سے دوبارہ معاہدہ کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

اراکین بلوچستان اسمبلی اور بالخصوص حزب اختلاف کے مطالبے پر بلوچستان اسمبلی کے اراکین کو اسی مجوزہ معاہدے کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی مگر اسے خفیہ رکھا گیا تھا جو کہ بلوچستان اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا۔

مجوزہ معاہدے کے نکات کے حوالے سے بی بی سی نے بلوچستان اسمبلی کے پانچ دیگر اراکین سے رابطہ کیا جن میں سے ایک حکومتی رکن نے ریکوڈک کے سوال پر بات کرنے سے معذرت کی جبکہ دوسرے نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

تاہم ایک حکومتی رکن سمیت تین دیگر اراکین نے مجوزہ معاہدے کے نکات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ٹی سی سی کے ایک شراکت دار نے ان شرائط کے تحت کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

معاملے کی نزاکت اور اِن کیمرا سیشن ہونے کے باعث اراکین اسمبلی نے اس موضوع پر صرف نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

ایک رکن اسمبلی نے مجوزہ معاہدے کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے (پاکستان) کے خلاف فیصلہ آ گیا تھا۔ چھ ارب ڈالر جرمانے کی رقم کوئی معمولی بات نہیں۔ ان میں سے کم از کم تین ارب ڈالر یا اس سے زائد کی ادائیگی بلوچستان کو کرنی تھی۔ اگر جرمانے کی ادائیگی نہیں کرتے تو روزانہ کی بنیاد پر سود کی مد میں کروڑوں کی ادائیگی کرنی پڑتی۔‘

اس رکن اسمبلی نے بتایا کہ چونکہ ہمارے خلاف جرمانے کی بڑی رقم ہے جس کو ہم ادا نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے شاید مجوزہ معاہدہ 100 فیصد ہماری شرائط کے مطابق نہ ہو۔

واضح رہے کہ بی بی سی نے بیرک گولڈ کو اس حوالے سے سوالات بھیجے تاہم کمپنی کی جانب سے 24 گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

'کیا ریکوڈک بھی اب قومی سلامتی کا مسئلہ بن گیا ہے؟'

بلوچستان اسمبلی

،تصویر کا ذریعہBalochistan Assembly

،تصویر کا کیپشنبلوچستان اسمبلی

پیر کو ہونے والے اسمبلی کے اس اجلاس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اجلاس میں اراکین اسمبلی کو موبائل فون لے جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔

صحافیوں کا اسمبلی کے اندر داخلہ تو دور کی بات، نجی ٹی وی چینلز کی لائیو کوریج کرنے والی گاڑیوں کو اسمبلی کے احاطے سے باہر بھی کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسمبلی سیکرٹریٹ و ایم پی اے ہاسٹل میں تمام ملاقاتیوں کا داخلہ بھی ممنوع قرار دیا گیا تھا۔

اجلاس کو خفیہ رکھنے پر بعض سیاسی جماعتوں کے علاوہ وکلا کی تنظیموں نے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے ایک ٹویٹ میں پوچھا کہ ریکوڈک پر بحث ان کیمرہ کرنے کا مقصد میڈیا اور عوام سے کیا چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انھوں نے استفسار کہ ’کیا ریکوڈک بھی اب قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہا کہ عوام براہ راست سننا اور دیکھنا چاہتی ہے کہ بلوچستان کی قومی دولت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، حکومت اور اپوزیشن دونوں مل کر کیا کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا ریکوڈک پر مگرمچھ کے آنسو بہانے کے بجائے دو ٹوک مؤقف اپنایا جائے۔

جان محمد بلیدی کا کہنا تھا کہ ریکوڈک بلوچستان کے عوام کی ملکیت ہے اور منصوبہ بندی کے تحت پراجیکٹ کو متنازع بنایا گیا۔ ان کے بقول وفاق روز اول سے ریکوڈک پر قبضہ کرنے کا سوچ رہا ہے اور وفاق کی دانستہ غلط حکمت عملی کے پیش نظر جرمانہ کا سامنا کر رہا ہے۔

ادھر بلوچستان بار کونسل نے کہا ہے کہ اگر معاہدہ بلوچستان اور اس کے عوام کے مفاد کے منافی ہوا تو اس کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

ٹھیتیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) میں کون شراکت دار معاہدے کے لیے تیار ہے؟

بلوچستان

ٹھیتیان کاپر کمپنی کینیڈا کی بیرک گولڈ اور چلی کی انٹافگوسٹا کمپنی کا ایک جوائنٹ وینچر تھا۔

نواب اسلم رئیسانی کے دور حکومت (2008 سے 2013) میں مائننگ کا لائسنس نہ ملنے پر ٹی سی سی نے ثالثی کے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا تھا جن میں سے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انسویٹمنٹ ڈسپیوٹس (ایکسڈ) نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پاکستان کو مجموعی طور چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

صوبائی اسمبلی کے رکن نے بتایا کہ اسمبلی ممبران کو آگاہ کیا گیا کہ چونکہ اس خطیر رقم کی ادائیگی پاکستان کی موجودہ معاشی حالات میں کسی طرح ممکن نہیں اس لیے حکومت نے ٹی سی سی کے شراکت داروں سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

رکن اسمبلی کے مطابق ان مذاکرات کے دوران شراکت داروں میں سے بیرک گولڈ بعض شرائط کے تحت دوبارہ منصوبے پر کام کرنے کے لیے آمادہ ہوا جبکہ دوسری کمپنی اس کے لیے تیار نہیں۔

بیرک گولڈ کن شرائط پر آمادہ ہوا اور اس سے پاکستان کو کیا ریلیف ملے گا؟

صوبائی اسمبلی کے رکن کے مطابق ممبران اسمبلی کو دی گئی بریفنگ کے مطابق جرمانے کے چھ ارب ڈالر میں سے تین، تین ارب ڈالر دونوں شراکت داروں کے حصے میں آنے تھے۔

رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ انٹافوگسٹا کمپنی چاہتی ہے کہ اسے اس کے جرمانے کی رقم کی ادائیگی کی جائے چونکہ اس رقم کی ادائیگی بھی ممکن نہیں جس پر بیرک گولڈ سے کہا گیا کہ وہ نئے معاہدے کے تحت دوسرے شراکت دار کے حصے کی رقم کی ادائیگی اپنے ذمہ لے۔

صوبائی اسمبلی کے رکن نے بتایا کہ بیرک گولڈ اپنے حصے کی جرمانے کی رقم نہیں مانگے گی اور دوسرے شراکت دار کی تین ارب ڈالر کی ادائیگی اپنے ذمے لینے پر آمادگی کا اظہار کیا تاہم اس کے نتیجے میں حکومت پاکستان سے ٹیکسوں کی مد میں رعایتیں مانگی ہیں۔

رکن اسمبلی کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی جانب سے یہ شرط سامنے آئی ہے کہ بلوچستان کے جو ٹیکسز بنتے ہیں ان میں کوئی رعایت نہیں دی جائے تاہم وفاقی حکومت اپنی ٹیکسوں میں رعایت دے۔

رکن اسمبلی نے بتایا کہ منصوبے میں پچاس فیصد سرمایہ کاری کی بنیاد پر منافع میں سے پچاس فیصد بیرک گولڈ کو ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت بلوچستان سرمایہ کاری کا بقیہ پچاس فیصد دینے پر آمادہ ہوئی تو منافع کا بقیہ پچاس فیصد حکومت بلوچستان کا ہو گا۔ اگر حکومت بلوچستان کے لیے سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوئی تو بقیہ پچاس فیصد کی سرمایہ کاری وفاقی حکومت کرے گی۔

رکن اسمبلی کے مطابق دوسری صورت میں کسی سرمایہ کاری کے بغیر بقیہ پچاس فیصد منافع میں سے 25 فیصد بلوچستان اور25 فیصد حصہ وفاقی حکومت کا ہو گا۔

نئے معاہدے کے تحت بلوچستان کو ریکوڈک سے مجموعی طور پر کتنی آمدن ملنے کی توقع ہے؟

صوبائی اسمبلی کے رکن کے مطابق جہاں بلوچستان کو منافع میں سے 25 فیصد ملے گا وہاں اس کے علاوہ بلوچستان کو رائلٹی کی مد میں پانچ سے چھ فیصد ملنے کی توقع ہے۔

’مقامی کمیونٹی کو سہولیات کی فراہمی کی مد میں آمدن میں سے ساڑھے تین فیصد ملے گا جبکہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی بھی مختلف مد میں چھ فیصد تک آمدن اکٹھا کر کے دے گی۔‘

رکن اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ اگر ان سب کو ملایا جائے تو بلوچستان کی مجموعی آمدنی 39 فیصد تک ہو گی۔

قدرتی زرائع

تانبے اور سونے کے علاوہ دیگر دھاتوں کے بارے میں کیا تجویز سامنے آئی؟

ان اراکین میں سے ایک نے بتایا کہ ماضی میں ٹی سی سی کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا وہ صرف تانبے اور سونے کے بارے میں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر دھاتوں کے ملنے کی صورت میں بعض حکومتی اراکین کی جانب سے تجاویز اور مطالبات سامنے آئے۔

’دیگر ایسی دھاتیں جو دفاعی انڈسٹری میں استعمال ہوتی ہوں ان کے ملنے کی صورت میں حکومتی اراکین کی جانب سے یہ تجاویز سامنے آئی کہ ان کی دریافت کی صورت میں ان پر پہلا حق پاکستان کا تسلیم کیا جائے۔‘

ان کیمرہ سیشن میں بلوچستان اسمبلی کے اراکین کے دیگر مطالبات

صوبائی اسمبلی کے رکن کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ پراجیکٹ کی ملازمتوں پر پہلا حق بلوچستان کے لوگوں کا ہو گا۔

اسی طرح یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ پراجیکٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بلوچستان کو بھی نمائندگی دی جائے۔

رکن صوبائی اسمبلی نے بتایا کہ اراکین اسمبلی کو بتایا گیا کہ غیر ملکی کمپنی سے تاحال حتمی طور پر کوئی بات طے نہیں ہوئی تاہم اراکین اسمبلی کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ حتمی معاہدے سے پہلے بلوچستان اسمبلی سے اس کی توثیق کرائی جائے۔

اراکین اسمبلی کی جانب سے کہا گیا کہ حتمی معاہدے کو توثیق کے لیے بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا جائے اور جب اسے توثیق کے لیے پیش کیا جائے تو اس وقت خفیہ اجلاس نہ ہو بلکہ اسے اوپن اجلاس میں بحث کے لیے پیش کیا جائے۔

صوبائی اسمبلی کے رکن کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے اراکین مجوزہ معاہدے سے بڑی حد تک مطمئن تھے کیونکہ سیندک پراجیکٹ جسے چین چلا رہا ہے، کے مقابلے میں یہ بلوچستان کے لیے زیادہ سود مند ہو گا۔

جن دو دیگر اراکین نے بی بی سی سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی ان کے مطابق زیادہ تر اراکین بالخصوص حزب اختلاف کی جانب سے یہ کہا گیا کہ آئین کے تحت آمدن میں بلوچستان کا حصہ پچاس فیصد ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی جانب سے یہ بھی مطالبہ سامنے آیا کہ غیر ملکی کمپنی سمیت دیگر سرمایہ کاروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ریفائنری چاغی ہی میں لگائیں۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم ایک رکن نے بتایا کہ فوری طور پر شاید غیر ملکی کمپنی سمیت دیگر سرمایہ کار ریفائنری لگانے پر آمادہ نہ ہوں لیکن ان کیمرہ اجلاس میں یہ تجویز سامنے آئی کہ منصوبے سے آمدنی شروع ہونے کے پانچ سال بعد سرمایہ کاروں کو ریفائنری لگانے کا پابند بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان حکومت کا کیا کہنا ہے؟

حکومت بلوچستان کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کیمرہ بریفنگ کا مقصد عوامی نمائندوں کو قومی اہمیت کے حامل منصوبے پر اعتماد میں لینا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر متعلقہ وفاقی اداروں کے حکام نے اراکین اسمبلی کو بریفنگ دی۔

ان کیمرہ بریفنگ کے ذریعہ اراکین اسمبلی کو مشاورت اور رائے دینے کا پلیٹ فارم مہیا کیا گیا اور ریکوڈک پر متعلقہ عالمی اداروں کے فیصلوں اور ان پر عملدرآمد کی پیشرفت سے بھی اراکین کو آگاہ گیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 65 اراکین پر مشتمل عوام کے منتخب نمائندہ ایوان کے لیے اس نوعیت کی ان کیمرہ بریفنگ کا اہتمام کیا گیا۔

ترجمان نے ان کیمرہ بریفنگ پر تنقید کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت صوبے کے حقوق و وسائل کے تحفظ کے لیے پوری طرح پر عزم ہے لیکن دوسری جانب بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ ریکوڈک کے حوالے سے کسی چیز کو خفیہ نہیں رکھا گیا بلکہ بلوچستان اسمبلی کو بریفنگ دی گئی جو پورے بلوچستان کے عوام کی نمائندہ اسمبلی ہے۔

کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خفیہ وہ ہوتا ہے جو چھپ کر کیا جائے لیکن یہاں تو جو ہو رہا ہے اسے عوام کے نمائندوں کے سامنے رکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کیس ہم ہار چکے ہیں اور بجائے یہ کہ ہم اسلام آباد یا بند کمروں میں فیصلہ کرتے ہم نے معاملہ بلوچستان اسمبلی کے سامنے رکھا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس اقدام کو نہ صرف حکومتی اراکین نے سراہا بلکہ حزب اختلاف نے بھی تعریف کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان کے بچے ہیں وہ بلوچستان کے حصے کو بڑھائیں گے اور اس کو کم نہیں ہونے دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ پہلے بلوچستان کا حصہ 25 فیصد تھا اور اس میں بلوچستان کا پیسہ بھی لگنا تھا لیکن اب ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کا کوئی پیسہ نہیں لگے اور اس کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ملے۔

ریکوڈک بلوچستان میں کہاں واقع ہے؟

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ریکوڈک ایران اور افغانستان سے طویل سرحد رکھنے والے صوبے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔

ریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے۔

تانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا ’شو کیس‘ کہتے ہیں۔

ریکوڈک پر کام کب شروع ہوا اور یہ کب ایک کمپنی سے دوسری کو منتقل ہوا؟

بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ محفوظ علی خان کے ایک مضمون کے مطابق حکومت بلوچستان نے یہاں کے معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ریکوڈک کے حوالے سے سنہ 1993 میں ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز (بی ایچ پی ایم) کے ساتھ معاہدہ کیا۔

یہ معاہدہ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر کیا گیا تھا۔ چاغی ہلز ایکسپلوریشن کے نام سے اس معاہدے کے تحت 25 فیصد منافع حکومت بلوچستان کو ملنا تھا۔

اس معاہدے کی شقوں میں دستیاب رعایتوں کے تحت بی ایچ پی ایم نے منکور کے نام سے اپنی ایک سسٹر کمپنی قائم کر کے اپنے حصص اس کے نام منتقل کیے تھے۔ منکور نے بعد میں اپنے شیئرز ایک آسٹریلوی کمپنی ٹھیتیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کو فروخت کیے۔

نئی کمپنی نے علاقے میں دریافت کا کام جاری رکھا جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ریکوڈک کے ذخائر معاشی حوالے سے سود مند ہیں۔ بعد میں کینیڈا اور چِلی کی دو کمپنیوں کے کنسورشیم نے ٹی سی سی کے تمام شیئرز کو خرید لیا۔

ٹی سی سی اور حکومت بلوچستان کے درمیان تنازع کب پیدا ہوا؟

ریکوڈک کے حوالے سے بلوچستان کے بعض سیاسی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے تھے۔ ان حلقوں کی جانب سے اس رائے کا اظہار کیا جاتا رہا کہ ریکوڈک کے معاہدے میں بلوچستان کے لوگوں کے مفاد کا خیال نہیں رکھا گیا۔

اس معاہدے کو پہلے بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا مگر ہائی کورٹ نے اس حوالے سے مقدمے کو مسترد کر دیا اور بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ایک بینچ نے قواعد کی خلاف ورزی پر ٹی سی سی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹی سی سی نے مائننگ کی لائسنس کے حصول کے لیے دوبارہ حکومت بلوچستان سے رجوع کیا۔

اُس وقت کی بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔

حکومت کی جانب سے چاغی میں ریفائنری کی شرط رکھنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حصے کو بھی بڑھانے کی شرط بھی رکھی گئی۔

سیندک پراجیکٹ سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ملنے کے باعث حکومت بلوچستان کی جانب سے یہ شرائط بلوچستان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے رکھی گئی تھیں۔

کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیشرفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کی شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر 2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف ٹی سی سی نے سیکرٹری مائنز اینڈ منرلز حکومت بلوچستان کے پاس اپیل دائر کی تھی جسے سیکرٹری نے مسترد کیا تھا۔